اسٹیبلشمنٹ نے عدم اعتماد، استعفیٰ یا پھر قبل از وقت انتخابات کے آپشنز دیے: عمران خان

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں کچھ ایسا نہیں کرنا چاہیے جس سے فوج کو نقصان پہنچے۔ بلاول بھٹو زرداری نے امید ظاہر کی ہے کہ کوئی غیر جمہوری قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ ن لیگ کے ایک رہنما نے میڈیا سے کہا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے اپوزیشن کے امیدوار حمزہ شہباز ہوں گے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, دھمکی آمیز خط سے متعلق تحقیقات کا ارادہ نہیں کیونکہ یہ ہماری خارجہ پالیسی کے لیے نقصان دہ ہے: فواد چوہدری

    fawad

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ وہ 27 مارچ کے جلسے میں وزیرِ اعظم کی جانب سے جس مبینہ خط کا ذکر ہوا اس کی اصلی ہونے سے متعلق تحقیقات نہیں کروانا چاہتے، کیونکہ اس کے نتیجے میں ملکوں کے نام سامنے آئیں گے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے نقصان دہ ہو گا۔

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔

    انھوں نے نامہ نگار زبیر اعظم سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس وقت وفاقی حکومت کا اس خط کے معاملے پر نواز شریف کے خلاف کسی قسم کی کارروائی یا پھر عدالتی کمیشن قائم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔‘

    اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ’اگر ایسا کریں تو پھر تو نام آ جائے گا جو ہم نہیں چاہتے۔ ھمارے لیے تو آسان ہے کہ ھم خط کے مندرجات ظاہر کر دیں، ھمیں سیاسی فائدہ بھی ہو گا، لیکن ملک کے لیے نقصان دہ ہو گا۔‘

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ وزیر اعظم کے مطابق ان کو کئی ماہ سے بیرونی سازش کا علم تھا تو کیا یہ خط بہت پہلے مل چکا تھا تو فواد چوہدری نے جواب دیا کہ ’جس خط کا ذکر کیا گیا ہے وہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے صرف ایک دن قبل موصول ہوا لیکن حکومت اور وزیر اعظم کو اس سازش کا بہت پہلے سے علم تھا۔‘

    اس سے قبل انھوں نے اے آر وائے کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم نے مجھے بتایا ہے کہ ’خط کے مندرجات چند اعلیٰ سول اور ملٹری رہنماؤں سے شیئر کر لیے گئے ہیں۔‘

    انھوں نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نیشنل کمیٹی میٹنگ کی کمپوزیشن محدود نہیں، وہ بھی خاصی بڑی ہے، غیر سرکاری میٹنگ میں تو اس بارے میں چند اعلیٰ عسکری و حکومتی رہنماؤں کو بتا دیا گیا ہے لیکن سرکاری میٹنگ میں اس پر بحث نہیں ہوئی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایک طرف تو ہمیں اس سے سیاسی فائدہ ہے لیکن دوسری طرف ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کا بھی خیال رکھنا ہے، اس لیے یہ خاصی مشکل صورتحال ہے۔‘

  2. بریکنگ, عمران خان نے پی ٹی آئی کے رکنِ پارلیمان کو عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن قومی اسمبلی آئے سے روک دیا

    imran

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے بطور پارٹی چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف کی رکنِ پارلیمان کو تحریری ہدایات جاری کر دی ہیں، جس کے تحت انھیں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرنے اور اس دوران پارلیمان میں جانے سے منع کر دیا گیا ہے۔

    وزیرِ اعظم کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق ’تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دوران کوئی پارٹی رکن اسمبلی اجلاس میں شریک نہ ہو۔‘

    خط کے متن کے مطابق ’اسمبلی اجلاس میں شرکت پر آرٹیکل 63 اے کا اطلاق ہو گا۔ وزیراعظم کی جانب سے تمام اراکین کو انفرادی طور پر خط ارسال کیا گیا ہے۔

  3. دھمکی آئی ہے تو پارلیمان میں لائیں، کرسی بچانے کے لیے ملک کی خارجہ پالیسی داؤ پر نہ لگائیں: شاہد خاقان

    Khaqan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومتی وزرا اور وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب مبینہ دھمکی آمیز خط سے متعلق بات کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارے ملک کو دھمکی آئی ہے تو ہم سب نے مل کر اس کا جواب دینا ہے، یہ عمران خان اور ان کے دو وزیروں کا مسئلہ نہیں ہے یہ 23 کروڑ عوام کا مسئلہ ہے۔

    ’اس کا جواب دینے کی ضرورت ہے، اگر یہ خط، وزیرِ اعظم، ان کے وزیر اور سپریم کورٹ کے جج کو دکھایا جا سکتا ہے تو یہ پاکستان کے 23 کروڑ عوام کے نمائندوں کو بھی دکھایا جا سکتا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آج اگر آپ خط نہیں دکھائیں گے تو انشااللہ چار اپریل کے بعد وہ خط دیکھیں گے، اس اخبار میں چھاپا جائے گا۔

    ’کون سا ملک ہے جس کی اتنی جرات تھی جو پاکستان کو للکار سکے، دھمکی دے سکے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ آپ یہ خط پارلیمان کے سامنے رکھیں۔‘

    شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ ’اپنی کرسی بچانے کے لیے ملک کی خارجہ پالیسی داؤ پر نہ لگائیں۔ کسی نے دھمکی لکھی ہے تو پوری قوم آپ کے ساتھ ہے، قومی سلامتی کمیٹی میں لے کر آئیں، پارلیمان میں کر آئیں۔‘

  4. چیف جسٹس: جاننا چاہتے ہیں پارلیمنٹ نے منحرف اراکین کے لیے قانون ادھورا کیوں چھوڑا؟

    supreme court

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیف جسٹس پاکستان نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق سماعت میں اٹارنی جنرل سے اپنی گزارشات کی سپورٹ میں تحریری مواد فراہم کرنے کا کہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے آئین کی پیروی کرنی ہے، اٹارنی جنرل صاحب اپ نے اچھی کوشش کی۔‘ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ’پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کو بعد میں سنیں گئے، پہلے دوسرے فریقین کو سننا چاہتے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ابھی تک تو یہی سنا ہے کہ پارٹی سے انحراف بہت بری چیز ہے۔

    چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ ’تمام جماعتیں ہی انحراف کو برا کہتی ہیں، جاننا چاہتے ہیں پارلیمنٹ نے منحرف اراکین کے لیے قانون ادھورا کیوں چھوڑا؟‘

  5. ق لیگ کی واپسی کے لیے اب دیر ہو گئی ہے، پنجاب میں اپنی مرضی کی تبدیلی لائیں گے: آصف زرداری

    asif

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اس پریس کانفرنس کے دوران جب آصف علی زرداری سے سوال پوچھا گیا کہ کیا اب بھی ق لیگ کے لیے ان کے دروازے کھلے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں تو سمجھتا ہوں کہ اب دیر ہو چکی ہے۔‘

    صوبہ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ کے امیدوار کی نامزدگی سے متعلق بات کرتے ہوئے آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’ہم سب اتحادی مل کر امیدوار نامذ کریں گے۔ جس کو اپوزیشن بنائے گی وہ بن جائے گا۔ نمبرز ان کے پاس نہیں ہیں، نمبرز ہمارے پاس ہیں۔

    ’انشااللہ پنجاب میں بھی ہم تبدیلی لائیں اور اپنی مرضی کی لائیں گے۔‘

  6. ایم کیو ایم کا کوئی ایسا مطالبہ نہیں ہے جس پر دو ہفتے پہلے انکار کیا ہو: بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے عمران خان کی جانب سے خط سے متعلق الزام کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ قوم کے سامنے لے کر آؤ، عمران خان پہلے بھی جھوٹے الزامات لگاتے رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے جب تحریک عدم اعتماد جمع کروائی گئی اس وقت بھی ہمارا نمبر پورا تھا اور اب اس وقت ہمارا نمبر اس سے کہیں زیادہ ہے۔

    متحدہ قومی موومنٹ سے متعلق بات کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ ’ایم کیو ایم کا کوئی ایسا مطالبہ نہیں ہے جس پر دو ہفتے پہلے انکار کیا تھا، نہ اس وقت کیا ہے۔‘

    اس بارے میں سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ اس وقت سندھ حکومت کی کابینہ ایم کیو ایم سے مذاکرات کر رہی ہے، اور اس طرف سے بھی جلد اچھی خبر آئے گی۔‘

  7. سیاسی بحران: پاکستان میں ڈالر کو بھی ’پر لگ گئے‘, تنویر ملک، صحافی

    dollar

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں منگل کے روز ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ پاکستان میں انٹر بینک میں ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 182.34 کی سطح پر بند ہوا جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی تجارت انٹربنک سے بھی 20 پیسے زیادہ رہی۔

    ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کا رجحان کئی ہفتوں سے جاری ہے۔ پاکستان میں کرنسی کے شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق اس کمی کی معاشی کے ساتھ سیاسی وجوہات بھی ہیں جس میں پاکستان میں بڑھتا ہوا سیاسی بحران ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں حکومت کی توجہ معاشی امور سے ہٹ کر سیاسی ایشوز پر ہے۔

    جنرل سیکرٹری ایکسچینج کمپنی ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ نے بتایا کہ معاشی وجوہات میں ملک کا بڑھتا ہوا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، زیادہ درآمدات اور آئی ایم ایف کے ساتھ اب تک غیرنتیجہ مذاکرات ہیں تاہم اس کی وجہ بھی سیاسی ہے کہ حکومت اپنے سیاسی مسائل کی وجہ سے اس جانب توجہ نہیں دے پا رہی

    دوسری جانب پاکستان کی سٹاک مارکیٹ اور حکومتی بانڈز سے بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کا اخراج مسلسل دیکھنے میں آیا ہے۔ گزشتہ مہینے سے سیاسی بحران کا آغاز ہوا جو مارچ میں شدید ہوا اور اس مہینے کے دوران ملک سے صرف ایک مہینے میں اب تک چالیس کروڑ ڈالر کے لگ بھگ غیر ملکی سرمایہ کاری کا اخراج ہو چکا ہے۔

    مرکزی بینک کے مطابق اب تک اس مالی سال میں ڈیڑھ ارب ڈالر کا اخراج ہوا جو مارچ کے مہینے میں سب سے زیادہ رہا جب چالیس کروڑ ڈالر کا اخراج ہوا۔

  8. ق لیگ کے لوگ رات 12 بجے مجھ سے مبارکباد لینے آئے، صبح کہیں اور چلے گئے: آصف زرداری

    zardari

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو نے اب سے کچھ دیر قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے موجودہ صورتحال پر سوالات کے جواب دیے۔

    پاکستان مسلم لیگ ق کے اچانک حکومت کی حمایت کے اعلان اور ق لیگ میں سے کسی کے ساتھ رابطے کے بارے میں سوال پر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’دیکھیں سیاسی لوگوں کا راستہ تو رہتا ہے، جس طرح میں نے پہلے دن کہا ملک جن حالات میں اس میں ہم سب کو مل کر ملک کو بچانے کی کوشش کرنی ہو گی۔

    ق لیگ کی جانب سے مؤقف میں تبدیلی سے متعلق سوال پر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’وہ تیار تھے، آ گئے تھے پھر مجھے نہیں پتا انھیں کیا سوچ آئی یہ تو ان سے پوچھا جائے۔ رات کو 12 بجے مجھ سے مبارکباد لینے آتے ہیں اور صبح کسی اور کے ساتھ چلے جاتے ہیں، یہ تو ان سے پوچھا جائے۔‘

  9. بریکنگ, بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی اسلم بھوتانی کا اپوزیشن جماعتوں کی حمایت کا اعلان

    bhootani

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/@ShahidQurashii

    گذشتہ روز سے بلوچستان سے آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی اسلم بھوتانی کی اپوزیشن جماعتوں کی حمایت کی خبریں کل سے چل رہی تھیں، اور خود اسلم بھوتانی بھی اس حوالے سے تصدیق کر چکے تھے تاہم اب انھوں نے پاکستان کی متحدہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں اس حوالے سے اعلان کر دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’زرداری صاحب مہربان ہیں، ان کے بہت احسانات ہیں اور میں ان کو بہت پہلے کہہ چکا تھا کہ میری طرف سے آپ کو کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی، لیکن آج اچھا ہوا کہ باضابطہ طور پر اعلان ہو گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ تین سالوں سے ہم پی ٹی آئی کو ووٹ دے رہے تھے اور ان کی حمایت کر رہے تھے، لیکن ہم نے اپنے الیکشن کو دیکھنا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اپوزیشن جماعتوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

  10. بریکنگ, خط چیف جسٹس سے پاکستان کے بڑے ہونے کی حیثیت سے شیئر کرنا چاہتے ہیں: فواد چوہدری

    fawad

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیراطلاعات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس میں اسد عمر کی بات مکمل ہونے کے بعد چیف جسٹس کو خط دکھانے سے متعلق اسد عمر کے بیان کے بارے میں کہا کہ ’چیف جسٹس کا یہ جوڈیشل فکشن نہیں ہے۔

    ’یہ ان سے پاکستان کے بڑے ہونے کی حیثیت سے شیئر کرنا چاہتے ہیں۔‘

    فواد چوہدری نے کہا کہ ’میں اس وجہ سے ہی کہتا تھا کہ نواز شریف کو باہر نہ جانے دیں کیونکہ ایسے لوگ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار بن جاتے ہیں۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’نواز شریف کی ایک اسرائیلی سفارت کار سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔‘

  11. بریکنگ, مراسلے کے کرداروں میں سے ایک نواز شریف ہیں: اسد عمر کا الزام

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    اسد عمر اس وقت ایک پریس کانفرنس سے سے خطاب کر رہے ہیں اور انھوں نے 27 مارچ کو وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے جس خط یا مراسلے کا ذکر کیا تھا اس کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔

    انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مراسلے کے کرداروں میں سے ایک نواز شریف ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’پی ڈی ایم کی سینیئر قیادت بھی اس سے لاعلم نہیں ہے۔ وہ جو میڈیا سے ملاقاتوں میں کہتے تھے کہ سارے معاملات طے پا گئے ہیں، یہ اسی کی ایک کڑی ہے۔‘

    اسد عمر کے مطابق وزیراعظم کی رائے میں یہ ضروری تھا کہ پوری قوم کو بتائیں کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔

    انھوں نے ارکان پارلیمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا وہ پھر بھی اس تحریک کا حصہ بننے کو تیار ہیں۔

    اسد عمر کے مطابق ’اس مراسلے کا ہماری خارجہ پالیسی کے ساتھ براہ راست تعلق ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے میں مرکزی کردار نواز شریف کا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میرا مفروضہ یہ ہے کہ زیادہ تر اراکین کو اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔‘

    اسد عمر کے مطابق کابینہ کے دو یا تین لوگوں نے یہ خط دیکھا ہوا ہے۔ ان کے مطابق اب یہ خط 342 لوگوں کو نہیں دکھایا جا سکتا ہے۔

  12. بریکنگ, وزیراعظم خط چیف جسٹس کے سامنے رکھنے کے لیے تیار ہیں: اسد عمر

    asad

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے وہ دھمکی آمیز مراسلہ دیکھا ہے جس کا ذکر عمران خان نے اپنی 27 مارچ کی تقریر میں کیا ہے مگر کچھ قومی راز ہوتے ہیں۔

    اسد عمر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے یہ کہا ہے کہ یہ خط سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو دکھا دیتے ہیں تاکہ لوگوں کو یقین آ سکے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ بتانے کی اجازت نہیں ہے کہ اس میں کیا لکھا ہوا ہے مگر یہ مراسلہ عدم اعتماد تحریک پیش ہونے سے پہلے کا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس مراسلے میں براہ راست عدم اعتماد کی تحریک کا ذکر ہے۔ یہ مراسلہ پہلے کا ہے مگر پھر بھی اپوزیشن کی عدم اعتماد تحریک کا ذکر شامل ہے۔‘

    اسد عمر کے مطابق اس مراسلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’اگر وزیراعظم عمران کے خلاف یہ تحریک کامیاب نہیں ہوتی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

    ’ یہ مراسلہ سول اور ملٹری قیادت تک محدود رکھا گیا ہے۔‘

  13. تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ تین اپریل کو: وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید

    rashid

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر تین اپریل کا ووٹنگ کا دن بھی خوش اسلوبی سے گزرے گا اور ’آخری بال تک الیکشن ہو گا۔‘

    شیخ رشید کے مطابق ’ایک پھرعمران خان کو مشورہ دیا کہ اچھا بجٹ پیش کر کے حج کے بعد انتخابات کرائے جائیں۔‘

    ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ ’پنڈی والے پاکستان کے حالات سے بخوبی واقف ہیں۔ اگر انھوں نے ایک غیرجانبداری کا مظاہرہ کیا تو یہ اچھی بات ہے۔ ہر بات پنڈی پر ڈال دیں تو یہ بھی کوئی اچھی بات نہیں ہے۔‘

    شیخ رشید نے کہا کہقوم آج عمران خان کے ساتھ ہے اور ان کے مطابق اب الیکشن کا سماں ہے۔

    شیخ رشید نے کہا کہ ایم کیو ایم سمیت تمام اتحادی واپس آئیں گے۔

    تحریک عدم اعتماد سے متعلق شیخ رشید نے کہا کہ ’میری دعا بھی ہے اور کوشش بھی ہے کہ اپوزیشن 172 پوری نہ کر سکے۔‘

  14. آرٹیکل 63 اے میں رکنیت ختم ہونے کا لفظ ہے، نااہلی کا نہیں: سپریم کورٹ, آرٹیکل 63 اے پر سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کی سماعت جاری

    court

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ چور چور ہوتا ہے اور کسی کو اچھا چور نہیں کہا جاسکتا۔

    جسٹس جمال خان مندوخال نے استفسار کیا کہ کیا اختلاف کرنے کا مطلب انحراف ہے جس پر اے جی کا کہنا تھا کہ اختلاف تو ججز فیصلوں میں بھی کرتے ہیں اور اختلاف رائے کا مطلب انحراف کرنا نہیں ہوتا۔

    انھوں نے سینیٹ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے فوجی عدالتوں کے معاملے پر اختلاف رائے کیا، لیکن انحراف نہیں۔

    دوسری جانب جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے میں رکنیت ختم ہونے کا لفظ ہے، نااہلی کا نہیں اور جب نااہلی ہے ہی نہیں تو بات ہی ختم ہو گئی۔

    انھوں نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن انکوائری کریگا کہ انحراف ہوا ہے یا نہیں۔

    دوسری جانب بینچ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن آرٹیکل 63 اے میں کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی اور پارٹی سربراہ نااہلی کا ڈیکلریشن دے گا۔

  15. آرٹیکل تریسٹھ اے کا مقصد تاحیات نااہلی پر ہی پورا ہو گا: اٹارنی جنرل, آرٹیکل 63 اے پر صدارتی ریفرنس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں سماعت جاری

    get

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد میں عدالت عظمی میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے جاری سماعت میں دلائل دیتے ہوئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ منحرف رکن کی ناہلی پانچ سال یا تاحیات ہو سکتی ہے۔

    اٹارنی جنرل خالد جاوید نے چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ سے سے درخواست کی کہ عدالت آرٹیکل 63 اے کی تشریح کر کے نا اہلی کی مدت کے تعین کی وجوہات بتائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ منحرف رکن نیوٹرل ہو کر پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ دے تو اسکی نا اہلی کی مدت کا تعین نہیں ہے البتہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر نا اہلی تاحیات ہے جبکہ ’مس کنڈکٹ‘ پر نا اہلی پانچ سال ہے۔

    انھوں نے اپنے دلائل میں کہا کہ منحرف رکن کو آئندہ الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چائیے اور پارٹی سے انحراف کو معمول کی سیاسی سرگرمی نہیں کہا جاسکتا۔

    دلائل دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آئین میں اسمبلی کی مدت کا ذکر ہے، اراکین کا نہیں ہے اور اسمبلی تحلیل ہوتے ہی اراکین کی رکنیت ختم ہو جاتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اراکین اسمبلی کی رکنیت کی مدت کا تعین اسمبلی سے جڑا ہوا ہے اور اسمبلی کی مدت پورے ہونے تک نااہلی سے آرٹیکل 63 اے کا مقصد پورا نہیں ہو گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے کا مقصد تاحیات نااہلی پر ہی پورا ہو گا اور سوال صرف یہ ہے کہ منحرف رکن ڈیکلریشن کے بعد الیکشن لڑنے کا اہل ہے یا نہیں۔

  16. مسلم لیگ ق کے حکومت کے ساتھ جانے میں کردار مونس الٰہی کا تھا: رانا ثنا اللہ

    rana

    ،تصویر کا ذریعہFacebook.com/RanaSanaUllahOfficial

    مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ ق کے اپوزیشن کا ساتھ چھوڑ کر حکومت سے ہاتھ ملانے کے عمل میں مرکزی کردار مونس الٰہی کا تھا۔

    منگل کو اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’چوہدری صاحبان نے ہمیں رات کو کہا کہ عثمان بزدار کے خلاف صبح تحریک عدم اعتماد جمع کروائیں اور اس سلسلے میں کچھ تاخیر ہونے پر پرویز الہی کا فون بھی آیا تاہم بعد صورتحال تبدیل ہو گئی اور وہ مونس الہی کے کہنے پر حکومت سے مل گئے۔

    رانا ثنااللہ نے یہ بھی دعویٰ کیا اپوزیشن کو تحریکِ عدم اعتماد کے لیے درکار 172 ارکان کا نمبر پورا ہو چکا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’‏حکومت ہاری ہوئی گیم کھیل رہی ہے ان کے چھ دن باقی رہ گئے ہیں، ہم نے پارلیمنٹ میں 172 کا نمبر پورا کر لیا ہے، ق لیگ کے تین ووٹ بھی ہمیں ہی ملیں گے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کے بھائی نے بھی اپوزیشن کو ووٹ کی یقین دہانی کرائی ہے اور وہ انھیں چیلنج کرتے ہیں اس کی تردید کروا کر دکھائیں۔

  17. سندھ ہاؤس پر حملے کی رپورٹ دوبارہ جمع کرائی جائے: سپریم کورٹ آف پاکستان

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں سندھ ہاؤس حملہ کے ملزمان کی گرفتاری کا معاملہ زیر بحث آیا جہاں عدالت نے کہا کہ سندھ ہاؤس حملہ کیس کی رپورٹ کل (بدھ کو) دوبارہ رپورٹ جمع کروائی جائے۔

    اس سے قبل اسلام آباد آئی جی کی جانب سے پیش رفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی تھی جس میں کہا گیا کہ سندھ ہاؤس حملے کے ملزمان کیخلاف دہشت گردی کا ثبوت نہیں مل سکا، نہ ہی کوئی اسلحہ برآمد ہوا اور دہشت گردی کے ثبوت ملے تو مزید کاروائی کی جائے گی۔

    سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ جے یو آئی کو دو دن جلسے کی اجازت دی تھی لیکن وہ عدالت میں اپنے بیان سے منحرف ہو رہی ہے۔

    ادھر جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضی کا کہنا تھا کہ سڑک انتظامیہ نے بند کی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہاں پر کوئی دھرنہ نہیں ہو رہا تھا اور جلسہ ختم ہو چکا تھا جس کے بعد مظاہرین وہاں سے واپس جا رہے تھے۔

  18. سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کی سماعت کا آغاز

    پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشرریح کے لیے سپریم کورٹ میں دائر کیے جانے والے صدارتی ریفرنس کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے جس میں عدالت سے اس آرٹیکل کی تشریح کا مطالبہ کیا گیا ہے جو ایوان میں اپنی جماعت سے منحرف ہونے والے ارکان کے بارے میں ہے۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق امکان ہے کہ اٹارنی جنرل خالد جاوید آج کی سماعت میں اپنے دلائل مکمل کر لیں گے

  19. ملک و قوم اور پارٹی کے مفاد میں استعفیٰ دیا: عثمان بزدار

    عمران خان اور عثمان بزدار

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پنجاب کے مستعفی ہونے والے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا ہے کہ وزارت اعلیٰ کا منصب وزیراعظم عمران خان اور عوام کی امانت ہے اور انھوں نے ملک و قوم اور پارٹی کے مفاد میں استعفیٰ دیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ استعفے کی منظوری کے بعد وزارت اعلیٰ چھوڑ دیں گے۔

    عثمان بزدار کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ مشکل وقت میں اپنی پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’مجھے عہدے کی تمنا نہیں، ہمیشہ وزیراعظم عمران خان کا ساتھ نبھاؤں گا۔۔۔ وزارتیں آنی جانی چیز ہیں، اصل چیز پارٹی اور عوام سے کمٹمنٹ ہوتی ہے۔ مجھے ذات سے بڑھ کر ملک و قوم کا مفاد عزیز ہے۔ محض عوام کی خدمت کے لیے وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالا اور دن رات کام کیا‘۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. بریکنگ, پارلیمانی سیکرٹری ایم این اے چوہدری عاصم نذیر کا پی ٹی آئی سے راہیں جدا کرنے کا اعلان

    پی ٹی آئی کے پارلیمانی سیکرٹری اور فیصل آباد سے ایم این اے چوہدری عاصم نذیر نے ٹوئٹر میں ایک پیغام میں کہا ہے کہ انھوں نے پی ٹی آئی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ پاکستان مسلم لیگ نون میں شامل ہو رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ انھوں نے اپنے حلقے کے اہم لوگوں سے مشاورت کے بعد کیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    چوہدری عاصم نذیر کے اس بیان پر پی ٹی آئی سے پہلے ہی منحرف ہونے والے رکنِ قومی اسبملی راجہ ریاض نے ان کو خوش آمدید کہا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2