آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

شکستوں سے بچا نہیں جا سکتا لیکن ہار مان لینا ناقابلِ معافی عمل ہے: ٹرمپ کی فتح کے بعد بائیڈن کا پہلا خطاب

امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج کے حوالے سے قوم سے پہلا خطاب کیا اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم ملک میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے نتائج کو قبول کرتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ہم مضبوط ترین معیشت چھوڑ رہے ہیں، ہماری مدت کے مکمل ہونے میں ابھی 74 دن باقی ہیں۔

خلاصہ

  • نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اُٹھائیں گے
  • ٹرمپ کی بطورِ صدر تقریبِ حلف برداری سے قبل امریکی صدارتی انتخاب کے تمام معاملات 17 دسمبر تک طے ہو جائیں گے
  • ٹرمپ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن نے نو منتخب صدر کو ان کی جیت پر مبارکباد دینے کے لیے فون کیا ہے اور انھیں انتظامیہ کی منتقلی پر بات کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا ہے
  • امریکی نائب صدر اور ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کملا ہیرس کا کہنا ہے کہ ’الیکشن کا نتیجہ توقعات کے برعکس آیا مگر اقتدار کی پرامن منتقلی میں شامل رہوں گی‘
  • امریکی صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے موقع پر بِٹ کوائن کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح 75 ہزار ڈالر پر پہنچ گئی ہے

لائیو کوریج

  1. امریکی صدارتی انتخاب: اب تک کیا کیا ہوا ہے؟

    ہمیں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں آخری سوئنگ ریاست نیواڈا میں بھی صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ شروع ہو چکی ہے۔

    اب تک امریکہ میں صدارتی انتخاب کے دوران کیا کیا ہوتا رہا ہے:

    • تقریباً تمام ہی امریکی ریاستوں میں اب ووٹنگ شروع ہو چکی ہے۔ الاسکا اور ہوائی میں تقریباً دو گھنٹوں بعد ووٹرز ووٹ ڈالنے کے لیے نکلیں گے۔
    • امریکی ریاستوں میں صداتی انتخاب کے لیے ووٹنگ کا اختتام مختلف اوقات پر ہوگا لیکن ایسٹ کوسٹ میں تمام ہی ریاستوں میں ووٹنگ مقامی وقت کے مطابق 23:00 بجے ختم ہوجائے گی۔ صرف الاسکا اور ہوائی وہ ریاستیں ہیں جہاں پولنگ کا اختتام ایک گھنٹے دیر سے ہوگا۔
    • امریکہ میں صدارتی انتخاب امریکی عوام کے لیے صرف اگلا صدر چُننے کی مشق نہیں بلکہ ووٹرز اپنے ووٹ کے ذریعے دیگر اہم معاملات پر بھی اپنی رائے دیں گے۔ اس صدارتی انتخاب میں ایریزونا اور نیواڈا جیسی سوئنگ ریاستوں سمیت 10 ریاستیں یہ بھی فیصلہ کریں گی کہ خواتین کو اسقاطِ حمل کے حقوق حاصل ہونے چاہییں یا نہیں۔ اس کے علاوہ امریکی سینیٹ کی ایک تہائی یعنی 100 میں سے 34 نشستوں پر بھی الیکشن آج ہی ہو رہے ہیں جہاں فی الحال ڈیموکریٹک پارٹی کو رپبلکن پارٹی پر ایک نشست کی برتری حاصل ہے۔ امریکہ کے ایوانِ نمائندگان کی 435 نشستوں پر انتخابات بھی آج ہی ہو رہے ہیں جہاں اس وقت رپبلکن پارٹی کو ڈیموکریٹک پارٹی پر برتری حاصل ہے۔
    • ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس آج کہاں موجود ہیں؟ ٹرمپ واپس فلوریڈا روانہ ہو چکے ہیں جہاں وہ تھوڑی دیر میں اپنا ووٹ بھی ڈالیں گے۔ دوسری جانب توقع کی جا رہی ہے کہ کملا ہیرس ہاروڈ یونیورسٹی میں الیکشن پارٹی میں شرکت کریں گی۔
  2. امریکی صدارتی انتخاب 2024: واشنگٹن میں پولنگ کے مناظر

    امریکہ میں صدارتی الیکشن کے لیے مختلف ریاستوں میں پولنگ شروع ہو چکی ہے۔

    اس انتخاب میں امریکی شہری کیسے ووٹ کاسٹ کررہے ہیں اور وہاں کیا مناظر ہیں، بی بی سی اردو کی نمائندہ ترہب اصغر دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں موجود ہیں۔

  3. ’کیا آپ کملا ہیرس کے سٹور پر گئے ہیں؟‘: امریکہ میں ڈیموکریٹ اور رپبلکن ووٹرز کیا کہتے ہیں, گوین لوڈر، اوہائیو

    ’کیا آپ اب تک کملا ہیرس کے سٹور پر گئے ہیں؟‘ یہ سوال سنسناٹی کے نواح میں واقع ایک ٹرمپ سٹور پر موجود گاہک کا ہے۔

    انھوں نے اپنے ہی سوال کا جواب دیتے ہوئے ہنستے ہوئے کہا ’آپ نہیں گئے ہوں گے کیونکہ ایسا کوئی سٹور ہے ہی نہیں۔‘

    اس چھوٹے سے مذاق کے پیچھے ایک سنجیدہ سوال موجود ہے: کیا ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ کوئی ایسا دوسرا سیاستدان ہے جس کے نامی کی شرٹس، کیپس اور دیگر اشیا لوگ دُکانوں سے خرید رہے ہوں؟

    امریکی ریاست اوہائیو کا جھکاؤ ہمیشہ ہی رپبلکن پارٹی کی طرف رہا ہے اور یہاں ڈونلڈ ٹرمپ کی تصاویر والی اشیا کی کافی مانگ بھی ہے۔

    لیکن یہ معلوم ہونا ابھی باقی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ سوئنگ ریاستوں میں بھی اتنی مقبولیت رکھتے ہیں یا نہیں؟

    ’ڈونلڈ ٹرمپ بدمعاش ہیں‘

    فرانسس اونیل فلاڈیلفیا کے رہائشی ہیں اور انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس بار کملا ہیرس کے حق میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔

    ماضی میں وہ ڈیموکریٹ اور رپبلکن دونوں ہی پارٹیوں کو ووٹ دیتے آئے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ ایک بدمعاش ہیں، میرے خیال میں کملا ہیرس اچھے کام کروانے کا وعدہ کر رہی ہیں، وہ ایک اچھی خاتون ہیں اور ملک کو بھی اسی کی ضرورت ہے۔‘

  4. فلاڈیلفیا میں پولنگ ایجنٹس کو سٹیشن سے ’غیرقانونی طریقے سے بے دخل‘ کیا گیا: ٹرمپ کمپین, برنڈ ڈیبُسمین جونیئر، فلاڈیلفیا

    ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم چلانے والے عہدیداران نے دعویٰ کیا ہے کہ فلاڈیلفیا میں رپبلکن پارٹی کے چار پولنگ ایجنٹس کو ایک پولنگ سٹیشن میں ’انتخابی عمل میں شامل ہونے سے روکا گیا اور غیرقانونی طور پر بےدخل‘ کیا گیا ہے۔

    ان کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ: ’یہ ایک جُرم ہے، ایسا شفاف اور محفوظ الیکشن کے درمیان نہیں ہونا چاہیے۔‘

    ’یہ عوامی اعتماد کی خلاف ورزی کرنے کے مترادف ہے جس سے فلاڈیلفیا میں الیکشن کی شفافیت کو نقصان پہنچے گا۔‘

    تاہم اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان چار میں سے تین پولنگ ایجنٹس کو بعد میں پولنگ سٹیشن میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

  5. ’ٹرمپ کے خلاف الیکشن فراڈ‘ کی جعلی ویڈیو کے پیچھے ’روسی حمایت یافتہ کردار‘ ہیں: امریکی انٹیلیجنس

    امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ایریزونا میں صدارتی انتخاب میں مبینہ دھاندلی سے متعلق جعلی ویڈیو کے پیچھے ’روسی حمایت یافتہ کرداروں‘ کا ہاتھ ہے۔

    یہ ویڈیو روسی حکومت کے ایک حامی اکاؤنٹ نے ایکس پر پوسٹ کی تھی اور اسے اب تک دو لاکھ سے زیادہ افراد دیکھ چکے ہیں۔ یہ ایکس اکاؤنٹ اب معطل ہو چکا ہے۔

    اس ویڈیو میں ایک نامعلوم شخص اپنا تعارف ایریزونا کے سیکریٹری آف سٹیٹ ایڈرین فونتیز کے سابق ساتھی کے طور پر کروا رہا ہے اور الزام عائد کر رہا ہے کہ اس نے ’ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بڑے فراڈ‘ کے ثبوت دیکھے ہیں۔

    ایڈرین فونتیز ان الزامات کو جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔

    اس ویڈیو میں جو شخص موجود ہے اس کا چہرہ جان بوجھ کر غیرواضح کیا گیا ہے، اس کی آواز بھی کسی روبوٹ جیسی ہے اور گفتگو کے دوران جس طرح سے وہ وقفہ لے رہے ہیں اسے دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ ویڈیو آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی اے آئی کی مدد سے بنائی گئی ہے۔

    یہ ویڈیو ’رشین فاؤنڈیشن ٹو بیٹل اِن جسٹس‘ نامی گروہ نے بنائی ہے جس کا سنگِ بنیاد سنہ 2021 میں رکھا گیا تھا۔

  6. امریکی صدارتی انتخاب: 30 سے زیادہ ریاستوں میں ووٹنگ شروع

    امریکہ میں اگلے صدر کے انتخاب کے لیے اب تک 30 سے زیادہ ریاستوں میں ووٹنگ شروع ہو چکی ہے۔

    جن ریاستوں میں ووٹنگ جاری ہے ان میں آرکنساس، مسیسپی، شمالی ڈکوٹا، الاباما، آئیووا، کنساس، اوکلاہوما، مینیسوٹا، جنوبی ڈکوٹا، ٹیکساس، ایریزونا اور وسکونسن سمیت دیگر ریاستیں شامل ہیں۔

  7. صدر کے انتخاب کے علاوہ امریکی ووٹرز دیگر کن چیزوں کا فیصلہ کریں گے؟

    امریکہ میں صدارتی انتخاب امریکی عوام کے لیے صرف اگلا صدر چُننے کی مشق نہیں بلکہ ووٹرز اپنے ووٹ کے ذریعے دیگر اہم معاملات پر بھی اپنی رائے دیں گے:

    • اس صدارتی انتخاب میں ایریزونا اور نیواڈا جیسی سوئنگ ریاستوں سمیت 10 ریاستیں یہ بھی فیصلہ کریں گی کہ خواتین کو اسقاطِ حمل کے حقوق حاصل ہونے چاہییں یا نہیں۔
    • اس کے علاوہ امریکی سینیٹ کی ایک تہائی یعنی 100 میں سے 34 نشستوں پر بھی الیکشن آج ہی ہو رہے ہیں جہاں فی الحال ڈیموکریٹک پارٹی کو رپبلکن پارٹی پر ایک نشست کی برتری حاصل ہے۔
    • امریکہ کے ایوانِ نمائندگان کی 435 نشستوں پر انتخابات بھی آج ہی ہو رہے ہیں جہاں اس وقت رپبلکن پارٹی کو ڈیموکریٹک پارٹی پر برتری حاصل ہے۔
    • فلوریڈا، نبراسکا، شمالی ڈکوٹا اور جنوبی ڈکوٹا جیسی ریاستوں میں ووٹرز اس بات کا بھی فیصلہ کریں گے کہ انھیں گانجے کے طّبی استعمال کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں۔
  8. امریکی صدارتی انتخاب کے ملک پر کیا اثرات پڑیں گے؟, انتھونی زرچر، نامہ نگار برائے شمالی امریکہ

    اکثر اوقات ہم صدارتی انتخاب سے متعلق سرگرمیوں اور سیاست پر اتنی توجہ دیتے ہیں کہ ہمیں یہ یاد ہی نہیں رہتا کہ یہ الیکشن کتنی اہمیت کا حامل ہے۔

    کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ دو ایسے صدارتی امیدوار ہیں جن کی مختلف معاملات پر سوچ انتہائی مختلف ہے جیسے کہ پناہ گزینوں کی آمد، تجارت، خارجہ امور یا کلچرل مسائل۔

    ان میں سے جو بھی ملک کا صدر منتخب ہوگا وہ اگلے چار برسوں میں امریکی حکومت کے خد وخال کو اپنے اپنے طریقے سے ڈھالنے کی کوشش کرے گا۔ نہ صرف حکومت بلکہ وفاقی عدالتوں پر بھی نئے صدر کا اثر و رسوخ ہوگا اور ان تمام چیزوں سے آنے والی نسلیں بھی متاثر ہوں گی۔

    رپبلکن پارٹی ایک دہائی قبل آج کی رپبلکن پارٹی سے بہت مختلف تھی۔ اس کے حامیوں کی بڑی تعداد متوسط یا غریب طبقے سے تعلق رکھتی تھی۔

    ڈیموکریٹک پارٹی ہمیشہ سے ہی نوجوان اور غیر سفیدفام ووٹرز پر زیادہ انحصار کرتی آئی ہے، لیکن آج ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کا انحصار مالدار طبقے اور کالج سے تعلیم حاصل کرنے والے افراد پر زیادہ ہے۔

    اس انتخاب کا نتیجہ ہمیں یہ بتائے گا کہ امریکی سیاست میں مزید کیا تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ 1970 اور 1980 کی دہائی میں یہی سمجھا جاتا تھا کہ رپبلکن پارٹی کو صدارتی الیکشن جیتنے سے روکنا ناممکن ہے کیونکہ وہ مسلسل کافی ریاستوں میں الیکشن جیت کر وائٹ ہاؤس فتح کرتے آ رہے تھے۔

    لیکن کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان صدارتی انتخاب اب 50:50 معاملہ لگتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ بالکل نہیں کہ اب امریکہ کی سیاست ہمیشہ ایسی ہی رہے گی۔

  9. امریکہ میں ووٹنگ کی ابتدا کے بعد کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے پیغامات

    امریکہ میں صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ شروع ہونے کے بعد کملا ہیرس کا سوشل میڈیا پر ووٹرز کے لیے پہلا پیغام سامنے آ گیا ہے۔

    کملا ہیرس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’امریکہ، اپنے آوازیں سُنانے کا یہی لمحہ ہے۔‘

    ان کے مدِمقابل امیداوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ووٹنگ کی ابتدا کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹ نہیں کیا ہے۔ تاہم تقریباً تین گھنٹے پہلے انھوں نے ٹرُتھ سوشل پر لکھا کہ ’گھر سے باہر نکلنے اور ووٹ کرنے کا وقت آ گیا ہے، ہم امریکہ کو دوبار عظیم بنا سکتے ہیں۔‘

  10. ڈیموکریٹ اور ریپبلکن ووٹرز کی الگ الگ دنیا, سارا سمتھ، ایڈیٹر نارتھ امریکہ

    میں نے اس ملک میں گھوم پھر کر اور ووٹروں سے بات کرتے ہوئے جو چیزیں سیکھی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ امریکہ میں ووٹرز قابل ذکر طور پر منقسم ہی نظر نہیں آتے بلکہ بآسانی ایسا محسوس ہو جاتا ہے جیسے دو الگ الگ قومیں ایک ہی زمین پر مختلف طریقے سے ساتھ رہ رہی ہوں۔

    ڈیموکریٹس ووٹرز بنیادی طور پر شہروں اور مضافات میں رہتے ہیں جبکہ ریپبلکن زیادہ تر دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔

    امریکی تیزی سے ایسی جگہوں پر منتقل ہو رہے ہیں جہاں وہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ایک ہی سیاسی نقطہ نظر شیئر کرسکیں۔

    اور اس وقت ان علاقوں کی نشاندہی کرنا مشکل نہیں ہے۔ اکثر گھر کے باہر لگے نشانات اور تختیاں ٹرمپ اور ہیریس کے علاقوں کی نشاندہی کردیتے ہیں۔

    لیکن ان الگ الگ سیاسی دنیاؤں میں ہمیشہ رہنا ممکن نہیں۔ یہ دونوں فریق الیکشن کی تلخ حقیقت سے ٹکرانے والے ہیں۔

    جتنے بھی تنازعات ہوں، جتنے بھی مقابلے کیے گئے ہوں، فاتح ایک ہی ہو گا۔

    اور جب یہاں کچھ لوگ حتمی نتیجہ دیکھیں گے تو ان کو محسوس ہو گا کہ ان کے لاکھوں امریکی ساتھی ان سے بہت مختلف محسوس کرتے ہیں اور یہ یقیناً ان کے لیے ایک صدمہ ہوگا۔

  11. امریکہ کے اگلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہوں گے یا کملا ہیرس: ہمیں کب تک معلوم ہو پائے گا کہ کون جیتا کون ہارا؟, سیم کیبرل، بی بی سی نیوز، واشنگٹن

    امریکی نائب صدر اور ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس اور رپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے اور کئی ایسی ریاستیں نظر آ رہی ہیں جہاں کسی بھی امیدوار کو واضح برتری حاصل نہیں ہے اور وہاں کسی بھی امیدوار کے بہت کم ووٹوں سے جیتنے کی صورت میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا بھی کافی امکان موجود ہے۔

    چند ریاستوں کی جانب سے 2020 کے صدارتی انتخاب کے بعد سے نتائج مرتب کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلی کی وجہ سے بھی اس بات کا بھی امکان ہے کہ نتائج پہلے سے بھی کہیں زیادہ دیر سے موصول ہوں۔

    نومنتخب صدر پیر 20 جنوری 2025 کو یو ایس کیپیٹل کمپلیکس کے میدان میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ یہ امریکی تاریخ کا 60 واں صدارتی حلف ہو گا۔ اس تقریب کے دوران صدر افتتاحی خطاب بھی کریں گے۔

    تاہم ہمیں کب تک معلوم ہو پائے گا کہ کون جیتا کون ہارا؟ اس کے لیے تفصیلی آرٹیکل بی بی سی اردو پر موجود ہے، پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

  12. امریکہ کا صدارتی انتخاب: ریاست ورمونٹ میں پولنگ شروع

    امریکہ کی شمال مشرقی ریاست ورمونٹ میں پولنگ شروع ہو چکی ہے اور اسی طرح امریکی صدارتی انتخاب کے لیے اگلے چند گھنٹوں میں نیو یارک اور ورجینیا سمیت امریکہ کی مزید ریاستوں میں بھی پولنگ شروع ہو جائے گی۔

    امریکہ کے صدارتی انتخاب کے لیے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ جبکہ ڈیموکریٹس کی جانب سے ملک کی موجودہ نائب صدر کملا ہیرس آمنے سامنے ہوں گے۔

    اس سال امریکہ کے صدارتی انتخاب میں تقریباً 24 کروڑ لوگ ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں، جن میں سے آٹھ کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ لوگ پہلے ہی اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے ہیں لیکن ابھی بھی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جنھوں نے ووٹ ڈالنا ہے۔

  13. سات ’سوئنگ‘ ریاستیں جو امریکی صدر کے انتخاب میں اہم ترین کردار رکھتی ہیں

    اس سال امریکہ کے صدارتی انتخاب میں تقریباً 24 کروڑ لوگ ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں، لیکن ان میں سے ایسے لوگوں کی تعداد نسبتاً کم ہے جو یہ فیصلہ کر سکے گی کہ ملک کا اگلا صدر کون بنے گا۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ میں چند ہی ایسی ریاستیں ہیں جہاں انتخاب میں ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس اور ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین سخت مقابلہ ممکن ہے اور یہی ریاستیں فیصلہ کریں گی ملک کا اگلا صدر کون ہو گا۔

    ان سات ریاستوں میں ایریزونا، جارجیا، مشیگن، نیواڈا، شمالی کیرولینا، پینسلوینیا اور وسکونسن شامل ہیں اور انھیں ’سوئنگ سٹیٹس‘ کہا جاتا ہے جن کے پاس وائٹ ہاؤس کی چابیاں ہیں۔

    دونوں جماعتیں ان ریاستوں میں ایسے غیرفیصلہ کن ووٹروں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جن کا ووٹ ان کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

  14. ہیرس یا ٹرمپ؟ امریکی آج اپنے اگلے صدر کا انتخاب کریں گے, سیم ہین کوک، لائیو پیج ایڈیٹر

    امریکہ میں آج صدارتی الیکشن کا دن ہے اور جلد ہی امریکی شہری اپنے اگلے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔

    آٹھ کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ لوگ پہلے ہی اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے ہیں لیکن ابھی بھی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جنھوں نے ووٹ ڈالنا ہے۔

    یاد رہے کہ سنہ 2022 میں امریکہ میں تقریباً 161 ملین ووٹرز رجسٹر تھے۔

    کملا ہیرس نے سوئنگ ریاست پنسلوانیا میں اپنی آخری ریلی کے دوران کہا کہ وہ اپنی انتخابی مہم کو مثبت خیالی اور خوشی کے ساتھ ختم کرنا چاہتی ہیں۔

    دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی ایک اور سوئنگ ریاست مشیگن میں اپنی انتخابی مہم کا اختتام کیا جہاں انھوں نے کملا ہیرس کو ’بائیں بازو کی بنیاد پرست احمق‘ قرار دیا۔

    اب آگے کیا ہو گا؟ زیادہ تر امریکہ اس وقت سو رہا ہے کیونکہ وہاں رات کا وقت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب کچھ گھنٹے خاموشی رہے گی لیکن پاکستان اور لندن میں موجود بی بی سی کی ٹیم آپ کو تازہ ترین صورتحال کے بارے میں آگاہ کرتی رہے گی۔

  15. وائٹ ہاؤس اور اطراف کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا

    امریکہ کے صدارتی انتخاب میں پولنگ سے قبل وائٹ ہاؤس اور اس کے اطراف کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔

    اس کے پیچھے کیا وجہ ہے؟ جانیے ترہب اصغر کی اس ویڈیو میں۔۔۔

  16. امریکی ریاست نیو ہیمپشائر سے پہلے نتیجے کا اعلان

    امریکی ریاست نیو ہیمپشائر کے ایک چھوٹے سے قصبے ڈکسول نوچ سے پہلا انتخابی نتیجہ موصول ہو گیا ہے، جس کے مطابق کملا ہیرس اور ٹرمپ کے درمیان مقابلہ برابر رہا۔

    ڈکسول نوچ میں مقیم کمیونٹی میں آدھی رات کو ووٹ ڈالنے کی روایت ہے تاہم نتیجے کے مطابق یہاں کملا ہیرس کو صرف تین جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی تین ہی ووٹ پڑے۔

    واضح رہے کہ نیو ہیمپشائر کے باقی حصوں میں پولنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے ہی شروع ہو گا۔

  17. امریکی عوام کی نظر میں اہم ترین مسائل کیا ہیں جن کا حل وہ نئے صدر سے چاہتے ہیں؟

    امریکی صدارتی انتخاب میں ووٹنگ آج ہو رہی ہے لیکن اس الیکشن میں ووٹرز کے لیے اہم ترین مسائل کیا ہیں؟

  18. امریکی صدارتی انتخاب 2024: وہ امریکی ریاست جہاں مشرق وسطیٰ کی جنگ نتیجے کا فیصلہ کر سکتی ہے

    متعدد سروے اور پولز کے مطابق ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس اپنے حریف ڈونلڈ ٹرمپ سے آگے دکھائی دیتی ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے جیتنے کا امکان نہیں۔

    دراصل امریکی الیکشن کا طریقہ کار کافی منفرد ہے۔ امریکی انتخابی نظام یا الیکٹورل سسٹم مجموعی ووٹوں کی تعداد کی بجائے الیکٹورل کالج سسٹم پر منحصر ہے جس میں کل 538 ووٹ ہیں جنھیں تمام ریاستوں میں ان کی آبادی کے تناسب سے بانٹا گیا ہے۔

    امریکی ریاست مشیگن کے الیکٹورل کالج میں 15 ووٹ ہیں اور یہاں عرب نژاد امریکیوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔

  19. امریکی صدر کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے؟

    امریکی صدر دنیا کی طاقتور ترین شخصیات میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔ تو ان کی سالانہ تنخواہ کتنی ہو گی؟

    اس بارے میں دلچسپ معلومات جانیے نادیہ سلیمان کی اس ویڈیو میں۔۔۔

  20. ’سوئنگ ریاستیں ایک امیدوار کے حق میں ووٹ ڈال سکتی ہیں‘, انتھونی زرچر، بی بی سی نامہ نگار

    پولنگ کے بارے میں آپ حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔

    رائے دہندگان اپنے ڈیٹا کو ان مفروضوں کی بنیاد پر ترتیب دیتے ہیں کہ اصل میں کون ووٹ ڈالنے جا رہا ہے، کون گھر میں رہے گا اور یہ کہ جمع کی گئی معلومات کیا ووٹ دینے والے عوام کی درست نمائندگی کرتی ہیں۔

    ان مفروضوں کا نتیجہ ڈرامائی طور پر رائے شماری کے نتائج کو تبدیل کر سکتا ہے اور یہ مفروضے اس بات کو بھی مدنظر نہیں رکھتے کہ رائے شماری میں ’غلطی کا مارجن‘ بہرحال موجود ہوتا ہے۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ کم از کم صرف پولنگ کی بنیاد پر یہ کہنا ناممکن ہوتا ہے کہ کس امیدوار کے جیتنے کا بہتر موقع ہے۔

    اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک بار جب دھول جم جائے گی تو کوئی واضح فاتح نہیں ہو گا کیونکہ تمام سوئنگ ریاستیں ایک امیدوار کے حق میں ووٹ ڈال سکتی ہیں کیونکہ ان ریاستوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے۔