مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں جے یو آئی ف کا آزادی مارچ کس کروٹ بیٹھے گا؟

مارچ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, محمد زبیر خان، اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو
  • وقت اشاعت

کبھی موقف میں سختی تو کبھی نرمی، کبھی مذاکرات تو کبھی ملاقاتیں۔ یہ ہیں مولانا فضل الرحمان جو مطالبات کی ایک فہرست لیے اسلام آباد کی سڑکوں پر گھوم پھر رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ کی قیادت کرتے ہوئے 31 مارچ کو اسلام آباد پہنچے اور یکم نومبر کو انھوں نے اپنے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان کو استعفیٰ دینے کے لیے دو روز کی ڈیڈ لائن دی۔

جب ڈیڈ لائن ختم ہوئی تو توقع کی جا رہی تھی کہ مولانا فضل الرحمان اپنے نئے لائحہ عمل کا اعلان جارحانہ انداز میں کریں گے مگر اس رات مولانا کی تقریر کم اور خطبہ زیادہ تھا۔

جے یو آئی کی مرکزی شوریٰ کے طویل اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا کہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں کیا جائے گا مگر یہ بھی نہ ہو سکا۔

یہ بھی پڑھیے

پیر کو منعقد ہونے والی اے پی سی میں شریک جے یو آئی کے ایک رہنما نے بتایا کہ کانفرنس میں نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے شریک رہنماؤں نے دو ٹوک بتایا ہے کہ ان کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ قیادت کی اجازت کے بغیر کوئی حتمی فیصلہ کر سکیں۔ دونوں جماعتوں کی صفِ اول کی قیادت یعنی شہباز شریف اور بلاول بھٹو بھی اے پی سی میں شریک نہ ہو سکے۔

’ڈی چوک کی ادھوری خواہش اب بھی چنگاری بن سکتی ہے‘

اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے مطابق مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ کو ڈی چوک لے جانا چاہتے تھے لیکن اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں اس بات پر رضامند نہ ہوئیں تو یہ پلان ادھورا رہ گیا۔

اے پی سی کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کا کہا اور انھیں ان کا یہ وعدہ یاد دلایا کہ جب وہ اسلام آباد کی سڑکوں پر عوام لے کر پہنچیں گے تو پھر وہ ان کی پشت پر کھڑے ہو جائیں گے۔

احسن اقبال نے اجلاس میں صاف صاف بتایا کہ ان کی قیادت نے صرف ایک دن کے لیے جلسے میں شرکت کی اجازت دی تھی۔ یہی موقف پیپلز پارٹی کا تھا کہ دھرنے سے متعلق اتفاق نہیں ہوا تھا۔ تاہم دونوں نے اپنی اپنی قیادت سے مشاورت کے وعدے کیے اور اجلاس سے چلتے بنے۔

آزادی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ذرائع کے مطابق رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے مولانا فضل الرحمان کو بتایا کہ ان کے علاوہ رہبر کمیٹی میں کوئی بھی بااختیار نہیں ہے اور سب قیادت سے مشاورت کی شرط عائد کرتے ہیں، جو غیر یقینی صورتحال کا باعث ہے۔

اپوزیشن کی تقسیم نے مولانا فضل الرحمان کو وقتی طور پر جارحانہ حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔

مولانا فضل الرحمان اپنے موقف میں نرمی لے آئے اور مقتدر حلقوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ وہ براہ راست مذاکرات پر آمادہ ہیں۔ انھوں نے احتجاج ختم کرنے کا تاثر دیا لیکن اس کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا۔

تو کیا تینوں بڑی جماعتیں دھرنے سے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے چکر میں مقتدر حلقوں سے علیحدہ بات کر رہی ہیں؟

ایک رہنما کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے جب یہ دیکھا کہ دونوں جماعتیں اپنے طور پر بھی کہیں نہ کہیں مذاکرات میں مصروف ہیں تو پھر ایسے میں انھوں نے ایک نئی سیاسی چال چلی۔

ایک رہنما کے مطابق جے یو آئی کے سربراہ کے سینے میں ڈی چوک کی ادھوری خواہش کی چنگاری اب بھی بھڑک سکتی ہے۔

ان مذاکرت میں شامل اپوزیشن رہنماؤں نے بی بی سی کو بتایا کہ مقتدر حلقے اس بات سے خائف ہیں کہ مولانا فضل الرحمان اپوزیشن کے ساتھ مل کر ملک گیر احتجاج کی کال نہ دے دیں۔

اب ہونے والے ان مذاکرات میں آزادی مارچ کے علاوہ آئندہ کے ممکنہ احتجاج کو روکنے پر بھی بات ہو رہی ہے۔

جب ڈیڈلاک دور نہ ہو سکا تو اس صورتحال میں سب کو گجرات کے چوہدریوں کی یاد ستانے لگی۔ چوہدری برادران صرف اس شرط پر آمادہ ہوئے کہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کے وزرا اپوزیشن کے خلاف بیان بازی روک دیں گے۔

چوہدری برادرز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گجرات کے چوہدریوں کا مشن مذاکرات

مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت ایک بار پھر مذاکرات مشن پر متحرک ہو گئے ہیں۔ اس کٹھن مشن پر ان کے ہمراہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر پرویز الہیٰ بھی ہیں۔ چوہدری شجاعت نے اپنی کتاب ’سچ تو یہ ہے‘ میں ان بڑے واقعات کا ذکر کیا جن میں وہ مشن مذاکرات پر روانہ ہوئے لیکن نتائج بھیانک نکلے۔

ڈیرہ بگٹی میں نواب اکبر بگٹی کے خلاف آپریشن ہو یا لال مسجد کے خلاف فوجی آپریشن، سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی معطلی ہو یا قومی مفاہمتی آرڈیننس چوپدری شجاعت حسین بھیانک نتائج کا ذمہ دار مقتدر قوتوں کو ہی قرار دیتے ہیں۔

اس کتاب میں ان کا یہ اعتراف بھی اہم ہے کہ وہ ہر بار ان مقتدر قوتوں کے کہنے پر ہی مشن مذاکرات پر آمادہ ہوئے۔

ریٹائرڈ جنرل امجد شعیب کے خیال میں اس بار چوہدری برادران فوج کے کہنے پر مذاکرات نہیں کر رہے ہیں اور نہ ہی مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملاقات میں ان کی توسط سے فوج کی جانب سے کوئی پیغام دیا گیا ہو گا۔ ان کے خیال میں چوہدری برادران اس وقت تحریک انصاف کی حکومت کے اتحادی ہیں اور اس بار انھیں حکومت نے ہی یہ مشن سونپا ہو گا۔

لیکن مبصرین کہتے ہیں کہ چوہدری شجاعت کی ماضی کے اسی نوعیت کے مشن کو ذہن میں رکھ کر دیکھا جائے تو یہ سب بعید از قیاس نہیں ہو گا۔

چوہدری برادران اس وقت اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان سے ملاقات بھی کر چکے ہیں اور ان سے مسلسل رابطے میں بھی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر کوئی درمیانی رستہ نکلا تو وہ گجرات سے ہو کر ہی نکلے گا، اس وقت لاڑکانہ اور جاتی امرا کی طرف جانے والے رستوں کو تحریک انصاف کی حکومت اپنے لیے موافق نہیں سمجتھی۔

جے یو آئی ف

،تصویر کا ذریعہJUIF

،تصویر کا کیپشنآل پارٹیز کانفرنس کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، مخمود خان اچکزئی، آفتاب خان شیرپاؤ اور دیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی تھی

اپوزیشن کے مطالبات ہیں کیا؟

جے یو آئی کے مرکزی رہنما محمد اسلم غوری نے بی بی سی کو بتایا کہ آزادی مارچ سے قبل ہی اپوزیشن کی نو جماعتوں نے بنیادی مطالبات طے کر لیے تھے۔

ان مطالبات کی فہرست میں وزیر اعظم عمران خان کا استعفیٰ سرفہرست ہے۔ تحریک انصاف کی معاشی، کشمیر اور خارجہ پالیسیوں کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے حکومت سے از سر نو انتخابات کا مطالبہ کیا گیا۔

ان مطالبات میں یہ بات بھی سر فہرست رکھی گئی کہ انتخابات فوج کی نگرانی میں نہ ہوں یعنی پولنگ سٹیشن کے اندر اور باہر فوج تعینات نہ ہو۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ آئین میں موجود اسلامی دفعات کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی۔

محمد اسلم غوری کے مطابق ان کی جماعت فوج سمیت کسی بھی ادارے کے خلاف نہیں ہے ’مگر جب ہم دیکھتے ہیں کہ فوج کی نیک نامی پر حرف آرہا ہے تو اس پر بات کی جاتی ہے۔‘

مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی مرتضیٰ عباسی کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت ان تمام مطالبات کی حمایت کرتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ان کے مشترکہ مطالبات ہیں۔

واضح رہے کہ عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں دو ٹوک کہا گیا ہے کہ عمران خان کسی بھی صورت میں استعفیٰ نہیں دیں گے اور نہ ہی نئے انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔

اپوزیشن کی آئندہ حکمت عملی کیا ہو گی؟

جے یو آئی ف کے رہنما کے مطابق ہم نے آزادی مارچ کا سفر اپوزیشن کے ساتھ مل کر شروع کیا تھا۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ اپوزیشن کوئی مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرے، جس کے لیے مشاورت جاری ہے۔

اپوزیشن کی حکمت عملی جاننے سے قبل یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں کی حکمت عملی کیا ہے؟

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ کھوکھر سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کا موقف بڑا واضح ہے۔ پیپلز پارٹی دھرنوں، طاقت کا استعمال اور افراتفری نہیں چاہتی۔ احتجاج کے مختلف طریقے ہیں اور پیپلز پارٹی جمہوری طریقے سے احتجاج کر رہی ہے۔

پیپلز پارٹی نے صرف آزادی مارچ اور جلسے میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا۔ سینیٹر کھوکھر کا کہنا ہے کہ جے یو آئی کے دھرنے میں شرکت سے متعلق مشاورت کے لیے پارٹی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

مسلم لیگ ن کے مرتضیٰ عباسی کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت نے آزادی مارچ اور جلسے میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا۔ جلسے کے بعد ہمارے کارکنان واپس آ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے بارے میں شدید ترین تحفظات کے باوجود بھی ڈی چوک، دھرنا یا کوئی ایسا انتہائی اقدام نہیں اٹھانا چاہتے ہیں جس سے جمہوریت کو نقصان پہنچے۔

تاہم مولانا فضل الرحمن کی جانب سے رابطوں اور تجاویز کے بعد دوبارہ پارٹی اجلاس طلب کیا جا رہا ہے۔

ڈی جی مولانا

،تصویر کا ذریعہGetty Images/ISPR

مولانا فضل الرحمان کا موقف اتنا سخت کیوں؟

جے یو آئی کے ایک رہنما کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ایک تسلسل کے ساتھ مولانا فضل الرحمان کے خلاف توہین آمیز رویہ اختیار کیے جانے پر کارکنوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔

کارکن بھی چاہتے ہیں کہ احتجاج کا کوئی اگلا لائحہ عمل ہونا چاہیے مگر جے یو آئی کی قیادت بظاہر اس معاملے پر منقسم نظر آتی ہے۔

کچھ لوگوں کی رائے میں متحدہ اپوزیشن کے بغیر کسی بھی مزید احتجاج کا فائدہ نہیں ہو گا اور جے یو آئی کو تنہا ہی اس کے ناخوشگوار نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ دیگر کچھ رہنما مذاکرات کو ہی بہترین آپشن گردانتے ہیں۔ شاید اس لیے احتجاج والے آپشن پر فی الحال سب بہت زیادہ پرجوش نہیں ہیں۔

سابق گورنر بلوچستان سید فضل آغا جو جے یو آئی کے مرکزی رہنما سمجھتے ہیں کہ ان کی جماعت ذاتی اشتعال پر نہیں بلکہ ملکی مفادات میں احتجاج کر رہی ہے۔ ’عمران خان اور تحریک انصاف کے لوگ ہمیشہ ہی ذاتیات پر حملے کرتے رہے ہیں جس کی نہ کبھی مولانا نے پرواہ کی ہے اور نہ ہی کبھی پارٹی نے پرواہ کی ہے۔‘

فوج کا کردار ایک بار پھر زیر بحث

ماضی کی طرح مولانا فضل الرحمان نے گذشتہ انتخابات میں بھی مبینہ دھاندلی اور فوج کے کردار پر کھلی تنقید کی ہے۔ انھوں نے فوج کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ آئندہ انتخابی عمل سے اپنے آپ کو دور رکھے کیونکہ اس سیاسی عمل میں مداخلت سے فوج متنازعہ ہوتی جا رہی ہے۔

جمعے کو جب انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کے لیے دو دن کی ڈیڈ لائن دی تو ساتھ ہی اداروں کو بھی غیر جانبدار رہنے کا کہا، جس پر آئی ایس پی آر کے ترجمان آصف غفور نے رد عمل بھی دیا تھا۔

چوہدری شجاعت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس تلخ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ریٹائرڈ جنرل امجد شعیب نے بی بی سی کو بتایا کہ چند روز پہلے تک جو خدشات تھے کہ امن و امان کو سنگین ترین خدشات لاحق ہو سکتے ہیں وہ اب بڑی حد تک ٹل چکے ہیں۔

وہ اس کی بڑی وجہ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیلز پارٹی کی مولانا فضل الرحمان کے دھرنے سے دوری کو قرار دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں مولانا فضل الرحمان تنہا ہو چکے ہیں۔ دوسری وجہ افواج پاکستان کی جانب سے موجودہ صورتحال میں اصول پر مبنی دو ٹوک موقف کا سامنے آنا ہے۔

مزید پڑھیے

تاہم جے یو آئی کے ایک رہنما نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت کے فوج یا مقتدر قوتوں کے ساتھ تیسرے ذریعے سے رابطے بحال ہو چکے ہیں۔ جس کے بعد تلخی کا عنصر کچھ کم ہوا ہے۔

ان کے مطابق انتخابی اصلاحات کے علاوہ گذشتہ عام انتخابات میں ’دھاندلی‘ پر بات ہوئی ہے۔ ان دو نکات ہی سے بات آگے چل رہی ہے۔ یہ دو نکات ہی موجودہ حکومت کا مستقبل طے کریں گے۔

امجد شعیب کے مطابق افواج پاکستان نے واضح کردیا ہے کہ وہ کسی ایک گروپ یا سیاسی پارٹی کے ساتھ نہیں بلکہ منتخب حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور اگر حکومت وقت اپنی قانونی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے پاک فوج کو کوئی احکامات دیتی ہے تو افواج پاکستان کی قانونی ذمہ داری ہوگی کہ اس کو پورا کرے۔

سید فضل آغا کا کہنا تھا کہ جے یو آئی کا فوج سے براہ راست کوئی رابطہ نہیں ہے۔ جکومت کی مذاکراتی ٹیم کو اپنے مطالبات سے آگاہ کر چکے ہیں۔ اب حکومتی مذاکراتی کمیٹی ہی دوبارہ رابطے کر کے معاملات سے آگاہ کرے گی۔

لیکن دوسری جانب فوج کے ترجمان کی جانب سے گذشتہ دو دھرنوں اور اس دھرنے کے دوران بیانیے کو نہ صرف سوشل میڈیا پر بلکہ روایتی میڈیا پر موضوعِ بحث بنایا جا رہا ہے۔ اور گذشتہ دھرنوں کے دوران کی گئی ٹویٹس کو دوبارہ شیئر کیا جا رہا ہے جس سے اس موقف کی نفی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔