لائیو, معاہدے پر سب دستخط ہو چکے ہیں اور یہ مکمل ہو چکا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ مجھے یہ کہتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے۔ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، معاہدہ مکمل ہو چکا ہے۔‘ تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے پر باقاعدہ دستخط کی تقریب جمعے کوسوئٹزرلینڈ میں ہوگی جس میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف بھی موجود ہوں گے۔

خلاصہ

  • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے پر دستخط کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف بھی موجود ہوں گے
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد بحری جہاز آبنائے ہرمز سے روانہ ہونا شروع ہو گئے ہیں۔‘
  • امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے: شہباز شریف
  • امریکہ، ایران امن معاہدے پر دستخط کرنے کی باضابطہ تقریب 19 جون (جمعہ) کو سوئٹزر لینڈ میں ہو گی: شہباز شریف
  • صدر ٹرمپ نے امن معاہدہ طے پا جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی منظوری بھی دے دی ہے
  • ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی سرکاری میڈیا پر امن معاہدہ طے پانے کی تصدیق کر دی ہے

لائیو کوریج

  1. برطانوی وزیرِ اعظم نے امن معاہدے کو ’نہایت اہم پیش رفت‘ قرار دیا ہے

    سٹارمر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر نے ایران کے ساتھ امن معاہدے کی خبر پر ردِعمل دیتے ہوئے اسے ’جنگ کے خاتمے، علاقائی استحکام کے قیام اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی جانب ایک نہایت اہم پیش رفت‘ قرار دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں صدر ٹرمپ، پاکستان اور قطر سمیت دیگر ممالک کے ثالثوں کو اس اہم پیش رفت میں کردار ادا کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ہم طویل عرصے سے کشیدگی میں کمی کے خواہاں تھے اور یہ وہ پیش رفت ہے جس کی ہمیں امید تھی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم واضح کرتے ہیں کہ اب آبنائے ہرمز میں بلامعاوضہ اور آزادانہ جہاز رانی کی بحالی ناگزیر ہے، تاکہ گذشتہ کئی ماہ سے برطانیہ اور دنیا بھر پر پڑنے والے شدید معاشی اثرات میں کمی آ سکے۔‘

    سر کیئر سٹارمر کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس عمل کی حمایت جاری رکھیں گے، جس میں ضرورت پڑنے پر دفاعی اور خودمختار کثیرالجہتی مشن کا قیام بھی شامل ہو سکتا ہے، جس کی منصوبہ بندی میں برطانیہ اور فرانس اب تک قائدانہ کردار ادا کرتے رہے ہیں، خصوصاً بارودی سرنگوں کی صفائی کے حوالے سے متفقہ تعاون فراہم کرنے کے لیے۔‘

    انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’پائیدار امن کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ کیے گئے وعدے، بالخصوص ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق، مضبوط، قابلِ تصدیق اور مکمل طور پر نافذ العمل ہوں۔ برطانیہ کا مؤقف مستقل اور واضح ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیا جانا چاہیے۔‘

  2. قطری وزیر اعظم کا پاکستان کا شکریہ: ’تمام فریق آئندہ مذاکرات میں مثبت اور تعمیری جذبے کے ساتھ شریک ہوں‘

    قطر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قطر کے وزیرِ اعظم نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اپنے بھائیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم اس بات کے منتظر ہیں کہ تمام فریق آئندہ مذاکرات میں مثبت اور تعمیری جذبے کے ساتھ شریک ہوں، تاکہ اس پیش رفت کو مستحکم کیا جا سکے اور اسے آگے بڑھایا جا سکے۔‘

  3. جے ڈی وینس معاہدے پر دستخط کے لیے سوئٹزر لینڈ جا سکتے ہیں: اے ایف پی

    وینس

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس 19 جون کو جنیوا میں امن معاہدے کی دستخطی تقریب میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس موقع پر موجود ہو سکتے ہیں۔

    گذشتہ چند دنوں کے دوران امریکی میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا تھا کہ معاہدے پر بالمشافہ دستخط کے لیے جے ڈی وینس سوئٹزر لینڈ جا سکتے ہیں۔

  4. تجزیہ: معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں, انتھونی زرچر، نامہ نگار برائے شمالی امریکہ

    ایران کے ساتھ امن معاہدے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک غیر متوقع مگر خوش آئند سالگرہ کا تحفہ ثابت ہوا ہے، تاہم اس کے ساتھ غیر یقینی صورتحال بھی موجود ہے۔

    یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا یوم پیدائش 14 جون ہے۔

    اس معاہدے کے حوالے سے اپنے سوشل میڈیا بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھول دیا جائے گا اور امریکہ بھی اپنی بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔

    صدر ٹرمپ نے جوش و خروش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’لِیٹ دی آئل فلو‘ یعنی تیل کی آزادانہ نقل و حمل جاری رہنے دو!

    تاہم اس کے علاوہ اس معاہدے کی دیگر تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں۔

    بظاہر ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل، جو کہ صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کی بنیادی وجہ تھا، اب بھی مزید مذاکرات کا متقاضی ہے۔

    گذشتہ کئی دہائیوں سے ایران کو اس کے جوہری عزائم ترک کرنے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کے باوجود یہ بات واضح ہے کہ حتیٰ کہ اگر کسی مفاہمتی یادداشت کے تحت سفارتی مذاکرات کا فریم ورک طے بھی پا جائے، تو پیش رفت کی کوئی یقینی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

    تاہم کم از کم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ امن معاہدہ جاری تنازع کے باعث عالمی معیشت پر پڑنے والے دباؤ کو اگرچہ مکمل طور پر ختم نہیں کر پائے گا تاہم کسی حد تک اسے کم کرنے میں ضرور مدد دے گا۔

    اس کے ساتھ ساتھ یہ پیش رفت صدر ٹرمپ پر بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ میں بھی کچھ کمی لا سکتی ہے۔

    یہ معاہدہ حالات کو کسی حد تک جنگ سے قبل کی حالت کی طرف واپس لے جانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، اگرچہ صدر ٹرمپ کے بڑے اہداف فی الحال حاصل ہوتے نظر نہیں آتے۔

  5. صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کی تصدیق کر دی

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے امن معاہدہ طے پا جانے کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اِس کی تصدیق کر دی ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر اُن کا کہنا ہے کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میں آبنائے ہرمز کی بغیر کسی فیس (کی ادائیگی) کے فوری طور پر کھولنے کی مکمل اجازت دیتا ہوں، اور اِسی کے ساتھ امریکہ کی جانب سے (ایران کی) بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی بھی منظوری دیتا ہوں۔‘

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’دنیا بھر کے جہاز، اپنے انجن سٹارٹ کر دیں۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’لِیٹ دی آئل فلو۔‘ (یعنی تیل کی فراہمی جاری رہنے دو)

  6. ایران کی جانب سے بھی امن معاہدہ طے پانے کی تصدیق: ’ایران کے خلاف امریکی ناکہ بندی آج رات ختم کر دی جائے گی، کاظم غریب آبادی

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ملک کے سرکاری ٹی وی پر ایک ٹیلیفونک گفتگو میں اِس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس پر دستخط کی باضابطہ تقریب جمعہ (19 جون) کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔

    انھوں نے کہا کہ ’آج رات مختلف محاذوں پر، جن میں لبنان بھی شامل ہے، جنگ اور فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا جائے گا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف عائد بحری ناکہ بندی بھی آج رات ختم کر دی جائے گی۔

  7. امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا، دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی: پاکستان

    شہباز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔

    اب سے کچھ دیر قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ اعلان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر کیا ہے۔

    اپنی پوسٹ میں اُن کا کہنا ہے کہ ’ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ دونوں فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل طور پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس امن معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون بروز جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔‘

    وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ ’اس موقع پر ہم امریکہ اور ایران کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انھوں نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کے عزم کا مظاہرہ کیا۔ ہم اس ثالثی عمل میں اپنے برادر ملک قطر کی قیادت کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں، جن کی معاونت اس معاہدے تک پہنچنے میں نہایت اہم رہی۔‘

    ’ہم بالخصوص مملکتِ سعودی عرب اور ترکی کی قیادت کے بھی شکر گزار ہیں جنھوں نے اس حوالے سے غیر معمولی کردار ادا کیا۔‘

    وزیر اعظم نے کہا کہ ’اب معاہدہ طے پانے کے بعد ثالثی ٹیمیں آئندہ ہفتے کے دوران متعدد اجلاسوں کا انعقاد کریں گی۔ یہ مشاورتی عمل ٹیکنیکل مذاکرات اور پھر باضابطہ دستخط کی تقریب کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔‘

  8. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔