ریاست مشیگن میں ڈیئربورن ایک ایسا شہر ہے جہاں عرب اکثریت میں ہیں اور یہاں جتنے ووٹروں سے میں نے آج بات کی، تقریباً سب کا کہنا تھا کہ انھوں نے گرین پارٹی کے امیدوار جِل سٹین کے لیے ووٹ ڈالا ہے کیونکہ بائیڈن اور ہیرس دونوں کے اسرائیل نواز موقف نے انھیں مایوس کیا ہے۔
ان میں ساجد سید بھی ہیں جو خود کو ڈیموکریٹ مانتے تھے۔ سید کا کہنا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو کملا ہیریس پر ترجیح نہیں دیتے لیکن ٹرمپ نے کمیونٹی کا دورہ کر کے چند ووٹروں کا دل جیت لیا ہے۔
سابق صدر کاروباری رہنماؤں سے ملاقات کے لیے گذشتہ جمعہ کو ڈیئربورن آئے تھے۔
سید کہتے ہیں’انھوں نے اس مسئلے پر بات کی، لیڈروں سے بات کی اور لوگوں کے ساتھ ڈنر کیا۔‘
ابھی تک میں نے جتنے لوگوں سے بات کی ہے ان میں سے کسی نے بھی ٹرمپ کے حق میں ووٹ نہیں ڈالا ہے لیکن وہ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ان کا کسی تیسرے فریق کو ووٹ ٹرمپ کے حق میں کام آ سکتا ہے۔
سید کہتے ہیں’اگر ہیرس ہار جاتی ہیں تو انھیں پتا چلے گا کہ وہ کس وجہ سے ہاری ہیں۔‘