مولانا فضل الرحمان کے پلان بی کے تحت دھرنے جاری

اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 12 روزہ آزادی مارچ کے خاتمے کے بعد مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پلان بی کے تحت چاروں صوبوں میں اہم شاہراہوں کو بند کرنے کا عمل جاری ہے۔

لائیو کوریج

  1. پرویز خٹک کی عمران خان سے ملاقات

    عمران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے۔

    ملاقات میں اسلام آباد میں جعمیت علمائے اسلام کی جانب سے جاری آزادی مارچ کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔

    پرویز خٹک نے عمران خان کو حکومتی اور اپوزیشن کمیٹی کے درمیان ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا۔

    پرویز خٹک نے وزیر اعظم کو بتایا کہ اپوزیشن اپنے موقف پر قائم ہے۔

    دوسری جانب پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الہی جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ پہنچ گئے ہیں۔

  2. عمران خان کی زیر صدارت اتحادی جماعتوں کا پارلیمانی اجلاس آج ہو گا

    وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج سہہ پہر تین بجے اسلام آباد میں ہو گا۔

    اس اجلاس میں قانون سازی، ملک کی سیاسی صورتِ حال کے علاوہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن میں جمعیت علمائے اسلام کے آزادی مارچ کے حوالے سے مشاورت ہو گی۔

  3. محکمہ موسمیات: اسلام آباد میں آج بارش کا سلسلہ جاری رہے گا

    وفاقی دارالحکومت میں موجود آزادی مارچ کے شرکا کو سخت موسم کا سامنا ہے۔ بدھ کی صبح شروع ہونے والی بارش کا سلسلہ اب بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔

    محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق جمعرات (آج) کے روز بھی اسلام آباد میں اکثر مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد میں 10 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق جمعہ (کل) کے روز اسلام آباد میں موسم جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ صبح کے اوقات میں بارش کا امکان بھی ہے۔

    اسلام آباد میں آج کم سے کم درجہ حرارت 11 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی توقع ہے جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 100 فیصد ہے۔

    موسم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آزادی مارچ
    آزادی مارچ
  4. اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس آج پھر ہو گا!

    اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس آج ایک مرتبہ پھر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اکرم درانی کی رہائش گاہ پر دن ڈھائی بجے منعقد ہو گا۔

    اجلاس میں آزادی مارچ سے متعلق آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

  5. سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس آج ہو گا

    پاکستان کی پارلیمان کے ایوانِ زیریں یعنی قومی اسبملی کا اجلاس آج ہو رہا ہے جس کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہے کہ اس میں بھی اسلام آباد کے ایچ نائن سیکٹر میں جاری جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے حوالے سے گرما گرم بحث ہو گی۔

    واضح رہے کہ بدھ کو سینیٹ کے اجلاس کے دوران حکومت اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کی تقاریر کے بعد اس قدر احتجاج ہوا کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو کہنا پڑا کہ ’بھئی آپ تو حکومت ہیں، آپ تو صبر کا مظاہرہ کریں‘۔

  6. اپنے گھروں سے نکلنے سے قبل یہ ٹریفک پلان ضرور پڑھیے!

    پولیس

    ،تصویر کا ذریعہ@SSPITP

    اسلام آباد کے H-9 سیکٹر میں جمعیت علمائے اسلام کے آزادی مارچ کے باعث جڑواں شہروں کے باسیوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    اس حوالے سے اسلام پولیس کی جانب سے روزانہ صبح ٹریفک پلان جاری کیا جاتا ہے جس میں متبادل راستوں کی تفصیلات بتائی جاتی ہیں۔

  7. جمائما کا کزن وکی کون ہے اور مفتی کفایت اللہ انھیں کیسے جانتے ہیں؟

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    گذشتہ روز جمائما خان کی اس ٹویٹ کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا پر #VickyLeaks ٹرینڈ کرنا شروع ہو گیا۔

    لیکن اس ٹویٹ کا مطلب کیا ہے؟

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    دراصل یہ کہانی جمعیت علمائے اسلام کے مفتی کفایت اللہ نے گھڑی تھی۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے ٹاک شو پر جب مفتی صاحب نے یہ انکشاف کیا تو سوشل میڈیا پر کہرام مچ گیا اور بات جمائما تک جا پہنچی۔

    کئی لوگوں نے مفتی صاحب کی غلط معلومات کا مذاق اڑایا تو کچھ نے ان کی معصومیت کا حوالہ دیا۔ تاہم جب اینکر وسیم بادامی نے مفتی کفایت اللہ کو اپنے شو پر مدعو کر کے ان سے ’وکی‘ اور ’وکی لیکس‘ کے حوالے سے ان کا موقف جاننا چاہا تو بات کہیں سے کہیں نکل گئی!

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 3

    سوشل میڈیا پر صارفین بھی اس ٹرینڈ سے خوب لطف اندوز ہوئے اور اس حوالے سے متعدد میم بناتے رہے اور جمائما خان سے بھی جواب دیے بغیر نہ رہا گیا!

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 4

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 5
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 5

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 6
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 6

  8. مولانا فضل الرحمان کا اتوار کو سیرت النبی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان

    بدھ کی رات اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے شرکا کو بتایا کہ اتوار کے دن وہ 12 ربيع الأوّل کی مناسبت سے سیرت النبی کانفرنس کا اہتمام کریں گے۔

  9. آصف غفور: ’حکومت فوج کو نہیں بلائے گی تو نہیں جائیں گے‘

    آصف غفور

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے نجی ٹیلیویژن چینل ’ہم‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھرنا یا مارچ سیاسی سرگرمی ہے جس سے فوج کا بحیثیت ادارہ کوئی تعلق نہیں ہے۔

    ’ہم (فوج) ملکی دفاع میں مصروف ہیں، اتنی فرصت نہیں کہ ہم اس قسم کی چیزوں میں اپنے آپ کو ملوث کریں اور ایسی الزام تراشیوں کا جواب دیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ احتجاج ایک جمہوری عمل ہے جسے حکومت اور اپوزیشن کیسے آگے لے کر چلتی ہیں یہ ان کے کرنے کے کام ہیں۔

    ’فوج بحیثیت ادارہ کسی بھی طرح اس پورے عمل میں ملوث نہیں ہے۔‘

    اس سوال کے جواب میں کہ آزادی مارچ میں کالعدم جماعتوں کے جھنڈے دکھائی دیے ہیں آصف غفور کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان بہت منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور ان کو بھی پاکستان اتنا ہی عزیز ہے جتنا ہم سب کو ہے، اس کے بین الاقوامی سطح پر کیا مضمرات ہوں گے اس کا اندازہ فضل الرحمان صاحب کو بھی ہے۔

    سنہ 2014 میں ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دھرنے کافی عرصے سے ہو رہے ہیں۔ ’سنہ 2014 کے دھرنے میں بھی فوج نے حکومت وقت کا ساتھ دیا تھا اور بحیثیت سکیورٹی کے ادارے کے حکومت نے جو بھی ٹاسک دیا تھا وہ فوج نے پورا کیا تھا۔ فوج حکومت کے احکامات پر عمل کرتی ہے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ الیکشن میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔

    ’اِن ایڈ اف سول پاور فوج کسی بھی کام میں اس وقت آتی ہے جب حکومت وقت اسے آئین کے تحت طلب کرتی ہے۔ یہ نہیں ہے کہ آئین میں ہمیں کوئی اتھارٹی دی گئی ہے یا ہماری خواہش ہے کہ ہم الیکشن کے عمل میں کسی بھی طرح سے شامل ہوں۔ یہ حکومت وقت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اور صرف حکومت وقت نہیں بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کی مشاورت بھی حکومتی فیصلے میں شامل ہوتی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن سب سیاسی جماعتیں مل کر بناتی ہیں، الیکشن کمیشن کا سربراہ سب مل کر لگاتے ہیں، عبوری حکومت سب مل کر بناتے ہیں اور فوج کا ان تمام معاملات میں کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔

    اانھوں نے کہا کہ انتخابات میں فوج کیسے تعینات ہو گی، کہاں کہاں تعینات ہو گی، طریقہ کار کیا ہو گا، یہ سب قانون اور آئین کے تحت طے ہوتا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ماضی قریب میں دو مرتبہ آرمی چیف کا آمنا سامنا سیاستدانوں سے ہوا، ایک دفعہ وہ سینیٹ گئے اور دوسری مرتبہ پارلیمانی رہنماؤں کی میٹنگ میں جہاں آرمی چیف نے تجویز پیش کی تھی کہ آپ سب مل کر کوئی ایسی کمیٹی بنا لیں جو کی قومی معاملات پر ایک ایسا لائحہ عمل ترتیب دے جو ملک کے لیے بہتر ہو۔ ’آرمی چیف کہہ چکے ہیں کہ کوئی ایسا لائحہ عمل ترتیب دے لیں جس کے تحت فوج کی انتخابات میں شمولیت بالکل ختم ہو جائے۔ جب بھی کوئی حکومت فوج کو انتخابات کے انعقاد کے لیے نہیں بلائے گی فوج نہیں جائے گی۔ اس کا دارومدار حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں پر ہوتا ہے۔‘

  10. میاں افتخار حسین: اے این پی آزادی مارچ کے شرکا کو اکیلا نہیں چھوڑے گی

    میاں افتخار

    عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی مارچ کو بارش، آندھی یا طوفان نہیں روک سکتا، رات کو شدید بارش ہوئی لیکن شرکا کے جذبے بلند ہیں جس سے پورا پاکستان اندازہ لگا سکتا ہے کہ وہ اپنی منزل پانے اور جمہوریت کو بچانے میں کتنے سنجیدہ ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اے این پی مارچ کے شرکا کے ساتھ کھڑی ہیں اور انھیں اکیلا نہیں چھوڑے گی۔ ہم نے ماضی میں آنسوگیس، لاٹھی چارج اور آمر حکمرانوں کے بدترین ظلم کا مقابلہ کیا ہے۔ جمہوریت کے لیے پہلے بھی قربانی دے چکے ہیں اور آگے بھی دیتے رہیں گے۔

    میاں افتخارحسین نے کہا کہ پاکستان کے بقا کو جو خطرہ ہے خدا کرے کہ یہ خطرہ جلد ختم ہو، ملک میں امن قائم ہو، انصاف کا بول بالا ہو اور آئین کی بالادستی ہو۔

    رہبرکمیٹی اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کے درمیان بات چیت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریق ابھی تک اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں اور اپوزیشن استعفے، فوج کی مداخلت کے بغیر دوبارہ شفاف انتخابات اور آئین کی بالادستی کے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

  11. محمود خان اچکزئی: جب سوال کرتے ہیں تو ہمیں غدار کہا جاتا ہے

    اچکزئی

    ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم پاکستان سے محبت نہیں کرتے۔ آپ نے آئین کا مذاق اڑایا، اسے پاؤں تلے روندا، ہزاروں لوگوں کو قبائلی علاقوں میں قتل کیا گیا۔ پاکستان کی فوج میں سندھیوں، بلوچ اور پختونوں کا کتنا حصہ ہے؟ ہمیں بتایا جائے۔ جب ایسے سوالات کیے جاتے ہیں تو ہمیں غدار قرار دیا جاتا ہے۔ ہمیں محب وطن سمجھا جائے۔

  12. محمود خان اچکزئی: ہم سے گِلہ کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اداروں کی بات کرتے ہیں

    پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی ہم سے گِلہ کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اداروں کی بات کرتے ہیں۔ ہمیں سارے ادارے پیارے ہیں مگر اس وقت تک جب تک وہ آئین کے دائرے میں رہیں گے۔ اگر جج بھی اپنے دائرے سے نکلیں گے تو محب وطن پاکستانیوں کا فرض ہو گا کہ ان کے خلاف آواز اٹھائیں۔ یہ بات آئین کی بالادستی کی بات ہے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ ملک سے رشوت کو ختم کرنا ہے۔ کیا عمران خان کو معلوم نہیں کہ کیسے بلوچستان کی حکومت کو گرایا گیا، یہاں ایسے لوگ ہیں جنھیں معلوم ہے کہ کس ایم پی اے کی کیا قیمت ہے اور وہ دیتے ہیں۔ وہ ایسے لوگوں کے خلاف کب ایکشن لیں گے۔

  13. مولانا فضل الرحمان: ایسا جمہوری نظام چاہتے ہیں جو آئین پاکستان کا عکاس ہو

    آج ہم پاکستان میں ایک ایسا جمہوری نظام چاہتے ہیں جو آئین پاکستان کا عکاس ہو اور اب قوم اپنے اس مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

  14. مولانا فضل الرحمان: ’ملک میں 400 محکموں کو ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے‘

    مولانا فضل الرحمان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مولانا فضل االرحمان کا آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملک میں ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کر کے آنے والے ملک میں سینکڑوں محکموں کو بند کر رہے ہیں۔ حکومت نئی نوکریاں کہاں سے دیں گی؟

  15. مولانا فضل الرحمان: کیا آپ نے نوجوانوں کو ووٹ لینے کے لیے بیوقوف بنایا تھا؟

    50 لاکھ گھروں اور نوکریوں کا وعدہ کیا گیا مگر اب حکومت کہتی ہے کہ کسی خوش فہمی میں نہ رہیں حکومت کوئی نوکری نہیں دے سکتی۔ کیا آپ نے نوجوانوں کو ووٹ لینے کے لیے بیوقوف بنایا تھا؟ یہ ملک مزید نقصان برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

  16. مولانا فضل الرحمان: شوکت صدیقی، فائز عیسیٰ کا حشر ہمارے سامنے ہے

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کا فیصلہ کچھ قوتوں کے لیے موزوں نہیں تھا تو سب نے دیکھا ان کے ساتھ کیا ہوا۔ ہم کیا پیغام دنیا کو دے رہے ہیں کہ اگر کوئی جج آپ کے خلاف فیصلہ دے گا تو اسے گھر جانا ہو گا۔ ایک فیصلہ شوکت عزیز صدیقی نے کیا، ایک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دونوں کے ساتھ کیا ہو۔ ہم بدنیتی پر مبنی صدارتی ریفرنس کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

  17. مولانا فضل الرحمان: ملک اس وقت مالیاتی بحران سے گزر رہا ہے

    جے یو آئی کے سربراہ نے آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سال میں تین تین بجٹ پیش کیے گئے ہیں۔

  18. مولانا فضل الرحمان: اگلا بجٹ بھی ان نااہل حکمرانوں کے حوالے ہوا تو پاکستان مکمل طور پر دیوالیہ ہو جائے گا

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ آزادی مارچ کا یہ اجتماع اپنے موقف پر ڈٹ جانے والوں کا اجتماع ہے جو اپنی منزل پر ہہنچ کر دم لے گا۔ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ 12 ربیع الاول کو یہ اجتماع سیرت مصطفی کانفرنس میں بدل جائے گا۔ پاکستان مالیاتی بحران میں دھنستا جا رہا ہے اور اگر اگلا بجٹ بھی ان نااہل حکمرانوں کے حوالے ہوا تو پاکستان مکمل طور پر دیوالیہ ہو جائے گا۔ ہم یہاں ملک کو بچانے کے لیے آئے ہیں۔

    اگر ملک کو بچانا ہے تو ہم ان نااہل حکمرانوں کو ایک دن بھی مزید دینے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ مزید وقت دینے کا مطلب یہ ہو گا کہ ملک کو مزید تباہی کے دہانے پر لے جایا جائے۔

  19. مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب

    جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرنے کے لیے کنٹینر پر آ گئے ہیں۔

  20. آزادی مارچ کے شرکا بارش اور ٹھنڈ کے باوجود پر عزم

    اسلام آباد میں جے یو آئی کے آزادی مارچ کے شرکا بارش اور ٹھنڈ کے باوجود پرعزم ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ تمام سختیاں برداشت کر سکتے ہیں۔

    سرد موسم سے بچنے کے لیے گرم کپڑوں کی خریداری کے لیے بعض افراد نے لنڈے کا رخ بھی کیا۔