پشاور میں پریس کلب کے باہر مظاہرہ

،تصویر کا ذریعہbbc
پاکستان کی وزارت داخلہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر فوج طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم فوج کی تعیناتی صرف حساس عمارتوں کی حفاظت کے لیے کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز کے ترجمان ڈاکٹر الطاف کے اب تک 95 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ زخمیوں میں اسلام آباد پولیس کے 36 اہلکار، ایف سی کے 18 اہلکار اور41 مظاہرین شامل ہیں۔
نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق شیخوپورہ شہر میں بھٹی چوک کے قریب لاہور شیخوپورہ روڈ کو تقریباً دو سو مظاہرین نے بند کر دیا ہے۔
لاہور میں ٹھوکر نیاز بیگ کے مقام پر شہر میں داخلہ بند کر دیا گیا ہے۔ لاہور شہر میں متعدد مقامات پر پولیس کو مظاہرین کے خلاف آنسو گیس استعمال کرنا پڑی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر عبدالحادی اور ڈی ایس پی عارف شاہ زخمی ہو گئے ہیں۔
راولپنڈی میں بے نظیر بھٹو ہسپتال کے شعبۂ ایمرجنسی کے ڈاکٹر مسعود صفدر نے بتایا کہ ہسپتال میں کل 10 زخمیوں کو لایا گیا جن میں شمس آباد میں ڈیوٹی پر موجود چار پولیو ورکرز، ایک راہگیر بچہ اور اس کی والدہ آنسو گیس کی وجہ سے بے ہوش ہوئے جبکہ ایک سب انسپکٹر سمیت چار افراد زخمی ہوئے۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد سات افراد کو ڈسچارچ کر دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نامہ نگار ہارون رشید نے بتایا کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے کم از کم تین مرتبہ کوشش کی کہ وہ سٹیج کے قریب پہنچ کر خادم حسین اور ان کے ساتھ موجود قائدین کو گرفتار کر لیں مگر ان کے حامیوں کی شدید ترین مزاحمت کے باعث پولیس کو اس میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
پولیس اور ایف سی کے اہلکاروں نے مظاہرین کی جانب سے مزاحمت کرنے پر ربڑ کی گولیاں بھی چلائیں۔ اور موقع پر پولیس اور ایف سی کے اہلکار بھی پتھراؤ سے زخمی ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز میں حکام کے مطابق اب تک 64 زخمیوں کو لایا گیا ۔ زخمیوں میں اسلام آباد پولیس کے 27، ایف سی کے 10 اہلکار اور 27 مظاہرین شامل ہیں۔
نامہ نگار حمیرا کنول نے بتایا کہ فیض آباد کے گردو نواح میں موجود افراد کا کہنا ہے کہ وہ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ ایک مکین محمد اکرم نے بتایا کہ ہمارے گھروں کے اندر دھواں آ گیا جس کی وجہ سے سانس لینے میں شدید دشواری پیش آئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کراچی میں نمائش چورنگی کے مقام پر گذشتہ ایک ہفتے سے لبیک پاکستان کا دھرنا جاری ہے۔ پولیس نے جمعے کی شب بعض راستوں پر کنیٹینر کھڑے کر دیے تھے۔ کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انھیں ابھی تک دھرنہ دینے والے افراد کے خلاف ایکشن لینے کی ہدایت نہیں کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فیض آباد پر دھرنے دینے والے مظاہرین نے قیدیوں کو لے جانے والی چار گاڑیوں جبکہ پولیس کی ایک بس کو آگ لگا دی۔
راولپنڈی کے علاقے سکتھ روڑ کے رہائشی راجہ نعمان نے ٹیلی فون پر بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت مختلف جگہوں پر لوگ چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں جمع ہیں اور حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یہ احتجاجی مظاہرے اب تک پرامن ہیں۔
صحافی منصور علی خان نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں فیض آباد دھرنے کے بارے میں کہا ہے کہ یہ موجودہ اور آئندہ حکومتوں کے لیے سبق ہے کہ حالات بےقابو ہونے سے پہلے معاملات پر قابو پا لیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اسلام آباد کے مضافاتی علاقے بھارہ کہو میں پولیس نے بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول کو بتایا کہ اس وقت وہاں 400 کے قریب مظاہرین موجود ہیں جو آنے والی گاڑیوں کو روک رہے ہیں۔ مظاہرین نے مرکزی شاہراہ کو بھی بند کر دیا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دھرنے کے خلاف طاقت کا استعمال کرکے حکومت نے معاملے کو الجھا دیا ہے۔ ’حکومت کو افہام و تفہیم کا راستہ نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ طاقت کے استعمال سے معاملات حل ہونے کی بجائے مزید خراب ہوتے ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری تھی کہ ختم نبوت کے خلاف ہونے والی سازش بے نقاب کرتی اور جب تک ختم نبوت کے حلف میں ترمیم کرنے والوں کو سزا نہیں ملتی عوام مطمئن نہیں ہوں گے۔‘
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پولیس نے فیض آباد دھرنے کے مقام کو چاروں جانب سے گھیر لیا ہے تاہم مظاہرین کی مزاحمت بھی جاری ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اداکار حمزہ علی عباسی نے ٹویٹ کیا ’ممتاز قادری پارٹی نے کامیابی سے وہ حاصل کر لیا جو وہ اگلے انتخابات کے لیے حاصل کرنا چاہتے تھے ایکسکلیوسو میڈیا کوریج۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ حکومت نے ان کو یہاں کیوں بیٹھنے دیا ۔ میں متفق ہوں کہ زاہد حامد کو استعفیٰ دینا چاہیے تھا۔‘
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مظاہرین نے قیدیوں کو لے جانے والی گاڑی کو دیکھتے ہی پنجاب پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا جس کے نتیجے میں پولیس اس جگہ سے بھاگنے پر مجبور ہو گئی۔ مظاہرین احتجاج کے ساتھ نعرے بازی بھی کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق فیض آباد کے ارد گرد مظاہرین کے خیموں کو جلا دیا گیا ہے اور حکام نے رینجرز کو بھی آپریشن میں آگے بلا لیا ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اب حکام رینجرز کو بھی اس آپریشن میں شریک ہونے کے لیے کہا جائے گا۔ اس سے پہلے رینجرز اہلکار سب سے پچھلی صف میں تعینات تھے۔