اسٹیبلشمنٹ نے عدم اعتماد، استعفیٰ یا پھر قبل از وقت انتخابات کے آپشنز دیے: عمران خان

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں کچھ ایسا نہیں کرنا چاہیے جس سے فوج کو نقصان پہنچے۔ بلاول بھٹو زرداری نے امید ظاہر کی ہے کہ کوئی غیر جمہوری قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ ن لیگ کے ایک رہنما نے میڈیا سے کہا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے اپوزیشن کے امیدوار حمزہ شہباز ہوں گے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, چوہدری شجاعت سے ملاقات کر کے استعفی کی اجازت لی: طارق بشیر چیمہ

    tariq

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کابینہ سے استعفی دے دیا ہے اور اس سے قبل انھوں نے جماعت کے قائد چوہدری شجاعت سے ملاقات کر کے باضابطہ اجازت لی۔

    نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے چوہدری شجاعت سے ملاقات کے دوران ان سے گذارش کی کہ وہ وفاقی کابینہ سے استعفی دے رہے ہیں اور تحریک عدم اعتماد میں عمران خان کے خلاف ووٹ دیں گے۔

    ’بعض اوقات کوئی چارہ نہیں رہتا ہم جیسوں کے پاس کے کہ ہم چپ چاپ کر کے بیٹھ جائیں۔‘

    ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا ان کا عمران خان کے خلاف ووٹ دینے کا فیصلہ حتمی ہے، تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’ایک ہزار فیصد حتمی ہے۔‘

  2. بریکنگ, مسلم لیگ ق کے ایم این اے طارق بشیر چیمہ کابینہ سے مستعفی

    طارق بشیر چیمہ

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/TariqBashirCheema

    پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما پرویز الٰہی کی جانب سے حکومتی پیش کش پر پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ قبول کیے جانے کے بعد قومی اسمبلی میں اس جماعت کے پانچ ارکان میں سے ایک طارق بشیر چیمہ نے وزارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

    مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ وہ کابینہ سے مستعفی ہو رہے ہیں اور عدم اعتماد کی تحریک میں عمران خان کے خلاف ووٹ دیں گے۔‘

    طارق بشیر چیمہ عمران خان کی کابینہ میں وزیر ہاؤسنگ تھے۔

    tariq bashir cheema

    ،تصویر کا ذریعہCourtesy Tariq Bashir Cheema

  3. بریکنگ, وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار نے اپنا استعفیٰ وزیِر اعظم کو پیش کر دیا: فرخ حبیب کا دعویٰ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور وزیرِ مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب کی جانب سے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار نے اپنا استعفیٰ وزیِر اعظم کو پیش کر دیا ہے۔

    فرخ حبیب نے کہا ہے وزیر اعظم عمران خان نے پرویز الہی کو اسی عہدے کی پیشکش کر دی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ تمام معاملات طے پا گئے ہیں۔

    نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے فرخ حبیب سے جب ق لیگ کے طارق بشیر چیمہ کے استعفی کے بارے میں سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ق لیگ کا اندرونی معاملہ ہے اور پرویز الہی اس بارے میں بہتر جواب دے سکتے ہیں۔

    عدم اعتماد کی تحریک پر ان کا کہنا تھا کہ ووٹنگ میں نمبر بھی واضح ہو جائیں گے۔

    چوہدری پرویز الٰہی اس وقت بنی گالہ میں وزیرِ اعظم کے ساتھ ملاقات ہوئی جس کے بعد یہ دعویٰ سامنے آیا ہے تاہم تاحال اس بارے میں خود عثمان بزدار کی جانب سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔

  4. تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگی، وزیر اعظم حکومت سے جاتے جاتے جھوٹ بول رہے ہیں: بلاول بھٹو

    PPP

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرپرسن بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونی ہے اور کوئی راستہ نہیں ہے جس سے وزیر اعظم اس ووٹنگ سے بچ سکیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پہلے یہ مرحلہ ہوگا اور اس کے بعد وہ صوبوں کی طرف جائیں گے۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وہ سیاست میں مذہب کارڈ نہیں کھیلنا چاہیے۔

    ’سیاست ایک خطرناک کھیل ہے اس میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ جہاں بھی دنیا میں حکمران عوام کے بنیادی مسائل کو حل نہیں کر سکتے تو پھر وہ مذہب کارڈ استعمال کرتے ہں عمران خان بھی یہی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم حکومت سے جاتے جاتے جھوٹ بول رہے ہیں۔

    ق لیگ کی جانب سے حکومت کی ممکنہ حمایت کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت اپنے خواہش پرویز الہی کے حوالے سے بیان کر رہی ہے لیکن ق لیگ کی اپنی جماعت ہے اور ان کا جو بھی فیصلہ ہو گا وہ جلد ہی سب سے کے سامنے آ جائے گا۔

    عدم اعتماد کی تحریک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد کے حوالے سے نمبر پورے ہیں اور اب ہم اضافی نمبروں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

  5. ق لیگ نے وزیراعظم کی عدم اعتماد میں حمایت کا اعلان کر دیا: شہباز گل کا دعویٰ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وزیرِ اعظم کے ترجمان اور معاونِ خصوصی شہباز گل نے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ’پاکستان تحریک انصاف چوہدری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ کے امیدوار کے طور پر سپورٹ کریں گے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ق لیگ نے وزیراعظم کی عدم اعتماد میں حمایت کا اعلان کر دیا۔‘

  6. بریکنگ, وزیر اعظم عمران خان تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ میں کامیاب ہوں گے: شیخ رشید

    pti

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ میں کامیابی حاصل کریں گے۔

    نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم آٹھ سے 12 ووٹوں سے کامیابی حاصل کریں گے۔

  7. حکومت کے اتحادی قومی اسمبلی کے اجلاس سے غیرحاضر

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں جہاں تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی اور اپوزیشن کے 161 اراکین موجود تھے، وہیں حکومت کے اتحادی اجلاس سے غیر حاضر تھے۔

  8. عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد کیا ہوگا؟

    قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے کے بعد اب اس پر ووٹنگ کا عمل تین روز سے پہلے اور سات دن کے بعد نہیں ہو سکتا۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کیے جانے کے کم از کم تین دن بعد اور سات دن کے اندر اس پر ووٹنگ ہونا لازمی ہے۔

    قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر نے اب قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات 31 مارچ کو طلب کیا ہے جس میں اس تحریک پر بحث ہوگی۔

    وزیر داخلہ شیخ رشید نے پیر کی صبح پریس کانفرنس کے بعد کہا تھا کہ ممکنہ طور پر ووٹنگ آئندہ ہفتے ہوگی۔

    عدم اعتماد کی اس تحریک کی کامیابی کے لیے اپوزیشن کو کم از کم 172 ارکانِ اسمبلی کی حمایت اور ووٹ درکار ہوں گے۔

  9. بریکنگ, قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش، اجلاس 31 مارچ تک ملتوی

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی ہے اور اس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس 31 مارچ تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

    اجلاس کے آغاز پر ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے ابتدائی کارروائی کے بعد شہباز شریف کو تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے لیے کہا کہ جس کے بعد اس تحریک کے حامی اراکین اسمبلی کی گنتی کی گئی۔

    اس تحریک کے لیے 68 ارکان کی حمایت ضروری ہے اور ایوان میں اس کے حامی اپوزیشن کے ارکان کی تعداد 161 تھی اس لیے سپیکر نے تحریک پیش کرنے کی اجازت دی۔

  10. قومی اسمبلی کا اجلاس شروع، پنجاب اسمبلی کے سپیکر پرویز الہی بنی گالہ روانہ

    NA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد میں قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو چکا ہے جہاں توقع ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پیش کی جائے گی۔

    دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ق کے سینئیر رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی وزیر اعظم عمران خان سے ملنے بنی گالہ روانہ ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ آج صبح پی ٹی آئی کے سینئیر رہنماؤں کا وفد ق لیگ سے ملنے گیا تھا جہاں دونوں فریقین نے کہا کہ ’اچھی ملاقات ہوئی‘ ہے۔

  11. علی وزیر کی کرسی پر ان کی تصویر رکھنے کا مقصد کھلم کھلا ناانصافی کے خلاف احتجاج کرنا ہے: محسن داوڑ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ٹوئٹر پر ایک تصویر پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جنوبی وزیرستان سے رکنِ پارلیمان علی وزیر 15 ماہ سے جھوٹے اور من گھڑت مقدمات کے باعث جیل میں ہیں۔‘

    ’ان کی تصویر ان کی نشست پر رکھنا اس کھلم کھلا ناانصافی کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔ جنوبی وزیرستان کی قومی اسمبلی میں کوئی نمائندگی نہیں ہے۔‘

  12. قومی اسمبلی کے اجلاس میں نہیں جائیں گے، تحریک عدم اعتماد سے متعلق حتمی فیصلہ خود کریں گے: خالد مگسی

    پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے رہنما خالد مگسی کا کہنا ہے کہ وہ آج کے قومی اسمبلی کے اجلاس میں نہیں جائیں گے اور تحریک عدم اعتماد میں حکومت کی طرف داری کریں گے یا اپوزیشن کا اس کا فیصلہ جماعت خود کرے گی۔

    انھوں نے بتایا کہ آج پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے صدر آصف علی زرداری آج بی اے پی کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے تاہم یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کی تمام باتیں مان لی جائیں تاہم حتمی فیصلہ خود کیا جائے گا۔

  13. قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل حزب اختلاف رہنماؤں کی ملاقات

    NA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قومی اسمبلی کے اہم اجلاس سے قبل اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس جاری ہے جس کے صدارت پاکستان مسلم نون کے صدر شہباز شریف کر رہے رہیں۔ ان کے ہمراہ پاکستان پیپلز پارٹی کے آصف زرداری بھی موجود ہیں۔

  14. تحریک عدم اعتماد: حامی اور مخالفین کیا کہتے ہیں؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں جمع کروائی گئی ہے جس کے بعد حکومت اور حزب اختلاف دونوں کی جانب سے عوامی حمایت کے اظہار کے لیے جلسے منعقد کیے جا رہے ہیں۔

    جانیے کہ تحریک عدم اعتماد کے حامی اور مخالفین کا کیا کہنا ہے؟

    ویڈیو اینڈ ایڈٹنگ: موسیٰ یاوری

  15. عمران خان نے جس خط کا ذکر کیا اس کے مندرجات آج شام تقریر میں بتاؤں گی: مریم نواز

    maryam

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گذشتہ روز پریڈ گراؤنڈ جلسہ میں وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے جس خط کا حوالہ دیا گیا تھا اس کے بارے میں پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا بیان سامنے آیا ہے۔

    انھوں نے اس بارے میں کہا ہے کہ ’عمران خان جس خط کا ذکر کر رہے ہیں، اس کے مندرجات میں آج اپنی تقریر میں بتاؤں گی۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال سے نئے انتخابات اور نیا مینڈیٹ ہی تمام مسائل کا حل ہے۔‘

    ہماری نامہ نگار حمیرا کنول کے مطابق مریم نواز نے سرائے عالمگیر میں ایک ہوٹل سے اسلام آباد کے لیے نکلتے ہوئے میڈیا سے مختصر گفتگو کی۔

    انھوں نے وزیراعظم کے حوالے سے کہا کہ ’گھبرانا‘ تو ان کو ساڑھے تین سال پہلے چاہیے تھا ان کو پتہ ہونا چاہیے تھا اگرعوام کی خدمت نہیں کریں گے، عوام کو زیادہ سے زیادہ مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ساری توجہ انھوں نے نواز شریف اور شہباز شریف پر رکھی، یہ ہی ہونا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی بات مجھے یاد ہے انہوں نے کہا جو پارٹیاں راتوں رات بنتی ہیں راتوں رات ٹوٹتی ہیں۔

  16. قومی اسمبلی کے اہم اجلاس کا آغاز جلد، اراکین کی آمد کا سلسلہ جاری

    assembly

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے مختلف جماعتوں کے اراکین کی آمد شروع ہو گئی ہے اور اجلاس کا آغاز بھی جلد متوقع ہے۔

    توقع ہے کہ آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جائے گی۔

    ایسا ہونے کی صورت میں قواعد کے مطابق قرار داد پیش کرنے کے کم از کم تین دن بعد اور سات دن کے اندر اس پر ووٹنگ ہونا لازمی ہے عدم اعتماد کی اس تحریک کی کامیابی کے لیے اپوزیشن کو کم از کم 172 ارکانِ اسمبلی کی حمایت اور ووٹ درکار ہوں گے۔

  17. ’منحرف اراکین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ اگر تمام سیاسی جماعتوں کا نہیں ہے تو پھر یہ معاملہ پارلیمنٹ سے حل کروائیں‘, سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس پر سماعت

    ecp

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنالیکشن کمیشن پاکستان

    جسٹس منیب اختر نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس عدالتی فیصلے کا جس فیصلے کا وہ حوالہ دے رہے ہیں وہ الیکشن سے پہلے کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن سے پہلے کا قانون بعد میں کیسے لاگو کردیں۔

    سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ الیکشن قوانین آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے اٹارنی جنرل خالد جاوید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قانون میں طریقہ واضح کردیا ہے تواور کیا چاہتے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ ہے کسی کا سچ میں ضمیر جاگ گیا ہو اور جب الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ آئے گا تو دیکھا جائے گا۔

    اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ اس صدارتی ریفرنس میں طریقہ کار سے متعلق کوئی سوال نہیں پوچھا گیا جبکہ سوال نااہلی کی مدت اور ووٹ شمار ہونے کا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا وہ مستقبل کے لیے ریفرنس لائےہیں ؟ ان کا کہنا تھا کہ منحرف اراکین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ اگر تمام سیاسی جماعتوں کا نہیں ہے تو پھر یہ معاملہ پارلیمنٹ سے حل کروائیں۔

    سماعت کے آخر میں جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ یہ کافی پچیدہ معاملہ ہے اور اس کے لیے پورے متعلقہ آئینی ڈھانچے کو جانچنا پڑے گا۔

    دوسری جانب چیف جسٹس عمر بندیال نے ریمارکس دیے کہ اگر 15 سے 20 اراکین ڈی سیٹ ہو جاتے ہیں تو وزیراعظم پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ کیسے لیں گے۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کم اکثریت پر بھی وزیراعظم برقرار رہ سکتے ہیں؟

    اس پر اٹارنی جنرل خالد جاوید کا کہنا تھا کہ صدرمملکت وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں۔

    اس صدارتی ریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

  18. اگر سب کچھ واضح ہے تو ہمارے پاس کیا لینے آئے ہیں؟: عدالت, سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس پر سماعت

    supreme court

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سماعت کے دوران بینچ میں شامل جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ تاحیات نا اہلی کی آئینی شق اور آرٹیکل 63 دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تاحیات نااہلی کاغذات نامزدگی میں جھوٹے حقائق اور بیان سے متعلق ہے۔

    انھوں نے کہا کہ منحرف رکن کیخلاف کارروائی الیکشن ہوجانے کے بعد کا معاملہ ہے۔ بعد ازاں جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ منحرف رکن کیخلاف کارروائی کیلیے الیکشن کمیشن موجود ہے۔

    انھوں نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سب کچھ واضح ہے ہمارے پاس کیا لینے آئے ہیں؟

    سماعت کے دوران جسٹس مظہر عالم نے ریمارکس دیے کہ نااہلی کی میعاد کتنی ہے اور یہ تعین حکومت کیسے کریگی؟ اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اسی سوال کے جواب کےلیے سپریم کورٹ آئے ہیں۔

    جسٹس مظہر عالم نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم نے کمالیہ جلسے میں کہا کہ کوئی ججز کو اپنے ساتھ ملا رہا ہے جس پر انھوں نے سوال کیا کہ یہ کس طرح کے بیانات دیے جا رہے ہیں۔

  19. مسلم لیگ ن کے قافلے کی اسلام آباد روانگی کے لیے تیاریاں

    مسلم لیگ ن

    مریم نواز اور حمزہ شہباز کی قیادت میں ن لیگ کے قافلے کی اسلام آباد روانگی کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔ مسلم لیگ ن کی قیادت اپنے پارٹی کارکنان کو ’مہنگائی مکاؤ مارچ‘ پر اسلام آباد لا رہی ہے جہاں پشاور موڑ کے مقام پر جلسہ متوقع ہے۔

    مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ سرائے عالم گیر کے ٹیولپ ہوٹل کے دو فلور ن لیگ نے بک کروا رکھے ہیں۔ اس وقت یہاں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات ہیں۔

    جی ٹی روڈ سے جہلم کی جانب جائیں تو کچھ پوائنٹس پر ن لیگ کے کارکنوں نے گاڑیوں پر بینرز لگائے ہوئے ہیں۔ یہ کارکنان آہستہ آہستہ قافلے میں شامل ہو رہے ہیں۔

    جے یو آئی ف کے کارکنان پہلے سے سیکٹر جی نائن کے پراجیکٹ موڑ کے قریب موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ وفاقی دارالحکومت کسی جلسے پر نہیں بلکہ دھرنے پر آئے ہیں۔

  20. آرٹیکل 63 اے کو تاحیات نا اہلی سے جوڑنا محض مفروضہ ہے: سپریم کورٹ, سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت

    court

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل خالد جاوید سے استفسار کیا کہ آرٹیکل 63 اے ڈی سیٹ کی بات کرتا ہے تو آپ کسی رکن کی ڈی سیٹ کی آئینی شق کو تاحیات نااہلی سے کیسے جوڑ رہے ہیں۔

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجربنچ آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کر رہا ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کو تاحیات نا اہلی سے جوڑنا محض مفروضہ ہے تاہم اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ بد دیانتی پر تاحیات نا اہلی کا اطلاق ہوتا ہے۔

    عدالت اور اٹارنی جنرل کے درمیان ہونے والے مکالمے کے دوران جسٹس اعجاز نے کہا کہ سوال یہ کہ خیانت کس کے خلاف ہوئی ہے جس پر اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ سیاسی جماعت جماعت کے رکن پارٹی نظمو ضبط کی پابند ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس پورے عمل میں تین کھلاڑی ہیں، ووٹر، سیاسی جماعت اور وہ رکن جو منتخب ہوتا ہے ۔ اٹارنی جنرل نے موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ٹکٹ پر جیتنے والا رکن وعدہ کرتا کے کہ وہ سیاسی جماعت کے منشور پر عمل کرے۔

    عدالت کا اٹارنی جنرل کو کہنا تھا کہ وفاداری تبدیل کرنے پر مختلف فورمز موجود ہیں۔

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کو شفافیت کو برقرار رکھنے کیلئے آرٹیکل 62،63 کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس حکم نامے میں پارلیمنٹ نے کچھ شقیں ختم کی پھر سپریم کورٹ نے انکی نشاندہی کی۔

    اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ کیا انھیں لگتا ہے کہ آرٹیکل 63 اے میں کسی قسم کی کمی ہے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے کو الگ نہیں پڑھا جا سکتا۔