سابق وزیراعظم عمران خان کی نیب قانون میں ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران منگل کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تحریری طور پر بتائیں جب یہ قانون پاس ہوتا تھا ان کی جماعت نے اعتراض کیوں نہیں کیا۔
عدالت نے پی ٹی آئی کی درخواست پر وزارت قانون اور
اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے اس درخواست کی سماعت
29 جولائی تک ملتوی کر دی۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیا نے پی ٹی آئی کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کو روسٹم پر بلالیا اور ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ
آپ کے پاس لوگوں کا ٹرسٹ ہے۔ انھوں نے کہا کہ
اس ملک، قوم اور آئین کے بارے میں سوچیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمیں احساس ہے کہ ان مقدمات کی وجہ عدالت میں سننے والا عام آدمی متاثر ہوتا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ
پارلیمنٹ فنکشنل ہوگی تو جمہوریت چلے گی۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وکیل نے
بڑے اچھے نکات اٹھائیں ہیں اور
ہم ان نکات پر فریقین کو نوٹس جاری کریں گے۔
چیف جسٹس
نے پی ٹی آئی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ سماعت پر تیاری کرکے آئیں۔ انھوں نے کہا کہ
اس معاملہ پر پارلیمنٹ میں کیوں بحث نہیں ہوئی۔ جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ
عوام منتخب نمائندوں کے توسط سے یہ بات پارلیمنٹ میں اٹھائیں۔ جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیے کہ صرف صدر نے نیب ترامیم پر ٹوکن مزاحمت کی تھی، انھوں نے کہا کہ
صدر مملکت نے مزاحمت قانون کی منظوری نہ دے کر کی تھی۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پارلیمان کا کوئی متبادل فورم موجود نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے سٹاف لیول پر معاہدہ تو ہوگیا ہے لیکن اسے پبلک میں تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ
کرنسی روز بروز ڈگمگا رہی ہے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ نیب قانون بنتے وقت میں کمیٹی کا ممبر تھا اور اس
کمیٹی میں نیب کا قانون تفصیلی طور پر زیر بحث آیا۔
چیف جسٹس نے شاہ محمود قریشی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ
کیا اپ ہمارا سوال سمجھے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ
جب نیب ترامیم ہو رہی تھیں تو آپ کہاں تھے۔
چیف جسٹس نے شاہ محمود قریشی سے سوال کیا کہ
پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کی کتنی تعداد ہے۔ انھوں نے کہا کہ
پارلیمان کے اندر حل کیا ہے، کچھ شرائط ہیں، آپ کا شرکت کرنا بھی شرائط میں شامل ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ
بغیر کسی رکاوٹ کے یہ بل منظور ہوئے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ
یہ سارے نکات اسمبلی میں اٹھائے جانے چاہیے تھے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میرا بھی سوال ہے کیا درخواست گزار کا حق دعویٰ ہے اور خاص طور پر ایسے وقت میں جب
درخواست گزار پارلیمنٹ سے واک آوٹ کرگئے۔
انھوں نے کہا کہ
درخواست گزار کے پاس عوام کا ایک ٹرسٹ ہے اور
پارلیمنٹ میں اتنی سیریس ترامیم ہوئیں، تو کیا ایسے حالات میں
میں درخواست گزار کا حق دعویٰ بنتا ہے؟
جسٹس منصور علی شاہ نے شاہ محمود قریشی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے بطور ممبر اسمبلی آپ پر جو اعتماد کیا تھا وہ پورا نہیں ہو رہا۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ
کئی گھنٹے تک پارلیمان کی کمیٹی میں نیب ترامیم پر بات ہوئی، جس پر جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیے کہ آپ شاید عدم اعتماد سے پہلے کی بات کر رہے ہیں۔