یو ایس کیپیٹل پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ابھی ایک ایسے
شخص کو گرفتار کیا ہے جس کے پاس سے فلیئر گن برآمد ہوئی ہے۔ کیپٹل پولیس کا کہنا ہے
کہ واشنگٹن ڈی سی کے کیپیٹل وزیٹر سینٹر سے حراست میں لیے جانے والے اس شخص سے ’پیٹرول
جیسی بو آ رہی تھی‘ اور اس کے پاس ’فلیئر گن‘ تھی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس( سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ
میں پولیس کا کہنا ہے کہ اس شخص کو سینٹر میں چیکنگ کے عمل کے دوران روکا گیا تھا۔
اس پوسٹ میں کہا گیا
ہے کہ ’اس شخص سے پیٹرول جیسی بو آ رہی تھی اور اس کے پاس ایک ٹارچ اور فلیئر گن
تھی۔‘
اس بارے میں اب سے کچھ دیر قبل کیپٹل
پولیس کے سربراہ جے
تھامس مینجر، نے واشنگٹن ڈی سی میں پریس سے بات کرتے ہوئے کیپیٹل وزیٹر سینٹر میں حراست میں لیے گئے شخص کے متعلق بتایا کہ مقامی
وقت کے مطابق تقریباً 12:20 پر ایک سفید فام مرد کیپیٹل وزیٹر سینٹر کے جنوبی
دروازے سے داخل ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب اس شخص نے تلاشی دینے کے
لیے اپنی جیکٹ اور بیگ سکریننگ مشین پر رکھا تو افسران کو اس کے بیگ میں ’کچھ آتشی
اسلحے جیسا دکھائی دیا اور اس کے ’بیگ میں دو بوتلیں‘ بھی دکھائی دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دوران جب وہ شخص سکریننگ
کے عمل کے لیے وہاں کھڑا تھا تو ایک پولیس اہلکار کو اس سے ’پٹرول کی ہلکی سی بو‘ بھی
آئی۔
اس کے بیگ سے ’زیادہ‘ بو آ رہی تھی اور یہ ایک بوتل دکھائی دے رہی تھی جس میں ایک مادہ تھا۔ جس کے بارے میں پولیس کا خیال ہے کہ یا تو پٹرول تھا یا ’کوئی اور آگ لگانے والا مواد‘ جو لیک ہو رہا تھا۔
کیپٹل پولیس کے سربراہ جے تھامس مینجر نے بتایا کہ ’اس کے بعد اس شخص کو حراست میں لے کر گرفتار کر لیا گیا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ پولیس کو ایک فلیئر گن، ایک لائٹر اور ایک ٹارچ لائٹر ملا، اور اس کے بیگ میں ’دیگر اشیا‘ بھی تھیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس شخص کے پاس ’کچھ کاغذات‘ بھی تھے اور اس نے افسران کو بتایا کہ اس کا ارادہ انھیں کانگریس تک پہنچانا ہے۔ پولیس اب بھی یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ ’حقیقت میں وہ کہاں سے آیا تھا‘ اور اس کے ارادے کیا تھے۔
جے تھامس مینجر نے کہا کہ اس معاملے کی تفتیش ’جاری ہے‘ اور وہ شخص زیر حراست ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں یو ایس کیپٹل وہ عمارت ہے جہاں کانگریس، وفاقی حکومت کی وزارت قانون سازی کے دفاتر ہیں۔