لائیو, جنیوا میں ایران اور امریکہ معاہدے پر دستخط عباس عراقچی اور باقر قالیباف کی موجودگی میں ہوں گے: جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے پر دستخط جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ میں کیے جائیں گے اور اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف بھی موجود ہوں گے۔ تاہم ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران کی جانب سے معاہدے پر کون دستخط کرے گا۔‘

خلاصہ

  • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے پر دستخط کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف بھی موجود ہوں گے
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد بحری جہاز آبنائے ہرمز سے روانہ ہونا شروع ہو گئے ہیں۔‘
  • امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے: شہباز شریف
  • امریکہ، ایران امن معاہدے پر دستخط کرنے کی باضابطہ تقریب 19 جون (جمعہ) کو سوئٹزر لینڈ میں ہو گی: شہباز شریف
  • صدر ٹرمپ نے امن معاہدہ طے پا جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی منظوری بھی دے دی ہے
  • ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی سرکاری میڈیا پر امن معاہدہ طے پانے کی تصدیق کر دی ہے

لائیو کوریج

  1. جنگ بندی کے معاہدے میں فی الحال لبنان شامل نہیں: امریکی عہدیدار

    واشنگٹن میں، ایک سینیئر امریکی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس معاہدے میں لبنان شامل نہیں ہے، لیکن اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہ راست بات چیت جاری ہے۔

    اہلکار نے بتایا کہ ’اگر ایران حزب اللہ کو کنٹرول نہیں کر سکتا اور وہ اسرائیلی ٹھکانوں یا شہروں پر حملہ کرتے ہیں، تو اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے اور جواب دینے کا حق حاصل ہوگا۔‘

    اس عہدیدار نے مزید کہا کہ ’ایران اور اس کے اتحادی، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ، دشمنی ختم کرنے اور ایک حتمی امن معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں ’امید ہے کہ ان پراکسی گروپوں میں سے بہت سے شامل ہوں گے‘۔

  2. معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر ’سب دستخط ہو چکے ہیں۔‘

    انھوں نے یہ بات پہلے فرانسیسی صدر ایمانوئل میخوان سے ملاقات کے دوران کہی تھی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ مجھے یہ کہتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے۔ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، معاہدہ مکمل ہو چکا ہے۔‘

    ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اعلیٰ انتظامی حکام نے کہا کہ اس مفاہمت نامے پر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس، اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے الیکٹرانک طور پر دستخط کیے۔

    اس ہفتے کے آخر میں جنیوا میں دستخط کی ایک باقاعدہ تقریب منعقد ہوگی۔

  3. مظفرآباد میں احتجاج کرنے والی متعدد خواتین گرفتار

    دارالحکومت مظفرآباد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں پولیس نے احتجاجی مظاہرہ کرنے والی متعدد خواتین کو گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار ہونے والی ان خواتین کو مختلف تھانوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق دو درجن کے قریب خواتین اور بچے نلوچھی چوک میں جمع ہوئے اور مظاہرہ کرنا شروع کردیا جس پر پولیس نے انھیں پکڑ کر گاڑیوں میں ڈالا اور تھانوں میں منتقل کردیا۔

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پولیس کے سربراہ ملک لیاقت اعوان نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’حراست میں لی جانے والی خواتین ایک ایجنڈے کے تحت جمع ہوئی تھیں۔‘

    پولیس کا کہنا ہے کہ ان خواتین کو مبینہ طور پر پاکستان کے خلاف نعرہ بازی کرنے اور حکومت مخالف نعرے لگانے کے الزام میں گرفتار ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’جہاں پر خواتین جمع ہوئیں وہاں پر ضلعی انتظامیہ کے افسر بھی موجود تھے اور ان خواتین نے ان کو بتایا کہ وہ بازار اور دوکانیں نہ کھلنے کی وجہ سے شدید پرشان ہیں اور وہ ان دکانوں کے کھلنے کے حق میں مظاہرہ کرنا چاہتی ہیں۔‘

    آئی جی کا کہنا تھا کہ ’کچھ دیر تو ان خواتین نے دوکانیں کھولنے کے حق میں نعرے لگائے اور پھر کچھ دیر کے بعد انھوں نے مبینہ طور پر حکومت مخالف اور پاکستان کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’کالعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ایجنڈے میں شامل ہے کہ اب وہ اپنے مطابات منوانے کے لیے خواتین اور بچوں کو سامنے لائیں گے اور ان خواتین کا مظاہرہ اسی ایجنڈے کی ایک کڑی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’چونکہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اس لیے ان خواتین نے قانون کی سخت خلاف ورزی کی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’جنھوں نے قانوں شکنی کی ہے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    ڈپٹی کمشنر مظفر آباد منیر قریشی کا کہنا ہے کہ ’اس وقت شہر کی متعدد بازار اور دوکانیں کھلی ہیں اور لوگ وہاں سے روزمرہ کی اشیا خرید رہے ہیں۔‘

    file photo

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مظاہرے میں شریک خواتین میں سے ایک نے بی بی سی کی نامہ نگار تابندہ کوکب کو بتایا ہم سب محلے کی خواتین اور بچیاں تھیں جو دکانوں کی بندش اور حکومت کی جانب سے ہڑتال ختم نہ کروائے جانے کے خلاف احتجاج کر رہی تھیں۔

    انھوں نے بتایا کے پولیس نے آ کر ان خواتین اور منتشر ہونے کو کہا اور ہوائی فائر کیے۔

    انھوں نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کے ساتھ کوئی خاتون پولیس اہلکار نہیں تھی اور مرد اہلکار ہی خواتین کو گرفتار کر کے لے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں ایک نویں کلاس کی طالبہ بھی شامل ہے۔

    ایک اور مقامی شخص نے بتایا کہ ان کا گھر مظاہرے کے مقام کے قریب ہے اور ان کے بھائی جو پیشے سے استاد ہیں بال کٹوانے جا رہے تھے۔ ’بھائی کو پتا چلا کہ ہمارے 80 سالہ والد مظاہرہ دیکھنے کے لیے کھڑے تھے تو پولیس اہلکاروں نے انھیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ والد کو دیکھنے گئے تو پولیس انھیں بھی گرفتار کے کے لے گئی ہے۔ فی الحال بھائی سے کوئی رابطہ نہیں۔‘

    مقامی صدر تھانہ مظفرآباد کے اہلکار سے گرفتار مظاہرین کی تفصیل جاننے کے لیے فون کیا تو انھوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

  4. ایران سے تعلقات بہتر نہ ہوئے تو حالات دوبارہ وہیں پہنچ سکتے ہیں جہاں سے آغاز ہوا تھا: ٹرمپ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اگر ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری نہ آئی تو صورتحال دوبارہ اسی مقام پر جا سکتی ہے جہاں سے حالیہ کشیدگی کا آغاز ہوا تھا۔‘

    گزشتہ ہفتے ایران پر امریکی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے افسوس تھا کہ ہمیں دو راتوں تک حملے کرنے پڑے۔‘

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مستقبل میں اچھے تعلقات قائم ہوں گے، مگر انھوں نے ساتھ ہی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو حالات دوبارہ پہلے جیسے ہو سکتے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر تعلقات بہتر نہ ہوئے تو ہم دوبارہ وہیں واپس جا سکتے ہیں جہاں سے ہم نے آغاز کیا تھا، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔‘

    جنیوا میں ہونے والی تقریب میں شرکت سے متعلق سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ وہ خود تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔

    انھوں نے بتایا کہ امریکہ کی جانب سے اس معاہدے پر باضابطہ دستخط نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔

  5. ایران کے لیے پابندیوں میں نرمی معاہدے کا حصہ نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں اقتصادی پابندیوں میں نرمی شامل نہیں ہے۔‘

    صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہ آیا اس معاہدے کے تحت ایران کو پابندیوں سے ریلیف ملے گا، ٹرمپ نے مختصر جواب دیا: ’نہیں، ایسا نہیں ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ دراصل رویے سے متعلق معاملہ ہے۔ اگر وہ وہی کریں گے جو انھیں کرنا چاہیے تو پھر اس کے اثرات خود بخود سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔‘

    بعد ازاں ٹرمپ نے لبنان اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک پیچیدہ تنازع ہے اور امریکہ اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا ہم اس تنازع کو مکمل طور پر ختم کر سکتے ہیں۔‘

    ٹرمپ کے بقول لبنان کی صورتحال طویل عرصے سے جاری ہے اور ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تنازع کبھی ختم ہی نہیں ہوتا۔‘

  6. ایران کے ساتھ معاہدے کا متن ’بہت جلد‘ شائع کیا جائے گا، ٹرمپ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی سیون سربراہی اجلاس سے قبل فرانسیسی صدر ایمانویل میخواں سے ملاقات کر رہے ہیں۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے بارے میں پوچھے جانے پر ٹرمپ نے کہا کہ اس کا متن ’بہت جلد‘ جاری کیا جائے گا، اور یہ بھی کہا کہ غالباً یہ جمعہ کو دستخط ہونے کے بعد جاری ہو گا۔

    اور مزید کہا کہ آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل طور پر کھلی ہو گی۔

  7. ایران امریکہ معاہدے کی تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی: امریکی عہدیدار, ڈینیل بُش، بی بی سی واشنگٹن

    امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے سوموار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی تفصیلات آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر عوامی طور پر جاری کر دی جائیں گی۔

    انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک طریقے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے دستخط کیے، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے ایران کی جانب سے اس پر دستخط کیے۔

    حکام نے بتایا کہ اس معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب رواں ہفتے جنیوا میں منعقد ہوگی، جس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان حتمی امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی عمل کا آغاز ہو جائے گا۔

    امریکی حکام کے مطابق اس عرصے کے دوران دونوں فریق اہم تنازعات اور باقی ماندہ معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ ایک جامع اور مستقل امن معاہدہ طے پا سکے۔

  8. ’امریکہ کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ اگر صحیح طریقے سے نافذ ہو گیا تو یہ ایران کے لیے ایک ’باعزت دستاویز‘ کے طور پر دیکھا جائے گا: ایرانی صدر

    WANA/ Reuters

    ،تصویر کا ذریعہWANA/ Reuters

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ’امریکہ کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ اگر صحیح طریقے سے نافذ ہو گیا تو یہ ایران کے لیے ایک ’باعزت دستاویز‘ کے طور پر دیکھا جائے گا۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر آئی بی اور نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق صدر پزشکیان نے معاہدے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس کی اہمیت پر زور دیا۔

    فارس نیوز ایجنسی کے مطابق مسعود پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے 90 فیصد ارکان نے اس معاہدے کے حق میں ووٹ دیا۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ ’معاہدے کی تفصیلات مناسب وقت پر منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی اور اس حوالے سے مزید اقدامات بعد میں طے کیے جائیں گے۔

    ایرانی صدر کے بیان کو معاہدے کے حق میں ملکی قیادت کی مضبوط حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان آئندہ مذاکرات میں جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے اور دیگر اہم معاملات پر بات چیت متوقع ہے۔

  9. آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی ٹول ٹیکس نہیں ہوگا: امریکی نائب صدر

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ’اتوار کے روز طے پانے والے معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو ایران کو کوئی ٹول ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑے گا۔‘

    امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے وینس نے کہا کہ ’ہماری توقع ہے کہ آبنائے ہرمز طویل مدت کے لیے بغیر کسی ٹول فیس کے کھلی رہے گی۔‘

    یاد رہے کہ تنازع کے آغاز کے بعد ایران نے اس اہم سمندری گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے فیس یا محصولات وصول کرنے کا نظام متعارف کرایا تھا۔

    جے ڈی وینس نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ’ٹول فری رسائی عارضی بھی ہو سکتی ہے، تاہم امریکہ آنے والے دنوں میں ایران کے ساتھ مزید مذاکرات جاری رکھے گا تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جا سکے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ انہی تکنیکی مذاکرات کا حصہ ہے جس پر ہم تفصیلی بات چیت کریں گے۔‘

    وینس کے مطابق معاہدے کی بہت سی اہم تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں، جن پر دونوں فریق مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر غور کریں گے اور آگے بڑھنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کریں گے۔

  10. کیا آبنائے ہرمز میں جہاز واقعی روانہ ہونا شروع ہو گئے ہیں؟ ٹرمپ کے دعوے پر سوالات, جوشوا چیتھم، بی بی سی ویریفائی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا تھا کہ ’آبنائے ہرمز میں جہاز حرکت کرنا شروع ہو گئے ہیں اور ان میں سے بہت سے تیل سے بھرے ہوئے ہیں‘، تاہم دستیاب بحری ٹریکنگ ڈیٹا سے ابھی تک آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت میں کوئی نمایاں اضافہ نظر نہیں آ رہا۔

    ویب سائٹ میرین ٹریفک کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک صرف ایک جہاز مکمل طور پر مغرب سے مشرق کی جانب آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہو سکا ہے۔ یہ جاپانی ملکیت کا مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی بردار ٹینکر ’دیشا‘ ہے، جو 13 جون کو قطر کی راس لفان بندرگاہ سے سامان لے کر روانہ ہوا تھا۔

    اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دو دیگر کارگو جہاز، ’کائزر‘ اور ’بلو اوشن 1‘، بھی آبنائے عبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    تاہم آٹھ دیگر جہازوں کی نگرانی کی جا رہی ہے جو آبنائے ہرمز کے مغربی کنارے کو عبور کر چکے ہیں جبکہ ایک اور جہاز ایران کے بندر عباس کے علاقے سے روانہ ہوا ہے۔ مگر تاحال یہ واضح نہیں کہ آیا یہ جہاز بھی بحیرہ عرب کی جانب مکمل سفر کریں گے یا نہیں۔

    ایک اور جہاز ’ایم ایس وی الفضل‘ کے بارے میں بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز عبور کر رہا ہو، لیکن عمان کے شمالی ساحل کے قریب اس کے مقام کا سگنل میرین ٹریفک سے غائب ہو گیا، جس کے باعث اس کی درست پوزیشن کا تعین مشکل ہو گیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق جہازوں کے سگنلز مختلف وجوہات کی بنا پر غائب ہو سکتے ہیں، جن میں کمزور کوریج یا سگنلز میں مداخلت شامل ہیں۔

    یہ بھی ممکن ہے کہ جہاز کے عملے نے ٹریکر کو عارضی طور پر بند کر دیا ہو۔ اقوام متحدہ کے ضوابط کے مطابق جہازوں کے ٹریکنگ آلات ہر وقت فعال رہنے چاہییں، تاہم ایک استثنا یہ ہے کہ اگر کپتان کو یقین ہو کہ ٹریکر کو فعال رکھنے سے جہاز یا عملے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے تو اسے عارضی طور پر بند کیا جا سکتا ہے۔

  11. ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنائیں گے: اسماعیل بقائی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کریں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ اقدامات دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ساتھ کیے جائیں گے تاکہ اہم آبی گزرگاہ میں بحری نقل و حرکت محفوظ اور بلا تعطل جاری رہ سکے۔‘

    اسماعیل بقائی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’امریکہ نے جنگ کے دوران ایران کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی اور ملک کی تعمیرِ نو کے حوالے سے اقدامات کرنے کا عہد کیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ نے ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے یا ان میں نرمی کے لیے بھی عملی اقدامات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔‘

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق ’امریکہ نے تعمیرِ نو اور اقتصادی پابندیوں سے متعلق دونوں معاملات میں اقدامات کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔‘

  12. جنوبی لبنان میں دھوئیں کے بادل، دو اہم علاقوں میں حملوں کی اطلاعات

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سوموار کے روز لبنان کے جنوبی دیہات کفر تبنیت میں دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا گیا، جو اس معاہدے کے اعلان کے اگلے دن کا واقعہ ہے۔

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق سوموار کی صبح سویرے کفر تبنیت اور نباطیہ الفوقا کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    رپورٹ میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں تاہم واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی کی صورتحال برقرار ہے۔

  13. ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے پر دستخط عراقچی اور قالیباف کی موجودگی میں ہوں گے: جے ڈی وینس

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے پر دستخط جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ میں کیے جائیں گے اور اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف بھی موجود ہوں گے۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کو ایک انٹرویو کے دوران اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’معاہدے کی کئی تفصیلات ابھی بھی طے نہیں ہو سکیں ہیں تاہم امریکہ توقع رکھتا ہے کہ آبنائے ہرمز طویل مدت میں ’بغیر کسی رکاوٹ کے کھلی رہے گی۔‘

    دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران کی جانب سے معاہدے پر کون دستخط کرے گا۔‘

    ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے یہ بھی کہا کہ ایران ’ٹول وصول کرنے کا خواہاں نہیں‘، تاہم وہ ’خدمات فراہم کرنے کی لاگت‘ ضرور وصول کرے گا۔

  14. خام تیل کی منڈیوں کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ سکون کا باعث, بی بی سی نیوز میں معاشی امور کی نائب مُدیر دھرشینی ڈیوڈ کا تجزیہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خام تیل کی منڈیوں کے لیے یہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ سکون کا باعث بنا ہے۔

    اگرچہ خام تیل کی قیمتیں اب بھی اس سطح سے زیادہ ہیں جو تنازع سے پہلے دیکھی جا رہی تھیں اور مشرق وسطیٰ میں پیداوار کو معمول پر آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

    خطے میں تیل کی پیداوار تقریباً نصف تک پہنچ چُکی ہے اور گزشتہ چند ماہ کے دوران بڑھنے والی قیمتوں کا اثر ابھی عالمی سپلائی چینز پر مکمل طور پر ظاہر ہونا باقی ہے۔ اس کے باعث مہنگائی کچھ عرصے تک بلند سطح پر رہنے کا امکان ہے، تاہم یہ صورتحال پہلے کے خدشات کے مقابلے میں شدت میں کم ہوگی۔

    ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ بالکل بروقت ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں تیل کی عالمی منڈی میں شدید کمی اور رسد کے بحران کے خدشات بڑھ رہے تھے۔

    مشرق وسطیٰ میں پیداوار میں کمی کو جزوی طور پر امریکہ کی جانب سے پیداوار بڑھا کر اور چین کی جانب سے اپنے ذخائر استعمال کر کے پورا کیا گیا، تاہم خدشہ یہ تھا کہ عالمی ذخائر جولائی تک خطرناک حد تک کم ہو سکتے ہیں جس سے قیمتوں میں مزید اضافہ اور حکومتوں، صارفین اور کمپنیوں کے لیے مشکل فیصلوں کی صورتحال پیدا ہو سکتی تھی۔

    تاہم یہ بہتری اس شرط پر ہے کہ خطے میں امن قائم رہے اور صورتحال مزید خراب نہ ہو۔

  15. آبنائے ہرمز سے تیل سے بھرے جہازوں کی روانگی شروع ہو گئی ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد بحری جہاز آبنائے ہرمز سے روانہ ہونا شروع ہو گئے ہیں اور ان میں سے کئی جہاز تیل سے بھرے ہوئے ہیں۔‘

    انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’یہ جہاز جنوبی راستے سے گزر رہے ہیں، جو ان کے بقول ’بالکل محفوظ، قابلِ اعتماد اور صاف و شفاف‘ ہے۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ سمندری سفر کے لیے دیگر راستے بھی موجود ہیں۔

    ادھر بی بی سی کے تحقیقاتی یونٹ بی بی سی ویریفائی کے مطابق بحری جہازوں کی ٹریکنگ سے متعلق ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا ہے، جس میں پہلے بھی یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ معاہدے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرتا ہوا دیکھا گیا۔

    بی بی سی کے مطابق اس حوالے سے مزید تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔

  16. کیا یہ معاہدہ برقرار رہ سکے گا؟, بی بی سی سکیورٹی امور کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کا تجزیہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی ابتدائی اطمینان کی کیفیت کے بعد آنے والے دنوں میں غیر یقینی اور تشویش میں اضافہ متوقع ہے۔

    اچھی خبر یہ ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں ہی دشمنی کے خاتمے اور خلیج کے ذریعے تجارت کی مکمل بحالی کے خواہشمند ہیں۔ تاہم اس معاہدے کے ٹوٹنے یا متاثر ہونے کے کئی ممکنہ خدشات موجود ہیں۔

    سب سے پہلے لبنان کی صورتحال ہے۔ ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کے مطابق اس معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے اور اس کے تحت خطے میں تمام جنگوں کا خاتمہ ہونا چاہیے، بشمول اسرائیل اور ایران کے اتحادی حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کے۔

    اگر یہ تنازع دوبارہ بھڑکتا ہے تو سوال یہ ہے کہ آیا ایران اس کے جواب میں اسرائیل کو نشانہ بنائے گا اور اگر ایسا ہوتا ہے تو کیا امریکہ ایران کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا یا واشنگٹن اسرائیل کو اکیلے اس جنگ کا سامنا کرنے دے گا؟

    دوسرا بڑا مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ 60 دن کی جو مہلت اس جنگ بندی میں دی گئی ہے وہ اس بات پر اتفاق کے لیے بہت کم ہے کہ ایران کو کتنا یورینیئم افزودہ کرنے کی اجازت ہوگی اس کے بدلے میں پابندیاں کیسے ہٹائی جائیں گی اور ایران کے موجودہ خطرناک حد تک افزودہ یورینیئم کے ذخائر کا کیا کیا جائے گا اور یہ سب کب اور کیسے ہوگا؟

    تیسرا اہم مسئلہ آبنائے ہرمز ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس نے اس جنگ میں ’فتح‘ حاصل کی ہے اور اب وہ اس تنگ آبی گزرگاہ پر اپنی خودمختاری یا اس کے کچھ حصے پر تسلیم شدہ کنٹرول چاہتا ہے۔

    تاہم یہ مؤقف خلیجی عرب ممالک کے لیے ناقابل قبول ہے جو چاہتے ہیں کہ جنگ سے پہلے کی طرح اس آبی گزرگاہ میں مکمل اور آزادانہ بحری آمد و رفت بحال ہو، جیسا کہ 28 فروری کو تنازع شروع ہونے سے پہلے تھا۔

    مجموعی طور پر صورتحال یہ ہے کہ اگرچہ معاہدہ ایک اہم پیش رفت ہے لیکن اس کے برقرار رہنے کے حوالے سے کئی سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔

  17. معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد ایران کو بغیر کسی رکاوٹ کے تیل فروخت کرنے کے قابل ہونا چاہیے: اسماعیل بقائی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد ایران کو بغیر کسی رکاوٹ کے تیل فروخت کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جوہری مسئلہ اس مفاہمتی یادداشت میں شامل نہیں کیا گیا اور اس پر بات چیت معاہدے پر دستخط کے اگلے روز شروع ہوگی۔‘

    اسماعیل بقائی کے مطابق تفصیلات پر ابھی بات نہیں ہوئی تاہم ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مؤقف واضح ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’تمام پابندیوں کا خاتمہ، بشمول بنیادی اور ثانوی پابندیاں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیاں، اور آئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز کی قراردادیں، جوہری معاملے کے ساتھ جڑے اہم امور ہیں، جن پر معاہدے پر دستخط کے بعد بات چیت ہوگی اور 60 دن کے اندر اتفاق رائے حاصل کیا جائے گا۔‘

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران کے منجمد یا محدود اثاثوں کی بحالی اور جنگ سے ہونے والے معاشی نقصانات کی تلافی کو بھی اہم قرار دیا۔

    اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ’معاہدے پر دستخط ہوتے ہی ایران کو تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور تیل سے متعلق دیگر اشیاء کی فروخت میں کسی بھی رکاوٹ یا مسئلے کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔‘

  18. اسرائیل امریکہ ایران معاہدے کا پابند نہیں: قومی سلامتی وزیر کا سخت مؤقف

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتامر بن گویر نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’امریکہ کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ اسرائیل کو کسی طور پر پابند نہیں کرتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے اور وہ امریکہ کے تابع نہیں۔‘ ان کے مطابق ’اسرائیل کی ذمہ داری اپنے شہریوں، اسرائیلی فوج کے اہلکاروں اور یہودی عوام کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے اور یہ اس کے تاریخی فرض کا حصہ ہے۔‘

    اتامر بن گویر نے کہا کہ ’ہزاروں سال کی جلاوطنی میں مظلوم اور قتل ہونے والے یہودیوں کے حوالے سے بھی اسرائیل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل میں یہودیوں کو مکمل تحفظ فراہم کرے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’جب بھی اسرائیل نے بین الاقوامی دباؤ کے تحت اپنی سلامتی پر سمجھوتہ کیا، اس کی بھاری قیمت چکانی پڑی، جس میں اوسلو معاہدے، سنہ 2006 کے لبنان معاہدے اور غزہ میں مختلف ادوار کی پالیسیوں کا حوالہ دیا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وہ امریکہ کا احترام کرتے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شکر گزار ہیں، تاہم اسرائیل کسی ’کمزور ریاست‘ کی طرح نہیں چل سکتا۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتامر بن گویر کے مطابق ’انھوں نے یہ مؤقف وزیر اعظم کو متعدد بار بتایا ہے اور ہر اہم تاریخی موقع پر اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسے لمحات میں تاریخی فیصلے کرنا ضروری ہوتا ہے۔‘

    انھوں نے واضح کیا کہ ’وہ اس معاہدے کے فریق نہیں ہیں کیونکہ یہ اسرائیل کی سلامتی کو یقینی نہیں بناتا۔‘

    ان کے مطابق ’اسرائیل کو حزب اللہ کے مکمل خاتمے سے کم کسی چیز پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی ان علاقوں سے نکلنا چاہیے جنھیں اسرائیلی فوج نے اپنے کنٹرول میں لے کر وہاں سے ’شدت پسندوں کے اہم ٹھکانوں‘ کو ختم کیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل کو اس صورتحال کی اجازت نہیں دینی چاہیے جس میں ہزاروں جنگجو شمالی بستیوں کی سرحدوں پر موجود ہوں اور نہ ہی اس پر خاموش رہنا چاہیے کہ اسرائیل پر حملے کیے جائیں۔‘

    اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتامر بن گویر نے خبردار کیا کہ ’لبنان سے اسرائیل کی طرف ڈرون، بغیر پائلٹ طیاروں یا میزائلوں داغے جانے کا جواب بیروت کے جنوبی علاقے ’داحیہ‘ پر اسرائیلی حملے کی صورت میں دیا جائے گا اور مزاہمت کا یہی توازن کچھ عرصہ قبل تک موجود تھا جسے برقرار رکھنا ضروری ہے۔‘

    آخر میں انھوں نے ایکس پر جاری اپنے اس طویل بیان میں کہا کہ ’اسرائیل ایک تین ہزار سال پرانی قوم ہے جو طویل جدوجہد سے نہیں ڈرتی۔‘ ان کے مطابق یہودی قوم اپنی سرزمین پر مضبوط اور باوقار انداز میں واپس آئی ہے اور اب دشمنوں کے سامنے جھکنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

  19. حزب اللہ کا جنگ بندی سے متعلق مؤقف، ایران امریکہ معاہدے کے بعد کوئی کارروائی نہیں کی: روئٹرز

    خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے حزب اللہ کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے اعلان کے بعد گروپ کی جانب سے کوئی پرتشدد کارروائی نہیں کی گئی۔‘

    اہلکار کے مطابق حزب اللہ کا جنگ بندی سے متعلق مؤقف اس بات سے مشروط ہے کہ اسرائیل بھی اس پر مکمل عمل کرے۔

    نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرنے والے اس اہلکار نے مزید کہا کہ ’حزب اللہ لبنان میں اسرائیل کی ’آزادانہ نقل و حرکت‘ کو مسترد کرتی ہے۔‘ ان کے مطابق ایران نے امریکہ کے ساتھ معاہدے پر دستخط اس لیے مؤخر کیے تاکہ لبنان میں جنگ بندی پر اسرائیل کے طرزِ عمل کی نگرانی کی جا سکے۔

    تاہم حزب اللہ نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے اس معاہدے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔

  20. ایران کے یورینیئم ذخائر کو ختم یا انھیں کمزور کرنا ضروری ہے: فرانسیسی صدر میکخواں

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے کہا ہے کہ ’ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخائر کو غیر مؤثر بنایا جانا چاہیے اور انھیں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں رکھا جانا چاہیے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے اعلان کے بعد میکرون نے کہا کہ ’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ باقی ماندہ افزودہ یورینیئم کے ذخائر کو مناسب طریقے سے غیر مؤثر بنایا جائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’حساس مواد کو یا تو ایران سے باہر منتقل کیا جائے یا اسے کمزور کیا جائے اور پھر اسے مکمل طور پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں رکھا جائے۔‘

    دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے تین روز قبل امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ’ایران نے اصفہان جوہری تنصیب میں موجود بعض سرنگوں کو تباہ کر دیا ہے اور اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیئم تک ممکنہ امریکی رسائی روکنے کے لیے سرنگوں کے داخلی راستوں کو بارودی مواد سے بند کر دیا ہے۔‘

    رپورٹ کے مطابق ان اقدامات کے باعث ان مواد تک رسائی مزید مشکل اور خطرناک ہو گئی ہے۔

    تاہم ایران اور امریکہ کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    ایران کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط کے بعد اس کے جوہری پروگرام اور یورینیئم ذخائر سے متعلق مذاکرات دوسرے مرحلے میں داخل ہوں گے۔