آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

شکستوں سے بچا نہیں جا سکتا لیکن ہار مان لینا ناقابلِ معافی عمل ہے: ٹرمپ کی فتح کے بعد بائیڈن کا پہلا خطاب

امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج کے حوالے سے قوم سے پہلا خطاب کیا اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم ملک میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے نتائج کو قبول کرتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ہم مضبوط ترین معیشت چھوڑ رہے ہیں، ہماری مدت کے مکمل ہونے میں ابھی 74 دن باقی ہیں۔

خلاصہ

  • نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اُٹھائیں گے
  • ٹرمپ کی بطورِ صدر تقریبِ حلف برداری سے قبل امریکی صدارتی انتخاب کے تمام معاملات 17 دسمبر تک طے ہو جائیں گے
  • ٹرمپ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن نے نو منتخب صدر کو ان کی جیت پر مبارکباد دینے کے لیے فون کیا ہے اور انھیں انتظامیہ کی منتقلی پر بات کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا ہے
  • امریکی نائب صدر اور ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کملا ہیرس کا کہنا ہے کہ ’الیکشن کا نتیجہ توقعات کے برعکس آیا مگر اقتدار کی پرامن منتقلی میں شامل رہوں گی‘
  • امریکی صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے موقع پر بِٹ کوائن کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح 75 ہزار ڈالر پر پہنچ گئی ہے

لائیو کوریج

  1. امریکی صدارتی انتخاب کے حوالے سے چھ اہم باتیں

    اگر آپ نے ابھی ابھی امریکی صدارتی انتخاب کو دیکھنا شروع کیا ہے تو یہ باتیں آپ کے لیے جاننا ضروری ہیں:

    • ڈونلڈ ٹرمپ نے کملا ہیرس کو شکست دے دی ہے اور دوسری مرتبہ امریکہ کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔
    • تقریباً ایک گھنٹے قبل وسکونسن میں فیصلہ کُن برتری حاصل کرنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ 270 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ انھوں نے فلوریڈا میں اپنی تقریر کے دوران کہا تھا کہ امریکی عوام نے انھیں ایک ’بے مثال اور طاقتور مینڈیٹ‘ سے نوازا ہے۔
    • ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران جن موضوعات پر سب سے زیادہ بات کی تھی ان کا تعلق ملکی معیشت سے تھے۔ انھوں نے ’مہنگائی ختم کرنے اور امریکہ کو ایک بار پھر رہنے کے قابل بنانے‘ کا وعدہ کیا تھا۔ امیگریشن کا موضوع بھی اس دوران ان کی توجہ کا مرکز رہا اور انھوں نے ایک مرتبہ پھر امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے کا وعدہ کیا تھا۔
    • صدارتی انتخاب کے نتائج آنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور ہمیں نیواڈا، مشیگن اور ایریزونا سے نتائج کا انتظار ہے۔
    • سینیٹ میں بھی رپبلکن پارٹی کو ڈیموکریٹس پر برتری حاصل ہوگئی ہے۔
    • کملا ہیرس کی جانب سے ٹرمپ کی جیت پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ اس سے قبل انھوں نے ہاورڈ یونیورسٹی میں اپنی الیکشن واچ پارٹی میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔
  2. ڈونلڈ ٹرمپ دنیا میں جاری دو بڑے تنازعات سے کیسے نمٹیں گے؟, فرینگ گارڈنر، نمائندہ برائے سکیورٹی امور

    ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ جنگیں ختم کرتے ہیں لیکن اب ان کو وراثت میں دو جنگیں مل رہی ہیں اور یہ وہ تنازعات ہیں جو ان کے پچھلے دورِ حکمرانی میں موجود نہیں تھے: روس کا یوکرین پر حملہ اور مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی جنگ۔

    اس کے بعد پھر شمالی کوریا ہے جو کہ اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل کے پروگرام کو وسیع کر رہا ہے اور دوسری جانب یہ امکانات بھی ہیں کہ امریکی اتحادی تائیوان کو چین کی جانب سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ ٹرمپ اپنے دوسرے دورِ اقتدار میں ان مسائل سے کس طرح نمٹتے ہیں وہ بھی احتیاط برتے بغیر اور ان تجربہ کار فوجی جرنیلوں کی غیرموجودگی میں جو پچھلے دورِ حکومت میں ٹرمپ کے ساتھ تھے۔

    یہاں حیران کُن بات یہ ہے کہ اکثر غیریقینی آپ کے لیے ایک بڑا فائدہ ثابت ہوتی ہے اور اس سبب آپ کے مخالفین بس تُکے ہی لگاتے رہتے ہیں کہ اب آگے کیا ہونے والا ہے۔

    کیا اس سبب پوتن یوکرین کے معاملے پر کوئی ڈیل کرنے پر راضی ہوسکتے ہیں؟ کیا کِم جونگ ان اس صورتحال میں مذاکرات کی طرف واپس آ جائیں گے؟ کیا یہ غیریقینی تائیوان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی؟ کیا اس غیر یقینی کے سبب ایران اپنے مسلح گروہوں کو روکے گا تاکہ وہ کسی امریکی حمایت کے حامل بڑے اسرائیلی حملے سے بچ سکے؟

    یہ غیریقینی ہی ٹرمپ کی سب سے بڑی خاصیت ہے۔

  3. ٹرمپ کی جیت – ایک شاندار واپسی کی کہانی, انتھونی زرچر، نامہ نگار برائے شمالی امریکہ

    ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر بازی لے گئے ہیں۔ آٹھ برس قبل انھوں نے ہیلری کلنٹن کو حیران کُن طور پر شکست دی تھی اور پھر چار سال بعد انھیں جو بائیڈن کے ہاتھوں شکست کا مزہ چکھنا پڑا تھا۔

    لیکن اب ایک بار پھر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے نئے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔

    یہ ایک ایسے شخص کی شاندار واپسی ہے جنھوں نے 2020 میں ایک ایسے وقت وائٹ ہاؤس چھوڑا تھا جب کیپیٹل ہِل پر پُرتشدد ہجوم نے حملہ کیا تھا، جس سے خود ڈونلڈ ٹرمپ کی ساکھ بھی بے انتہا متاثر ہوئی تھی۔

    اس موقع پر ڈیموکریٹس اور کچھ رپبلکن پارٹی کے اراکین نے بھی ان کے خلاف مذمتی بیانات جاری کیے تھے۔ لیکن چار برس بعد ایک بار پھر امریکی عوام نے انھیں اقتدار سونپ دیا ہے۔

    اپنی انتخابی تقریروں میں ٹرمپ اکثر کسی ایک موضوع پر توجہ مرکوز نہیں رکھ پاتے تھے، لیکن انھوں نے اپنی ٹیم میں ایسے پیشہ ور افراد کو شامل کیا جنھوں نے ٹرمپ کا پیغام آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    متعدد سرویز سے معلوم ہوتا ہے کہ اس انتخاب میں امریکی عوام نے دو معاملات پر ٹرمپ کے وعدوں پر اعتماد کیا: معیشت اور امیگریشن۔ ان کی ٹیم نے ان موضوعات پر ٹرمپ کے وعدوں کو کامیابی سے امریکی عوام تک پہنچایا۔

    ٹرمپ کی ٹیم اس وقت تذبذب کا شکار ہوئی جب جو بائیڈن صدارتی ریس سے باہر ہوئے اور ان کی جگہ کملا ہیرس نے لے لی۔ لیکن اس کے باوجود بھی ٹرمپ نے عوام میں موجود ڈیموکریٹ مخالف جذبات کو استعمال کیا اور اقتدار کے قریب آ گئے۔

    اب وہ اگلے برسوں تک امریکہ کے صدر رہیں گے اور اس بار ان کے پاس ایک منظم سیاسی تنظیم بھی ہے جو کہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے پُرعزم نظر آتی ہے۔

  4. الاسکا میں کامیابی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے الیکٹورل کالج ووٹوں کی تعداد 279 ہوگئی

    الاسکا اور وسکونسن میں فیصلہ کُن برتری کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے الیکٹورل کالج ووٹوں کی تعداد 279 پر پہنچ گئی ہے اور وہ امریکی صدارتی انتخاب جیت چکے ہیں۔

    انھیں امریکہ کا اگلا صدر منتخب ہونے کے لیے 270 الیکٹورل کالج ووٹ درکار تھے۔

    دوسری جانب نیو ہیمپشائر میں ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس کو فیصلہ کُن برتری حاصل ہوئی ہے اور ان کے الیکٹورل کالج ووٹوں کی تعداد 223 پر پہنچ گئی ہے۔

  5. وسکونسن میں فیصلہ کُن برتری کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدارتی انتخاب جیت گئے

    امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر سی بی ایس کے مطابق ایک اور سوئنگ ریاست وسکونسن میں ڈونلڈ ٹرمپ کو واضح برتری حاصل ہوگئی ہے جس کے ساتھ ہی وہ امریکہ کا صدارتی انتخاب جیت گئے ہیں۔

    وسکونسن میں ٹرمپ کی جیت کا مطلب یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے الیکٹورل ووٹس کی تعداد 276 ہوگئی ہے، جبکہ امریکہ کا صدر منتخب ہونے کے لیے انھیں کم سے کم 270 ووٹ درکار تھے۔

    اس کا مطلب ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدارتی انتخاب جیت گئے ہیں اور وہ بطور 47وِیں امریکی صدر وائٹ ہاؤس کے مکین ہوں گے۔

  6. پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکہ میں صدارتی انتخاب جیتنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا پاکستانی حکومت اور نئی امریکی انتظامیہ مل کر دونوں ممالک کے تعلقات اور پارٹنرشپ کو مضبوط بنائیں گی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی انتخاب میں الیکشن کا اعلان کرچکے ہیں لیکن ابھی بھی انھیں امریکہ کا اگلا صدر بننے کے لیے چار الیکٹورل کالج ووٹ درکار ہیں۔

  7. ٹرمپ کا اپنی فتح کا اعلان: ’امریکہ نے ہمیں غیرمعمولی اور بھاری مینڈیٹ سے نواز ہے‘

    اہم سوئنگ ریاستوں شمالی کیرولائنا، جارجیا اور پینسولوینیا میں فیصلہ کُن برتری حاصل کرنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنی فتح کا اعلان کر دیا ہے۔

    اپنی ’وکٹری سپیچ‘ میں ان کا کیا کہنا تھا، دیکھیے اس ویڈیو میں۔

  8. کیا امریکی ریاست وسکونسن ایک بار پھر ٹرمپ کو فتح سے ہمکنار کرے گی؟, کارل نسمین، وسکونسن

    وسکونسن کے دارالحکومت کی سڑکوں پر خاموشی طاری ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے گڑھ میڈیسن نے کملا ہیرس پر اعتماد کا اظہار کیا ہے لیکن امکان یہی ہے کہ ریاست کے باقی علاقے ڈونلڈ ٹرمپ کی جھولی میں آ گرے ہیں۔

    اگر وسکونسن میں جیت کے سبب ٹرمپ 270 الیکٹورل ووٹ لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو 2016 کے بعد ایسا دوسری بار ہوگا کہ یہ ریاست رپبلکن امیدوار کی جیت کا باعث بنے گی۔

    ایک رپبلکن عہدیدار نے کچھ دیر پہلے مجھے بتایا تھا کہ: ’جس طرف وسکونسن جاتا ہے، اس ہی طرف پوری قوم جاتی ہے۔‘

  9. ہاورڈ یونیورسٹی میں کملا ہیرس کی الیکشن واچ پارٹی میں ویرانی کا منظر

    ڈونلڈ ٹرمپ کی فلوریڈا میں تقریر اور جیت کے اعلان سے قبل واشنگٹن ڈی سی میں کملا ہیرس کی الیکشن واچ پارٹی کا مقام الگ ہی منظر پیش کر رہا تھا۔

    نائب صدر نے ہاورڈ یونیورسٹی میں اپنے حامیوں سے خطاب کرنا تھا لیکن جیسے ہی معلوم ہوا کہ کملا ہیرس وہاں تقریر نہیں کریں گی تو وہاں موجود تمام افراد اپنے گھروں کو چلے گئے اور پیچھے خالی کُرسیاں اور امریکی جھنڈے چھوڑ گئے۔

  10. ایک اور سوئنگ ریاست نیواڈا میں بھی اب تک کے نتائج کا جھکاؤ ٹرمپ کی جانب

    بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کے مطابق نیواڈا میں اب تک کے نتائج کا جھکاؤ ٹرمپ کی جانب ہے۔

    ہم یہ واضح کر دیں کہ یہ سرکاری نتائج نہیں بلکہ اب تک کے نتائج کی بنیاد پر قائم کیا گیا اندازہ ہے۔

    یہ مغربی ریاست جس میں لاس ویگاس شامل ہے، یہاں سے 2020 کے انتخابات میں ڈیموکریٹ جو بائیڈن جیتے تھے اور اس مرتبہ ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کی صورت میں انھیں مزید چھ الیکٹورل کالج ووٹ ملیں گے۔

  11. بلاول کی ٹرمپ کو مبارکباد ’امید ہے نئی انتظامیہ امن کو ترجیح دے گی اور عالمی تنازعات کے خاتمے میں مدد کرے گی‘

    جیسا کہ اس سے قبل ہم نے آپ کو بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنی جیت کے اعلان کے بعد دنیا کے کئی رہنماؤں کی جانب سے انھیں مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

    اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو کے بعد ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان نے انھیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ امریکہ کی سیاسی تاریخ میں سب سے بڑی کامیابی ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ دنیا کو ان کی اس کامیابی کی بہت ضرورت تھی۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری نے بھی ٹرمپ کو انتخاب میں تاریخی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے لوگوں نے انھیں اور اس کی ٹیم کو شاندار فتح دلائی ہے۔

    بلاول نے جے ڈی وینس، ایلون مسک، روبرٹ کنیڈی جونیئیر اور تلسی گیبارڈ کو بھی اپنی ٹویٹ میں ٹیگ کیا ہے۔

    بلاول کا کہنا ہے کہ یہ جنگ مخالف فتح اور جنگ مخالف مینڈیٹ ہے جو امریکی عوام نے انھیں دیا ہے۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ کہ ہمیں امید ہے کہ نئی انتظامیہ امن کو ترجیح دے گی اورعالمی تنازعات کے خاتمے میں مدد کرے گی۔

    ان کے علاوہ برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا اعادہ کیا۔

  12. نتن یاہو کی ٹرمپ کو مبارکباد ’آپ کی وائٹ ہاؤس میں تاریخی واپسی امریکہ اور اسرائیل کے درمیان عظیم اتحاد کی نئی شروعات ہے‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنی جیت کے اعلان کے بعد دنیا کے کئی رہنماؤں کی جانب سے انھیں مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

    اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو نے ٹرمپ کو ’تاریخی واپسی‘ پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’وائٹ ہاؤس میں آپ کی واپسی امریکہ اور اسرائیل کے درمیان عظیم اتحاد کی نئی شروعات ہے۔‘

    نتن یاہو کا کہنا ہے کہ یہ ایک عظیم کامیابی ہے۔

  13. منیسوٹا اور نیو جرسی میں کملا ہیرس کو فیصلہ کن برتری حاصل

    امریکی ریاست منیسوٹا میں کملا ہیرس کو فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔

    اگرچہ ٹرمپ اپنی جیت کا اعلان کر چکے ہیں تاہم امریکہ کی کئی ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

    کملا ہیرس کو منیسوٹا میں فیصلہ کن برتری حاصل ہے جس سے انھیں 10 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔

    اس کے علاوہ ڈیموکریٹکس کے گڑھ نیو جرسی میں بھی ہیرس کو واضح برتری حاصل ہے جس سے انھیں الیکٹورل کالج کے مزید 14 ووٹ ملے ہیں۔

  14. امریکہ نے ہمیں غیر معمولی اور طاقتور مینڈینٹ سے نوازا ہے: ٹرمپ

    ٹرمپ فلوریڈا میں اپنی انتخابی مہم کے ہیڈکوارٹر میں جمع ہونے والے مداحوں سے خطاب کر رہے ہیں۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ جب ان کے ووٹر ماضی میں مڑ کر دیکھیں گے تو یہ دن ان کی زندگی کے سب سے اہم دنوں میں سے ایک ہو گا۔

    ٹرمپ کا مزید کہنا ہے کہ امریکہ نے ہمیں غیر معمولی اور طاقتور مینڈینٹ سے نوازا ہے۔

  15. ٹرمپ کی تقریر میں ایلون مسک کا ذکر: مسک ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک ’ابھرتا ہوا ستارہ‘ ہیں

    ٹرمپ فلوریڈا میں انتخابی مہم کے ہیڈکوارٹر میں جمع ہونے والے مداحوں سے خطاب کر رہے ہیں۔

    اپنی تقریر کے دوران ٹرمپ ایک ایسے شخص کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو ان کی مہم کا ایک بڑا حصہ بن گیا ہے اور وہ ہیں ایکس کے مالک اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک۔

    انھوں نے مسک کو ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک ’ابھرتا ہوا ستارہ‘ کہہ کر پکارا ہے۔

    اس کے بعد انھوں نے ایک کہانی سنائی کہ کس طرح ایک دن انھوں نے اس کھرب پتی شخص (ایلون) کو 40 منٹ تک ہولڈ کروائے رکھا کیونکہ وہ سپیس ایکس راکٹ کی ویڈیو دیکھ رہے تھے۔

    ٹرمپ نے انھیں ایک شاندار شخص قرار دیا ہے۔

  16. ٹرمپ کا کہنا ہے انھوں نے ’شاندار فتح‘ حاصل کر لی ہے

    فلوریڈا میں ٹرمپ کی تقریر جاری ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کا اگلا دور امریکہ کا ’سنہری دور‘ ہو گا۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے یہ امریکہ کے شہریوں کی ’شاندار فتح‘ ہے۔ انھوں نے اپنی مہم کے نعرے ’آئیں امریکہ کو پھر سے عظیم بنائیں‘ کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اس فتح کے بعد ہم امریکہ کو ایک بار پھر عظیم بنانے کے قابل ہوں گے۔

    ٹرمپ نے اپنی فتح کا اعلان کر دیا ہے تاحال انھیں مطلوبہ الیکٹورل کالج ووٹ حاصل نہیں ہو سکے لیکن وہ سات اہم ریاستوں میں سے تین میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں اور باقی ریاستوں میں بھی ان کی برتری کا امکان ہے۔

  17. ہم اپنے ملک کے زخم بھرنے جا رہے ہیں: ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم اپنے ملک کے زخم بھرنے جا رہے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ ریاست فلوریڈا میں ایک واچ پارٹی کی تقریب میں خطاب کر رہے ہیں۔

    انھوں نے سرحدوں کو ٹھیک کرنے کا عزم کیا اور مزید کہا کہ ان کی پارٹی نے کسی وجہ سے تاریخی فتح حاصل کی ہے۔

    اس تقریر کو ہم واضح طور پر ریپبلکن امیدوار کی ’وکٹری سپیچ‘ کہہ سکتے ہیں۔

  18. ٹرمپ سٹیچ پر اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ساتھ موجود

    ٹرمپ کے ساتھ سٹیج پر متعدد لوگ ہیں جن میں ان کے نائب صدر کے امیدوار جے ڈی وینس بھی موجود ہیں اور ان کی اہلیہ اور بیٹے بھی موجود ہیں۔

    انھوں نے اسے ایک ’سیاسی فتح‘ قرار دیتے ہوئے اپنے کارکنوں کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے انھیں ’47ویں مرتبہ صدر بننے میں کردار ادا کیا۔‘

    خیال رہے کہ اب بھی ٹرمپ کو مزید پانچ الیکٹورل ووٹ درکار ہیں۔ اس دوران کارکنوں کی جانب سے ’امریکہ، امریکہ، امریکہ‘ کے نعرے لگائے گئے۔

  19. ٹرمپ فلوریڈا میں کارکنوں سے خطاب کرنے سے پہلے تیاری کرتے ہوئے

    ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے ایرک نے ایک تصویر پوسٹ کی ہے جس میں ان کے والد فلوریڈا میں اپنے کارکنوں سے بات کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

  20. امریکہ کے صدارتی انتخاب 2024 کے اب تک کے نتائج