اسٹیبلشمنٹ نے عدم اعتماد، استعفیٰ یا پھر قبل از وقت انتخابات کے آپشنز دیے: عمران خان

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں کچھ ایسا نہیں کرنا چاہیے جس سے فوج کو نقصان پہنچے۔ بلاول بھٹو زرداری نے امید ظاہر کی ہے کہ کوئی غیر جمہوری قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ ن لیگ کے ایک رہنما نے میڈیا سے کہا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے اپوزیشن کے امیدوار حمزہ شہباز ہوں گے۔

لائیو کوریج

  1. پرویز الہی کو وزارتِ اعلیٰ کی پیشکش کے بعد، ترین اور علیم گروپس کے مشاورتی اجلاس

    tareen

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پنجاب میں وزارتِ اعلیٰ کے لیے نامزدگی کے بعد مسلم لیگ ق کے رہنما پرویز الٰہی اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے متحرک ہو گئے ہیں۔

    مسلم لیگ ق کے ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں پرویز الٰہی تحریک انصاف کے ناراض ارکان کے علاوہ مسلم لیگ ن کے متعدد ارکان سے بھی رابطہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پرویز الٰہی کی جانب سے جہانگیر ترین اور علیم خان گروپس کے ارکان کو کابینہ میں بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

    ادھر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چوہدری پرویز الٰہی کو پنجاب میں وزارت اعلیٰ کی پیشکش کے بعد پی ٹی آئی کے جہانگیر ترین اور علیم خان گروپس نے تمام تر صورتحال پر مشاورت کے لیے آج اپنے اجلاس طلب کر لیے ہیں۔

    بی بی سی کی ترہب اصغر کے مطابق ترین گروپ تمام ارکان اسمبلی اور رہنماؤں سے موجودہ صورتحال پر مشاورت کرے گا تاہم کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ ترین گروپ کی جانب سے چوہدری پرویز الٰہی کی حمایت کا امکان موجود ہے لیکن حتمی فیصلہ جہانگیرترین سے مشاورت کے بعد اجلاس میں کیا جائے گا۔

    ادھر علیم خان گروپ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتِ اعلیٰ کے لیے چوہدری پرویز الٰہی کی حمایت کرنی ہے یا نہیں یہ فیصلہ علیم خان کریں گے۔ خیال رہے کہ علیم خان نے پرویز الٰہی کو وزارتِ اعلیٰ کی پیشکش کیے جانے کے بعد اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے پی ٹی آئی کا نام ہٹا دیا تھا۔

  2. X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. خاندان میں اختلافات کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں: چوہدری شجاعت حسین

    shujaat

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صدر پاکستان مسلم لیگ چوہدری شجاعت حسین نے سیاسی صورتحال کے تناظر میں خاندان میں اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی فیصلے ان کی مشاورت اور مکمل حمایت سے ہوئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کا پورا خاندان اور جماعت ہمارا خاندان ایک ہی پیج پر ہیں اور جو افواہیں چل رہی ہیں اور چلوائی جارہی ہیں وہ غلط ہیں۔

    ’اب تک پارٹی یا گھر میں جو بھی فیصلے ہوئے ہیں وہ میری مشاورت اور رضامندی کے ساتھ ہوتے ہیں۔ میں وضاحتوں پر یقین نہیں رکھتا لیکن اس کے باوجود میں کہنا چاہوں گا کے مجھے خاندان کا سربراہ سمجھا جاتا ہے۔‘

    چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ نوجوانوں کی تعداد موجودہ اسمبلی میں سابقہ اسمبلیوں سے زیادہ ہے ان پر الزام لگانا اور شک کرنا غلط بات ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ پیسے کے لین دین کے لفظ کا استعمال نہیں ہونا چاہیے خاص کر پڑھے لکھے لوگ اس بات کوپسند نہیں کرتے اور غلط قسم کا پروپیگنڈا کرنا اور حقائق کو جوڑ توڑ کر پیش کرنا یا کروانا نہایت نا مناسب بات ہے۔

    انھوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ خاندان میں اختلافات کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

  4. کچھ سرپرائز ابھی باقی ہیں: عاصمہ شیرازی کا کالم

  5. تحریک عدم اعتماد: ق لیگ کے حکومت، بلوچستان عوامی پارٹی کے اپوزیشن کا ساتھ دینے کی وجہ کیا؟

  6. بریکنگ, اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کا جلسہ ختم

    جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنی تقریر کے اختتام پر حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا جلسہ ختم کرنے کا اعلان کیا۔

    یاد رہے کہ اس جلسے میں شرکت کے لیے ملک کے مختلف حصوں سے اپوزیشن جماعتوں کے کارکن قافلوں کی صورت میں پہنچے تھے۔

    پاکستان مسلم لیگ نون کا لاہور سے آنے والا مہنگائی مکاؤ مارچ بھی اسلام آباد آ کر پی ڈی ایم کے جلسے میں شامل ہو گیا تھا۔

  7. عمران خان کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے، مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عمران خان فارن فنڈنگ کیس میں پھنس چکے، ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔

    اسلام آباد میں پی ڈی ایم جلسے سے خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارا ہدف ملکی اداروں کو طاقتور بنانا ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خان نے ججز پر نواز شریف سے پیسے لینے کا الـزام لگایا، عدلیہ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

    مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’تم ہمارے شکنجے میں ہو اور ہمارا ہاتھ تمہارے گریبان تک پہنچ چکا ہے۔ تم اب بچ نہیں پاؤ گے۔‘

  8. عمران خان خود داری سیکھنی ہے تو نواز شریف سے سیکھو، شہباز شریف

    پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہاری خود داری، خود داری نہیں بلکہ ڈرامہ ہے۔

    اسلام آباد میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ ’عمران خان خود داری سیکھنی ہے تو نواز شریف سے سیکھو۔‘

    شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ عمران خان نے عوام کو مہنگائی میں دھکیل کر خود داری کو مٹی میں ملا دیا۔

    شہباز شریف نے تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مہنگائی دراصل ان کی کرپشن اور بد ترین نا اہلی کا نتیجہ ہے۔

  9. بجٹ کے بعد حکومت کو انتخابات کرانے چاہیے، شیخ رشید

    شیخ رشید

    جیو نیوز کے پروگرام میں اینکر شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو میں شیخ رشید نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو بجٹ کے بعد انتخابات کرانے چاہیے۔

    شیخ رشید نے یہ بھی کہا کہ اس وقت عمران خان کی عوام میں مقبولیت کافی زیادہ ہے تو قبل از وقت انتخابات فائدہ مند ثابت ہوں گے۔

    وفاقی وزیرداخلہ کے مطابق اگر الیکشن میں تاخیر ہوئی تو اپوزیشن سڑکوں پر ہو گی اور چپ ہو کر نہیں بیٹھے گی۔

  10. ناراض اراکین جلد واپس آ جائیں گے، شیخ رشید

    پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ ایک دو روز میں پاکستان تحریک انصاف کے ناراض اراکین بھی واپس آ جائیں گے۔

    نجی چینل جیو نیوز کے پروگرام میں اینکر شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ انھوں نے 27 مارچ کے جلسے میں بھی وزیر اعظم عمران خان کو کہا کہ وہ پنجاب اسمبلی توڑ دیں لیکن عمران خان نے کہا کہ معاملات جلد حل ہو جائیں گے۔

    شیخ رشید نے یہ بھی کہا کہ چاہے ایک دو ووٹ سے ہی صحیح لیکن وزیراعظم عمران خان تحریک عدم اعتماد میں جیت جائیں گے۔

  11. ابھی تک حکومت سے معاملات حل نہیں ہوئے، رہنما ایم کیو ایم وسیم اختر

    متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما وسیم اختر کا کہنا ہے کہ ابھی تک حکومت کے ساتھ ان کی جماعت کے معاملات حل نہیں ہوئے۔

    نجی چینل جیو نیوز کے پروگرام میں اینکر شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم اختر نے کہا انھوں نے اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھ دیے ہیں۔

    وسیم اختر نے یہ بھی کہا کہ ’پرویز الہٰی نے کہا تھا کہ مل کر فیصلہ کریں گے لیکن پھر ٹی وی سے پتا چلا کہ وہ وزیر اعلیٰ بن رہے ہیں۔ اس قسم کے سیاسی لیڈروں کی باتوں پر افسوس ہوتا ہے۔‘

  12. عثمان بزدار ایسے وزیر اعلیٰ جن کا آخر وقت تک وزیر اعظم نے دفاع کیا

  13. حمزہ شہباز: ’آج جو اس ملک کا حال ہے وہ نہ کبھی دیکھا نہ سنا‘

    پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم نے عمران خان کو قانونی طریقے نہ نکالا تو روز قیامت خدا ہم سے پوچھے گا۔‘

    اسلام آباد میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب میں حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ ’آج جو اس ملک کا حال ہے وہ نہ کبھی دیکھا نہ سنا۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہمیں اس ملک کی گرتی ہوئی معیشت کے لیے کھڑا ہونا ہو گا اور عمران خان کی گرتی دیوار کو دھکا دینا ہو گا۔‘

  14. مریم نواز: ’کوئی پاکستان کے لیے اتنا خطرناک نہیں، جتنا عمران خان تم ہو‘

    مریم نواز نے عمران خان کی جانب سے عالمی سازش کے دعوے کے حوالے سے اپنے ردعمل میں کہا کہ ’عمران خان تم نے کون سے ایٹمی دھماکے کر دیے تھے کہ تمہارے خلاف عالمی سازش ہو گئی۔‘

    مریم نواز نے کہا کہ ’اگر پاکستان کے خلاف کوئی عالمی سازش ہوئی ہے تو اس کا سب سے بڑا آلہ کار عمران خان ہے۔‘

    مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ ’کوئی پاکستان کے لیے اتنا خطرناک نہیں، جتنا عمران خان تم ہو۔‘

  15. مریم نواز: ’عمران خان نے قوم کو سرپرائز کے نام پر چکمہ دیا‘

    پاکستان مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان نے قوم کو سرپرائز کے نام پر چکمہ دیا۔

    مریم نواز نے عمران خان کے 27 مارچ کے جلسے پر تقید کرتے ہوئے کہا کہ ’دس لاکھ کا مجمع قوم نے دیکھ لیا، اب 172 ووٹ پورے کر کے دکھاؤ۔‘

    اسلام آباد میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب میں مریم نواز نے کہا کہ ہم مولانا کی قیادت میں عمران خان کو الوداع کہنے آئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ اپنی جماعت کا اعتماد بھی کھو چکے ہیں۔

    مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ عمران خان نے اقتدار کی کشتی ڈولتے دیکھ کر عثمان بزدار کو پانی میں سب سے پہلے دھکا دیا۔

  16. تحریکِ عدم اعتماد: 28 مارچ تک قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین کی تعداد کیا ہے؟

    number

    وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے کے بعد پیر کی شام تک قومی اسمبلی میں فریقین کے حامیوں کی تعداد کچھ یوں ہے۔

    حکومت کے حامی:

    پاکستان تحریک انصاف: 155

    پاکستان مسلم لیگ ق: 4

    بلوچستان عوامی پارٹی: 1

    گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس: 3

    عوامی مسلم لیگ: 1

    متحدہ قومی مومنٹ: 7

    دیگر: 1

    کل: 172

    اپوزیشن کے حامی:

    پاکستان مسلم لیگ ن: 84

    پاکستان پیپلز پارٹی: 56

    متحدہ مجلس عمل: 14

    بلوچستان عوامی پارٹی: 4

    آزاد امیدوار: 2

    جمہوری وطن پارٹی: 1

    بلوچستان نیشنل پارٹی: 4

    پاکستان مسلم لیگ ق: 1

    عوامی نیشنل پارٹی: 1

    دیگر: 2

    کل: 169

  17. مہنگائی مکاؤ مارچ: حمزہ شہباز اور مریم نواز کی قیادت میں مسلم لیگ ن کا قافلہ اسلام آباد میں داخل

    مسلم لیگ ن کا قافلہ اسلام آباد میں داخل ہو گیا ہے۔ اسلام آباد ہائی وے پر اس وقت کارکنان مریم نواز اور حمزہ شہباز کا استقبال کرنے کے لیے مختلف جگہوں پر ٹولیوں کی شکل مین موجود ہین۔

    خیال رہے کہ سرائے عالم گیر سے یہ قافلہ سہ پہر تین بجے نکلا تھا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. تحریکِ عدم اعتماد: 31 مارچ کو کیا ہو گا؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے بعد اجلاس کو دو روز کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔ 31 مارچ کو کیا ہوگا؟

    بتا رہی ہیں بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید۔۔۔

    ویڈیو: نیّر عباس

  19. آج کے قومی اسمبلی کے اجلاس کا احوال, فرحت جاوید، نامہ نگار بی بی سی اردو

    assembly

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قومی اسمبلی کا اجلاس جو سہ پہر چار بجے شروع ہونا تھا، تقریباً ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔

    تاہم اپوزیشن کے زیادہ تر اراکین مقررہ وقت پر ہی اسمبلی ہال پہنچ چکے تھے۔ دوسری جانب حکومتی بینچز پرآخری وقت تک اکا دکا اراکین ہی نظر آئے۔

    ایم این اے علی وزیر کی کرسی پر آج بھی ان کی تصویر رکھی گئی تھی۔ اجلاس شروع ہونے سے چند منٹ قبل پاکستان تحریک انصاف کے ممبران ہال پہنچے مگر ان کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔

    اجلاس میں اتحادی جماعتوں اور پی ٹی آئی کے منحرف اراکین میں سے کوئی موجود نہیں تھا۔

    اجلاس کی صدارت ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے کی اور اجلاس کے آغاز میں وزیراعظم کے مشیر بابر اعوان نے دو بل پیش کیے جس پر اپوزیشن نے احتجاج بھی کیا تاہم ڈپٹی سپیکر نے فوری طور پر اگلا ایجنڈا آئٹم جو کہ تحریک عدم اعتماد تھا، پیش کرنے کی اجازت دی۔

    قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان کو وزارت عظمی سے ہٹانے کے لیے تحریک پیش کی۔

    قواعد کے مطابق تحریک پیش ہونے کے بعد اس کی منظوری کے لیے گنتی کی گئی۔ حزب اختلاف کے بینچز پر اراکین کھڑے ہوئے اور اس دوران حکومتی اراکین نے شدید نعرے بازی کی۔

    اس دوران ڈپٹی سپیکر اسمبلی ہال میں خاموش رہنے کا کہتے رہے تاہم نعروں کا سلسلہ جاری رہا۔ گنتی مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی سپیکر نے بتایا کہ 161 اراکین اسمبلی نے تحریک کی منظوری کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

    اس لیے تحریک پر ووٹنگ کے لیے پیش کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

    خیال رہے کہ قواعد کے مطابق تحریک کی منظوری کے لیے کم از کم بیس فیصد یعنی اڑسٹھ اراکین کی حمایت ضروری ہے۔

    شہباز شریف نے عدم اعتماد کی تحریک کا متن پڑھ کر سنایا۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس ایوان کی رائے ہے کہ جناب عمران خان، وزیرِ اعظم پاکستان قومی اسمبلی پاکستان کے اراکین کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ لہٰذا انھیں عہدے پر فائز نہیں رہنا چاہیے۔‘

    تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس 31 مارچ تک ملتوی کر دیا۔

    تحریک پر بحث جمعرات کو ہو گی۔ خیال رہے کہ اس تحریک پر تین دن کے بعد اور سات دن کے اندر ووٹنگ کروانا لازم ہے۔

  20. بریکنگ, پلوچستان عوامی پارٹی کے پانچ میں سے چار ارکان کا تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن کا ساتھ دینے کا فیصلہ

    BAP

    ،تصویر کا ذریعہPPP

    پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے پانچ میں سے چار ارکان نے تحریک عدم اعتماد کے ووٹ میں اپوزیشن جماعتوں کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

    بے اے پی پارٹی کی زبیدہ جلال نے حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ’بی اے پی کے چار ایم این ایز نے اپوزیشن کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے جس پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘

    اس موقع پر سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ’ہم مشکور ہیں کہ بی اے پی پارٹی نے ہمیں عزت بخشی۔‘

    خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیرِاعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے کے بعد جہاں مسلم لیگ ق کے پانچ میں سے چار ارکان نے حکومت کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔