یہ معاہدہ ہونا تو طے تھا۔
پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث امریکہ میں مہنگائی تین برس کی بلند ترین شرح تک پہنچ گئی ہے اور اس کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔
دوسری جانب طویل المدتی پابندیوں کے بوجھ تلے دبی ایرانی معیشت امریکہ کی جانب سے اس کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے باعث مزید مشکلات کا شکار تھی۔
دونوں فریقوں کو ایک وقفے کی ضرورت تھی۔
اس معاہدے کی ترجیح آٹھ اپریل کو ہونے جنگ بندی کی مدت اور دائرہ کار دونوں کو بڑھانا ہے۔ اس معاہدے کے تحت جب تک دونوں فریق مذاکرات جاری رکھتے ہیں اس دوران مزید 60 دن تک جنگ بندی، امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایران کا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلا رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
ہمیں ابھی اس معاہدے کا مکمل متن موصول نہیں ہوا، مگر گذشتہ ہفتے کے اواخر میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ کی بنیاد پر یہ معاہدہ ان مسائل کو حتمی طور پر حل نہیں کرتا جو بظاہر ٹرمپ کے ابتدائی حملے کا سبب بنے تھے، اور نہ ہی ان عوامل کو جو ایران کے سخت ردعمل کی وجہ بنے۔
ایسے معاہدہ تک پہنچنے کے لیے جسے ہر فریق اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر سکے، ٹرمپ کو تہران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی پر طویل مدتی (کم از کم 20 سال) کی قابلِ تصدیق پابندی درکار ہے۔
دوسری جانب ایران کو خوب پر عائد پابندیوں میں نرمی اور اپنے اربوں ڈالر کے منجمد اثاثوں تک رسائی چاہیے۔ تاہم یہ امور ہمیشہ سے بنیادی اختلاف کا باعث رہے ہیں۔
اگرچہ اس معاہدے میں ان معاملات پر مزید بات چیت کے وعدے شامل ہو سکتے ہیں، تاہم اب تک کی معلومات کے مطابق ان پر بامعنی اتفاق رائے نہیں ہوا ہے۔
اور اس کے علاوہ اسرائیل اور واشنگٹن میں سخت مؤقف رکھنے والے ریپبلکنز کے ان مطالبات کا تذکرہ کرنا بھی ضروری ہے جو چاہتے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے میں ایران کے روایتی ہتھیاروں کے پروگرام اور خطے میں اس کے مسلح اتحادیوں کی مالی معاونت کو بھی محدود کیا جائے۔