بریکنگ, دھمکی آمیز خط سے متعلق تحقیقات کا ارادہ نہیں کیونکہ یہ ہماری خارجہ پالیسی کے لیے نقصان دہ ہے: فواد چوہدری

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ وہ 27 مارچ کے جلسے میں وزیرِ اعظم کی جانب سے جس مبینہ خط کا ذکر ہوا اس کی اصلی ہونے سے متعلق تحقیقات نہیں کروانا چاہتے، کیونکہ اس کے نتیجے میں ملکوں کے نام سامنے آئیں گے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے نقصان دہ ہو گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔
انھوں نے نامہ نگار زبیر اعظم سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس وقت وفاقی حکومت کا اس خط کے معاملے پر نواز شریف کے خلاف کسی قسم کی کارروائی یا پھر عدالتی کمیشن قائم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔‘
اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ’اگر ایسا کریں تو پھر تو نام آ جائے گا جو ہم نہیں چاہتے۔ ھمارے لیے تو آسان ہے کہ ھم خط کے مندرجات ظاہر کر دیں، ھمیں سیاسی فائدہ بھی ہو گا، لیکن ملک کے لیے نقصان دہ ہو گا۔‘
جب ان سے سوال کیا گیا کہ وزیر اعظم کے مطابق ان کو کئی ماہ سے بیرونی سازش کا علم تھا تو کیا یہ خط بہت پہلے مل چکا تھا تو فواد چوہدری نے جواب دیا کہ ’جس خط کا ذکر کیا گیا ہے وہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے صرف ایک دن قبل موصول ہوا لیکن حکومت اور وزیر اعظم کو اس سازش کا بہت پہلے سے علم تھا۔‘
اس سے قبل انھوں نے اے آر وائے کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم نے مجھے بتایا ہے کہ ’خط کے مندرجات چند اعلیٰ سول اور ملٹری رہنماؤں سے شیئر کر لیے گئے ہیں۔‘
انھوں نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نیشنل کمیٹی میٹنگ کی کمپوزیشن محدود نہیں، وہ بھی خاصی بڑی ہے، غیر سرکاری میٹنگ میں تو اس بارے میں چند اعلیٰ عسکری و حکومتی رہنماؤں کو بتا دیا گیا ہے لیکن سرکاری میٹنگ میں اس پر بحث نہیں ہوئی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایک طرف تو ہمیں اس سے سیاسی فائدہ ہے لیکن دوسری طرف ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کا بھی خیال رکھنا ہے، اس لیے یہ خاصی مشکل صورتحال ہے۔‘














