مولانا فضل الرحمان کے پلان بی کے تحت دھرنے جاری
اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 12 روزہ آزادی مارچ کے خاتمے کے بعد مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پلان بی کے تحت چاروں صوبوں میں اہم شاہراہوں کو بند کرنے کا عمل جاری ہے۔
لائیو کوریج
مولانا فضل الرحمان: ہم عورتوں کو حقوق دینا چاہتے ہیں۔ خواتین کے حقوق کا تعین قرآن و سنت میں کیا گیا ہے‘
مولانا فضل الرحمان: ’آج حکومت نے مذاکراتی کمیٹی بنا کر بھیجی، لیکن شرائط لگا کر۔ بھئی مطالبے تو ہم پیش کریں گے‘
مولانا فضل الرحمان: ’گذشتہ 70 سال میں لیے گئے قرضوں سے زیادہ قرض پچھلے ایک سال میں لیا جا چکا ہے‘
بریکنگ, مولانا فضل الرحمان:’جس مقصد کے لیے آئے تھے، اس کے حصول کے قریب ہوتے جا رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بریکنگ, مولانا فضل الرحمان: ’تمام سیاسی جماعتوں نے کہا کہ ہم جمعیت علما اسلام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے‘
اجتماع میں ’متحدہ اپوزیشن زندہ باد‘ کے نعرے
فضل الرحمان کا آزادی مارچ سے خطاب: ’سیاسی جماعتوں نے کہا ہے کہ اس اجتماع کے اٹھنے کا فیصلہ آپ نے نہیں، ہم نے کرنا ہے‘
بریکنگ, مولانا فضل الرحمان کا خطاب شروع

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پرویز خٹک: ’معاہدے کی پاسداری پررہبر کمیٹی کا شکر گزار ہوں‘
حکومتی کمیٹی اور رہبر کمیٹی کا مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
محمود اچکزئی:’دھاندلی فوجی لوگوں نے کرائی ہے‘
محمود اچکزئی کا کہنا ہے کہ عمران خان ان کے دوست ہیں۔
انھوں نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمران بھائی کسی سے حلف لے لو گذشتہ حکومت میں دھاندلی ہوئی ہے یا نہیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ انتخابات میں دھاندلی فوجی لوگوں نے کرائی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر اس جنرل اور جج کو سیلوٹ کرتے ہیں جو آئین کو مانتا ہے۔
محمود اچکزئی: ’اس حکومت کا تختہ الٹانا سب کی ذمہ داری ہے‘
سینیئر سیاست دان اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی نے کہا ہے کہ یہ اجتماع کسی کو گالیاں دینے اور خیرات مانگنے نہیں آیا۔
انھوں نے کہا کہ یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ یہاں آئین کی حکمرانی ہو گی، یہاں پارلیمنٹ کی حکمرانی ہوگی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہر محب وطن، ہر محب وطن جج، ہر محب وطن بیوروکریٹ اور محب وطن صحافی کا یہ فرض ہے کہ اس حکومت کا تختہ الٹا دیں۔
آسیہ ناصر: ’حکومت کو اقلیتوں کی کوئی فکر نہیں‘
جے یو آئی کی اقلیتی نشست پر گذشتہ حکومت میں منتخب ہونے والی سابق رکن قومی اسمبلی آسیہ ناصر نے آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو عزت ان کو جے یو آئی میں حاصل ہے وہ کسی پارٹی میں ممکن نہیں ہے۔
انھوں نے تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کیا جا رہا اور ان کی جائیدادوں پر بھی قبضہ کیا جا رہا ہے۔
حکومتی مذاکراتی ٹیم مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئی
حکومت کی مذاکراتی ٹیم مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ چکی ہے جہاں اپوزیشن کی رہبر کمیٹی سے مذاکرات شروع کر دیے گئے ہیں۔
رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے حکومتی ٹیم کا خیر مقدم کیا۔
ایاز صادق: ’پانامہ صرف نواز شریف کے خلاف استعمال ہوا‘
سابق سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ پانامہ میں ایک اقامے کی بنیاد پر نواز شریف کو اقتدار سے نکالا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ایسی عدلیہ اور ججز پر انگلیاں اٹھتی ہیں جو چند لوگوں کے خلاف فیصلے دیا کرتے تھے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ سابق چیف جسٹس شیخ رشید کی مہم چلاتے تھے اور اب وہ گھر سے باہر نہیں نکل سکتے۔
سابق سپیکر ایاز صادق کی نواز شریف کی صحت اور زندگی کے لیے دعا
سابق سپیکر سردار ایاز صادق نے آزادی مارچ کے شرکا سے اپنے خطاب کے آغاز میں نواز شریف کی صحت اور زندگی کے لیے دعا کرنے کی اپیل کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سابق وزیر اعظم کی صحت اچھی نہیں ہے۔
سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کا آزادی مارچ سے خطاب: ’نام نہاد تبدیلی کو مسترد کرتے ہیں‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے آل پارٹیز کانفرنس کے اجلاس کے بعد آزادی مارچ کے شرکا شے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ نام نہاد تبدیلی کو مسترد کرتے ہیں۔
انھوں نے وزیراعظم کو ان کا وعدہ یاد دلاتے ہوئے مسعتفی ہونے کا کہا۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے عوام سے جھوٹے وعدے کیے اور سب کی تضحیک کی۔
حکومت اور اتحادیوں نے وزیر اعظم عمران خان پر اعتماد کی قرارداد پیش کر دی
پیر کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں قرار داد پیش کی گئی ہے، جس میں تمام اتحادی جماعتوں نے حکومت اور وزیر اعظم عمران خان کی کارکردگی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
قرارداد میں حکومت کو فعال رکھنے کے لیے کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔
اس قرارداد میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی اپوزیشن سے مذاکرات کی پیشرفت پر کارکردگی پر بھی اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔
بریکنگ, کور کمانڈرز کانفرنس: ’خطرات سے نمٹنے کے لیے تمام فریقین کو متحد ہونا ہو گا‘
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ریاست کا حصہ ہونے کی حیثیت سے اور آئین کی متعین کردہ حدود میں رہتے ہوئے جب بھی ضرورت ہو گی اداروں کی حمایت جاری رکھے گی۔
پیر کے روز کور کمانڈر کانفرنس کے بعد پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ غیر ضروری قوتوں کو شکست دینے کے لیے اہم قومی امور پر تمام قومی سٹیک ہولڈرز کی باہمی ہم آہنگی ضروری ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’پاکستان فوج قومی اداروں کی حمایت کے ساتھ ہر طرح کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین کو متحد ہو کر ملکی سطح پر قومی نوعیت کے مسائل حل کریں۔‘
واضح رہے کہ جمعے کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کے ایک بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’انھوں (آصف غفور) نے اپنے بیان سے فوج کو جانبدار بنانے کی کوشش کی ہے، جو کہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘
اس سے قبل ڈی جی آئی ایس پی آر نے نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا کو فوج پر الزام تراشی کرنے کے بجائے الیکشن میں شفافیت سے متعلق اپنی شکایت متعلقہ اداروں کے پاس لے جانے کا مشورہ دیا تھا۔
