جمعیت علمائے اسلام کی تحریک کا آغاز صوبہ سندھ سے کیوں ہو رہا ہے؟
صحافی عبدالجبار ناصر اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ سندھ سے مارچ کے آغاز کا بنیادی مقصد سندھ میں پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت کی موجودگی کا فائدہ اٹھانا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 12 روزہ آزادی مارچ کے خاتمے کے بعد مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پلان بی کے تحت چاروں صوبوں میں اہم شاہراہوں کو بند کرنے کا عمل جاری ہے۔
صحافی عبدالجبار ناصر اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ سندھ سے مارچ کے آغاز کا بنیادی مقصد سندھ میں پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت کی موجودگی کا فائدہ اٹھانا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰان کا کہنا ہے کہ اگر ان کی جماعت کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ شہادتیں لیں گے اور لاشیں اٹھائیں گے لیکن کسی صورت یہاں سے نہیں جائیں گے۔
ڈان نیوز کے پروگرام ’نیوز آئی‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے استعفے کے علاوہ دوسرا آپشن شفاف انتخابات ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰان نے کہا ’فوج کا ایک مقام اور عزت ہے اور گذشتہ حکومت کا انتخابات کے لیے فوج کو بلانے کا اقدام غلط تھا، فوج انتہائی اہم ادارہ ہے جسے متنازع نہیں بنانا چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پرویزخٹک کی جانب سے ’مارچ کو وقت کا ضیاع کہا جا رہا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ مذاکرات میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں تو جمہوریت کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہPID
وزیرِ دفاع اور آزادی مارچ سے متعلق حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ ’اپوزیشن کو کہتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمان کو ایوان میں لے کر آئیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اپوزیشن بتائے کہ ملک کو کن حالات میں چھوڑ کر گئی۔‘
انھوں نے مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر مولانا کہتے ہیں کہ وہ ٹائم پاس کرتے ہیں تو ہم بھی ٹائم پاس کریں گے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کر لیتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی بیٹی اور رہنما ن لیگ مریم نواز سے جمعہ کو لاہور میں عدالت میں پیشی کے موقع پر جب سوال کیا گیا کہ کیا وہ آزادی مارچ کا حصہ بنیں گی تو ان کا کہنا تھا کہ ’سیاست پوری زندگی چلتی رہے گی، والدین دوبارہ نہیں ملتے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں اپنی ماں کھو چکی ہوں ایک سال پہلے اس وقت میری پوری توجہ میاں صاحب کے اوپر ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں ملازموں پر نہیں چھوڑتی، میں 24/7 ان کے پاس ہوتی ہوں اور آج بھی بہت مشکل سے آئی ہوں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
سرکاری ترجمان اور مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے مولانا فضل الرحمان کو ایک مرتبہ پھر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’مولانا صاحب! عوام سے مسترد ہونے پر ذاتی انتقام کا بدلہ قوم کو ذہنی اذیت سے دوچارکرکے نہ لیں۔ کارکنان کو یخ بستہ ہواؤں کی نذر کر کے ظلم نہ کریں۔ ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مذاکرات جمہوری عمل کا نام ہے جس کے آپ خود داعی رہے ہیں۔ مذاکرات کو بے معنی قرار دے کر اپنے ذہن کی کھڑکیوں کو کیوں بند رکھنا چاہتے؟‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ کے صاحب زادے نے ایم این اے کا حلف کیوں اٹھایا تھا؟ ایک سال بعد دھاندلی کا واویلا عوام کو گمراہ اور جمہوری نظام کو کمزور کرنے کے سوا کچھ نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
آزادی مارچ کے شرکا نے اب سردی سے بچاؤ کے لیے زیرِ تعمیر میٹرو بس سٹیشنوں کا رخ کر لیا ہے۔
خیال رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان چلنے والی میٹرو بس کا کشمیر ہائی وے روٹ دو سال سے زائد عرصے سے زیرِ تعمیر ہے۔ تاہم اس کے سٹیشنز کا ڈھانچہ کھڑا کیا جا چکا ہے۔
آزادی مارچ کے باعث کشمیر ہائی وے کو جی-9 اشارے سے قبرستان اشارے تک ٹریفک کے لیے بند کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہgoogle Maps
اسلام آباد میں نو دنوں جاری جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے پیش نظر شہراہوں کو کنٹینرز کی مدد سے بند کر دیا گیا ہے۔ اوپر دیے گئے گوگل کے جانب سے جاری کردہ نقشے میں آپ وہ مقامات دیکھ سکتے ہیں جنھیں مکمل طور پر بند کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPMD
پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق ’جمعہ کے روزاسلام آباد میں موسم جزوی طور پر ابرآلود رہنے کا امکان ہے۔
’جمعه کے روزملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک رہے گا ۔تاہم بالائی خیبر پختونخواہ، گلگت بلتستان اور کشمیر میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گر ج چمک کے ساتھ با رش کا امکان ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter: SSP_ITP
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جاری جمعیت علمائے اسلام کے آزادی مارچ کا آج نواں دن ہے۔
جڑواں شہروں میں شروع میں تعلیمی اداروں کی بندش کے بعد رواں ہفتے سکول بھی کھل گئے ہیں جس کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کا شدید رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک الرٹ میں شہریوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ’سکول رش آور‘ کے دوران سکولوں کے سامنے گاڑی ہلکی رفتار میں چلائیں اور روڈ پار کرتے بچوں کو راستہ دیں۔ الرٹ میں غلط پارکنگ سے اجتناب کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اگر ان کی جماعت کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ شہادتیں لیں گے اور لاشیں اٹھائیں گے لیکن کسی صورت یہاں سے نہیں جائیں گے۔
ڈان نیوز کے پروگرام 'نیوز آئی' میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے استعفے کے علاوہ دوسرا آپشن شفاف انتخابات ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ’فوج کا ایک مقام اور عزت ہے اور گذشتہ حکومت کا انتخابات کے لیے فوج کو بلانے کا اقدام غلط تھا، فوج انتہائی اہم ادارہ ہے جسے متنازع نہیں بنانا چاہیے۔'
مطالبات نہ مانے جانے کی صورت میں ان کا کہنا تھا کہ 'اس صورت میں ملک میں افراتفری ہوگی، نہ جانے کیا ہوگا کیا نہیں ہوگا، ہم کسی پر حملہ نہیں کریں گے، ہم گولیاں کھائیں گے، شہادتیں لیں گے اور یہاں سے لاشیں اٹھائیں گے لیکن کسی صورت یہاں سے نہیں جائیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم تمام کشتیاں جلانے کو تیار ہیں لیکن اس حکومت کو قبول نہیں کر سکتے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مولانا فضل الرحمان نے افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ فوج بحیثیت ادارہ غیر جانبدار ہے۔ 'میں ان کی استقامت کے لیے دعا گو ہوں۔'
ان کا کہنا تھا کہ گِلہ اپنوں سے ہوتا ہے پرائیوں سے نہیں، ہم قومی اداروں کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہتے ہیں۔ ووٹ قوم کو امانت ہے جو کہ اسے لوٹانی ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ ہم وزیر اعظم کے استعفی سے کم پر راضی نہیں ہوں گے۔ 'بے معنی آنیاں جانیاں نہیں ہونی چاہیں، جب آنا ہو تو استعفی ساتھ لے کر آئیں۔ استعفی دو اور عوام میں واپس جاؤ۔'
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم اداروں سے کہنا چاہتے ہیں کہ اس مجمع کو حقارت سے مت دیکھیں، سنجیدگی سے لیں اور ان کے مطالبات کو سنیں اور ان کو ان کا حق واپس کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کبھی کہتے ہیں کہ قومی کمیشن بنایا جائے گا جو تحقیق کرے گا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی یا نہیں۔
’جس چوری کے واضح ثبوت اور گواہ موجود ہوں، اس کی تحقیقات نہیں ہوتیں بلکہ چور کو سزا دی جاتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ گذشتہ پانچ برسوں سے پی ٹی آئی کا فارن فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن میں زیر التوا ہے، اس کیس کو مؤخر کرنے کے لیے عدالتوں میں 60 درخواستیں دی گئیں جو کہ مسترد ہوئیں اس کے باوجود الیکشن کمیشن کوئی فیصلہ نہیں کر سکا۔
’پی ٹی آئی چوروں کی جماعت ہے پھر اسے کیوں تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے؟ وزیراعظم سیاستدانوں سے کہتے ہیں کہ وہ انھیں این آر او نہیں دیں گے، اب میں کہتا ہوں کے عمران خان کو اب کوئی این آر او نہیں دیا جائے گا۔ وہ کون سی قوت ہے جس نے عمران خان کو دھاندلی کے ذریعے اقتدار تک پہنچایا۔‘
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پرامن مجمے کے نام پر پورے ملک سے پولیس اور کنٹینر منگوائے گئے ہیں اور راستے بلاک کیے ہوئے ہیں جس پر خزانے سے کروڑوں روپے خرچ ہوئے ہیں، کوئی ادارہ ہے جو حکومت سے پوچھے کہ اتنے اخراجات کیوں کیے جا رہے ہیں۔
ہمیشہ خوف کا مفروضہ قائم کر کے پاکستانی قوم کو بلیک میل کیا گیا ہے۔

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ گذشتہ عام انتخابات میں دھاندلی فوج سے متعلقہ اداروں نے کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے اداروں نے آزادی مارچ کے شرکا کی آواز نہ سنی تو بات وزیر اعظم کے استعفی سے آگے نکل جائے گی اور خدانخواستہ پاکستان کا نقصان ہو سکتا ہے۔
محمود اچکزئی نے مزید کہا پاکستان کی تمام قومیتیں چاہتی ہیں کہ ان کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے ان کے نمائندے ملک کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی بنائیں نا کہ انھیں یہ بنی بنائی ملے۔ حکمرانوں کو اس دن سے ڈرنا چاہیے جس دن پورا پاکستان آزادی مارچ بن جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان مسلم لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے پارلیمان کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آزادی مارچ کے شرکا آئین کی سربلندی کے لیے اسلام آباد میں جمع ہیں اور انھیں حکومت کی جانب سے کوئی سہولت نہیں دی جا رہی ہے۔
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ آزادی مارچ کے شرکا کی سکیورٹی پر معمور اہلکاروں اور سی ڈی اے عملے کو کھانا پینا بھی آزادی مارچ انتظامیہ کی جانب سے فراہم کیا جا رہا ہے۔
لیگی رہنما نے الزام لگایا کہ اسلام آباد کے سرکاری ہسپتالوں کو منع کیا گیا ہے کہ وہ مارچ کے شرکا کو کسی قسم کی طبی سہولت فراہم نہ کریں نیز جلسہ گاہ کے اطراف واقع سرکاری مساجد کا پانی بند کر دیا گیا ہے تاکہ مارچ کے شرکا وہاں جا کر اپنی ضروریات پوری نہ کر سکیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے کنوینر اور جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما اکرم درانی نے رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ دو روز میں آزادی مارچ ایک نیا رخ اختیار کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ رہبر کمیٹی نے نہ صرف آزادی مارچ کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ حکومت پر مزید دباؤ بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
اس سوال پر کہ حکومت پر دباؤ کیسے بڑھایا جائے گا پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس حوالے سے مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں جن کے بارے میں میڈیا کو آگاہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس صورت میں حکومت اپنی حکمت عملی بنا سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الہی نے جمعرات کو جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی ہے اور ان سے آزادی مارچ ختم کرنے سے متعلق بات چیت کی ہے۔
اس ملاقات میں مولانا فضل الرحمان نے اپنے موقف کو دہرایا کہ رہبر کمیٹی جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عمل کیا جائے گا تاہم ابھی تک رہبر کمیٹی اپنے موقف پر قائم ہے جس میں وزیر اعظم عمران خان کا استعفی بھی شامل ہے۔
ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ چیزیں بہتری کی طرف جا رہی ہیں، معاملے کے حل کے لیے بہت ساری تجاویز ہیں اور قوم کو ایک ہی دفعہ خوشخبری سنائیں گے۔
اُنھوں نے کہا کہ انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام سمیت مولانا فضل الرحمان جس معاملے پر راضی ہوں گے اسی پر بات کریں گے۔