اسٹیبلشمنٹ نے عدم اعتماد، استعفیٰ یا پھر قبل از وقت انتخابات کے آپشنز دیے: عمران خان

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں کچھ ایسا نہیں کرنا چاہیے جس سے فوج کو نقصان پہنچے۔ بلاول بھٹو زرداری نے امید ظاہر کی ہے کہ کوئی غیر جمہوری قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ ن لیگ کے ایک رہنما نے میڈیا سے کہا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے اپوزیشن کے امیدوار حمزہ شہباز ہوں گے۔

لائیو کوریج

  1. ’پنجاب حکومت عملی طور ختم ہو چکی‘

    شازیہ مری

    ،تصویر کا ذریعہPPP

    ترجمان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری کا کہنا ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم کے بعد کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی بھی چھٹی ہونے والی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’بزدار حکومت کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہونے کے روشن امکانات ہیں۔‘

    شازیہ مری نے بتایا کہ ’عمران خان نے بزدار سے مل کر عوام کا معاشی قتل عام کیا۔ پنجاب کی عوام کو بزدار کی کرپٹ اور نااہل حکومت سے نجات ملنے والی ہے۔‘

    ’کٹھ پتلی وزیر اعظم اور روبوٹ وزیر اعلیٰ پنجاب نے عوام کو مشکلات کے سوا کچھ نہیں دیا۔‘

    وہ کہتی ہیں کہ ’عمران خان سابق وزیراعظم بن چکے ہیں۔ بزدار بھی سابق بننے والے ہیں۔‘

    ’عمران خان کے خلاف بزدار وعدہ معاف گواہ بنیں گے۔ 2018 کے انتخابات میں دھاندلی سے وجود میں آنے والی وفاقی اور پنجاب حکومت عملی طور ختم ہو چکی۔‘

  2. ’عمران خان کے خلاف ووٹ دینے والوں کو 20 کروڑ لوگوں میں سے گزر کر جانا پڑے گا‘

    فواد چوہدری، تحریک انصاف

    وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ووٹ دینے والوں کو 20 کروڑ لوگوں میں سے گزر کر جانا پڑے گا۔

    انھوں نے اسلام آباد میں پریس ٹاک کے دوران کہا کہ ’پاکستان کے عوام کا شکریہ جس طرح انھوں نے عمران خان کی قیادت پر لبیک کہا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع تھا۔

    ’تحریک عدم اعتماد پر پارلیمان جانے کے لیے 10 لاکھ لوگوں میں سے گزرنے کا بیان دیا تھا۔ اب کہوں گا 20 کروڑ لوگوں میں سے گزر کر جانا پڑے گا۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ بعض مقامی رہنما اس عالمی سازش کا حصہ بنے۔ ’وہ پتلیاں ہیں جن کے تانے بانے لندن میں بیٹھے شخص سے ملتے ہیں۔۔۔ جوں جوں معاملات آگے بڑھیں گے ہم باقی معاملات آپ کے سامنے رکھیں گے۔ یہ سازش عمران خان کے خلاف نہیں، عوام کے خلاف ہے۔‘

    اتحادیوں سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وہ پی ٹی آئی کا حصہ نہیں۔ ’کوئی برائی نہیں اگر وہ مطالبات رکھ رہے ہیں۔۔۔ شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی ملاقات ابھی ختم ہوئی ہے جس پر اب ہم اپنا فیصلہ کریں گے۔‘

    فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’فوج پاکستان کی آزادی اور خودمختادی کی ضامن ہے۔ فوج ہر وہ فیصلہ کرے گی جو ملک کے مفاد میں ہوگا۔‘

  3. اچھی ملاقات ہوئی، خبر جلد سنا دیں گے: مونس الہیٰ

    Q

    ،تصویر کا ذریعہFacebook.com/MoonisElahiOfficial

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ قاف لیگ سے پیر کو ہونے والی ملاقات کے حوالے سے کہا ہے کہ دونوں جماعتوں کی ’اچھی ملاقات‘ ہوئی ہے اور ’بات آگے بڑھ رہی ہے۔‘

    دوسری جانب ق لیگ کی قیادت کا اس ملاقات کے بعد کہنا تھا کہ ان کی حکومت کے ساتھ اچھی ملاقات ہوئی ہے اور وہ بہت جلد خبر سنا دیں گے۔

    نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں کے مابین گفتگو ابھی جاری ہے۔

    اس سوال پر کہ کیا کوئی فیصلہ لیا گیا ہے یا نہیں، تو اس کے جواب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ نہ وہ اس کا کوئی فیصلہ سنا سکتے ہیں اور نہ ہی ان کو کوئی اختیار ہے۔ ’اچھی گفتگو ہوئی تھی اور پیشرفت ہو رہی ہے۔‘

  4. گجرات کے چوہدری برادران کے پاس ایسا کیا؟

    چوہدری برادران

    ،تصویر کا ذریعہTWITTER/CHAUDHRYPARVEZ

    حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنے اپنے مفادات کے لیے مسلم لیگ ق کی قیادت چوہدری پرویز الہی اور چوہدری شجاعت حسین سے ملاقاتیں کر رہی ہیں۔

    چوہدری پرویز الٰہی موجودہ سپیکر پنجاب اسمبلی ہیں جبکہ سابق نائب وزیرِاعظم اور سابق وزیرِاعلٰی پنجاب بھی رہ چکے ہیں۔ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں بننے والی ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق سنہ 2002 سے سنہ 2007 تک برسرِاقتدار رہی تھی۔

    اس کے بعد سے یہ کہا جا رہا تھا کہ ’چوہدریوں کی سیاست ختم ہوگئی۔‘ تاہم ماضی میں بھی کئی بار اور اب ایک مرتبہ پھر صرف حزبِ اختلاف ہی نہیں، حکومت کو بھی ان کے پاس جانا پڑا۔

    صحافی اور تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا تھا کہ ماضی کو ایک طرف رکھ کر چوہدری برادران مستبقل کی منصوبہ بندی کرنے کو ترجیح دیں گے۔ 'موجودہ تبدیلی لانے سے زیادہ ان کی دلچسپی اس میں ہوگی کہ مستقبل میں ان کے لیے کیا ہو گا۔ انھیں اس کی گارنٹی چاہیے ہوگی کہ اس وقت وقتی تبدیلی نہیں بلکہ اگلے انتخابات کے بعد انھیں کیا ملے گا۔'

  5. حکمراں جماعت کے وفد کی ق لیگ کی قیادت سے ملاقات, اعظم خان، بی بی سی، اسلام آباد

    اسد عمر

    تحریک انصاف کا وفد مذاکرات کے لیے پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کے گھر پر پہنچ گیا ہے۔

    یہ مذاکرات اہم اس لیے ہیں کیونکہ وزیر اعظم عمران خان کے بعد آج وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی گئی ہے۔

    حکومت کی طرف سے وفاقی وزرا پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر شامل ہیں جبکہ ق لیگ کے وفد کی سربراہی خود چوہدری شجاعت حسین کر رہے ہیں۔

    ان کے ساتھ دیگر رہنماؤں کے علاوہ چوہدری پرویز الہی بھی اس ملاقات میں شامل ہیں۔

    ق لیگ تحریک انصاف کی اتحادی جماعت ہے مگر ابھی اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے میں ق لیگ نے ابھی تک حمایت یا مخالفت کا فیصلہ نہیں سنایا ہے۔

    خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتیں بھی ق لیگ کی قیادت سے رابطے میں ہیں۔ گذشتہ روز مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی ق لیگ کی قیادت سے اسلام آباد میں علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور اس تحریک عدم اعتماد پر حمایت کی درخواست کی گئی۔

  6. پنجاب کی کٹھ پتلی سرکار کا بوریا بستر گول کریں گے: حمزہ شہباز

    HSS

    ،تصویر کا ذریعہFacebook.com/Official.Hamza.Shahbaz

    پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کروائے جانے کے بعد اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب میں تباہی کا سونامی ترقی اور خوشحالی کو بہا کر لے گیا ہے اور عوام کا ساڑھے تین سالوں میں ہونے والے استحصال کا حساب لینے کا وقت آ گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان اور اس کے ٹولے کے خلاف کوئی عالمی سازش نہیں ہو رہی‘۔

    انھوں نے کہا کہ ’جائز آئینی و قانونی راستہ اپنا کر پنجاب کی کٹھ پتلی سرکار کا بوریا بستر گول کریں گے۔‘

  7. اگلے 72 گھنٹوں میں آر یا پار ہے، شیخ رشید

    rally

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پیر کو اپنی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگلے 72 گھنٹوں میں فیصلہ ہو جائے گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ڈھائی بجے پتہ چل جائے گا کہ آگے کیا ہونا ہے۔

    وزیر اعظم عمران خان کے گذشتہ روز کے جلسے کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان اقتدار میں ہوں یا نہیں، وہ اور ان کے حامی عمران خان کے ساتھ ہی ہیں۔’ان کا کہنا تھا کہ کل کے جلسے کے بعد لوگوں کی آنکھیں کھل جانی چاہیے۔

    جب شیخ رشید سے وزیر اعظم کی جانب سے جلسے میں ایک خط کے ذکر کرنے کے حوالے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس خط کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور انھیں بھی اس کا علم کل کے جلسے کے بعد ہوا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے آج تک پاکستان میں کسی حکومت کو پانچ سال مکمل کرتے نہیں دیکھا لیکن یہ پہلی حکومت ہو گی جو اپنی مدت پوری کرے گی۔

    اپوزیشن کے آج کے جلسے کے بارے میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ نون لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس زیادہ لوگ نہیں ہیں۔

    ’ ان کا اپنا کوئی کراؤڈ نہیں ہے۔ میزبان ہوں گے مولانا فضل الرحمان جبکہ مہمان ہوں گے نون لیگ اور پی پی پی والے۔‘

  8. ’عثمان بزدار اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے‘, ترجمان پنجاب حکومت

    عثمان بزدار

    ،تصویر کا ذریعہTWITTER

    پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ’اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔‘

    ٹوئٹر پر وہ کہتے ہیں کہ ’عثمان بزدار اراکین اسمبلی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ہمارے نمبرز پورے، اپوزیشن منھ کی کھائے گی۔ چودھری برادران بخوبی جانتے ہیں کہ شریف برادران ماضی میں کیسے وعدہ خلافی کرتے رہے ہیں۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’پوری امید ہے کہ ق لیگ ہمارے ساتھ رہے گی۔ ترین گروپ پارٹی کا حصہ (ہیں)، وہ عدم اعتماد کی تحریک میں ہمارا ساتھ دیں گے۔ پنجاب میں اپوزیشن کو سرپرائز دینے کے لیے ہمارے پاس بہت کچھ ہے۔‘

  9. تحریک انصاف کو پنجاب میں مشکل کا سامنا مگر ق لیگ سے مشاورت جاری

    پرویز الہی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پنجاب میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد لاہور میں بھی سیاسی ہلچل بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

    حکمراں جماعت تحریک انصاف آج مسلم لیگ ق سے مذاکرات کی کوشش کرے گی۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق وفاقی وزیر اسد عمر ق لیگ کی قیادت میں چوہدری پرویز الہیٰ سے ملاقات کریں گے اور انھیں وزیر اعظم عمران خان کا پیغام پہنچائیں گے۔

    گذشتہ روز چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویزالٰہی نے ن لیگ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی تھی۔

    مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے اس ملاقات کے بعد یہ دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کی حکومت کے اتحادیوں سے معاملات طے پا رہے ہیں۔ ایسی قیاس آرائیاں بھی مقامی ذرائع ابلاغ پر سامنے آئی ہیں کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے پرویز الہی کو وزیر اعلیٰ بنانے کی منظوری دے دی ہے تاہم اس کی تصدیق دونوں جانب سے نہیں کی گئی۔

    ق لیگ کے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ اس ملاقات میں تحریک عدم اعتماد، موجودہ ملکی سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی تھی۔

    ق لیگ کے مطابق دونوں جماعتوں کی قیادت کا آئندہ لائحہ عمل کے بارے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق ہے۔ ملاقات میں وفاقی وزیر چودھری طارق بشیر چیمہ، ارکان قومی اسمبلی سالک حسین، حسین الٰہی اور سینیٹر کامل علی آغا جبکہ ن لیگ کے وفد میں سردار ایاز صادق، خواجہ محمد آصف، رانا تنویر حسین، رانا ثناء اللہ خان، خواجہ سعد رفیق اور عطااللہ تارڑ شریک تھے۔

  10. سرینگر ہائے وے پر جے یو آئی کے کارکنان موجود، نون لیگ کے قافلہ کی آمد ’عصر تک متوقع‘

    بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول کے مطابق اسلام آباد کی اہم شاہراہ سری نگر ہائی وے پر آج تیسرے روز بھی جے یو آئی کے اراکین دکھائی دے رہے ہیں البتہ اسلام آباد کے سرکاری دفاتر میں معمول کا دن شروع ہو چکا ہے۔

    سڑک کے کنارے اور گرین بیلٹس گذشتہ روز جیسی ہی صورتحال ہے تاہم ٹریفک کا دباؤ متبادل سڑکوں پر زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔

    ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس پوائنٹ اور اس سے متصل سڑکوں پر پولیس کے 200 اہلکار موجود ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ اطلاعات ہیں کہ مسلم لیگ نون کا قافلہ عصر تک یہاں پہنچے گا۔

    by by ay
    bbc
    bbc
  11. ’پنجاب کو عثمان بزدار کی شکل میں نااہل وزیر اعلیٰ نہیں چاہیے‘, رانا مشہود

    رانا مشہود

    ،تصویر کا ذریعہTWITTER

    پنجاب میں مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود نے کہا ہے کہ 125 سے زیادہ ارکان نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد پر دستخط کیے ہیں۔

    لاہور میں پریس ٹاک کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’آج سے کئی دن پہلے اپنے ارکان سے دستخط کروا لیے ہوئے تھے۔ یہ پنجاب کے عوام کا فیصلہ ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ پنجاب کے عوام کو ’عثمان بزدار کی شکل میں نااہل وزیر اعلیٰ نہیں چاہیے۔۔۔ جس دن یہ ٹیبل ہوگی 200 سے زیادہ ارکان عثمان بزدار کو فارغ کرنے کی حمایت کریں گے۔‘

    رانا مشہود کا کہنا تھا کہ ’فیصلہ ہوگیا ان کرپٹوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ مہنگائی کا بوجھ عوام پر سے ختم کرنا ہے۔ شہباز شریف نے گڈ گورننس کے ریکارڈ قائم کیے۔‘

    ’ان تمام کا احتساب بھی ہوگا۔ ایک، ایک سکینڈل سامنے لائیں گے۔ اداروں میں لے کر جائیں گے، کڑا احتساب ہوگا۔ پنجاب میں پونے چار سال کوئی ترقیاتی کام نہیں کرایا گیا۔‘

    وہ مزید کہتے ہیں کہ سپیکر پنجاب اسمبلی آئین کے مطابق 14 دن میں اجلاس بلانے کے پابند ہیں۔

  12. اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو وزیراعظم کے خلاف کارروائی سے روک دیا

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو وزیر اعظم عمران خان کے خلاف کارروائی سے روک دیا ہے۔

    عدالت نے یہ حکم الیکشن کمیشن کی طرف سے ضابطہ کار کی خلاف ورزی پر وزیر اعظم کو جاری کیے گئے نوٹسز پر دیا ہے جسے حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

    اس سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے یہ موقف اختیار کیا کہ وزیر اعظم سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے غیر جانبدار نہیں رہ سکتا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ہو سکتا ہے کہ الیکشن کمیشن یقینی بنائے کہ آپ کسی گورنمنٹ سکیم کا اعلان نہیں کر سکتے۔ یا الیکشن کمیشن یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ کوئی بھی وزیر سرکاری گاڑی استعمال نہ کرے۔ وزیر اعظم نے تحریری ہدایات دی تھیں کہ میں اپنی جیب یا پارٹی اخراجات کروں گا۔ ہم نے کبھی نہیں سنا نہ کبھی ایسا ہوا کہ الیکشن کمیشن کہے کہ وزیراعظم کو سوات جانے سے روک دیا گیا۔‘

    جسٹس عامر فاروق نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’الیکشن کمیشن نے لکھا ہے کہ وزیراعظم نے سرکاری مشینری استعمال کی ہے۔ الیکشن کمیشن کی بات درست ہے کہ سرکاری خرچے پر مہم نہیں کی جا سکتی۔‘

    وکیل الیکشن کا کہنا تھا کہ پبلک آفس ہولڈر اپنے حلقے میں جا سکتا ہے لیکن انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتا۔ ’ صدر، وزیراعظم، چیئرمین سینیٹ، سپیکرز، وزرا، انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتے۔‘

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 6 اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔

  13. عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد: حکومت اور اپوزیشن کی پنجاب میں کتنی سیٹیں؟

    عمران خان، عثمان بزدار

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    عام انتخابات میں کامیابی کے بعد تحریک انصاف نے وفاق کے علاوہ صوبہ پنجاب میں بھی حکومت بنائی تھی۔

    صوبائی اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق پی ٹی آئی کی پنجاب میں 183 سیٹیں ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کی 165 اور پیپلز پارٹی کی سات تشستیں ہیں۔

    مسلم لیگ ق کے پنجاب میں 10 ارکان اسمبلی ہیں جبکہ آزاد ارکان کی تعداد پانچ ہے۔

    ق لیگ سے اتحاد کے ساتھ پنجاب میں پی ٹی آئی نے حکومت بنائی تھی اور عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا۔

    عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے اپوزیشن کو پنجاب اسمبلی میں سادہ اکثریت درکار ہوگی۔ کل سیٹوں کی تعداد 371 ہے۔

  14. بریکنگ, پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع

    عثمان بزدار

    ،تصویر کا ذریعہTWITTER

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی ہے۔

    اس قرارداد میں سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ سے عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے اجلاس بلانے کی درخواست کی گئی ہے۔

    یہ تحریک پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ اور مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی رانا مشہود، سمیع اللہ خان، میاں نصیر اور دیگر اراکین نے جمع کروائی ہے۔

    خیال رہے کہ مسلم لیگ ق کے رہنما پرویز الہی عمران خان کی حکومت کے اتحادی بھی ہیں اور گذشتہ دنوں ان کے حکومت اور اپوزیشن اتحاد دونوں سے مذاکرات ہوئے ہیں۔

  15. اسلام آباد کا ٹریفک پلان: ریڈ زون داخلے کے راستے محدود, پراجیکٹ موڑ سے زیرو پوائنٹ ٹریفک کے لیے بند

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے قومی اسمبلی کے اجلاس اور اپوزیشن کے جلسے کے پیش نظر ٹریفک پلان جاری کیا ہے۔

    اس کے تحت ریڈ زون میں داخلے اور باہر نکلنے کے لیے نادرا چوک، ایوب چوک، سرینا چوک اور ایکسپریس چوک بند ہیں۔ متبادل راستہ کے طور پر مارگلہ روڈ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    سرینگر ہائی وے پر جے یو آئی ف کے اجتماع کی وجہ سے سرینگر ہائی وے پراجیکٹ موڑ سیکٹر جی ٹین سے زیرو پوائنٹ تک دونوں اطراف ٹریفک کے لیے بند ہے۔

  16. تحریکِ عدم اعتماد قومی اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے پر

    اسد قیصر

    ،تصویر کا ذریعہNA

    25 مارچ کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر نے فاتحہ خوانی کے بعد تحریک عدم اعتماد پر کارروائی کے بغیر آج پیر تک کے لیے ملتوی کر دیا تھا۔

    اجلاس میں تاخیر پر اپوزیشن رہنماؤں نے سپیکر پر آئین شکنی کا الزام لگایا تھا تاہم حکومتی وزرا نے ان کا دفاع کیا۔

    آج کے اجلاس کے ایجنڈے میں بھی وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد شامل ہے۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کیے جانے کے کم از کم تین دن بعد اور سات دن کے اندر اس پر ووٹنگ ہونا لازمی ہے۔

    عدم اعتماد کی اس تحریک کی کامیابی کے لیے اپوزیشن کو کم از کم 172 ارکانِ اسمبلی کی حمایت اور ووٹ درکار ہوں گے۔

    پاکستان میں پارلیمانی امور کے ماہر احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ ’اگر اس قرارداد کے حق میں زیادہ ووٹ آئے تو پھر اس قرارداد پر بحث کے لیے تین سے چار دن مقرر کیے جائیں گے جس میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے ارکان اس قرارداد کے خلاف اور حق میں اپنی تقاریر کریں گے۔‘

  17. صدارتی ریفرنس کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوگی

    منحرف ارکان سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت آج سپریم کورٹ میں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے سے متعلق آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے دائر صدارتی ریفرنس کی سماعت آج دوبارہ سپریم کورٹ میں ہوگی۔

    گذشتہ سماعت کے دوران بینچ میں شامل جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا تھا کہ جو جرم ابھی سرزد ہی نہیں ہوا اس کی سزا کے بارے میں کیسے رائے دے دیں۔ انھوں نے کہا کہ جب پارلیمنٹ کے پاس قانون سازی کا اختیار ہے تو پھر منحرف اراکین کی سزا کے بارے میں تفصیلی بات کیوں نہیں کی گئی۔

    جسٹس مندوخیل نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے میں منحرف ارکان کی سزا صرف ڈی سیٹ ہونے کی دی گئی ہے جبکہ اس میں تاحیات نااہلی کا ذکر نہیں ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے جمعے کے روز صدارتی ریفرنس کی سماعت کی تو اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے اس بارے میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ آئین کے اس آرٹیکل کے تحت نااہلی کی مدت کا تعین نہیں ہے اس لیے عدالت سے رائے لینے کے لیے حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پوری پارلیمنٹ کا اس پر یقین ہے کہ سپریم کورٹ سے بڑھ کر آئین کی تشریح کوئی اور ادارہ نہیں کر سکتا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے پاس اس بارے میں رائے دینے کی گنجائش بڑی محدود ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کے پاس یہ اختیار تھا کہ اگر کوئی رکن منحرف ہو جائے تو اس بارے میں قانون کو سخت کرنے کے لیے قانون سازی کی جاتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

    • لیگی قافلہ سرائے عالمگیر میں، آج اسلام آباد میں ’مہنگائی مکاؤ مارچ‘

      مہنگائی مکاؤ مارچ

      ،تصویر کا ذریعہEPA

      مریم نواز اور حمزہ شہباز کی قیادت میں اپوزیشن کی جماعت مسلم لیگ ن کا قافلہ سرائے عالمگیر پہنچ گیا ہے اور وہاں کچھ دیر قیام کے بعد ’مہنگائی مکاؤ مارچ‘ کے لیے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف روانہ ہوا جائے گا۔

      اپوزیشن کی جماعتیں مسلم لیگ ن اور جے یو آئی ف آج اسلام آباد میں مہنگائی مارچ کر رہے ہیں اور انھوں نے پشاور موڑ کے مقام پر جلسہ کرنے کی درخواست دے رکھی ہے۔

      جے یو آئی کے کارکنان 26 مارچ سے اسلام آباد کے سیکٹر جی نائن کے قریب موجود ہیں اور بعض کارکنان کا کہنا ہے کہ وہ کسی جلسے پر نہیں بلکہ دھرنے پر آئے ہیں۔

    • ’عمران خان نے صرف ڈرامہ رچایا‘

      عمران خان

      ،تصویر کا ذریعہb

      حکمراں جماعت کے اسلام آباد میں جلسے کے ردعمل میں اپوزیشن کے رہنما بھی بیانات جاری کر رہے ہیں۔

      اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں اپنے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’سنا ہے آج اس نے ایک اور ڈرامہ رچایا ہے۔ کوئی پرچی نکالی ہے کہ قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔

      وہ کہتے ہیں کہ ’دماغ خراب ہے کسی کا جو تمہیں شہید کرائے گا۔ ڈرامہ کرتے ہو، جھوٹی پرچیاں لکھتے ہو۔‘

      رہنما جے یو آئی کا مزید کہنا تھا کہ ’اب تمھارے پاس یہی حربہ ہے۔ تمھارے خاتمے کا وقت آچکا ہے۔ پرچیاں تمھیں نہیں بچا سکتیں۔‘

      ’خودکش حملے تو مجھ پر، میرے ساتھیوں پر ہوئے۔‘

    • وزیرِ اعظم کا ’سرپرائز‘ کیا وہ خفیہ خط تھا یا جلسے کے شرکا؟