
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی وزارت داخلہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر فوج طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم فوج کی تعیناتی صرف حساس عمارتوں کی حفاظت کے لیے کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈپٹی کمنشر لاہور نے بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز کو بتایا کہ لاہور کے ان علاقوں جہاں مظاہرین احتجاج کر رہے تھے وہاں میڑو سروس کو بھی بند کر دیا گیا ۔ نامہ نگار کے مطابق لاہور کے مختلف علاقوں میں مظاہرین کی تعداد 40 سے 50 کے درمیان ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق آئی جی پولیس طاہر عالم خان نے ایک مقامی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کو یہ آپریشن کرنے سے پہلے اور زیادہ تیاری کرنی چاہیے تھی۔ ان کے خیال میں پولیس نے آپریشن بہتر انداز میں نہیں کیا اور ان کی رائے ہے کہ پولیس نے تمام وسائل ایک ہی بار میں چھونک دیے ہیں۔
ٹوئٹر صافر محسن لکھتے ہیں کہ ’میں خادم رضوی کا حمایتی نہیں ہوں اور نہ ہی جس قسم کی زبان وہ استعمال کرتے ہیں اس کا۔ لیکن اس احتجاج پر وہ بالکل صحیح ہیں۔ ختم نبوت پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔ ایک استعفے سے اس صورتحال سے بچا جا سکتا تھا۔‘
نامہ نگار عمر دراز کے مطابق تحریک لبیک یا رسول اللہ کے کارکنوں نے لاہور میں مختلف علاقوں میں احتجاج کرنا شروع کر دیا ہے۔ مظاہرین شاہدرہ، اسلامیہ کالونی، لاہوری گیٹ، بند روڈ اور داتا دربار کے پاس احتجاج کر رہے ہیں۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق فیض آباد کے قریب واقع ایک مدرسہ سے درجنوں طلبا باہر نکل آئے ہیں۔ انھوں نے فیض آباد کے پل پر دھرنا دینے والے مظاہرین کے ساتھ مل کر پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا ہے جس کے بعد پولیس پسا ہونے پر مجبور ہو گئی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق لبیگ یا رسول اللہ کے کارکنوں نے نہ صرف اسلام آباد کی مختلف سٹرکوں کو بند کرنا شروع کر دیا ہے بلکہ انھوں نے گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ اور وزیر آباد میں بھی بعض مقامات پر سٹرکیں بند کر دی ہیں۔
ابرار احمد خان، صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن راولپنڈی ڈویژن کا کہنا ہے کہ فیض آباد میں مظاہرین پر شدید شیلنگ کی وجہ سے اردگرد کے علاقوں میں واقع نجی سکولوں کے طلبا و طالبات کی حالت غیر ہو رہی ہے۔ سکولوں کے مالکان نے والدین سے کہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سکولوں سے لے جائیں۔ اسلام آباد انتظامیہ نے سکولوں کی مینیجمنٹ کو احتیاطی اقدامات کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
نامہ نگار ذیشان علی کے مطابق اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترامڑی چوک اور ارد گرد کے علاقوں میں مذہبی جماعتوں کے کارکنوں اکٹھے ہو کر اجتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے ترامڑی چوک میں رکاوٹیں لگا کر سٹرکیں بند کر دی ہیں۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ فیض آباد دھرنے کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن کے بعد پورے ملک میں دھرنوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

خادم حسین رضوی فیض آباد پر اپنے سٹیج سے پولیس اہلکاروں کو مخاطب کر کے ان سے سٹیج کی جانب آنے سے رکنے اور واپس جانے کا کہہ رہے ہیں۔

اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز کے ترجمان ڈاکٹر الطاف نے نامہ نگار ذیشان ظفر کو بتایا کہ اس وقت تک ہسپتال میں 27 زخمیوں کو لایا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ زخمیوں میں اسلام آباد پولیس کے 12، ایف سی کے چھ اور نو مظاہرین ہیں۔ ڈاکٹر الطاف کے مطابق زخمیوں میں سے کسی کی حالت تشویشناک نہیں ہے اور انھیں سر سمیت جسم کے مختلف حصوں پر پتھر لگنے کے باعث چوٹیں آئی ہیں جبکہ چند ایک آنسو گیس کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔
اسلام آباد میں فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا کے شرکا کو ہٹانے کے لیے آپریشن جاری ہے جبکہ لبیک یا رسول اللہ کے سربراہ ے خادم حسین رضوی فیس بک لائیو کر رہے ہیں۔ فیس بک لائیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کے آس پاس افراد آنسو گیس کی شیلنگ کے باعث ماسک پہنے ہوئے ہیں لیکن خادم حسین رضوی نے ماسک پہنا نہیں ہوا بلکہ گلے میں ڈالا ہوا ہے۔

جائے وقوع پر موجود ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے ہوا کا رخ ایک بار دوبارہ مظاہرین کی جانب ہو گیا ہے جس کی وجہ سے شیلنگ میں ایک بار پھر تیزی آئی ہے۔ دھرے کے مقام پر بیشتر علاقہ خالی کروا لیا گیا ہے اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

نامہ نگار فرحت جاوید نے بتایا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر فیض آباد انٹرچینج پر دھرنے کے خلاف آپریشن کے آغاز کے بعد راولپنڈی کے علاقے اڈیالہ روڈ اور سواں کے علاوہ دیگر علاقوں میں مظاہرین نے سڑکیں بند کر دی ہیں۔
حکام کے مطابق اب تک 370 مظاہرین گرفتار کیا گیا ہے جبکہ 14 زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق فیض آباد کے مقام پر مظاہرین ایف سی کے ایک جوان کو اٹھا کر لے گئے ہیں۔
مظاہرین نے تھانہ آبپارہ پولیس کی گاڑی چھین لی جبکہ ڈرائیور جان بچا کے بھاگ گیا۔