اسٹیبلشمنٹ نے عدم اعتماد، استعفیٰ یا پھر قبل از وقت انتخابات کے آپشنز دیے: عمران خان

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں کچھ ایسا نہیں کرنا چاہیے جس سے فوج کو نقصان پہنچے۔ بلاول بھٹو زرداری نے امید ظاہر کی ہے کہ کوئی غیر جمہوری قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ ن لیگ کے ایک رہنما نے میڈیا سے کہا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے اپوزیشن کے امیدوار حمزہ شہباز ہوں گے۔

لائیو کوریج

  1. کابینہ نے اعتماد کا اظہار کیا ہے، عمران خان استعفیٰ نہیں دیں گے: شیخ رشید

    شیخ رشید

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ نے وزیرِ اعظم عمران خان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور وہ آج شام قوم سے خطاب کریں گے۔

    اُنھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عمران خان کے استعفیٰ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اور وہ آخری گیند پر بھی لڑیں گے۔ اُنھوں نے ایک بار پھر کہا کہ اتوار تین اپریل کو تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ ہو گی۔

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان یا وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی (خط کے معاملے پر) اسمبلی میں ان کیمرا خطاب کریں۔

  2. بلوچستان عوامی پارٹی کے چار ارکان کی اپوزیشن بینچز پر بیٹھنے کی درخواست

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. متحدہ قومی موومنٹ کا تحریک عدم اعتماد میں متحدہ اپوزیشن کا ساتھ دینے کا فیصلہ

    متحدہ قومی موومنٹ نے متحدہ اپوزیشن کا ساتھ دینے اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت کا فیصلہ کرلیا ہے، ایم کیو ایم کو اس فیصلے سے کیا سیاسی فوائد ہوں گے اس نے یہ فیصلہ کیوں لیا، سنتے ہیں کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے فیس بک لائیو میں

  4. علیم خان گروپ نے پنجاب کی وزارت اعلی کے لیے نامزد پرویز الہی کو ووٹ دینے سے انکار کر دیا

    Ak

    ،تصویر کا ذریعہFacebook.com/AleemKhanPTI

    عبدالعلیم خان گروپ کے ترجمان میاں خالد محمود نے بیان میں کہا ہے کہ ان کے گروپ کے اراکین وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے وزیر اعلی کے عہدے پر نامزد کیے گئے ق لیگ کے رہنما اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر پرویز الہی کو ووٹ نہیں دیں گے۔

    ترجمان میاں خالد نے کہا کہ عمران خان جن القابات سے پرویز الہی کو بلاتے تھے وہ انھیں دہرانے کی جسارت بھی نہیں کر سکتے۔

    ’پہلے چار سال ایک بے ایمان اور نکمے بزدار کو مسلط رکھا اب پرویز الہی کو نامزد کر دیا۔ وہ پی ٹی آئی کے جانثار جنھوں نے نئے پاکستان میں عمران خان کا ساتھ دیا کیا 184 اراکین میں سے ایک بھی وزیر اعلیٰ بننے کا اہل نہیں تھا؟‘

    ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے ہر مخلص کارکن کو پرویز الہی کی نامزدگی پر اعتراض ہے اور اگر ’نئے پاکستان‘ میں پرویز الہی بنائیں گے تو تحریک انصاف بنانے کی کیا ضرورت تھی۔

    انھوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہی وہ نظریہ تھا جس کے لے 25سال جدوجہد کی گئی تھی؟

    ’آج حکومت بچانے کی باری آئی تو پنجاب کا وزیر اعلیٰ انھیں نامزد کر دیا جنھیں آپ چور اور ڈاکو کہتے تھے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ان کا گروپ کوئی سودے بازی نہیں کرے گا بلکہ اپوزیشن کا غیرمشروط ساتھ دے گا۔ میاں خالد نے اس امید کا اظہار کیا کہ جہانگیر ترین کا گروپ بھی محب وطن اور قوم کا درد رکھنے والا ہے اور توقع ہے کہ وہ ان کا ساتھ دیں گے۔

  5. ایم کیو ایم نے کب کب اور کس سے ڈیل کی؟

  6. ’یہ ممکن ہے کہ پارٹی پالیسی سے انحراف پر آرٹیکل 63 کا اطلاق نہ ہو‘, شہزاد ملک، بی بی سی

    پارلیمنٹ ہاؤس

    سپریم کورٹ میں آج صدارتی ریفرینس پر سماعت کے دوران جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ پارلیمانی نظام جمہوریت میں پارٹی پالیسی کی اپنی اہمیت ہے جس پر پاکستان مسلم لیگ نون کے وکیل کا کہنا تھا کہ وقت اور حالات کے تحت ہمیشہ ارتقائی عمل جاری رہتا ہے۔

    مخدوم علی خان نے کہا کہ آج جس چیز کو غیر آئینی کہا کل کو وہ آئینی ہوسکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بھیجا گیا صدارتی ریفرنس محض تصوراتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ رکن قومی اسمبلی اپنے شعور کے تحت ووٹ ڈال سکتا ہے۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ رکن قومی اسمبلی انتخابی نشان پر انتخاب لڑتا ہے اور پر پارٹی کا اپنا انتخابی نشان ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تمام پارٹیاں زیادہ تر الیکٹیبلز کو ہی ٹکٹ دیتی ہیں۔

    اس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ یہ سیاست ہے پارٹی ہمیشہ کوشش کرتی ہے کہ ٹکٹ اس کو دیا جائے جو جیت سکے۔

    مخدوم علی خان نے کہا کہ اگر کوئی آزاد امیدوار جیت جائے تو وہ تمام پارٹیوں کو شکست دیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جیت کے بعد کسی کے ساتھ شامل ہو جائے تو یہی تصور کیا جاتا ہے کہ ووٹر سے بے وفائی کر لی۔

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ اگر وہ سیاسی پارٹی میں شمولیت اختیار کرتا ہے تو پارٹی پالیسی کا پابند ہوگا لیکن یہ ممکن ہے کہ پارٹی پالیسی سے انحراف پر آرٹیکل 63 کا اطلاق نہ ہو۔

    انھوں نے کہا کہ آزاد ممبر کی سیاسی پارٹی میں شمولیت کے بعد انحراف پر سیاسی نتائج ہوسکتے ہیں۔ بینچ کے سربراہ نے پاکستان مسلم لیگ نون کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئےکہا کہ آپ اگلے نکتے پر دلائل دیں جس پر مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دلائل میں سیاسی سوالات سے متعلق عدالتی فیصلوں کے حوالہ جات پیش کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ عدالت کہہ چکی ہے کہ سیاسی سوالات سے اجتناب کیا جائے اور عدالت صرف قانونی سوالات کے جوابات دینے کی پابند ہے۔

    انھوں نے کہا کہ خارجہ امور، معاشی معاملات، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے معاملات سیاسی نوعیت کے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات عدالتی معیار پر پورے نہیں اترتے تو عدالت اُنھیں مسترد کرسکتی ہے۔

    بعد میں اس صدارتی ریفرنس کی سماعت چار اپریل تک ملتوی کردی گئی۔

  7. خان آخری گیند تک لڑے گا: شہباز گل

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  8. بریکنگ, مشترکہ اپوزیشن سے معاہدے کی توثیق کرتے ہیں: ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی

    MQM

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی کی رکن نسرین جلیل نے کراچی میں جماعت کے دفتر کے باہر مختصر پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے اعلان کیا کہ رابطہ کمیٹی ایم کیو ایم اور مشترکہ اپوزیشن کے درمیان طے کیے جانے والے معاہدے کی توثیق کرتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی تفصیلات مشترکہ پریس کنفرنس میں پیش کی جائیں گی۔

  9. ’استعفی نہیں ملے گا، میدان لگے گا‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    عمران خان کے قوم سے خطاب کے بعد مختلف قسم کی چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں تھیں البتہ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ٹویٹ میں کہا کہ وزیر اعظم استعفی نہیں دیں گے۔

  10. بریکنگ, فروغ نسیم، امین الحق کا وزارتوں سے استعفیٰ

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزرا فروغ نسیم اور امین الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے وفاقی کابیہ میں اپنے عہدوں سے استعفی دے دیا ہے۔

    فروغ نسیم عمران خان کی کابینہ میں وزیر قانون اور امین الحق وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی تھے۔

    فروغ نسیم ایوان بالا کے رکن جبکہ امین الحق کراچی سے قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔

    واضح رہے کہ گذشتہ شب متحدہ قومی موومنٹ اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے بعد اعلان کیا گیا تھا کہ فریقین کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے اور آج (بدھ) شام چار بجے مشترکہ پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا جائے گا۔

    اگر ایم کیو ایم وزیر اعظم عمران خان کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن کا ساتھ دینے کا اعلان کرتی ہے تو عددی اعتبار سے تحریک انصاف کی حکومت ایوان زیریں میں اپنی اکثریت کھو دے گی۔

    ایم کیو ایم

    ،تصویر کا ذریعہMQM

  11. بریکنگ, وزیر اعظم عمران خان آج شام قوم سے خطاب کریں گے, دوپہر میں وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس بھی طلب

    IK

    ،تصویر کا ذریعہCourtesy PMO

    ملک میں تیزی سے بدلتی سیاسی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان آج شام قوم سے خطاب کریں گے۔ اس کے علاوہ انھوں نے دوپہر میں وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا ہے۔

    اس سے قبل صبح کو ای پاسپورٹ کے اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ملک میں اس وقت ’بیرون ملک سے برآمد کیا گیا بحران‘ ہے اور یہ ایک بیرون ملک سے سازش ہے۔

    اسی تقریب سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ’دھمکی آمیز خط‘ آج چند سینئیر صحافیوں اور اتحادیوں کے ساتھ شئیر کریں گے جس کا ذکر انھوں نے اتوار کو اپنے جلسے میں کی تھا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں نے خود فیصلہ کرنا ہے لیکن وہ فیصلہ کرتے وقت یہ ضرور سوچیں کہ وہ کہیں پاکستان کے خلاف ہونے والی سازش کا حصہ تو نہیں بن رہے ہیں۔

  12. ‘پاکستانی سیاست میں عجوبے ہوتے رہے ہیں اور ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں‘, پاکستان مسلم لیگ نواز کے وکیل مخدوم علی حان

    بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں اگر کسی رکن نے پارٹی پالیسیوں سے اختلاف کیا تو منحرف اراکین کو پارٹی سربراہان نے قبول کیا۔

    پاکستان مسلم لیگ نواز کے وکیل مخدوم علی حان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سیاست میں عجوبے ہوتے رہے ہیں اور ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ منحرف رکن کو پارٹی سربراہ شوکاز نوٹس جاری کر کے سن سکتا ہے اور ہوسکتا ہے پارٹی سربراہ منحرف رکن کے جواز سے مطمئن ہو جائے۔

    چیف جسٹس نے مخدوم علی حان کو مخاطب کرتے ہویے کہا کہ صدارتی ریفرنس کی ٹائمنگ کا آپ نے سوال اٹھایا ہے۔ جس پر پاکستان مسلم لیگ نواز کے وکیل کا کہنا تھا کہ حکومت کو ایک سال پہلے خرابی کی نشاندہی کرائی تھی لیکن پھر اتنی تاخیر سے ریفرنس کیوں دائر کیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ ایسے وقت میں صدر نے ریفرنس دائر کر کے ہماری تکریم اور وقار پر سمجھوتہ کیا جس پر چیف جسسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم حیران ہیں آپ صدر کے نیوٹرل ہونے سے متعلق بات کررہے ہیں۔

    جسٹس اعجاز الااحسن نے مخدوم علی خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہم سے چاہتے ہیں کہ اس صدارتی ریفرنس پر رائے دینے سے پہلے ہم ٹائمنگ کو دیکھیں؟ جس پر پاکستان مسلم لیگ نواز کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کی استدعا ہے کہ تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد جو ریفرنس دائر ہوا ہے عدالت صرف اس کو مدنطر رکھے۔

    جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیے کہ عدالتی تشریح کے دور رس نتائج ہوں گے۔ بینچ میں موجود جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسے شواہد ہیں کہ پارٹی سربراہ یعنی (عمران خان) نے صدر مملکت کو بتایا ہو کہ اراکین منحرف ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بادی النظر میں صدارتی ریفرنس مفروضے پر مبنی ہے۔

  13. ‘منحرف رکن کو شفاف ٹرائل، الزامات کی تصدیق کے بغیر تاحیات نااہل کیسے کردیں؟‘, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    سپریم کورٹ

    آیئن کی ارٹیکل63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے وکیل مخدوم علی حان نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدارتی ریفرنس میں اٹھائے گئے سوالات مبہم اور عمومی نوعیت کے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت عدالتی فیصلے کی بجائے صدارتی ریفرنس کے ذریعے ارکان پارلیمنمٹ کی تاحیات نااہلی مانگ رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل کی طرف سے اس ریفرنس کے حق میں دیے گئے دلائل میں گذشتہ برس سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کے ناقابل تردید شواہد ہونے کی دلیل دی گئی۔ ‘ایک سال گزر گیا لیکن حکومت نے سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے شواہد پر کیوں کارروائی نہیں کی۔‘

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ پارلیمان نے خود سے نااہلی کی مدت کا تعین کیوں نہیں کیا۔ بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیے کہ منحرف رکن کے خلاف کارروائی کے لیے الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کے فورمز موجود ہیں تاہم انھوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ نااہلی کی میعاد کیا ہوگی؟

    مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میرا موقف یہ نہیں کہ منحرف رکن کے خلاف کارروائی غلط ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس نقطے کو سمجھانے کی کوشش کرر ہے ہیں کہ ابھی تک ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے حکومت نے عملی اقدامات نہیں اٹھائے۔

    پاکستان مسلم لیگ نواز کے وکیل کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63 اے اخلاقیات کی بات نہیں کرتا جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ قانون رشوت لے کر ووٹ فروخت کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

    جسٹس جمال مندو خِیل نے ریمارکس دیے کہ منحرف رکن کو شفاف ٹرائل، الزامات کی تصدیق کے بغیر تاحیات ناہل کیسے کردیں؟ انھوں نے کہا کہ کیا منحرف رکن کو پارٹی سربراہ کی ڈیکلریشن کی بنیاد پر تاحیات نااہلی قرار دیا جاسکتا ہے؟

  14. بریکنگ, عمران خان کا’ دھمکی آمیز خط‘ اتحادیوں اور صحافیوں کو دکھانے کا اعلان

    IK

    ،تصویر کا ذریعہFacebook.com/ImranKhanofficial

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ چند سینئیر صحافیوں کو وہ خط دکھائیں گے جس کا انھوں نے اتوار کے جلسے میں کیا تھا۔

    اسلام آباد میں ای پاسپورٹ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت ’بیرون ملک سے برآمد کیا گیا بحران‘ ہے اور یہ ایک بیرون ملک سے سازش ہے۔

    واضح رہے کہ 27 مارچ کو اسلام آباد میں جلسے سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں اس سازش کا علم ہے جو ان کے خلاف کی گئی ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ 'میرے پاس جو یہ خط ہے، یہ ثبوت ہے۔ اگر کوئی بھی اس پر شک کر رہا ہے تو میں دعوت دوں گا، آف دی ریکارڈ بات کریں گے، آپ خود دیکھ سکیں گے کہ میں کیا بات کر رہا ہوں۔'

    تقریب سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ یہ خط آج چند سینئیر صحافیوں اور اتحادیوں کے ساتھ شئیر کریں گے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں نے خود فیصلہ کرنا ہے لیکن وہ فیصلہ کرتے وقت یہ ضرور سوچیں کہ وہ کہیں پاکستان کے خلاف ہونے والی سازش کا حصہ تو نہیں بن رہے ہیں۔

  15. پاکستان تحریک انصاف کا وفد متحدہ قومی موومنٹ سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    کراچی سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما فیصل واوڈا نے ٹویٹ میں بتایا ہے کہ وہ کراچی سے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جہاں وہ وفاقی وزیر پرویز خٹک اور گورنر سندھ عمران اسماعیل کے ہمراہ اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ سے مذاکرات کے لیے ٹیم کا حصہ ہیں۔

  16. بریکنگ, متحدہ اپوزیشن اور ایم کیو ایم کے درمیان معاہدہ طے پا گیا، بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اپوزیشن اور ایم کیو ایم کے درمیان معاہدہ طے پانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کی توثیق کے بعد کل میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. متحدہ اپوزیشن اور ایم کیو ایم کے درمیان معاہدے نے حتمی شکل اختیار کر لی، فیصل سبزواری کی ٹویٹ

    ایم کیو ایم رہنما فیصل سبزواری کے مطابق متحدہ اپوزیشن اور ان کی جماعت کے درمیان معاہدے نے حتمی شکل اختیار کر لی ہے۔

    ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں فیصل سبزواری نے لکھا کہ ’متحدہ اپوزیشن اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے درمیان معاہدے نے حتمی شکل اختیار کر لی ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’پیپلز پارٹی کی سی ای سی اور ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی مجوزہ معاہدے کی توثیق کے بعد اس کی تفصیلات سے کل شام چار بجے باضابطہ طور پر میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔‘

    واضح رہے کہ منگل کو رات گئے متحدہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر ایم کیو ایم قیادت سے ملاقات کی، جس کے بعد ایم کیو ایم کی جانب سے پریس کانفرنس بھی متوقع تھی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. دھمکی آمیز خط کا معمہ: قومی سلامتی کا معاملہ یا سیاسی ہتھیار؟

  19. سپریم کورٹ خود کو خط کے معاملے سے دور رکھے: مریم نواز

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. شہباز شریف کا اپنا درجہ ہے لیکن وہ بھائی کے ویٹو کا رخ نہیں موڑ سکے: چوہدری پرویز الٰہی

    pervez elahi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور گذشتہ روز حکومت کی جانب سے وزیرِاعلیٰ پنجاب کی کرسی کی پیشکش قبول کرنے والے سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ ن لیگ سے جن کی حمایت درکار تھی شہبازشریف ان کو نہیں منا سکے، ان کا اپنا درجہ ہے لیکن وہ اپنے بھائی کے ویٹو کا رخ نہیں موڑ سکے۔

    انھوں نے جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’جن کو آن بورڈ ہونا چاہیے تھا وہ شہبازشریف سے آن بورڈ نہیں تھے، مثال کے طور پر مریم نواز کو پسند نہیں تھا، وہ گروپ محسوس کرتا تھا کہ ہم سات دس سیٹوں والوں کو کیوں سارا کچھ ہی دے دیں؟‘

    چوہدری پرویز الٰہی کا مزید کہنا تھا کہ ’ان کے ساتھ ہماری ایک پوری تاریخ ہے تین دفعہ ہمارے ساتھ یہ ہو چکا ہے، ہم ان کے ساتھ بڑے ہی محتاط طریقے سے چلتے ہیں۔‘

    پرویز الٰہی کا مزید کہنا تھا کہ ’ن لیگ والے ہمیں بھی مطمئن کر رہے تھے اور آصف زرداری کو بھی، انھوں نے نیا آغاز کیا تھا تو سوچا کہ اور بڑا وفد بنا کر بھیجتے ہیں اور وہ جا کر ان کو کہیں کہ میاں صاحب کا بھی اوکے آ گیا اور سارے معاملات ٹھیک کر لیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ان کی بدقسمتی اور ہماری خوش قسمتی کہ ہمیں چیزوں کا علم ہو جاتا ہے، ہمیں اطلاع ملی تھی کہ ہمیں تین سے چار مہینے کا وقت ملے گا۔‘