امریکی صدارتی انتخاب میں جن اہم ریاستوں کے پاس ’وائٹ ہاؤس کی چابی ہے‘ وہاں ڈونلڈ ٹرمپ چھ میں سے تین ریاستوں میں آگے ہیں۔ ان ریاستوں میں جارجیا، شمالی کیرولائنا اور پینسلوینیا شامل ہیں۔
خیال رہے کہ ان تینوں ریاستوں کے کل الیکٹورل کالج ووٹ 51 بنتے ہیں۔ پینسلوینیا کے 19، شمالی کیرولائنا کے 16 اور جارجیا کے بھی 16 ووٹ ہیں۔
دوسری جانب کملا ہیرس کو ریاست مشیگن میں برتری حاصل ہے تاہم تاحال یہاں صرف 19 فیصد ووٹ گنے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایریزونا میں بھی ہیرس آگے ہیں اور یہاں آدھے سے زیادہ ووٹ گنے جا چکے ہیں۔ انھیں وسکانسن میں بھی برتری حاصل ہے۔
تاہم اہم بات یہ ہے کہ ان تینوں ریاستوں کے الیکٹورل کالج ووٹوں کی تعداد 36 بنتی ہے۔ مشیگن کے 15، وسکانسن کے 10، جبکہ ایریزونا کے 11 ووٹ ہیں۔ یہ کل ملا کر 36 ووٹ بنتے ہیں۔
نیواڈا بھی ایک اہم ریاست ہے تاہم اس کے کل چھ ووٹ ہیں اور یہاں ووٹوں کی گنتی میں اکثر کئی روز بھی لگ جاتے ہیں۔
ٹرمپ نے سنہ 2016 اور 2020 میں شمالی کیرولائنا میں فتح حاصل کی تھی جبکہ جو بائیڈن نے باقی تمام اہم ریاستوں میں تھوڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی تھی۔
تاحال کسی بھی اہم ریاست میں کسی بھی امیدوار کو فیصلہ کن برتری حاصل نہیں ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں ریاستوں میں کانٹے کا مقابلہ ہے اور ان نتائج میں تیزی سے تبدیلی آ سکتی ہے۔