’پنکی‘ بین الصوبائی نیٹ ورک چلا رہی تھی جو لاہور سے کراچی تک منشیات کی ترسیل اور فروخت میں ملوث تھا: پولیس, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی پولیس کی جانب سے عدالت میں کوکین اور دیگر مہلک منشیات کی مبینہ سپلائر انمول عرف پنکی نامی خاتون کے خلاف جمع کروائے گئے عبوری چالان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزمہ ایک منظم بین الصوبائی منشیات نیٹ ورک چلا رہی تھی، جس کے ذریعے لاہور سے کراچی تک کوکین اور دیگر منشیات کی ترسیل اور فروخت کی جاتی تھی۔
پیر کے روز جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیے گئے چالان کے مطابق 12 مئی 2026 کی رات گارڈن کے علاقے میں ایک خفیہ اطلاع پر پولیس نے ایک فلیٹ پر چھاپہ مارا جہاں سے ایک کلو 240 گرام کوکین، 300 گرام کوکین سے بھرے کیپسول، مختلف کیمیکلز، منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والا سامان، موبائل فونز، یو ایس بیز، اے ٹی ایم کارڈز اور ایک نائن ایم ایم پستول برآمد کیا گیا۔
تفتیشی افسر کے مطابق برآمد ہونے والے سامان سے اس شک کو تقویت ملی کہ یہ فلیٹ صرف رہائش کے لیے نہیں بلکہ منشیات کی تیاری، پیکجنگ اور ترسیل کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
چالان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزمہ گذشتہ 16 سے 17 سال سے منشیات کے کاروبار سے وابستہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمہ نے منشیات کی تیاری اور کاروبار کے طریقے اپنے سابق شوہر رانا ناصر سے سیکھے، جو خود بھی منشیات کے کاروبار میں ملوث بتایا جاتا ہے اور بعد ازاں ملزمہ نے اپنا الگ نیٹ ورک قائم کر لیا۔
تفتیشی رپورٹ کے مطابق ملزمہ کراچی کے پوش علاقوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، سکولوں اور ڈانس پارٹیوں میں اپنے کارندوں کے ذریعے منشیات فروخت کرتی تھی۔
عبوری چالان میں پولیس کے جانب سے بتایا گیا ہے کہ ابتدا میں لاہور سے کراچی منشیات پہنچانے کے لیے لوکل بسوں کا استعمال کیا جاتا تھا اور صابرہ نامی خاتون کھانے پینے کی اشیا میں کوکین چھپا کر کراچی پہنچاتی تھی۔ چالان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہر چکر کے عوض صابرہ پچاس ہزار روپے وصول کرتی تھی بعد ازاں دیگر خواتین کو بھی اسی مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
چالان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حمیرا نامی ایک اور خاتون لاہور سے کراچی منشیات پہنچانے کے عوض فی پھیرا پچاس ہزار روپے وصول کرتی تھی جبکہ امیکا عرف اینا نامی خاتون ساٹھ ہزار روپے اس ہی کام کے وصول کرتی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اے این ایف میں مقدمے کے بعد جب ملزمہ انمول عرف پنکی کے اکاونٹس منجمند کر دیے گئے تو انھوں نے صابرہ کے نام سے اکاونٹ کھولے۔ چالان کے مطابق گرفتاری کے وقت صابرہ کے نام کی چیک بک بھی برآمد ہوئی۔
تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ کے موبائل فون کے فرانزک معائنے میں متعدد افراد کے ساتھ رابطوں کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
پولیس کے مطابق ان افراد سے متعلق چیٹس، رابطوں اور رقم کی ادائیگیوں کے شواہد ملزمہ کے موبائل فون سے حاصل کیے گئے۔
تفتیشکاروں کا کہنا ہے کہ کراچی میں منشیات کی تقسیم کے لیے تین رائیڈرز کام کر رہے تھے۔ چالان میں ان کے نام اعزاز، عاقب اور حمزہ درج کیے گئے ہیں۔
چالان کے مطابق مالی لین دین کی تحقیقات کے دوران عدالت کی اجازت سے مختلف بینکوں، موبائل بینکنگ ایپ، ایف آئی اے اور دیگر اداروں کو خطوط ارسال کیے گئے تاکہ مبینہ منشیات کے کاروبار سے حاصل ہونے والی رقم کی ترسیل کا ریکارڈ حاصل کیا جا سکے۔
عدالت میں جمع کروائے گئے چالان میں پولیس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اب تک حاصل ہونے والے شواہد، فرانزک مواد، موبائل فونز کے ڈیٹا، گواہوں کے بیانات، برآمدگی اور ملزمان کے مبینہ روابط اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملزمہ ایک بین الصوبائی منشیات نیٹ ورک چلا رہی تھی۔ اس ہی بنیاد پر تفتیشی افسر نے عدالت عبوری چالان قبول کرنے کی استدعا کی ہے تاکہ باقی شواہد موصول ہونے کے بعد حتمی چالان پیش کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ عدالت 20 جون کو اس کا فیصلہ کرے گی۔












