ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟, غنچے حبیبی آزاد، سینیئر رپورٹر، بی بی سی فارسی

،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
ایران کا جوہری پروگرام کئی دہائیوں سے سفارتی مذاکرات، پابندیوں اور معائنوں کا مرکز رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اکثر اسے امریکہ کی جانب سے فروری کے اواخر میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کی بنیادی وجہ کے طور پر پیش کرتے آئے ہیں۔
ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا پروگرام پُرامن ہے۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل مسلسل اس دعوے کو مسترد کرتے آئے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔
2015 میں طے پانے والے ایک جوہری معاہدے کے تحت ایران نے یورینیم کی افزودگی کی سطح 3.67 فیصد تک محدود کر دی تھی۔ افزودگی کی یہ سطح جوہری بجلی گھروں کے لیے ایندھن بنانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ تاہم ہتھیاروں کے لیے یورینیم کو 90 فیصد یا اس سے زیادہ افزودہ کرنا پڑتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2018 میں اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد ایران نے کھلے عام یورینیم کی افزودگی کی سطح میں اضافہ شروع کر دیا۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مطابق گذشتہ سال جون تک ایران 60 فیصد تک افزودگی کر رہا تھا اور اس نے 400 کلوگرام یورینیم کا ذخیرہ جمع کر لیا تھا۔
آئی اے ای اے نے گذشتہ ہفتے کہا کہ وہ حال ہی میں بوشہر جوہری پاور پلانٹ پر ’معمول کا معائنہ‘ کرنے میں کامیاب رہی، تاہم دیگر جوہری تنصیبات تک معائنہ کاروں کی رسائی کو تقریباً ایک سال گزر چکا تھا۔













