مولانا فضل الرحمان کے پلان بی کے تحت دھرنے جاری

اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 12 روزہ آزادی مارچ کے خاتمے کے بعد مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پلان بی کے تحت چاروں صوبوں میں اہم شاہراہوں کو بند کرنے کا عمل جاری ہے۔

لائیو کوریج

  1. وزیراعظم بارش میں بھیگتے آزادی مارچ کے شرکا کے لیے فکر مند!

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. پرویز الہی: ’آج صرف حلوے کا پروگرام تھا‘

    مولانا

    ،تصویر کا ذریعہYouTube

    پنحاب اسبملی کے سپپیکر چوہدری شجاعت نے کہا ہے کہ ہمارا مولانا فصل الرحمان کے ساتھ تعلق آج کا نہیں تیسری نسل کا ہے۔

    مگنل کی رات اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا یہ ان کا اپنا گھر ہے، کل ہم گئے تھے، وہ بھی ہمارا گھر ہے۔

    پرویز الہی کے بقول ابھی یہ بات چیت چل رہی ہے، آج تو صرف حلوے کا پروگرام تھا، دو قسم کا حلوہ، دو قسم کا حلوہ کھایا ہے۔ انھوں نے کہا آپ دعا کریں کچھ نہ کچھ اچھا حل نکلے گا۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا کسی پروٹول کا پابند نہیں ہے۔

    جے یو آئی کے سربراہ کے مطابق جب ملک ڈوبتا ہے تو ہم سب ڈوبتے ہیں مولانا فضل الرحمان کے مطابق ہم ملک کو اس بحران سے نکالیں گے اور ملک میں جو اضطراب موجود ہے اس کا مظاہرہ ملک کے طول و عرض سے اسلام آباد آئے ہوئے لوگ کر رہے ہیں۔

  3. سینیٹ میں آج آزادی مارچ کے حوالے سے بحث متوقع

    سینیٹ

    ،تصویر کا ذریعہSenate of Pakistan

    آج پاکستان کے ایوانِ بالا سینیٹ کا اجلاس ہوگا جس میں پاکستان کی معاشی صورتحال، حزبِ اختلاف کے ممبران کی شہریت منسوخ ہونے اور اسلام آباد میں جاری جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ سے متعلق بحث متوقع ہے۔

    آرڈر آف دی ڈے کے مطابق اجلاس میں حزبِ اختلاف کی طرف سے لگائے گئے سیاسی انتقامات کے الزامات پر بھی بحث متوقع ہے۔

  4. مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں جے یو آئی ف کا آزادی مارچ کس کروٹ بیٹھے گا؟

    مولانا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جے یو آئی کی مرکزی شوریٰ کے طویل اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا کہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں کیا جائے گا مگر یہ بھی نہ ہو سکا۔

    پڑھیے صحافی زبیر خان اور بی بی سی اردو کے اعظم خان کا تجزیہ جو آپ کو اب تک مارچ سے جڑے تمام سیاسی سوالوں کے جواب دے سکتا ہے۔

  5. مولانا فضل الرحمان: ’مذاکراتی ٹیم کی آنیاں جانیاں چلتی رہیں گی‘

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ احتجاج عوام کا آئینی حق ہے۔ آپ کی استقامت اللہ کی مدد کا ذریعہ بنے گی۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹیاں بھی آتی جاتی رہیں گی اور ہم یہاں بیٹھے سب دیکھ کر لطف اندوز ہوتے رہیں گے۔

  6. مولانا فضل الرحمان: راہ حق پر ہیں، بیٹھے رہیں

    مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فتح و کامرانی آپ کے قدم چومے گی۔ ہم راہ حق پر ہیں۔ ادھر ہی بیٹھے رہیں گے۔

  7. مولانا فضل الرحمان: فیصلہ متفقہ ہو گا

    مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ دھاندلی نے اس حکومت کو اکثریت دلائی ہے۔ حزب اختلاف کے ووٹ اب بھی حکومتی ووٹوں سے زیادہ ہے۔ یہ بیسا کھیوں پر کھڑی حکومت ہے۔ بیساکھیاں ہٹ جائیں تو یہ نیچے ہوں گے۔

  8. ’ہم کب اٹھیں گے یہ فیصلہ ہم کریں گے‘

    تمھارے وزرا کون ہیں جو آئے روز جھوٹ بولتے ہیں کہ کل اٹھ جائیں گے، پرسوں اٹھ جائیں گے۔ یہ فیصلہ ہم کریں گے۔

  9. کمیشن نہیں الیکشن

    ہم نیا کمیشن بنانے کی بات نہیں مانتے۔ نیا الیکشن کروایا جائے۔ یہ حکومت بیساکھی پر کھڑی ہے، بیساکھی ہٹ جائے تو یہ نیچے گر جائیں گے۔

  10. مولانا فضل الرحمان: نظم و ضبط ہم سے سیکھو

    مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر آپ کو نظم و ضبط سیکھنا ہے تو آؤ ہمارے ان نوجوانوں سے سیکھ لو۔ اگر کسی نے آپ کو محبت نہیں سیکھائی، آؤ ہمارے کارکنان سے محبت سیکھو۔

  11. ’کنٹینرز کو ماچس کی ڈبی کی طرح اٹھا کر پھینکیں گے‘

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ہم پرامن پاکستان چاہتے ہیں۔ جیسے آج لاکھوں کا یہ مجمع پرامن ہے اسی طرح جب یہ طاقت اقتدار میں آئے گی تو امن کا پرچار ہو گا۔ حکومت نے فضول میں پریشان ہو کر پورے شہر میں کنٹینر رکھ دیے ہیں اور اگر ہم نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا تو کیا یہ کنٹینر ہمیں روک لیں گے۔ اگر ہم نے فیصلہ کر لیا تو ان کنٹینرز کو ماچس کی ڈبی کی طرح اٹھا کر پھینکیں گے۔

  12. مولانا فضل الرحمان: افغانستان پر حملے سے زخم گہرے ہوئے

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ افغانستان پر حملے کر کے زخم گہرے کر دیے گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کہتے ہیں ہم افعانستان، عراق اور مشرق وسطیٰ سے نکلنا چاہتے ہیں۔ ہم پولیس مین نہیں بننا چاہتے۔

  13. مولانا فضل الرحمان: افغان طالبان کو وحشی قرار دیا

    مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے افغان طالبان کو وحشی قرار دیا تھا۔ ان کو گوانتاناموبے میں رکھا گیا۔ اب امریکہ کہتا ہے کہ وہ دہشتگرد نہیں ہیں۔ وقت نے ثابت کیا کہ طاقت کبھی درست نہیں ہو سکتی۔

  14. مولانا فضل الرحمان: طاقت کبھی کامیاب نہیں ہوتی

    مولانا کا کہنا تھا کہ تم نے کہا تھا کہ افغانستان میں طالبان وحشی ہیں، جو انسان کہلانے کے قابل نہیں اور اب کس طرح انھیں وحشیوں کے ساتھ گھٹنے ٹیک پر مذاکرات کر رہے ہو۔

  15. ’پردوں کے اندر سیاست چلے گی تو ظلم ہی ہو گا انصاف نہیں‘

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ جب پردوں کے اندر سیاست چلے گی تو ظلم ہی ہو گا انصاف نہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ رات کی تاریکی کو ہم صبح کی روشنی کہہ دیں۔ ہم ظلم کو ظلم ہی کہیں گے۔

  16. مولانا فضل الرحمان: لاپتہ افراد کو عدالتوں میں لایا جائے

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ جن کے خلاف کارروائی کی گئی ان کے بارے میں یہ کوئی ثبوت نہیں ہے کہ انھوں نے دہشتگردی کی لیکن ایک بات واضح ہے کہ ریاستی دہشتگردی ہوئی ہے۔

  17. مولانا فضل الرحمان: سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے سیاسی مخالفین کو چور کہنا آسان ہے اور انھیں عدالتوں میں گھسیٹنا آسان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت سیاستدان کو بدنام کر رہی ہے۔

  18. مولانا فضل الرحمان: 95 فیصد الیکشن میں دھاندلی ہوئی

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ایک سال تک پارلیمانی کمیٹی نے کوئی کام نہیں ہوا۔ الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں لکھا ہوا ہے کہ 95 فیصد پولنگ سٹیشن پر ہمارے پولنگ ایجنٹوں کو فارم پر نتیجہ نہیں دیا گیا اور انھیں زبردستی باہر نکالا ہے۔

  19. آپ کس طرح ہم سے یہ الیکشن منوا رہے ہیں؟

    ہمارے پولنگ ایجنٹس کو مکمل نتیجہ نہیں دیا گیا۔ 95 فیصد لوگوں کو نتائج قانونی فارم پر نہیں ملے۔ پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال دیا گیا۔ آپ کس طرح ہم سے یہ الیکشن منوا رہے ہیں؟

  20. مولانا فضل الرحمان: اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں

    مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ کیا یہاں اسرائیل کا طیارہ آ کر نہیں اترا۔ میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ یہاں اسرائیل کے لیے کوئی کام کر رہا ہے۔ ہمارے مارچ سے سب سے زیادہ پریشان اسرائیل ہے۔ ان کی محنت پر اس مارچ نے پانی پھیر دیا ہے، یقیناً ہم نے آپ کے ایجنڈے کو شکست دی ہے۔