اسلام آباد میں حکومت کی اتحادی جماعتوں کے اپوزیشن کی جماعتوں سے رابطوں کا سلسلہ زور پکڑ گیا ہے اور مسلم لیگ ق کے رہنما پرویز الٰہی نے اتوار کو رات گئے اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی ہے۔
اس ملاقات سے قبل اتوار کی شام مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے مسلم لیگ ق کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی جبکہ مسلم لیگ ن کا ایک وفد اتوار کی شب حکومت کی ایک اور اتحادی جماعت ایم کیو ایم سے بھی ملا ہے۔
مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کی ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ق کے رہنما طارق بشیر چیمہ نے کہا تھا کہ ’ن لیگ کا وفد ہمارے پاس آیا ہے اور اس حوالے سے مزید مشاورت ہو گی اور ایک دو روز میں اس بارے میں فیصلہ سامنے آئے گا۔‘
انھوں نے دیگر اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر فیصلہ کرنے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ہماری خواہش ضرور ہے کہ ہم اس بارے میں ایک ساتھ فیصلہ کریں۔ کیونکہ ہم چھوٹی جماعتیں ہیں اور ہمیں اپنی کوئی دفاعی حکمت عملی بھی بنانی ہو گی کیونکہ پچھلے ساڑھے تین سالوں کا تجربہ اچھا نہیں ہے۔‘
خیال رہے کہ اتوار کو ہی حکومت کی اتحادی جمہوری وطن پارٹی نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔ جماعت کے واحد رکنِ اسمبلی شاہ زین بگٹی نے اس موقع پر کہا تھا کہ وہ اب اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم کا ساتھ دیں گے۔