لائیو, معاہدے پر سب دستخط ہو چکے ہیں اور یہ مکمل ہو چکا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ مجھے یہ کہتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے۔ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، معاہدہ مکمل ہو چکا ہے۔‘ تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے پر باقاعدہ دستخط کی تقریب جمعے کوسوئٹزرلینڈ میں ہوگی جس میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف بھی موجود ہوں گے۔

خلاصہ

  • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے پر دستخط کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف بھی موجود ہوں گے
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد بحری جہاز آبنائے ہرمز سے روانہ ہونا شروع ہو گئے ہیں۔‘
  • امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے: شہباز شریف
  • امریکہ، ایران امن معاہدے پر دستخط کرنے کی باضابطہ تقریب 19 جون (جمعہ) کو سوئٹزر لینڈ میں ہو گی: شہباز شریف
  • صدر ٹرمپ نے امن معاہدہ طے پا جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی منظوری بھی دے دی ہے
  • ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی سرکاری میڈیا پر امن معاہدہ طے پانے کی تصدیق کر دی ہے

لائیو کوریج

  1. مردان میں پاکستان فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ، دونوں پائلٹ ہلاک, بلال احمد، بی بی سی پشاور

    مردان

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع مردان کے علاقے کاٹلنگ روڈ پر پاکستان فضائیہ کا ایک تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے۔ اس حادثے میں طیارے میں سوار دونوں پائلٹ ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ طیارہ معمول کی تربیتی پرواز پر تھا جب وہ حادثے کا شکار ہوا۔

    آئی ایس پی آر نے اس حادثے میں ہلاک ہونے والے افسران کی شناخت پاکستان فضائیہ کے فلائیٹ لیفٹننٹ محمد قاسم عبداللہ اور پاکستان بحریہ کے لیفٹننٹ طحہ عباسی کے نام سے کی ہے۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی کے مطابق جہاز کاٹلنگ روڈ پر جبر نہر کے قریب صبح کے وقت حادثے کا شکار ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ ریسکیو 1122 کو اطلاع ملتے ہی فائر وہیکل اور دیگر عملہ فورا جائے حادثہ پر پہنچا۔ ان کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو مردان میڈیکل کمپلیکس منتقل کردیا گیا ہے۔

    ڈی ایس پی کاٹلنگ عجب خان نے بھی بی بی سی کو تربیتی طیارہ مردان کے جبر تھانہ کی حدود میں گر کر تباہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    اس حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہے جس میں صبح آٹھ بج کر 13 منٹ پر معمول کے مطابق جبر نہر کے علاقے میں ٹریفک رواں تھی کہ اچانک جہاز آ گرا اور آگ کے شعلے بلند ہو گئے۔

  2. امریکہ، ایران معاہدے کے اعلان کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں 2800 پوائنٹس کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    سٹاک ایکسچینج

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے اعلان کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار میں تیزی کا رجحان دیکھا گیا اور کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 2800 پوائنٹس اضافے کے بعد 175183 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

    پیر کے روز جب کاروبار آغاز ہوا تو انڈیکس میں 4500 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد انڈیکس 176814 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا تھا جو بعد ازاں 1700 پوائنٹس نیچے آگیا۔

    سٹاک ایکسچینج کے تجزیہ کاروں کے مطابق انڈیکس میں اضافے کی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی ہے جس کا پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار پر مثبت اثر مرتب ہوا۔

    تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر پاکستان سٹاک تیزی کی توقع تھی اس لیے جیسے ہی معاہدے کا اعلان ہوا اور تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی تو اس کا مثبت ردعمل سٹاک ایکسچینج میں کاروبار پر دیکھا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ بجٹ میں سپر ٹیکس پر ریلیف کا بھی مارکیٹ میں مثبت اثر پڑا ہے۔ جبران سرفراز کا مزید کہنا ہے کہ بجٹ مجموعی طور پر مثبت رہا اس لیے مارکیٹ نے اس پر مثبت ردعمل دیا ہے۔

  3. تجزیہ: ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والا معاہدہ اہم ہے لیکن یہ صرف آغاز ہے, گیری او ڈونو، چیف نامہ نگار برائی شمالی امریکہ

    یہ معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک اہم لمحہ ہے — وہ اتوار کو اپنی 80ویں سالگرہ کے ساتھ ساتھ ایک بڑی سفارتی پیش رفت کا جشن بھی منا رہے ہیں۔

    کئی مرتبہ امیدیں ٹوٹنے کے بعد اب ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کم از کم ایک بات پر متفق ہیں — کہ ایک مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ اگرچہ دونوں دارالحکومتیں اس معاہدے کے اُن پہلوؤں کو اجاگر کر رہی ہیں جو ان کے نزدیک زیادہ قابلِ قبول ہیں۔

    ایک اور نمایاں نکتہ یہ ہے کہ دونوں فریقوں کی جانب سے مہیا کی گئی تفصیلات میں لبنان کا ذکر شامل ہے۔ حالانکہ اسرائیل اور حزب اللہ اس معاہدے کے فریق نہیں اس کے باوجود اس بات کا خدشہ ہے کہ آیا وہ معاہدے پر آمادہ ہوں گے یا نہیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ یہ معاہدہ — اگرچہ اہم ہے — صرف ایک آغاز ہے۔

    یہ 60 دن کے ایسے مرحلے کا آغاز کرے گا جس کے دوران امریکہ اور ایران کو اس بات پر اتفاق کرنا ہو گا کہ ایران کے جوہری مواد کو کیسے تلف اور منتقل کیا جائے۔ یہ مرحلہ بڑی آسانی سے تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔

    آبناۓ ہرمز کے معاملے پر بھی ابھی تک اختلاف پایا جاتا ہے، جبکہ پابندیوں کے خاتمے اور ایرانی اثاثوں کو غیر منجمد کرنے کے متعلق تفصیلات پر بھی دونوں فریقوں کے مؤقف میں ہم آہنگی نہیں۔

    ان میں سے بہت سے سوالات اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک مکمل اور حتمی متن منظرِ عام پر نہیں آ جاتا۔

    تاہم ایک بات واضح ہے: ٹرمپ کی جانب سے ایرانی عوام کو دی گئی یقین دہانی کہ ’مدد آ رہی ہے‘ اور یہ کہ امریکی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد حکومت ان کے ہاتھ میں آ جائے گی، فی الحال ممکن ہوتی نظر نہیں آتی۔

  4. ایران، امریکہ معاہدے کو مستحکم کرنے کی ہر کوشش کی حمایت کے لیے تیار ہیں: پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار

    ڈار

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’یہ اہم پیش رفت مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت اور دوست ممالک کے اس اجتماعی عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ محاذ آرائی کے بجائے بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ یہ عالمی منڈیوں اور عالمی معیشت بالخصوص ان ترقی پذیر ممالک کو اعتماد اور استحکام فراہم کرے گا جو علاقائی عدم استحکام سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

    ایکس پر جاری پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ اس تمام عرصے کے دوران پاکستان تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں رہا اور مسلسل ضبط و تحمل اور تعمیری مذاکرات کی حمایت کرتا رہا۔

    اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کی قیادت کی جانب سے پاکستان پر کیے گئے اعتماد کو سراہتا ہے۔

    انھوں نے مسئلے کے پُرامن اور سفارتی حل کے لیے ایران اور امریکہ کے عزم کی بھی تعریف کی۔

    ’ہم اپنے برادر ممالک بشمول سعودی عرب، قطر، ترکی، مصر اور دیگر کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ اور اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کی حمایت اور مخلصانہ سفارتی کوششوں پر بھی شکر گزار ہیں، جو اس تمام عمل کے دوران قریبی رابطے میں رہے اور اس اہم سنگِ میل کے حصول میں مددگار ثابت ہوئے۔‘

    اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ زیرِ التوا معاملات پر مذاکرات کے دوران پاکستان اس معاہدے کو مستحکم کرنے کی ہر کوشش کی حمایت کے لیے تیار ہے۔

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مثبت پیش رفت پائیدار امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کی راہ ہموار کرے گی۔

  5. فرانس میں جی-سیون اجلاس کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ زیرِ بحث آنے کا امکان

    آج فرانس میں جی-سیون ممالک کا اجلاس ہو رہا ہے جہاں دیگر معاملات کے علاوہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے ہونے والا معاہدہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔

    اگرچہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان معاہدے پر دستخط جمعہ کے روز متوقع ہیں، جی-سیون ارکان کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ سے اس معاہدے بالخصوص آبنائے ہرمز سے کھولے جانے کے متعلق پوچھے جانے کا امکان ہے۔

    اس سے قبل فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے کہا ہے کہ اجلاس کے دوران نئے معاہدے کے تحت لبنان کی حمایت کا معاملہ بھی اٹھایا جائے گا۔

    اس سال کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل دیگر موضوعات میں روس کے ساتھ جنگ ​​کے دوران یوکرین کی حمایت اور مصنوعی ذہانت میں اضافہ شامل ہے۔

  6. ایران کے ساتھ معاہدہ آئندہ 50 برسوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ کو ’بالکل بدل کر رکھ سکتا ہے‘: جے ڈی وینس

    جے ڈی وینس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اتوار کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ ’آئندہ 50 برسوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ کو ’بالکل بدل کر رکھ سکتا ہے‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ کہ ’یہ خطہ میری پوری زندگی کے دوران اور اس سے پہلے سے بھی مسائل کا شکار رہا ہے۔‘

    وینس کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ’ایران کے خطرے کو ختم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔‘

    امریکی نائب صدر کا کہنا ہے کہ اب ’مشرقِ وسطیٰ میں خوشحالی اور کامیابی کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھنا ممکن ہو گا۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ہم اس خطے سے امریکی عوام کے لیے بھی خاصی خوشحالی پیدا کر سکتے ہیں۔

  7. تہران اور واشنگٹن کے درمیان معاہدے کے اعلان کے بعد ایرانی فٹبال ٹیم اپنے افتتاحی میچ کے لیے لاس اینجلس پہنچ گئی

    ایرانی فٹبال ٹیم

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ایران کی فٹ بال ٹیم فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے امریکہ پہنچ گئی ہے۔ ایرانی ٹیم اس وقت لاس اینجلس ایئرپورٹ پر اتری جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کے معاہدے کا اعلان کیا گیا۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ ایرانی ٹیم کے نیوزی لینڈ کے خلاف لاس اینجلس میں اس کے افتتاحی ورلڈ کپ میچ سے صرف ایک روز قبل طے پایا ہے۔ اس سے مزید کشیدگی کے خدشات تو کم ہوئے ہیں تاہم ٹیم کے حوالے سے پائے جانے والے تنازعات اب بھی موجود ہیں۔

    ایرانی فٹبال ٹیم کے سٹرائیکر مہدی طارمی نے بی بی سی کو بتایا کہ جاری کشیدگی نے ٹیم کی آمد کے لمحے سے ہی ٹورنامنٹ کو متاثر کیا ہے۔

    تیاریوں میں بھی خلل پڑا ہے۔

    ایرانی ٹیم کو ویزا مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور اسے اپنا ورلڈ کپ بیس کیمپ میکسیکو منتقل کرنا پڑا۔

    جب ایرانی ٹیم لاس اینجلس میں میدان میں اترے گی تو شہر میں مقیم ایرانیوں کی بڑی تعداد میچ دیکھنے کے لیے موجود نہیں ہو گی۔

    کچھ افراد فیفا کی جانب سے ایران کے اسلامی انقلاب سے قبل کے ’شیر و خورشید‘ کے پرچم پر پابندی کے خلاف احتجاج کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جبکہ دیگر اس ٹیم کو ایک ایسے نظام کی نمائندہ سمجھتے ہیں جسے وہ ختم ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

    کھلاڑیوں کا اصرار ہے کہ وہ یہاں ایرانیوں کو متحد کرنے اور فٹ بال پر توجہ مرکوز رکھنے کے لیے آئے ہیں۔

    لیکن اس ٹیم کے لیے سیاست سے بچنا ممکن نہیں رہا۔

  8. ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟, غنچے حبیبی آزاد، سینیئر رپورٹر، بی بی سی فارسی

    ایران جوہری پروگرام

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ایران کا جوہری پروگرام کئی دہائیوں سے سفارتی مذاکرات، پابندیوں اور معائنوں کا مرکز رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اکثر اسے امریکہ کی جانب سے فروری کے اواخر میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کی بنیادی وجہ کے طور پر پیش کرتے آئے ہیں۔

    ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا پروگرام پُرامن ہے۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل مسلسل اس دعوے کو مسترد کرتے آئے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔

    2015 میں طے پانے والے ایک جوہری معاہدے کے تحت ایران نے یورینیم کی افزودگی کی سطح 3.67 فیصد تک محدود کر دی تھی۔ افزودگی کی یہ سطح جوہری بجلی گھروں کے لیے ایندھن بنانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ تاہم ہتھیاروں کے لیے یورینیم کو 90 فیصد یا اس سے زیادہ افزودہ کرنا پڑتا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2018 میں اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد ایران نے کھلے عام یورینیم کی افزودگی کی سطح میں اضافہ شروع کر دیا۔

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مطابق گذشتہ سال جون تک ایران 60 فیصد تک افزودگی کر رہا تھا اور اس نے 400 کلوگرام یورینیم کا ذخیرہ جمع کر لیا تھا۔

    آئی اے ای اے نے گذشتہ ہفتے کہا کہ وہ حال ہی میں بوشہر جوہری پاور پلانٹ پر ’معمول کا معائنہ‘ کرنے میں کامیاب رہی، تاہم دیگر جوہری تنصیبات تک معائنہ کاروں کی رسائی کو تقریباً ایک سال گزر چکا تھا۔

  9. مزید عالمی رہنماؤں کا امریکہ‑ایران معاہدے کا خیرمقدم

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے کہ ’امریکہ اور ایران ایک امن معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔‘

    انتونیو گوتریس کے ترجمان کے مطابق، ’یہ تنازع کے پُرامن حل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔‘

    جاپان کی وزیرِ اعظم سانی تکائیچی نے بھی اس معاہدے کو سراہا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ جاپان کو امید ہے کہ ’آبناۓ ہرمز کے ذریعے آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی کو عملی طور پر یقینی بنایا جائے گا، اور ایران کے جوہری مسئلے اور دیگر معاملات پر جلد از جلد حتمی معاہدہ طے پا جائے گا۔‘

    آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے یہ معاہدہ ’پائیدار اور دیرپا امن‘ کا باعث بنے گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ آبنائے پرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی مکمل بحالی میں وقت لگے گا مگر اس اہم تجارتی راستے کی بحالی توانائی کی قیمتوں اور معیشتوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔

    نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ وِنسٹن پیٹرز نے اس معاہدے کو ’اہم اور تعمیری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’کشیدگی کم کرنے اور ایک ایسے خطے میں استحکام کو فروغ دینے کی جانب قدم ہے جو عالمی معاشی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔‘

  10. امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ: ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

    تہران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    • ایران اور امریکہ میں امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور اس پر باضابطہ دستخط سوئٹزرلینڈ میں 19 جون کو ہوں گے۔ ہم اس بارے میں اب تک کیا جانتے ہیں:
    • اتوار اور پیر کی درمیانی شب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔
    • ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ملک کے سرکاری ٹی وی پر ایک ٹیلیفونک گفتگو میں اِس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس پر دستخط کی باضابطہ تقریب جمعہ (19 جون) کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔
    • وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے امن معاہدہ کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اِس کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام جاری کیا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’میں آبنائے ہرمز کی بغیر کسی فیس (کی ادائیگی) کے فوری طور پر کھولنے کی مکمل اجازت دیتا ہوں، اور اِسی کے ساتھ امریکہ کی جانب سے (ایران کی) بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی بھی منظوری دیتا ہوں۔‘
    • خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس 19 جون کو جنیوا میں امن معاہدے کی دستخطی تقریب میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس موقع پر موجود ہو سکتے ہیں۔
    • قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اپنے بھائیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘
    • برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر نے ایران کے ساتھ امن معاہدے کی خبر پر ردِعمل دیتے ہوئے اسے ’جنگ کے خاتمے، علاقائی استحکام کے قیام اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی جانب ایک نہایت اہم پیش رفت‘ قرار دیا ہے۔
    • امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی خبر سامنے آنے کے بعد ایشیائی مارکیٹس میں کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 3.8 فیصد کمی کے بعد 84.02 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے، جبکہ امریکی منڈی میں فروخت ہونے والا تیل 4.1 فیصد کمی کے ساتھ 81.40 ڈالر فی بیرل تک گِر گیا ہے۔
  11. عالمی تیل کے ذخائر فوری طور پر بحال نہیں ہوں گے, ڈیوڈ واڈل، بی بی سی

    تیل ٹینکر

    ،تصویر کا ذریعہHindustan Times via Getty Images

    عالمی تیل کے ذخائر کو بحال ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔

    اگرچہ کچھ آئل ٹینکرز پہلے ہی خلیج کی جانب روانہ ہونے کے لیے تیار ہیں، لیکن کئی شپنگ کمپنیاں ممکنہ طور پر معاہدے پر عملی طور پر عملدرآمد اور کشیدگی میں کمی کے واضح آثار کا انتظار کریں گی۔

    متحدہ عرب امارات کی سرکاری آئل کمپنی ایڈنوک کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مربوط امن معاہدہ ہو جائے تب بھی آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی مکمل ترسیل آئندہ برس کی پہلی یا دوسری سہ ماہی تک بحال نہیں ہو سکے گی۔

    مارچ میں انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے اعلان کیا تھا کہ اس کے رکن ممالک اپنے سٹریٹجک ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کریں گے۔ اس میں سے ایک تہائی سے زیادہ استعمال کیا جا چکا ہے۔

    اگرچہ تیل پیدا کرنے والے ممالک سب سے پہلے عالمی طلب (تقریباً 104 ملین بیرل یومیہ) کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے، تاہم ان ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں کئی ماہ لگیں گے۔

  12. تجزیہ: یہ معاہدہ ایران اور امریکہ کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟, ٹام بیٹ مین، نامہ نگار برائے امریکی محکمہ خارجہ

    یہ معاہدہ ہونا تو طے تھا۔

    پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث امریکہ میں مہنگائی تین برس کی بلند ترین شرح تک پہنچ گئی ہے اور اس کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔

    دوسری جانب طویل المدتی پابندیوں کے بوجھ تلے دبی ایرانی معیشت امریکہ کی جانب سے اس کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے باعث مزید مشکلات کا شکار تھی۔

    دونوں فریقوں کو ایک وقفے کی ضرورت تھی۔

    اس معاہدے کی ترجیح آٹھ اپریل کو ہونے جنگ بندی کی مدت اور دائرہ کار دونوں کو بڑھانا ہے۔ اس معاہدے کے تحت جب تک دونوں فریق مذاکرات جاری رکھتے ہیں اس دوران مزید 60 دن تک جنگ بندی، امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایران کا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلا رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

    ہمیں ابھی اس معاہدے کا مکمل متن موصول نہیں ہوا، مگر گذشتہ ہفتے کے اواخر میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ کی بنیاد پر یہ معاہدہ ان مسائل کو حتمی طور پر حل نہیں کرتا جو بظاہر ٹرمپ کے ابتدائی حملے کا سبب بنے تھے، اور نہ ہی ان عوامل کو جو ایران کے سخت ردعمل کی وجہ بنے۔

    ایسے معاہدہ تک پہنچنے کے لیے جسے ہر فریق اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر سکے، ٹرمپ کو تہران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی پر طویل مدتی (کم از کم 20 سال) کی قابلِ تصدیق پابندی درکار ہے۔

    دوسری جانب ایران کو خوب پر عائد پابندیوں میں نرمی اور اپنے اربوں ڈالر کے منجمد اثاثوں تک رسائی چاہیے۔ تاہم یہ امور ہمیشہ سے بنیادی اختلاف کا باعث رہے ہیں۔

    اگرچہ اس معاہدے میں ان معاملات پر مزید بات چیت کے وعدے شامل ہو سکتے ہیں، تاہم اب تک کی معلومات کے مطابق ان پر بامعنی اتفاق رائے نہیں ہوا ہے۔

    اور اس کے علاوہ اسرائیل اور واشنگٹن میں سخت مؤقف رکھنے والے ریپبلکنز کے ان مطالبات کا تذکرہ کرنا بھی ضروری ہے جو چاہتے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے میں ایران کے روایتی ہتھیاروں کے پروگرام اور خطے میں اس کے مسلح اتحادیوں کی مالی معاونت کو بھی محدود کیا جائے۔

  13. تقریباً 15 گھنٹوں کی مسلسل بات چیت کے بعد معاہدہ طے پایا: ایرانی نائب وزیرِ خارجہ

    کاظم غریب آبادی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ قطر کے ثالثوں نے تہران میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے مسودے پر اتفاق رائے کے لیے ’تقریباً 14 سے 15 گھنٹے طویل مذاکرات‘ کیے۔

    کاظم غریب آبادی نے پیر کے روز ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس مذاکراتی عمل میں بہت وقت لگا۔‘

    ’قطری وفد گذشتہ روز تہران میں موجود تھا تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے متن پر بات چیت کو حتمی شکل دی جا سکے۔‘

    ’تقریباً 14 سے 15 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے، جس کے دوران ہم نے اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے متن میں حتمی ترامیم پیش کیں۔ بالآخر ان ترامیم کو قبول کر لیا گیا اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے متن کو حتمی شکل دے دی گئی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ حتمی معاہدے پر 60 روز کے اندر مذاکرات ہوں گے، جس کے دوران ایران کو ’کئی امور پر بات کرنی ہے‘ اور اس کی اولین ترجیح اس پر عائد تمام پابندیوں کا خاتمہ ہے۔

  14. تجزیہ: ’امن معاہدے‘ کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ جنگ کے ذریعے کیا حاصل کیا جا سکا اور کیا نہیں, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

    امریکی بحریہ

    ،تصویر کا ذریعہU.S. Navy via Getty Images

    آبناۓ ہرمز کو کھولنے کے لیے ہونے والی کوئی بھی پیش رفت نہ صرف عالمی بحری صنعت اور وسیع تر عالمی معیشت بلکہ خود ایران کے لیے بھی خوش آئند ہو گی۔

    ایران بھرپور کوشش کر رہا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ نہ معلوم ہونے دے کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی سے اسے کتنا نقصان پہنچ رہا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ایران کی معیشت کو اس سے بھاری نقصان ہوا ہے۔

    تاہم کسی بھی ’امن معاہدے‘ کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے ذریعے کیا حاصل کیا جا سکا اور کیا نہیں۔

    کیونکہ جنگ سے قبل تک خلیجی تیل، گیس، کھاد، ہیلیم اور دیگر اشیا بغیر کسی روک ٹوک کے آبنائے ہرمز سے گزر رہی تھیں۔ اگر اس معاہدے کے نتیجے میں یہ ترسیل بحال ہو گئی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ اس معاہدے سے صرف جنگ سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا گیا ہے۔

    اصل طویل مدتی امتحان یہ ہو گا کہ آیا جیسا کہ امریکی صدر دعویٰ کرتے ہیں ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے خطرے میں واقعی کمی ہوئی ہے یا نہیں۔

    یا پھر، جیسا کہ کچھ لوگوں کو خدشہ ہے، پاسدارانِ انقلاب کے اندر تقویت پانے والے سخت گیر عناصر خفیہ طور پر ایٹم بم بنانے کی کوششیں تیز کر دیں گے جو ان کے مطابق ایران کے لیے بہترین دفاعی حکمت عملی ہو گی تاکہ دوبارہ اس طرز کے کسی بھی حملے سے بچا جا سکے۔

  15. امریکہ 30 روز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دے گا: ایرانی میڈیا

    ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ معاہدے میں شامل نکات میں سے ایک امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کو 30 دن کے اندر ختم کرنا ہے۔

    امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز بعد تہران نے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا تھا جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس کے بعد امریکی فوج نے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کردی تھی۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس نے 13 اپریل سے شروع ہونے والی ناکہ بندی کے بعد سے نو جہازوں کو ناکارہ بنایا ہے جبکہ 135 کو راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔

  16. امن معاہدے کی خبر کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    تیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی خبر سامنے آنے کے بعد ایشیائی مارکیٹس میں کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    برینٹ کروڈ کی قیمت میں 3.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور اب یہ 84.02 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے، جبکہ امریکی منڈی میں فروخت ہونے والا تیل 4.1 فیصد کمی کے ساتھ 81.40 ڈالر فی بیرل تک گِر گیا۔

    پاکستان کے مطابق اس امن معاہدے پر جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں باضابطہ دستخط کیے جائیں گے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی سوشل میڈیا پر اس معاہدے کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ تیل کی آزادانہ نقل و حمل جاری رہے گی۔

    واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز بند ہو گئی تھی جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

  17. ایرانی سرکاری میڈیا امریکہ کے ساتھ معاہدہ مفاہمت کے کون سے نکات رپورٹ کر رہا ہے؟

    ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ ایسی خبریں نشر کر رہے ہیں جنھیں وہ امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ) کے مسودے کی تفصیلات قرار دے رہے ہیں۔

    تاہم ان نکات کی تاحال باضابطہ طور پر کسی بھی ملک کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

    نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ ایجنسی کے مطابق مجوزہ نکات کچھ یوں ہیں:

    • لبنان سمیت تمام محاذوں پر مستقل جنگ بندی
    • امریکہ کی جانب سے ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا عہد
    • امریکہ کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ
    • 30 دن کے اندر ’ایرانی انتظام‘ کے تحت آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھولا جانا
    • امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایران کی بحالی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے منصوبے فراہم کرنا
    • ایرانی تیل اور توانائی کی مصنوعات پر عائد پابندیوں کا خاتمہ
    • ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کے عزم کی توثیق
    • امریکہ کا خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہ کرنے اور ایران پر نئی پابندیاں عائد نہ کرنے کا وعدہ

    مہر نیوز ایجنسی نے مزید رپورٹ کیا کہ ’حتمی مذاکرات اُس وقت تک شروع نہیں ہوں گے جب تک ایران کے منجمد فنڈز کا کم از کم نصف حصہ جاری نہیں کر دیا جاتا، ایران پر عائد تیل کی پابندیاں معطل نہیں کی جاتیں، اور بحری ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی۔‘

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ حتمی معاہدے کی منظوری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے دی جائے گی۔

  18. ’آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کتنی تیزی سے ہوگی، اس کا اندازہ لگانا فی الحال ممکن نہیں‘, جوناتھن جوزف، بی بی سی بزنس رپورٹر

    ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

    یہ آبی گزرگاہ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم ہے، تنازع سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی۔

    تاہم توقع ہے کہ اس راستے سے ہونے والی تجارت کو ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے پہلے کی سطح پر واپس آنے میں کچھ وقت درکار ہوگا، کیونکہ شپنگ کمپنیاں پہلے اس بات کا یقین کرنا چاہیں گی کہ معاہدہ مؤثر اور پائیدار ہے۔

    دنیا کی بڑی شپنگ کمپنیوں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ اُن کے عملے اور جہازوں کی سلامتی اُن کی اولین ترجیح ہے۔

    ابتدائی طور پر جہازوں کی نقل و حرکت آبنائے ہرمز کی مشرقی سمت میں ہونے کا امکان ہو گا کیونکہ تقریباً 2,000 بحری جہاز، جن پر قریباً 20,000 ملاح سوار ہیں، فروری کے آواخر سے یہاں پھنسے ہوئے ہیں۔

    اس ضمن میں سب سے موزوں مثال 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد بحیرہ احمر کے راستے کی بندش ہے، جس کے بعد بڑی شپنگ کمپنیوں کو اپنی سرگرمیاں دوبارہ بحال کرنے میں تقریباً دو سال کا وقت لگا تھا۔

    تاہم امکان ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی اس سے کہیں زیادہ تیز ہوگی، کیونکہ یہ عالمی تجارت کے لیے زیادہ اہم ہے اور اس کا کوئی متبادل راستہ موجود نہیں۔

    اس کے باوجود یہ ابھی واضح نہیں کہ یہ عمل کتنی جلدی مکمل ہوگا۔

  19. امریکہ، اسرائیل کے پاس شکست تسلیم کرنے اور ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا: خاتم الانبیا فورس, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ایران کی اعلیٰ عسکری کمان، خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز، نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایرانی عوام نے ملک کی مسلح افواج کے ساتھ مل کر اور خطے میں تہران کے حامی گروہوں اور اتحادیوں کے تعاون سے امریکہ اور اسرائیل کو یہ باور کرا دیا ہے کہ ان کے پاس ’شکست تسلیم کرنے اور ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہا۔‘

    خاتم الانبیا فورس کی جانب سے جاری ہونے والا یہ بیان اس بیانیے کے عین مطابق ہے، جو ایران کا سرکاری ٹیلی ویژن اس معاہدے کو ایران کی فتح کے طور پر پیش کرنے کے لیے اختیار کیے ہوئے ہے۔

    اس دوران ایران کے اندر سخت گیر حلقوں کی جانب سے معاہدے کے خلاف تنقید میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

    معاہدے پر تنقید کرنے والوں میں سے بعض نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمان کے سپیکر قالیباف، جو مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے، پر یہ الزام عائد کیا کہ انھوں نے ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مؤقف سے ’غداری‘ کی ہے۔

    اپنی وفات سے چند ہفتے قبل آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنا ’دانشمندانہ‘ فیصلہ نہیں اور نہ ہی ایسا کرنے سے ایران سے مسائل ’حل‘ ہو پائیں گے۔

  20. جمعہ کو معاہدے پر دستخط کے بعد تیل کی آزادانہ نقل و حمل شروع ہو جائے گی: ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہZuffa LLC

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے حوالے سے ایک اور بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے وہ کامیابی حاصل کی ہے جس میں دیگر رہنما ناکام رہے ہیں۔

    انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’یہ عظیم معاہدہ پورے خطے میں امن اور سلامتی لے کر آئے گا۔‘

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’بہت سے (امریکی) صدور نے ایران کے ساتھ امن قائم کرنے کی کوشش کی، مگر مجھ سے پہلے والے تمام (صدرو) ناکام رہے۔ خطے کے رہنماؤں کو پہلی بار ایک ایسا صدر (یعنی ٹرمپ) ملا ہے جو انھیں حقیقی امن حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جمعہ کو معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا تاکہ بارودی سرنگوں کی صفائی کا عمل شروع کیا جا سکے، اور اس کے نتیجے میں خطے اور دنیا کے لیے تیل کی ترسیل دوبارہ بحال ہو جائے گی۔‘