پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا عدالتی فیصلے پر رد عمل میں کہا کہ اس فیصلے سے ’پاکستان کی جمہوریت، اداروں اور آئین کا تحفظ ہوا ہے۔‘
ان کا میڈیا سے بات چیت میں کہنا تھا کہ ’2018 کے انتخابات کی وجہ سے جو ادارے متنازع ہو چکے تھے، آج کے فیصلے سے 2018 کے داغ دھل چکے ہیں۔ اب عدم اعتماد کا عمل مکمل ہو گا۔ ہم انتخابی اصلاحات کروا کر انتخابات کی طرف بڑھیں گے۔‘
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا آج پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ حزب اختلاف کا مقصد کامیاب ہو چکا ہے۔ آگے چل کر ہم پاکستان کی عوام کی امیدوں پر پورا اتریں گے۔
بلاول بھٹو زرداری ’جمہوریت ہی بہترین بدلہ ہے۔‘
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے حامیوں کو جمہوریت کی جیت کا جشن منانے کی دعوت دی۔ انھوں نے پارٹی کے رہنماؤں کو غریبوں کو افطاری کی دعوت دینے کی ہدایت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ فیصلہ اپورزیشن کے نہیں آئین کے حق میں ہوا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں یہ فیصلہ سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا۔‘
’پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی وزیر اعظم کو جموہری طریقہ سے گھر بھیجا ہو۔ ہم ہمیشہ جمہوری راستہ اپنائیں گے اور اس طریقے سے غیر جمہوری ’سلیکٹڈ شخص کو بھی ہٹا سکتےہیں۔‘