جنگ کے بعد ایران میں سزائے موت دیے جانے کی تعداد میں اضافہ کیوں ہوا؟, شاداب حاتمی، بی بی سی مانیٹرنگ

،تصویر کا ذریعہHRANA
ایران میں کئی ماہ کے بد امنی اور جنگ کے بعد کی عدم تحفظ کی صورتحال کے بعد سزائے موت میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حکام ان مقدمات کو قومی سلامتی کے تناظر میں پیش کرتے ہیں، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوامِ متحدہ کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ پھانسیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی جا رہی ہیں اور شہری آزادی محدود ہو رہی ہے۔
یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاست خوف کے ذریعے سیاسی اور سماجی تناؤ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس کی وجہ کیا بیان کی جا رہی ہے؟
16 جون کو جواد زمانی اور ابوالفضل سعیدی کو دی جانے والی سزائے موت، قومی سلامتی سے متعلق مقدمات میں بڑھتی ہوئی پھانسیوں کے سلسلے کی تازہ مثال ہے۔
عدلیہ کے زیرِ انتظام میزان نیوز ایجنسی کے مطابق دونوں افراد کو ’خدا کے خلاف دشمنی (محاربہ)‘ اور ’زمین پر بد عنوانی‘ کے الزامات میں سزا سنائی گئی۔ یہ الزامات ایران کے قانونی نظام میں عموماً سنگین سکیورٹی جرائم کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
دونوں پر شمال مشرقی شہر شاہرود میں مسلح سرگرمیوں، اسلحہ کے استعمال، املاک کو نقصان پہنچانے اور ایک منظم گروہ کا حصہ ہونے کا الزام تھا جسے مبینہ طور پر ’جنوری میں بغاوت کی کوشش‘ سے جوڑا گیا۔ یہ اصطلاح ایرانی حکام رواں سال کے حکومت مخالف احتجاج کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ایرانی حکام احتجاج کے بعد بنائے گئے مقدمات کو ’مسلح گروہوں‘ اور ’بیرونی حمایت یافتہ عدم استحکام کی کوششوں‘ کے خلاف وسیع مہم کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم اس مبینہ نیٹ ورک، اس کے حجم یا ملزمان کی سرگرمیوں کے دائرہ کار کے بارے میں تفصیلی شواہد عوامی سطح پر فراہم نہیں کیے گئے۔
پھانسیوں کی یہ سزائیں کئی ماہ کی بد امنی کے بعد سامنے آئی ہیں، اس تناظر میں سزائے موت ایک سیاسی پیغام بھی ہے کہ ریاست اب بھی مکمل کنٹرول میں ہے۔
کیا یہ خوف کے ذریعے باز رکھنے کا طریقہ ہے؟
انسانی حقوق کے مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سلامتی سے متعلق مقدمات میں سزائے موت کی تعداد بڑھا کر ریاست یہ تاثر مضبوط کرنا چاہتی ہے کہ اختلاف رائے کے سخت نتائج ہوں گے، خاص طور پر جب یہ مسلح مزاحمت یا احتجاجی تشدد سے جڑی ہو۔
اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، وولکر ترک نے 15 جون کو خبردار کیا کہ سال کے آغاز سے اب تک ایران میں کم از کم 40 افراد کو قومی سلامتی سے متعلق الزامات کے تحت سزائے موت دی جا چکی ہے، جن میں 18 مظاہرین بھی شامل ہیں۔
اگرچہ تہران سیاسی جبر کے الزامات کو مسترد کرتا ہے، لیکن پھانسیوں کی رفتار اور حجم نے عالمی سطح پر تشویش کو دوبارہ بڑھا دیا ہے۔ ناروے میں قائم تنظیم ایران ہیومن رائٹس جیسی تنظیموں نے حالیہ برسوں میں پھانسیوں میں نمایاں اضافے کو ریکارڈ کیا ہے۔ یہ پھانسیاں منشیات کے جرائم، قتل اور سلامتی سے متعلق مقدمات میں دی گئیں۔




