آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

شکستوں سے بچا نہیں جا سکتا لیکن ہار مان لینا ناقابلِ معافی عمل ہے: ٹرمپ کی فتح کے بعد بائیڈن کا پہلا خطاب

امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج کے حوالے سے قوم سے پہلا خطاب کیا اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم ملک میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے نتائج کو قبول کرتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ہم مضبوط ترین معیشت چھوڑ رہے ہیں، ہماری مدت کے مکمل ہونے میں ابھی 74 دن باقی ہیں۔

خلاصہ

  • نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اُٹھائیں گے
  • ٹرمپ کی بطورِ صدر تقریبِ حلف برداری سے قبل امریکی صدارتی انتخاب کے تمام معاملات 17 دسمبر تک طے ہو جائیں گے
  • ٹرمپ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن نے نو منتخب صدر کو ان کی جیت پر مبارکباد دینے کے لیے فون کیا ہے اور انھیں انتظامیہ کی منتقلی پر بات کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا ہے
  • امریکی نائب صدر اور ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کملا ہیرس کا کہنا ہے کہ ’الیکشن کا نتیجہ توقعات کے برعکس آیا مگر اقتدار کی پرامن منتقلی میں شامل رہوں گی‘
  • امریکی صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے موقع پر بِٹ کوائن کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح 75 ہزار ڈالر پر پہنچ گئی ہے

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ نے اپنی آخری انتخابی ریلی میں کملا کو ’بائیں بازو کی بنیاد پرست احمق‘ قرار دیے دیا

    ریپبلکن پارٹی کے امیدور ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کی آخری تقریر میں اپنی حریف کملا ہیرس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں ’بائیں بازو کی بنیاد پرست احمق‘ قرار دیا۔

    امریکی ریاست مشیگن میں تقریر کے دوران ٹرمپ نے اپنے سپورٹرز کو یہ بھی بتایا کہ وہ آج الیکشن جیت جاییں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ ہمارے ملک کی تاریخ میں سیاسی طور پر سب سے بڑی فتح ہو گی۔‘

  2. میں صدر بننے کے لیے تیار ہوں: کملا ہیرس

    امریکہ کے صدارتی الیکشن میں ڈیموکریٹ پارٹی کی امیدوار کملا ہیرس نے کہا ہے کہ وہ ملک کی اگلی صدر بننے کے لیے تیار ہیں۔

    امریکی ریاست پنسلوانیا کے شہر فلاڈیلفیا میں کملا ہیرس نے اپنی انتخابی مہم کی آخری ریلی سے خطاب میں اپنے سپورٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کی جماعت پر امید اور اس بارے میں پرجوش ہیں کہ ہم مل کر اسے ممکن بنا سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ووٹرز کے پاس موقع ہے کہ وہ ’ایک دہائی کی سیاست کا صفحہ پلٹ دیں جو خوف اور تقسیم پر چل رہی ہے۔‘

  3. معیشت، امیگریشن، ٹیکس اور تجارت: امریکی صدارتی امیدواروں کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں میں کیا فرق ہے؟

    کملا ہیرس ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب سے صدارتی دوڑ میں حصّہ لے رہی ہیں جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ہیں۔

  4. امریکی صدارتی انتخاب کا پاکستانی سیاست پر ممکنہ اثر: کیا ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ’دوست‘ عمران خان کو رہائی دلوا سکتے ہیں؟

    امریکہ کے صدارتی انتخاب کا انتظار صرف امریکی عوام ہی نہیں کر رہی بلکہ دنیا بھر کے دیگر ممالک بھی اس بات کے منتظر ہیں کہ آخر وائٹ ہاؤس کا اگلا مکین کون ہو گا؟

    پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے ہی اُتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں لیکن پھر بھی یہاں ہمیشہ ہی امریکی صدارتی انتخاب کو انتہائی اہمیت دی جاتی ہے۔

    اس بار بھی پاکستانی رہنماؤں کی نگاہیں امریکی الیکشن پر جمی ہوئی ہیں اور خصوصاً سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اس میں گہری دلچسپی لیتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔

    عمران خان نے بطور وزیرِ اعظم وائٹ ہاؤس کا دورہ سنہ 2019 میں کیا تھا اور اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر تھے۔ کیمروں کے سامنے دونوں رہنماؤں کی ملاقات انتہائی خوشگوار رہی تھی۔

    اس ملاقات کے دوران اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کے سامنے عمران خان کو ’میرے اچھے دوست‘ کہہ کر بھی مخاطب کیا تھا۔

    سنہ 2020 میں ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدارتی انتخاب میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور جو بائیڈن امریکی صدر بن گئے۔ ان کے صدر بننے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک بار پھر سردمہری نظر آئی اور عمران خان اور بائیڈن کے درمیان کوئی ٹیلیفونک رابطہ تک نہیں ہوا۔

    پھر سنہ 2022 میں عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں وزیرِ اعظم ہاؤس چھوڑنا پڑا اور انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی حکومت گِرانے کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ تھا۔

    لیکن بعد میں ان کے بیانات میں تبدیلی اس وقت نظر آئی جب انھوں نے اس وقت کے فوجی سربراہ قمر جاوید باجوہ کو حکومت گِرانے کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا۔

    سابق وزیرِاعظم گذشتہ برس اگست سے متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور تاحال راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

    پی ٹی آئی کے کچھ رہنما شاید سمجھتے ہیں کہ امریکی صدارتی انتخاب کے بعد ان کی جماعت کے سربراہ کی مشکلات شاید کچھ کم ہوجائیں۔

  5. امریکہ میں امیگریشن، ویزا پالیسی کے حوالے سے کملا بہتر ہوں گی یا ٹرمپ: خدشات اور امیدوں کے بیچ پھنسے پاکستانی کیا سوچ رہے ہیں؟

    امریکہ میں مقیم پاکستانیوں سمیت دوسرے بہت سے ممالک سے تعلق رکھنے والے شہری اس بات سے فکرمند ہیں کہ حکومت میں تبدیلی سے امریکہ کی اُن کے متعلق پالیسی میں کیا تبدیلی آ سکتی ہے۔

    امریکہ میں مقیم لاکھوں پاکستانی یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ آیا ڈونلڈ ٹرمپ یا کملا ہیرس کے صدر بننے سے ویزا اور امیگریشن پالیسی میں کوئی تبدیلی آئے گی۔ بعض یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مستقبل میں کیا وہ اپنے رشتہ داروں کو سپانسر کر کے امریکہ بُلا سکیں گے۔

    کسی بھی امیدوار کو ووٹ دینے سے پہلے وہ اپنے ان تمام سوالوں کے جوابات کی تلاش میں ہیں۔

    سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ پانچ سال میں پاکستان سے تقریبا 33 لاکھ افراد دوسرے ممالک منتقل ہوئے اور ان میں سے امریکہ جانے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

  6. کملا ہیرس یا ڈونلڈ ٹرمپ، پاکستان کے لیے کون بہتر؟

    دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی یہی سوال اٹھایا کہ اگر ٹرمپ دوبارہ جیتے تو پاکستان امریکہ تعلقات پر کیا اثر پڑے گا۔

    یا پھر اگر کملا ہیرس امریکہ کی پہلی خاتون صدر منتخب ہوئیں تو پاکستان کے ساتھ کیسا رویہ رکھیں گی؟

    اس سوال کا جواب دینے کے لیے اہم یہ ہے کہ دو چیزیں سمجھی جائیں۔ ایک تو یہ کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی بنیاد کن عوامل پر ہے اور دونوں امیدواروں کی خارجہ پالیسیوں کے تناظر میں ہم ان عوامل پر کیا اثرات دیکھ سکتے ہیں۔

    امریکہ ہمیشہ سے پاکستان کو سکیورٹی تناظر میں ہی دیکھتا آیا ہے۔ گذشتہ دو دہائیوں سے واشنگٹن میں جب بھی پاکستان کا نام لیا جاتا رہا ہے، عموماً اسے افغانستان کے حوالے سے اہمیت دی گئی ہے۔

    بائیڈن انتظامیہ میں امریکہ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں انڈیا کو کافی زیادہ اہمیت دی گئی جو کہ پاکستان شاید مثبت انداز میں نہیں دیکھتا۔ ادھر پاکستان کے لیے امریکہ معاشی حوالے سے اہم ہے۔

    دوسرا یہ کہ پاکستان کی برآمدات کا تقریباً پانچواں حصہ امریکہ جاتا ہے اور پاکستان کے لیے بیرونی قرضے حاصل کرنے کے لیے آئی ایم ایف جیسے اداروں میں امریکہ کا اہم کردار ہوتا ہے۔

  7. ڈونلڈ ٹرمپ: امریکہ کا ’رنگین ارب پتی‘ ملکی تاریخ کی متنازع سیاسی شخصیت کیسے بنا

    امریکہ کی صدارت کے لیے امیدوار بننے سے کہیں پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کا شمار ملک کے مشہور اور ’رنگین ارب پتی‘ افراد میں ہوتا تھا۔

    ایک زمانے میں، ان کے امریکہ کے صدر بن جانے کو ایک ایسی بات سمجھا جاتا تھا جس پر یقین کرنا مشکل ہو لیکن اب 78 سالہ ٹرمپ تیسری بار صدارتی انتخاب میں حصہ لینے جا رہے ہیں۔

    جب ٹرمپ 2016 میں پہلی بار صدارتی انتخاب لڑ رہے تھے تو ان کے امیدوار بننے کے بارے میں بہت سے سوالات تھے اور ان کی کامیابی کے بارے میں شبہ کی بہت سی وجوہات بھی تھیں۔

    ان کی متنازع انتخابی مہم میں، تارکینِ وطن پر سختی سب سے اہم مسئلہ تھا۔ اس کے علاوہ ان کی بطور ایک مشہور شخصیت زندگی بھی سوالوں میں گھری ہوئی تھی۔

    لیکن انھوں نے تمام پیشگوئیوں کو غلط ثابت کیا اور رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں بے باک مہم کی مدد سے تجربہ کار سیاستدانوں کو پچھاڑ دیا اور پھر ایک قدم آگے بڑھ کر انھوں نے ہلیری کلنٹن کے خلاف صدارتی انتخاب بھی جیت لیا۔

    ان کا پہلا صدارتی دور تنازعات سے بھرپور رہا جس کے باوجود انھوں نے حیران کن طریقے سے سیاسی میدان میں واپسی اختیار کی اور حالیہ مہم انھیں ایک بار پھر امریکہ کے وائٹ ہاوس پہنچا سکتی ہے۔

  8. کملا ہیرس: امریکہ کے صدارتی الیکشن میں پہلی سیاہ فام خاتون امیدوار، جو خود کو محض ’امریکی‘ کہنا پسند کرتی ہیں

    امریکی صدر جو بائیڈن کے دوبارہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے سے انکار کے بعد ایک گھنٹے سے بھی کم وقت لگا ہو گا جب ڈیموکریٹ پارٹی کے کارکنان نے 2024 کے صدارتی انتخابات کے لیے کملا ہیرس کی بطور صدارتی امیدوار حمایت کر دی۔

    امریکہ کی تاریخ کی پہلی خاتون نائب صدر کملا ہیرس نے 22 اگست کی رات ڈیموکریٹک پارٹی کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے صدارتی الیکشن میں پارٹی کی جانب سے نامزدگی باقاعدہ طور پر قبول کی۔

    امریکی نائب صدر کملا ہیرس ملک کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون بننے کی خواہشمند ہیں۔ ان کی مہم لبرل ووٹروں کو دوبارہ متحرک کر رہی ہے۔

    رواں سال اگست میں شکاگو میں ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن( ڈی این سی) سے خطاب کرتے ہوئے کملا ہیرس نے تمام امریکیوں کی قیادت کرنے اور ایک ایسی معیشت بنانے کا عہد کیا جس میں تمام افراد کے لیے مواقع دستیاب ہوں۔

    غزہ جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کا وقت آ گیا ہے۔

    کملا ہیرس امریکہ کی صرف پہلی خاتون نائب صدر ہی نہیں بلکہ ان کے والدین کے جمیکا اور انڈیا سے تعلق کی وجہ سے وہ پہلی سیاہ فام شخصیت بھی ہیں جو امریکہ کے نائب صدر کے عہدے پر فائز رہیں۔

  9. امریکہ میں عوام اپنا صدر کیسے چنتے ہیں؟

    امریکہ میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ آج ہو گی لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس صدارتی انتخاب میں عوام کی جانب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار ضروری نہیں کہ ملک کا نیا صدر بنے۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں صدر کا انتخاب براہِ راست عام ووٹر نہیں کرتے بلکہ یہ کام الیکٹورل کالج کا ہے۔

    الیکٹورل کالج کیا ہے جس کے لیے امریکی ووٹ ڈالتے ہیں اور اس نظام کا انتخاب کیوں کیا گیا؟ کیا کوئی امیدوار عوامی ووٹ کی اکثریت حاصل کر کے بھی صدارت سے محروم رہ سکتا ہے؟

  10. امریکہ کا صدارتی الیکشن 2024: بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    امریکہ میں صدارتی الیکشن کے لیے ووٹنگ کا عمل آج (منگل کے روز) شروع ہو جائے گا، جس میں ریپبلکن پارٹی کے امیدوار اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ جبکہ ڈیموکریٹس کی جانب سے ملک کی موجودہ نائب صدر کملا ہیرس آمنے سامنے ہوں گے۔

    ٹرمپ اور کملا اب سے کچھ دیر میں اپنی آخری انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے۔

    بی بی سی امریکہ کے صدارتی الیکشن کے حوالے سے تازۃ ترین اپ ڈیٹس اپنے قارئین تک پہنچاتا رہے گا۔