آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب: ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کالعدم، سپریم کورٹ کا پرویز الٰہی سے آج رات ہی حلف لینے کا حکم

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حمزہ شہباز کے وزارت اعلیٰ کے نوٹیفیکیشن کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے اور گورنر پنجاب کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رات ساڑھے گیارہ بجے تک پرویز الٰہی سے وزارت اعلیٰ کا حلف لیں۔

لائیو کوریج

  1. ’حکومت نہیں ملک بچائیں ورنہ گھر جائیں‘

    شہباز شریف کو دیے اپنے پیغام میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کہتے ہیں کہ ’وزیر اعظم تخت لاہور نہیں حکومت نہیں ملک بچائیں ورنہ گھر جائیں۔‘

    ٹوئٹر پر پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان معاشی تباہی میں داخل ہوگیا ہے۔ کسی دن سری لنکا بن سکتا ہے۔ ڈالر226 روپے اور معاشی دیوالیہ، سیاسی عدم استحکام سب کو لے ڈوبے گا۔ گندم، گھی اور پٹرول کیسے خریدا جائے گا۔ قرضوں کی ادئیگی کیسے ہوگی۔‘

  2. ’عمران خان کا پڑھایا ہوا سبق ہے، مبارک ہو‘

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ بنی گالا میں خیبر پختونخوا کے اساتذہ کا احتجاج ’عمران خان کا پڑھایا ہوا سبق ہے جو انھیں مبارک ہو۔‘

    خبر رساں ادارے اے اے پی کے مطابق وزیر اطلاعات نے نجی ٹی وی چینل کی اس خبر کا حوالہ دیا جس میں خیبر پختونخوا کے اساتذہ کو بنی گالا میں احتجاج کرتے ہوئے دکھایا گیا اور بتایا گیا کہ مظاہرین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے گھر میں داخل ہو گئے ہیں۔

  3. ’پنجاب میں وزارت اعلیٰ بچانے کی کوشش کی جائے گی‘

    پی ڈی ایم اجلاس کے حوالے سے نامہ نگار سحر بلوچ بتاتی ہیں کہ اس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ قبل از وقت انتخابات بہتر آپشن نہیں جبکہ پنجاب میں بھی وزارت اعلیٰ کو بچانے کے لیے تمام اتحادی جماعتیں کوشش کریں گی۔

    اس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اتحادی جماعتوں نے اسمبلیوں کی مقررہ مدت پوری کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے۔

    خیال رہے کہ 17 جولائی کو پنجاب کی 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کو 15 اور ن لیگ کو 4 نشستوں پر کامیابی ملی تھی جبکہ ایک آزاد امیدوار کامیاب ہوا تھا۔

    شکست کی وجوہات جاننے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں آج اتحادی جماعتوں کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔

    سحر بلوچ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ قبل از وقت انتخابات بہتر آپشن نہیں جبکہ پنجاب میں بھی وزارت اعلیٰ کو بچانے کے لیے تمام اتحادی جماعتیں کوشش کریں گی۔

  4. بریکنگ, وفاقی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی: سعد رفیق

    پی ڈی ایم اجلاس کے بعد وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق نے اعلان کیا ہے کہ ’وفاقی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور ملکی بہتری کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔‘

    انھوں نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’تمام صوبائی حکومتوں کا حق ہے کہ اپنی مدت پوری کریں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’پنجاب کے ضمنی الیکشن میں ’یہ 20 نشستیں وہ ہیں جو مسلم لیگ ن نے 2018 کے انتخابات میں نہیں جیتی تھیں، عمران خان کے لیے یہ سازش تیار کی گئی تھی۔ پانچ سیٹیں مسلم لیگ ن اور اتحادیوں نے حاصل کی ہیں۔۔۔ ہمارے ووٹوں میں 39 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’حکومتی مدت سے متعلق شوشے چھوڑنے سے گریز کریں۔۔۔ ہم نے مشکل حالات میں حکومت قبول کی، ہمیں معلوم تھا آگے خطرات ہیں۔ اپنے ملک کو چھوڑ کر بھاگا نہیں جاسکتا۔‘

    ’نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے نہیں ہونے چاہییں، کسی کی بھی حکومت ہو۔‘

    سعد رفیق نے یہ بھی کہا کہ صوبے میں ضمنی الیکشن کے دوران ’اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن غیر جانبدار تھے۔ اسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔‘

  5. بریکنگ, ’عام انتخابات وقت پر ہوں گے، کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے‘: نثار کھوڑو

    لاہور میں وزیر اعظم شہباز شریف کی رہائش گاہ پر حکومت کی اتحادی جماعتوں کے اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما نثار کھوڑو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’حکومت اور پارلیمنٹ اپنی آئینی مدت پوری کرے گی اور عام انتخابات وقت پر ہی ہوں گے۔‘

    رکن سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی پیپلز پارٹی نے ایک جاری کردہ بیان میں کہا کہ ’اتحادیوں کی مشاورت سے اگر انتخابات کے انعقاد کا کوئی فیصلہ ہوا تو پیپلز پارٹی ہر وقت الیکشن کے لیے عوام کے پاس جانے کو تیار ہے۔

    ’کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے اور انتخابات کا فیصلہ اتحادیوں کی مشاورت سے ہوگا۔‘

    خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے ضمنی الیکشن میں فتح کے بعد نئے شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔

    نثار کھوڑو کہتے ہیں کہ ’عمران خان اگر قبل از وقت انتخابات کے خواہشمند ہیں تو کے پی اسمبلی تحلیل کردیں اور یہ نہیں ہوسکتا کے صرف قومی اسمبلی توڑ دی جائے اور پنجاب کی 15 نشستیں جیتنے کے بنیاد پر ملک کی تمام جنرل نشستوں کی قسمت کا فیصلہ پی ٹی آئی کی مرضی سے ہو۔‘

    ’عمران خان الیکشن کمیشن اور اداروں کو اس لیے نشانہ بنا رہے ہیں تاکے پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس کے محفوظ فیصلے کو دباؤ ڈال کر روکا جا سکے۔ پہلا لیڈر عمران خان ہے جو چیف الیکشن کمشنر سے ای وی ایم مشین کے بغیر بھی شفاف انتخابات کروانے پر استعفی مانگ رہا ہے۔۔۔ ضمنی انتخابات میں 15 نشستیں جیتنے کے بعد الیکشن کمیشن حکومت اوراسٹیبلشمنٹ سے معافی مانگے۔‘

    نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی پنجاب میں اپنی 20 نشستوں میں سے 15 نشستیں جیت کر پانچ نشستیں ہارنے کے بعد کس خوشی میں جشن منا رہی ہے۔ پنجاب میں یہ 20 نشستیں تو پی ٹی آئی کی تھی جس میں سے پی ٹی آئی نے 5 نشستیں ہاری ہیں۔‘

  6. گذشتہ برسوں کے دوران مسلم لیگ ن نے اپنی کوئی نشست نہیں ہاری: مریم نواز

    نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب کے ضمنی الیکشن سے ان کی جماعت کو بڑا فائدہ ہوا ہے۔

    ٹوئٹر پر وہ کہتی ہیں کہ ’2018 میں مسلم لیگ ن کے پاس (یہاں) کوئی امیدوار نہیں تھا۔ امیدوار نہ ڈھونڈ پانے سے لے اب کڑا مقابلہ کرنا، ایک بڑی بہتری ہے۔ گذشتہ برسوں کے دوران مسلم لیگ ن نے اپنی کوئی سیٹ نہیں ہاری۔ بلکہ اس نے پی ٹی آئی کی سیٹیں چھینی ہیں۔‘

  7. پی ڈی ایم کے قائدین کا اہم اجلاس

    وزیر اعظم شہباز شریف کے ٹوئٹر اکاؤنٹ نے یہ پیغام جاری کیا ہے کہ ان کی دعوت پر ’حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین کا اہم اجلاس‘ ہوا ہے۔

  8. سازش میں ملوث سب کا احتساب کیا جائے گا: عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ قوم ان سب کا احتساب کرے گی جو ’حکومت کی تبدیلی کی سازش اور پاکستان کو اس افسوسناک صورتحال تک پہنچانے میں ملوث تھے۔‘

    ٹوئٹر پر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ جب امریکی سازش کے تحت تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی تھی تو اس وقت ڈالر کی قدر 178 روپے تھی جبکہ آج آئی ایم ایف معاہدے کے باوجود یہ 224 روپے ہے اور فری فال میں ہے۔

    ’معاشی بدحالی سے ثابت ہوتا ہے کہ شریفوں کو معیشت اور انتظامیہ چلانے میں کوئی مہارت حاصل نہیں۔ انھیں صرف لوٹ، منی لانڈرنگ اور این آر او حاصل کرنے میں مہارت ہے۔‘

    خیال رہے کہ گرفتاری کے بعد رہا ہونے والے عمران خان کے چیف آف سکیورٹی سٹاف شہباز گل نے آج ایک بیان میں کہا کہ سیاسی انتقام میں ملوث آئی جی اور چیف سیکریٹری کے خلاف آرٹیکل چھ لگایا جانا چاہیے۔

  9. سٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں 1000 پوائنٹس سے زیادہ کی کمی, تنویر ملک ، صحافی

    بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ کی جانب سے پاکستان کے آؤٹ لک کو ’مستحکم‘ سے ’منفی‘ کیے جانے کے بعد منگل کے روز سٹاک مارکیٹ فروخت کے دباؤ کا شکار ہوئی اور 100-انڈیکس میں 1000 پوائنٹس سے زیادہ کی کمی دیکھی گئی۔

    سٹاک مارکیٹ کا انڈیکس 41000 پوائنٹس سے کم ہو کر 40000 پوائنٹس کی سطح پر گِر گیا ہے۔

    تجزیہ کار شہریار بٹ کے مطابق فچ کی جانب سے پاکستان کے آؤٹ لک کو منفی کرنے کی خبر نے مارکیٹ میں منفی کے رجحان کو پیدا کیا کیونکہ بین الاقوامی ادارے کے مطابق آئی ایم ایف سے معاہدے کے باوجود پاکستان کی معیشت کو خطرات کم نہیں ہوئے جس کا سٹاک مارکیٹ میں منفی اثر آیا ہے۔

  10. ’پنجاب میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کا مینڈیٹ تسلیم کیا جائے، ورنہ حالات خراب ہوسکتے ہیں‘

    پرویز الہی، جو کہ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں، کا کہنا ہے کہ ایک طرف مریم نواز نے تسلیم کیا کہ وہ الیکشن ہار گئے ہیں مگر دوسری طرف وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کے ذریعے ایم پی ایز کی لوکیشن ٹریک کی جا رہی ہے۔

    پریس کانفرنس کے دوران ان کے ہمراہ پی ٹی آئی کے میاں محمود الرشید نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے الیکشن میں کوئی بےضابطگی نہیں ہونی چاہیے۔

    ’پنجاب میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کا مینڈیٹ تسلیم کیا جائے اور 22 جولائی کو فری اینڈ فیئر الیکشن ہو۔ اگر کچھ کیا گیا تو حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں‘

    خیال رہے کہ گذشتہ روز وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے الیکشن کے روز ’پانچ رکن غیر حاضر ہوگئے تو پرویز الہی وزارت اعلیٰ ڈھونڈتے پھریں گے۔‘

  11. لاہور میں پی ڈی ایم اجلاس: آصف زرداری سمیت دیگر رہنماؤں کی لاہور میں شہباز شریف کی رہائش گاہ آمد

    آج لاہور میں وزیر اعظم شہباز شریف کی رہائش گاہ پر حکومت کی اتحادی جماعتوں کے سربراہان کا اہم اجلاس ہونے جا رہا ہے جس میں نئے انتخابات کے حوالے سے حکمت عملی پر مشاورت کی جائے گی۔

    اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق صدر آصف علی زرداری کے علاوہ ایم کیو ایم پاکستان کے خالد مقبول صدیقی اور وسیم اختر بھی ماڈل ٹاون، شہباز شریف کی رہائش گاہ، پہنچ گئے ہیں۔

  12. تحریک انصاف تحریری طور پر بتائے نیب قوانین پر پارلیمنٹ میں اعتراض کیوں نہیں کیا: سپریم کورٹ

    سابق وزیراعظم عمران خان کی نیب قانون میں ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران منگل کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تحریری طور پر بتائیں جب یہ قانون پاس ہوتا تھا ان کی جماعت نے اعتراض کیوں نہیں کیا۔

    عدالت نے پی ٹی آئی کی درخواست پر وزارت قانون اور اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے اس درخواست کی سماعت 29 جولائی تک ملتوی کر دی۔

    منگل کی سماعت کا احوال

    چیف جسٹس عمر عطا بندیا نے پی ٹی آئی کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کو روسٹم پر بلالیا اور ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس لوگوں کا ٹرسٹ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس ملک، قوم اور آئین کے بارے میں سوچیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمیں احساس ہے کہ ان مقدمات کی وجہ عدالت میں سننے والا عام آدمی متاثر ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ فنکشنل ہوگی تو جمہوریت چلے گی۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وکیل نے بڑے اچھے نکات اٹھائیں ہیں اور ہم ان نکات پر فریقین کو نوٹس جاری کریں گے۔

    چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ سماعت پر تیاری کرکے آئیں۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملہ پر پارلیمنٹ میں کیوں بحث نہیں ہوئی۔ جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ عوام منتخب نمائندوں کے توسط سے یہ بات پارلیمنٹ میں اٹھائیں۔ جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیے کہ صرف صدر نے نیب ترامیم پر ٹوکن مزاحمت کی تھی، انھوں نے کہا کہ صدر مملکت نے مزاحمت قانون کی منظوری نہ دے کر کی تھی۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پارلیمان کا کوئی متبادل فورم موجود نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے سٹاف لیول پر معاہدہ تو ہوگیا ہے لیکن اسے پبلک میں تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کرنسی روز بروز ڈگمگا رہی ہے۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ نیب قانون بنتے وقت میں کمیٹی کا ممبر تھا اور اس کمیٹی میں نیب کا قانون تفصیلی طور پر زیر بحث آیا۔

    چیف جسٹس نے شاہ محمود قریشی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا اپ ہمارا سوال سمجھے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب نیب ترامیم ہو رہی تھیں تو آپ کہاں تھے۔

    چیف جسٹس نے شاہ محمود قریشی سے سوال کیا کہ پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کی کتنی تعداد ہے۔ انھوں نے کہا کہ پارلیمان کے اندر حل کیا ہے، کچھ شرائط ہیں، آپ کا شرکت کرنا بھی شرائط میں شامل ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بغیر کسی رکاوٹ کے یہ بل منظور ہوئے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ یہ سارے نکات اسمبلی میں اٹھائے جانے چاہیے تھے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میرا بھی سوال ہے کیا درخواست گزار کا حق دعویٰ ہے اور خاص طور پر ایسے وقت میں جب درخواست گزار پارلیمنٹ سے واک آوٹ کرگئے۔

    انھوں نے کہا کہ درخواست گزار کے پاس عوام کا ایک ٹرسٹ ہے اور پارلیمنٹ میں اتنی سیریس ترامیم ہوئیں، تو کیا ایسے حالات میں میں درخواست گزار کا حق دعویٰ بنتا ہے؟

    جسٹس منصور علی شاہ نے شاہ محمود قریشی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے بطور ممبر اسمبلی آپ پر جو اعتماد کیا تھا وہ پورا نہیں ہو رہا۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کئی گھنٹے تک پارلیمان کی کمیٹی میں نیب ترامیم پر بات ہوئی، جس پر جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیے کہ آپ شاید عدم اعتماد سے پہلے کی بات کر رہے ہیں۔

  13. الیکشن تب ہو گا جب موجودہ حکومت اور الیکشن کمیشن چاہیں گے: وزیراطلاعات مریم اورنگزیب

    وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے منگل کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'کان کھول کر سن لو، الیکشن تب ہو گا جب موجودہ حکومت اور الیکشن کمیشن چاہیں گے'۔

    انھوں نے سابق وزیراعظم سے کہا کہ الیکشن تب ہو سکتے تھے جب آپ اقتدار میں تھے تو اس وقت آپ اپنی حکومت بچانے کے لیے منتیں کرتے رہے۔

  14. عمران خان چیف الیکشن کمشنر کو جاوید اقبال بنانا چاہتے ہیں، الیکشن کمیشن قانونی کارروائی کرے: وزیراطلاعات

    وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے چور دروازے سے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کی کوشش کی جس طرح وہ جاوید اقبال سے کرتے تھے اور ڈی جی ایف آئی اے سے کرتے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ جب چیف الیکشن کمشنر نے ملنے سے انکار کیا تو پھر یہ ان کے خلاف ہو گئے۔ ان کے مطابق آج چیف الیکشن کمشنر تو کل یہ چیف جسٹس سے استعفے کا مطالبہ کریں گے۔ وزیراطلاعات نے الیکشن کمشن سے کہا کہ وہ عمران خان کے الزامات کے جواب میں ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائے اور جلد فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنائے۔

    انھوں نے کہا کہ جو میڈیا ان کو آئینہ دکھائے تو پھر وہ ان کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان ملک میں انتشار اور افراتفری چاہتے ہیں اور اداروں کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان فارن فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔

    ان کے مطابق عمران خان نے اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر معاشی لینڈ مائنز بچھائیں، اداروں کو مفلوج کیا، اداروں کو کمزور کیا، اداروں کو استعمال کر کے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا۔

    عمران خان چاہتے تھے کہ وہ تمام 20 سیٹیں جیت جائیں۔ ان کے مطابق جب ایسا نہ سکا تو وہ الیکشن کمیشن پر حملہ آور ہو گئے۔ انھوں نے تحریک عدم اعمتاد کا مقابلہ کرنے کے بجائے عمران خان آئین پر حملہ آور ہوئے۔

    ان کے مطابق عمران خان اب اس وجہ سے اداروں پر تنقید کر رہے ہیں کہ انھوں نے ان کی حکومت کیوں نہیں بچائی۔

  15. سال 1985 سے ترامیم کے اطلاق کا مطلب ہے زیر التوا تمام مقدمات بیک جنبش قلم سے ختم ہوگئے: جج

    عمران خان کی نیب قوانین میں ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ پارلیمان اگر سزائے موت ختم کرتی ہے تو کیا عدالت اسے بحال کر سکتی ہے؟

    پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ سزائے موت ختم کرنے کا معاملہ مختلف ہے۔ انھوں نے کہا کہ جہاں کرپشن اور قومی خزانے کا معاملہ ہو وہاں بات بنیادی حقوق کی آتی ہے۔

    خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ امیر آدمی دولت جہاں چاہتا ہے منتقل کر لیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پٹواری فرد کے پیسے لیتا پکڑا جائے تو اس کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو کیا بڑے آدمی کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہیے؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ترمیم سے اختیارات کے ناجائز استعمال کو بطور جرم ختم نہیں کیا گیا۔ انھوں نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کی نظر میں جو ترامیم بنیادی حقوق کے خلاف ہیں پہلے وہ بتائیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے نکتہ اٹھایا کہ کیا پارلیمان کے قانون سازی کے اختیارات کا عدالتی جائزہ نہیں لیا جا سکتا؟ اور کیا مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے کا قانون چیلنج نہیں ہو سکتا؟ انھوں نے کہا کہ سال 1985 سے ترامیم کے اطلاق کا مطلب ہے زیر التوا تمام مقدمات بیک جنبش قلم سے ختم ہوگئے۔

  16. بہت سی نیب ترامیم کو جلدی میں منظور کیا گیا: جسٹس اعجازالحسن کے عمران خان کی درخواست پر ریمارکس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سابق وزیراعظم عمران خان کی نیب ترامیم کے خلاف درخواست پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کر رہا ہے۔ جسٹس اعجاز الااحسن اور جسٹس منصور علی شاہ اس بینچ کے دیگر دو ممبرز ہیں۔

    جب عمران خان کے وکیل خواجہ حارث روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ 'خواجہ حارث صاحب آپ نے درخواست پر بڑی محنت کی ہے'۔ خواجہ حارث نے کہا کہ 'محنت تو انھوں نے بھی بڑی کی ہے جنھوں نے ترامیم کی ہیں'۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وزیر قانون کا کہنا ہے ہر ترمیم کی سپورٹ میں عدالتی فیصلے موجود ہیں۔ کیا ایسا ہی ہے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہے، ترامیم سپریم کورٹ کے فیصلوں سے متصادم تو ہیں لیکن ان کے مطابق نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ 'بہت سی ترامیم کو جلد بازی میں منظور کیا گیا ہے'۔

  17. عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے: رہنما پیپلز پارٹی حسن مرتضی

    پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ نے اپنے ایک بیان میں سابق وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے۔ ان کے مطابق پہلے انتخابی اصلاحات کرنا ہوں گی۔

    پیپلز پارٹی کے رہنما کے مطابق اتحادی حکومت نیازی ٹولے کی پچ پر نہیں کھیلے گی۔ ان کے مطابق کسی دیوانے کے کہنے پر سیاسی اور انتظامی فیصلے نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

    حسن مرتضیٰ نے عمران خان کے چیف الیکشن کمشنر پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انھیں (عمران خان) اب صاف نظر آرہا ہے کہ ضمنی فتح کے بعد فارن فنڈنگ کیس ان کا گلا دبوچ لے گا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ الیکشن کمشنر پر ذاتی حملے اپنی ذات کو بچانے کےحربے ہیں۔

  18. بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کا آؤٹ لک مستحکم سے منفی کر دیا, تنویر ملک ، صحافی

    بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کے آؤٹ لُک کو مستحکم سے منفی کر دیا ہے۔ فچ کی جانب سے پاکستان کے بارے میں جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پاکستان کے آؤٹ لُک کو ملک کی بیرونی ادائیگیوں کے لیے فنانسنگ سے جُڑے رسک کہ وجہ سے مستحکم سے منفی کیا گیا ہے۔

    فچ کی جانب سے آئی ایم ایف کے پاکستان کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ پر کہا گیا ہے کہ اس پر عملدرآمد کو ابھی بھی خطرات لاحق ہیں، جس کی وجہ سے ملک کے زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ ہے۔ فچ کے مطابق اس سلسلے میں سیاسی خطرات کو بھی نظر انداز نہیں کیاجا سکتا کیونکہ یہ پاکستان کے مالیاتی اور بیرونی ادائیگیوں کے شعبے کو متاثر کر سکتے ہیں۔

  19. وزیراعظم نئے انتخابات کی تاریخ دیں، پارلیمنٹ میں جا کر مذاکرات پر تیار ہیں: فواد چوہدری

    سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر فوری طور استعفیٰ دے دیں تاکہ سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر قابل قبول نیا الیکشن کمیشن تشکیل دے سکیں۔

    انھوں نے کہا اب اس کا فیصلہ چیف الیکشن کمشنر نے کرنا ہے کہ وہ خود جائیں گے یا پھر ہم کارروائی کا آغاز کریں۔ انھوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نئے انتخاب کی تاریخ دیں تو وہ پارلیمنٹ میں جا کر مذاکرات پر تیار ہیں۔

    وزیراعظم نئے انتخابات کی تاریخ دیں تو ہم پارلیمنٹ میں جا کر مذاکرات پر تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم چائیں تو کل حکومت گرا سکتے ہیں مگر اب حکومت کو موقع دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 'اب شہباز شریف فیصلہ کریں کہ آگے کیسے بڑھنا ہے'۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ 'حمزہ شہباز کو فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا چاییے`۔ انھوں نے کہا کہ تین ماہ کے لیے عبوری حکومت بنے گی اور پھر 90 دن میں انتخابات کرانے ہوں گے۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ 22 جولائی کو پنجاب میں ان کی جماعت کی حکومت بنے گی اور پھر 23 جولائی کو رانا ثنااللہ کے پنجاب داخلے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ رانا ثنااللہ نے بیان دیا کہ پانچ ارکان کو اغوا بھی کیا جا سکتا ہے۔

    تحریک انصاف کے رہنما کے مطابق رانا ثناللہ کے پنجاب میں داخلے پر پابندی عائد کر دینی چائیے۔

  20. ڈالر کی قیمت 221 روپے کی سطح عبور کر گئی، شہباز حکومت میں اب تک ڈالر کی قیمت میں 38 روپے سے زائد کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    منگل کے روز پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ کاروبار کے آغاز میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا اور اب تک اس کی قیمت میں چھ روپے سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اس وقت 221.50 پر ٹریڈ ہو رہی ہے۔

    گذشتہ روز ایک ڈالر کہ قیمت 215.19 پر بند ہوئی تھی کرنسی ڈیلروں کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں ایک ڈالر کی قیمت میں 38 روپے سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    ڈیلروں کے مطابق ملک میں سیاسی صورتحال غیر یقینی رخ اختیار کررہی ہے جس کا منفی اثر روپے کی قدر پر ہورہا ہے۔ جنرل سیکرٹری ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان ظفر پراچہ نے کہا سیاسی غیر یقینی صورتحال کے ساتھ لگتا ہے کہ آئی ایم ایف کی کسی شرط کے تحت روپے کی قدر گرائی جا رہی ہے کیونکہ درآمدات کے لیے ڈالر کی ڈیمانڈ نارمل ہے اور کوئی ایسی غیر معمولی طلب نہیں کہ وہ ڈالر کی قیمت میں اس قدر اضافہ کرے۔