آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں‘، عمران خان کی ملک گیر پرامن احتجاج کی کال

پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔

لائیو کوریج

  1. ’اپوزیشن کی جیت نہیں ہار ہوئی، کپتان آج شام ایک اہم اعلان کریں گے‘

    تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان آج شام ایک اہم اعلان کریں گے۔

    انھوں نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا ہے کہ ’عمران خان کو چیلنجز کا سامنا کرنا آتا ہے- بظاہر اپوزیشن کو لگ رہا ہےکہ وہ جیت چکے ہیں مگر ایسا ہے نہیں- وہ ہار چکے ہیں- مٹھائی پھر ضائع- الفاظ یاد رکھیے گا- آنے والا وقت بتائے گا انشاء اللہ- قوم نے فیصلہ کرلیا ہے-‘

    انھوں نے کہا کہ ’کپتان آج شام ایک اہم اعلان کریں گے۔ وہ اپنی قوم کو کبھی مایوس نہیں کریں گے۔‘

    ادھر پی ٹی آئی نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا ہے کہ عمران خان کا نجم شیراز کے ساتھ خصوصی انٹرویو آج شام 4 بجے پی ٹی وی پر نشر کیا جائے گا۔

  2. ’سپریم کورٹ کا فیصلہ آئینی جمہوریت کے استحکام کے لیے دیرپا اثرات مرتب کرے گا‘

    ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیا ہے۔ اس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’عدالت کے لیے آئین کسی بھی حصّے کے احترام اور تعمیل پر سمجھوتہ نہ کرنا ضروری تھا۔‘

    کمیشن کے مطابق ’یہ فیصلہ آئینی جمہوریت کے استحکام کے لیے دیرپا اثرات مرتب کرے گا۔‘

  3. سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت آغاز، روپے کی قدر میں اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    سپریم کورٹ کی جانب سے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے بعد جمعے کے روز سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت آغاز ہوا تو اس کے ساتھ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بھی بہتری دیکھی گئی۔

    سٹاک مارکیٹ میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 400 پوائنٹس کا اضافہ دیکھنے میں آیا تو دوسری جانب پانچ ہفتے مسلسل قدر کھونے کے بعد روپے کی قیمت میں ڈالر کے مقابلے میں اضافہ دیکھا گیا اور ڈالر کی قیمت میں کاروبار کے آغاز میں 38 پیسے کمی دیکھی گئی۔

    سیاسی بحران کی وجہ سے سٹاک ایکسچینج کئی روز سے دباؤ کا شکار تھی اور ڈالر کی قیمت میں بھی مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔

    اگرچہ سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے بعد مارکیٹ پر اس کے منفی اثرات کی توقع تھی تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے نے ابتدائی طور پر شرح سود میں اضافے کے منفی اثر کو زائل کر دیا۔

  4. ایک ہرمیز برکن بیگ کی قیمت تم کیا جانو بابو!

  5. بریکنگ, نئے وزیر اعلی پنجاب کے انتخاب کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر

    پنجاب اسمبلی میں نئے وزیر اعلی کے انتخاب کے لیے اپوزیشن کی جماعت مسلم لیگ ن نے لاہور ہائیکورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کردی ہے۔

    یہ درخواست وزارت اعلیٰ کے لیے اپوزیشن کے امیدوار حمزہ شہباز کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں سپیکر، ڈپٹی سپیکر، آئی جی پنجاب اور دیگر کو فریق بنایا گیا۔

    ان کا موقف ہے کہ یکم اپریل سے چیف منسٹر پنجاب کا عہدہ خالی ہے اور پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کر کے فوری وزیر اعلیٰ کا انتخاب کیا جائے۔

    انھوں نے لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی کہ پنجاب اسمبلی کے احاطے کو سیل کرنے کا اقدام بھی غیر قانونی قرار دیا جائے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان نے اپوزیشن جماعتوں کو پنجاب اسمبلی کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

    ’بلا جواز تاخیر‘

    جمعے کی صبح اعظم نذیر تارڑ اور عطا اللہ تارڑ ایڈووکیٹس نے لاہور ہائیکورٹ پہنچ کر یہ درخواست دائر کی۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ سیکرٹری اسمبلی اور انتظامی افسران پرویز الہی کے غیر قانونی احکامات پر عمل کر رہے ہیں اور وزیر اعلی پنجاب کے تقرر کے لیے بلا جواز تاخیر کی جا رہی ہے۔ ’وزیر اعلی پنجاب کا انتخاب نہ ہونے کی وجہ سے متاثرہ فریق ہیں۔ آرٹیکل 130 کے تحت پنجاب اسمبلی کا اجلاس ملتوی نہیں ہو سکتا تھا۔ فریقین اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام ہو چکے ہیں۔‘

    اس میں کہا گیا ہے کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری پنجاب اراکین اسمبلی کو اسمبلی میں داخل کرانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

    اس آئینی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کر کے فوری وزیراعلی کے انتخابات کرائے جائیں۔ ’پنجاب اسمبلی کے احاطے کو سیل کرنے کا اقدام بھی غیر قانونی قرار دیا جائے۔‘

  6. بلوچستان میں سرداری نظام کا خاتمہ: ’سردار لا شریک ہوتا ہے‘

  7. وزیر اعظم عمران خان کی آج کیا مصروفیات ہوں گی؟

    قومی اسمبلی اور حکومت کی بحالی کے باوجود سپریم کورٹ کا فیصلہ حکمراں جماعت تحریک انصاف کے لیے بڑا دھچکا خیال کیا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب وزیر اعظم عمران خان کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نو اپریل کو ہوگی اور بظاہر عمران خان اسمبلی کی اکثریت کھو چکے ہیں۔

    شیڈول کے مطابق وزیر اعظم نے آج کابینہ، سیاسی کمیٹی اور پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس طلب کر رکھے ہیں۔

    عمران خان کی زیرِ صدارت سیاسی کمیٹی کا اجلاس آج ایک بجے، کابینہ کا اجلاس دو بجے اور پارلیمانی پارٹی کا اجلاس تین بجے متوقع ہے۔

    ان اہم ملاقاتوں کے بعد وہ آج رات قوم سے خطاب کریں گے۔

  8. ’گذشتہ شب عدالتی بغاوت ہوئی، کھیل ابھی شروع ہوا ہے‘, شیریں مزاری کا ردعمل

    تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے ’عدالتی بغاوت‘ اور پارلیمانی بالادستی پر حملہ کہا ہے۔

    ٹوئٹر پر پیغام میں وہ کہتی ہیں کہ ’گذشتہ شب عدالتی بغاوت ہوئی جس میں یہ بھی حکم دیا گیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس کیسے اور کس وقت ہوگا۔ اس نے پارلیمان کی بالادستی ختم کر دی۔‘

    ’بدقسمتی سے حکومت تبدیل کرنے کی امریکی کوشش، جو ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کی بنیاد تھی، کو نظر انداز کیا گیا۔ لیکن ابھی سب ختم نہیں ہوا۔‘

    شیریں مزاری کہتی ہیں کہ اس عدالتی فیصلے سے یہ سمجھا جا رہا ہے کہ بازی جیت لی گئی ہے مگر دراصل اس سے کھیل شروع ہوا ہے۔

    ’عوام کو معلوم ہے کس نے پیسے کی خاطر اپنا ضمیر بیچا۔ الیکشن کمیشن کی ناقابل بیان ہچکچاہٹ کے باوجود آخر میں یہ بات عوام کی عدالت میں جائے گی۔

  9. ’آئین سے بالاتر کوئی بھی نہیں‘

    پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان کہتی ہیں کہ سپ سپریم کورٹ کے فیصلے نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

    ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا ہے کہ ’آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے نظریہ ضرورت کو دفن کرنا ضروری تھا۔ عدالت کا فیصلہ سب کے لئے پیغام ہے کہ آئین سے بالاتر کوئی بھی نہیں۔ اسپیکر کی رولنگ اور اسمبلی تحلیل کرنے کا عمل غیر آئینی تھا۔‘

    ان کا دعویٰ ہے کہ ’تحریک انصاف کی آئین اور جمہوریت کی تاریخی جدوجہد میں کوئی کردار نہیں۔ لحاظہ وہ آئین کی اہمیت سے واقف ہی نہیں۔ عدالت نے ثابت کر دیا کہ ملک کی سالمیت آئین کی عمل درآمد اور حکمرانی میں ہے۔‘

  10. نواز شریف: رولنگ صرف کالعدم قرار دینا کافی نہیں

    سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ’قومی مفاد‘ میں پارلیمنٹ کے آئینی اختیارات کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

    وہ ٹوئٹر پر کہتے ہیں کہ ’ڈپٹی سپیکر کی رولنگ آئین اور قانون کے خلاف تھی اس کو اب صرف کالعدم قرار دینا ہی کافی نہیں ہوگا۔

    ’آئین اور قومی مفاد کا تقاضہ یہی ہے کہ پارلیمنٹ کے آئینی اختیارات کی فوری بحالی ہو تاکہ پارلیمنٹ اپنی ذمہ داریاں اور فیصلے آئین اور قانون کے مطابق جاری رکھ سکے۔‘

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ ’پاکستانی قوم کو مبارکباد دینا چاہوں گا۔ آج ایک ایسے شخص سے نجات ملی ہے جس نے پاکستان کو معاشی طور پہ تباہ و برباد کیا۔‘

  11. ’یہ پاکستان اور اس کے شہریوں کی فتح ہے‘

    سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔

    ڈپٹی سپیکر کی رولنگ غیر آئینی قرار دیے جانے کے فیصلے پر سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کہتی ہیں کہ یہ پاکستان کے لیے ایک شاندار دن ہے جس میں بغیر شکوک و شبہات آئین کا تحفظ کیا گیا۔

    اپنے ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پاکستان اور اس کے شہریوں کی فتح ہے، بے شک ان کی سیاسی وابستگی کوئی بھی ہو۔‘

    ادھر رہنما تحریک انصاف فرخ حبیب کہتے ہیں کہ ’فوری صاف اور شفاف انتخابات ہی پاکستان میں سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے۔

    شہباز، زرداری، فضل الرحمن انتخابات سے اس لیے بھاگ رہے ہیں کہ عوام انھیں بری طرح مسترد کردیں گے۔‘

  12. ’سپریم کورٹ نے نظریہ ضرورت کو دفن کر دیا‘

    ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے متحدہ اپوزیشن (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ عدالت عظمی نے نظریہ ضرورت کو دفن کر دیا ہے۔

    ٹوئٹر پر ان کا کہنا ہے کہ ’میں سپریم کورٹ کے اس تاریخ ساز فیصلے پر پوری قوم، جمعیت علما اسلام اور اپوزیشن کے تمام کارکنوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

    ’یہ پاکستان کی فتح ہے۔ جمھوریت کی فتح ہے اور عوام کے ووٹ کی عزت کی فتح ہے۔ سپریم کورٹ نے آج آئین کی حرمت کی لاج رکھتے ھوئے، نظریہ ضرورت کو دفن کردیا ھے۔‘

    ان کے پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ ’آئین کے حقیقی محافظ کا کردار ادا کرتے ہوئے ان آئین شکنوں کو کٹہرے میں کھڑا کر کے اپنی عزت و تکریم میں اضافہ کیا ہے۔‘

  13. عمران خان کو قائد حزب اختلاف بننے پر خوش آمدید کہوں گا، آصف زرادری

    سابق صدر اور شریک چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ان کو ’امید ہے کہ تحریک انصاف چیئرمین عمران خان قائد حزب اختلاف بن کر جمہوری کردار ادا کریں گے۔‘

    پیپلز پارٹی کے سوشل میڈیا ٹوئٹر اکاوئنٹ پر جاری بیان کے مطابق آصد علی زرداری نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کے وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد ’عمران خان قائد حزب اختلاف ہونگے۔‘

    آصف زرداری نے کہا کہ ’عمران خان کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بننے پر خوش آمدید کہوں گا اور امید ہے عمران خان بطور قائد حزب اختلاف جمہوری کردار ادا کریں گے۔‘

  14. حکومتی اراکین مستعفی ہوں تو اسمبلی نہیں ٹوٹتی، سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل

    سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود نے کہا ہے کہ ’اگر حکومتی اراکین اسمبلی سے مستعفی ہوتے ہیں تو قانون کے تحت ان سیٹوں پر نئے الیکشن کروائے جا سکتے ہیں۔‘

    نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام آپس کی بات میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اگر صرف نو اراکین بھی باقی رہیں تو آئین میں کہیں یہ نہیں لکھا کہ اسمبلی ٹوٹ جائے گی۔‘

    واضح رہے کہ راجہ خالد جاوید نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے بعد احتجاج میں عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی پارٹی کی نہیں بلکہ آئین کی جیت ہے۔‘

  15. سیاسی صورت حال پر الیکشن کمیشن کا اجلاس طلب

    سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے جمعے کے دن ملکی صورت حال پر اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    ٹوئٹر پر جاری بیان میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ترجمان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر 8 اپریل 2022 صبح 10 بجے اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

    اس اجلاس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر کریں گے۔

  16. ’سپریم کورٹ نے آج اپنے آپ کو صاف کیا ہے، اب سیاستدان بھی کر لیں‘

  17. عمران خان: پاکستان کے لیے آخری گیند تک لڑوں گا

    وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ کل شام قوم سے خطاب کریں گے۔

    اُنھوں نے بتایا کہ اُنھوں نے کابینہ اور اپنی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ وہ پاکستان کے لیے آخری گیند تک لڑتے رہے ہیں اور لڑیں گے۔

  18. تحریک انصاف پر فیصلے کے اثرات کیا ہوں گے؟, حمیرا کنول، بی بی سی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے متفقہ فیصلے دیتے ہوئے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کو مسترد کرنے کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسمبلیاں بحال کرنے اور عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس نو اپریل کو طلب کرنے کا فیصلہ سُنایا ہے۔

    اس فیصلے کے پی ٹی آئی پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں، اس تفصیلی رپورٹ میں پڑھیے۔

  19. عمران خان اسمبلی تحلیل کیوں نہیں کر سکتے تھے؟

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ وزیرِ اعظم آئین کی شق 58 کی ذیلی شق 1 میں دی گئی توجیہہ کے پابند تھے اور وہ اب بھی اس کے تحت پابند ہیں۔

    عدالت کے مطابق اس لیے وہ صدر کو آئین کی شق 58 کی ذیلی شق 1 کے تحت اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش نہیں بھیج سکتے تھے۔

    آئین کی شق 58 (1) کے تحت اگر وزیرِ اعظم صدر کو اسمبلی کی تحلیل کا مشورہ دیں تو صدر اسمبلی تحلیل کر سکتے ہیں۔

    مگر اس کی تشریح کے مطابق ایسے وزیرِ اعظم کی تعریف میں تین طرح کے وزیرِ اعظم پورے نہیں اترتے

    • وہ وزیرِ اعظم جس کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی قرارداد کا نوٹس جمع کروایا گیا ہو لیکن اس پر ووٹنگ نہ ہوئی ہو
    • ایسا وزیرِ اعظم جس کے خلاف ایسی قرارداد منظور ہو چکی ہو
    • ایسا وزیرِ اعظم جو استعفیٰ دینے کے بعد یا قومی اسمبلی کے تحلیل ہونے کے بعد اس عہدے پر موجود ہو
  20. وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب، عمران خان کا کل قوم سے خطاب متوقع

    فواد چودھری نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے کل وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا ہے اور کل رات کو اُن کا قوم سے خطاب کا بھی امکان ہے۔