آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

شکستوں سے بچا نہیں جا سکتا لیکن ہار مان لینا ناقابلِ معافی عمل ہے: ٹرمپ کی فتح کے بعد بائیڈن کا پہلا خطاب

امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج کے حوالے سے قوم سے پہلا خطاب کیا اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم ملک میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے نتائج کو قبول کرتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ہم مضبوط ترین معیشت چھوڑ رہے ہیں، ہماری مدت کے مکمل ہونے میں ابھی 74 دن باقی ہیں۔

خلاصہ

  • نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اُٹھائیں گے
  • ٹرمپ کی بطورِ صدر تقریبِ حلف برداری سے قبل امریکی صدارتی انتخاب کے تمام معاملات 17 دسمبر تک طے ہو جائیں گے
  • ٹرمپ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن نے نو منتخب صدر کو ان کی جیت پر مبارکباد دینے کے لیے فون کیا ہے اور انھیں انتظامیہ کی منتقلی پر بات کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا ہے
  • امریکی نائب صدر اور ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کملا ہیرس کا کہنا ہے کہ ’الیکشن کا نتیجہ توقعات کے برعکس آیا مگر اقتدار کی پرامن منتقلی میں شامل رہوں گی‘
  • امریکی صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے موقع پر بِٹ کوائن کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح 75 ہزار ڈالر پر پہنچ گئی ہے

لائیو کوریج

  1. پولنگ کا عمل آخری مراحل میں: اس الیکشن میں کچھ بھی ہو سکتا ہے!, کیٹی کے/بی بی سی

    مجھے امریکہ میں چھ صدارتی الیکشن کی رپورٹنگ کا تجربہ ہے اور میرے لیے کوئی بھی نتیجہ حیران کن نہیں ہوگا۔

    تمام سوئنگ سٹیٹس میں ٹرمپ اور ہیرس کے درمیان کانٹے کا مقابلہ دیکھا گیا ہے۔ اِن ریاستوں میں کسی بھی امیدوار کے لیے ایک یا دو پوائنٹ کی برتری حیرت انگیز فتح میں بدل سکتی ہے۔

    حالیہ دنوں کے دوران ہیرس کی انتخابی مہم ماضی سے زیادہ پُراعتماد نظر آئی ہے۔

    ڈیموکریٹ پارٹی کے سینیئر عہدیداران نے آج مجھے بتایا کہ ہیرس کی ٹیم کو آج رات مکمل اعتماد ہے اور اس کی وجہ صرف جنون نہیں بلکہ ڈیٹا ہے۔

    بعض مبصرین کو لگتا ہے کہ نتائج ہماری توقعات سے زیادہ واضح ہوں گے اور ہیرس پیشگوئیوں کے برعکس کڑے مقابلے والی زیادہ ریاستیں جیت جائیں گی۔

    امریکہ میں پولنگ کا عمل آخری گھنٹوں میں داخل ہوچکا ہے۔ ہمیں جلد معلوم ہوجائے گا کہ آیا ان کے اس اعتماد کے پیچھے کوئی وجہ تھی۔

  2. ایگزٹ پولز نے ملک میں سیاسی تقسیم کو واضح کر دیا, انتھونی زرچر بی بی سی نامہ نگار، شمالی امریکہ

    ایگزٹ پولز کے ابتدائی اعداد و شمار زیادہ حیران کن نہیں ہیں۔ اس سال امریکی ووٹرز کے لیے معیشت اور جمہوریت کی صورتحال دو سرفہرست مسائل ہیں۔ یہ ہم گذشتہ چند ماہ سے رائے عامہ کے جائزوں میں دیکھ رہے ہیں۔

    تاہم ان جائزوں کو تھوڑا گہرائی میں دیکھیں تو امریکی ووٹرز میں سیاسی تقسیم واضح ہوتی ہے۔

    رپبلکنز ووٹرز کے لیے امیگریشن کے معاملات کے ساتھ معیشت سے متعلق خدشات سرفہرست معاملات میں شامل ہوا ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا ڈیموکریٹس کی جانب سے شاید ہی کوئی ذکر ہو۔ بائیں بازو والوں کے لیے جمہوریت کے ساتھ اسقاط حمل کے حقوق بہت زیادہ اہم تھے۔

    یہ قدرے حیرت کی بات ہے کہ امریکی ووٹروں کے لیے معیشت ایک اہم ترین مسئلہ نہیں تھی، اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ مہنگائی میں وبائی امراض کے بعد ہونے والے اضافے کے گرد کتنی سیاسی بحثیں مرکوز رہی ہیں۔

    ایسا اس لیے ہو سکتا ہے کہ کچھ رپبلکن بھی ڈیموکریٹس سے بہت مختلف وجوہات کی بنا پر امریکی جمہوریت کی صورتحال کے بارے میں فکر مند تھے۔

    البتہ یہ ایگزٹ پولز ابھی حتمی نہیں ہیں اور ابھی امریکی صدارتی انتخاب کا اصل فیصلہ آنا ابھی باقی ہے۔

  3. وہ امریکی ریاستیں جہاں سیاسی وابستگی تبدیل ہوئی, کیٹی کے/بی بی سی

    یہ چھٹا امریکی صدارتی الیکشن ہے جو میں نے کوور کیا اور میرے لیے یہ بات حیران کن ہے کہ وہ ریاستیں جنھیں ہم ’سوئنگ سٹیٹس‘ کہتے ہیں ان میں کس قدر تبدیلی آئی ہے۔

    مسوری، ٹینیسی اور آرکنساس (بل کلنٹن کا گھر) ایسی جگہیں تھیں جہاں ڈیموکریٹ پارٹی اچھا مقابلہ کرتی تھی۔ اب وہ رپبلکن پارٹی کا گڑھ ہیں۔

    جبکہ کیلیفورنیا جس نے 1952 سے 1988 تک رپبلکن پارٹی کا ساتھ دیا، وہاں ڈیموکریٹ پارٹی کو حمایت حاصل ہے۔

    فلوریڈا اور اوہائیو پر اس لیے نظر رکھی جاتی تھی کہ یہاں فیصلہ ہوگا کہ وائٹ ہاؤس کون جیتے گا۔

    امریکہ میں سیاسی وابستگی تیزی سے بدل سکتی ہے۔ لگتا ہے آج رات ہر امیدوار کو امید ہو گی کہ وہ اپنے حریف کی حمایت والی ’نان سوئنگ‘ ریاست کو چھین لے۔

  4. بریکنگ, امریکہ کی دو ریاستوں میں پولنگ آخری مراحل میں

    امریکی ریاستوں انڈیانا اور کینٹکی میں پولنگ آخری مراحل میں ہے۔

    ہم جلد آپ کو ابتدائی نتائج بتائیں گے، ہمارے ساتھ جڑے رہیں۔۔۔

  5. بریکنگ, امریکی صدارتی انتخاب 2024: ووٹر جمہوریت اور معیشت کو لے کر سب سے زیادہ فکرمند، ابتدائی ایگزٹ پول

    امریکی صدارتی انتخاب سے متعلق ابتدائی ایگزٹ پولز ابھی جاری ہوئے ہیں اور ان جائزوں کے مطابق ووٹرز کے نزدیک سب سے اہم مسئلہ جمہوریت اور معیشت کی صورتحال ہے۔

    ان جائزوں میں شامل ہونے والے تقریباً ایک تہائی افراد نے کہا کہ ان کے نزدیک سب سے اہم معاملہ جمہوریت کی صورتحال ہے جبکہ دوسرے نمبر پر معیشت کا معاملہ ہے اور ابتدائی اعدادو شمار کے مطابق دس میں سے تین افراد نے اس کا انتخاب کیا ہے۔

    تیسرے نمبر پر اسقاط حمل اور چوتھے پر امیگریشن کے معاملات اہم قرار دیے گئے ہیں جبکہ خارجہ پالیسی سب سے کم منتخب کردہ آپشن تھی اور اسے ایگزٹ پولز کے مطابق یہ پانچویں نمبر پرہے۔

    معیشت اس سے قبل بھی ووٹروں کو ووٹنگ کی جانب راغب کرنے والے معاملات میں سرفہرست رہی ہے اور 2008 کے بعد سے ہر صدارتی انتخابات کے ایگزٹ پول میں اسے پہلے نمبر پر رکھا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ یہ ایگزٹ پولز کے ابتدائی اعداد و شمار ہیں اور ان میں تبدیلی کا امکان ہے کیونکہ ہمیں دن بھر ملک کے طول و عرض سے ووٹرز سے ایگزٹ پول ڈیٹا کے مزید اعداد و شمار ملیں گے۔

    جہاں تک بات کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ووٹرز کی ہے تو دونوں کی ترجیحات مختلف تھیں۔

    کملا ہیرس کو کن لوگوں نے ووٹ دیا؟

    • بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار سی بی ایس کے مطابق ہر 10 میں سے چھ لوگوں نے ملک میں جمہوریت کی صورتحال کو سب سے اہم مسئلہ قرار دیا
    • ہر پانچ میں سے ایک شخص نے اسقاط حمل کو اہمیت دی
    • ہر 10 میں سے ایک شخص معیشت کے بارے میں فکرمند تھا

    ٹرمپ کو کن لوگوں نے ووٹ دیا؟

    • رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق آدھے لوگوں کے لیے معیشت سب سے بڑا مسئلہ ہے
    • ہر پانچ میں سے ایک شخص نے امیگریشن کو اہمیت دی
    • ہر 10 میں سے ایک شخص نے کہا کہ اسے جمہوریت کی موجودہ صورتحال کے بارے میں تشویش ہے

    ڈیٹا کے مطابق ہر 10 میں سے سات ووٹرز کو انتخابی نتائج کے بعد پُرتشدد واقعات کا خدشہ ہے۔

  6. امریکی صدارتی انتخاب: ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس کے حمایتی پرجوش، پولنگ سٹیشنز کے باہر عوام کی بھیڑ

    امریکہ میں صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔ ٹرمپ اور کملا دونوں امیدواروں کے حمایتی ووٹرز میں جوش و خروش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں عوام کی بڑی تعداد اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے لیے پولنگ سٹیشنز کے باہر قطاروں میں کھڑی ہے۔

  7. ماضی میں امریکی انتخابات کے نتائج کب کب مکمل ہوئے؟, دی ویژوئل جرنلزم ٹیم، بی بی سی نیوز

    ماضی میں زیادہ تر صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان کافی جلد ہی کر دیا گیا تھا۔ سنہ 2008 اور سنہ 2021 میں براک اوباما کی فتح کا اعلان انتخاب کے دن ہی آدھی رات سے پہلے کر دیا گیا تھا۔

    سنہ 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کا اعلان انتخابات کے اگلے دن صبح ہی کر دیا گیا تھا جبکہ سنہ 2004 میں جارج ڈبلیو بش کے دوبارہ صدر بننے کا اعلان بھی ووٹنگ کے اگلے ہی دن کر دیا گیا تھا۔

    تاہم دو ایسے صدارتی انتخابات بھی ہیں جب نتائج اور صدارتی امیدوار کی فتح کا اعلان کرنے میں تاخیر ہوئی۔

    پہلا سنہ 2020 میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے نتائج کا اعلان کرنے میں ٹی وی چینلز کو ووٹنگ کے دن کے بعد چار دن لگے تھے۔ اس انتخاب میں جو بائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو پینسلوینیا کی ریاست سے نتائج واضح ہونے کے بعد شکست دی تھی۔

    اسی طرح سنہ 2000 میں جارج ڈبلیو بش اور الگور کا فلوریڈا میں کانٹے کا مقابلہ ہوا تھا اور وہاں ووٹوں کو چیلنج تک کر دیا گیا تھا۔ جس کے بعد امریکہ کی سپریم کورٹ نے ریاستی سطح پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے عمل کو ختم کرنے کے لیے ووٹ دیا تھا۔ جس کے بعد جارج ڈبلیو بش کو فاتح قرار دیا گیا تھا۔

    یہ فیصلہ الیکشن کے 36 روز بعد آیا تھا۔

  8. بریکنگ, یو ایس کیپٹل سے فلیئر گن اٹھائے شخص گرفتار

    یو ایس کیپیٹل پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ابھی ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جس کے پاس سے فلیئر گن برآمد ہوئی ہے۔ کیپٹل پولیس کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی کے کیپیٹل وزیٹر سینٹر سے حراست میں لیے جانے والے اس شخص سے ’پیٹرول جیسی بو آ رہی تھی‘ اور اس کے پاس ’فلیئر گن‘ تھی۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس( سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں پولیس کا کہنا ہے کہ اس شخص کو سینٹر میں چیکنگ کے عمل کے دوران روکا گیا تھا۔

    اس پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اس شخص سے پیٹرول جیسی بو آ رہی تھی اور اس کے پاس ایک ٹارچ اور فلیئر گن تھی۔‘

    اس بارے میں اب سے کچھ دیر قبل کیپٹل پولیس کے سربراہ جے تھامس مینجر، نے واشنگٹن ڈی سی میں پریس سے بات کرتے ہوئے کیپیٹل وزیٹر سینٹر میں حراست میں لیے گئے شخص کے متعلق بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً 12:20 پر ایک سفید فام مرد کیپیٹل وزیٹر سینٹر کے جنوبی دروازے سے داخل ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب اس شخص نے تلاشی دینے کے لیے اپنی جیکٹ اور بیگ سکریننگ مشین پر رکھا تو افسران کو اس کے بیگ میں ’کچھ آتشی اسلحے جیسا دکھائی دیا اور اس کے ’بیگ میں دو بوتلیں‘ بھی دکھائی دیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس دوران جب وہ شخص سکریننگ کے عمل کے لیے وہاں کھڑا تھا تو ایک پولیس اہلکار کو اس سے ’پٹرول کی ہلکی سی بو‘ بھی آئی۔

    اس کے بیگ سے ’زیادہ‘ بو آ رہی تھی اور یہ ایک بوتل دکھائی دے رہی تھی جس میں ایک مادہ تھا۔ جس کے بارے میں پولیس کا خیال ہے کہ یا تو پٹرول تھا یا ’کوئی اور آگ لگانے والا مواد‘ جو لیک ہو رہا تھا۔

    کیپٹل پولیس کے سربراہ جے تھامس مینجر نے بتایا کہ ’اس کے بعد اس شخص کو حراست میں لے کر گرفتار کر لیا گیا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ پولیس کو ایک فلیئر گن، ایک لائٹر اور ایک ٹارچ لائٹر ملا، اور اس کے بیگ میں ’دیگر اشیا‘ بھی تھیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس شخص کے پاس ’کچھ کاغذات‘ بھی تھے اور اس نے افسران کو بتایا کہ اس کا ارادہ انھیں کانگریس تک پہنچانا ہے۔ پولیس اب بھی یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ ’حقیقت میں وہ کہاں سے آیا تھا‘ اور اس کے ارادے کیا تھے۔

    جے تھامس مینجر نے کہا کہ اس معاملے کی تفتیش ’جاری ہے‘ اور وہ شخص زیر حراست ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی میں یو ایس کیپٹل وہ عمارت ہے جہاں کانگریس، وفاقی حکومت کی وزارت قانون سازی کے دفاتر ہیں۔

  9. بریکنگ, امریکی صدارتی انتخاب کی تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

    بی بی سی کی امریکی صدارتی انتخابات سے متعلق لائیو پیج کوریج جاری ہے، ہمارے نامہ نگار آپ کو اس حوالے سے پل پل کی خبریں پہنچا رہے ہیں۔

    اس وقت تک کی تازہ ترین صورتحال کے مطابق امریکہ کی تمام ریاستوں میں ووٹنگ کے عمل کا آغاز ہو چکا ہے۔

    اب سے کچھ دیر قبل رپبلکن کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا کے علاقے پام بیچ پر اپنا ووٹ ڈالا ہے۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ بھی تھیں۔

    اس موقع پر انھوں نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری صورتحال ٹھیک ہے۔‘

    ڈیموکریٹس کی صدارتی امیدوار کملا ہیرس پہلے ہی اپنا ووٹ ڈال چکی ہیں۔ انھوں نے گذشتہ ہفتے بذریعہ ڈاک اپنا ووٹ ڈالا تھا۔

    کیمبریا کاؤنٹی، پینسلوینیا میں ووٹنگ کے عمل کے دوران الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم میں تکنیکی مسائل کی اطلاع ملی ہے جہاں سافٹ ویئر کے مسائل نے ووٹنگ سکینرز کو متاثر کیا۔ تاخیر کی وجہ سے ووٹنگ کے وقت میں توسیع کر دی گئی ہے۔

    جارجیا میں پانچ پولنگ بوتھز پر بم کی غیر مصدقہ دھمکیاں موصول ہوئیں جس کے نتیجے میں دو مقامات سے ووٹرز کا انخلا ہوا۔ جبکہ ٹو کوب کاؤنٹی میں پولنگ بوتھز پر غیر مصدقہ بم دھمکیوں کے باعث ہونی والی تاخیر کے پیش نظر ووٹنگ کے وقت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

    جارجیا کے ریاستی وزیر خارجہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ان دھمکیوں کے تانے بانے روس سے ملتے ہیں۔

    امریکی صدارتی انتخاب کی روایت کے مطابق سب سے پہلے ووٹ نیو ہیمپشائر کے علاقے ڈکس وِل نوچ کے چھ رہائشیوں نے مقامی وقت کے مطابق آدھی رات کو ڈالے۔ جن میں سے تین ووٹ کملا ہیرس جبکہ دیگر تین ٹرمپ کو ڈالے گئے۔

    امریکی صدارتی انتخاب کے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ کملا ہیرس کو پینسلوینیا کی اہم سوئنگ ریاست میں برتری حاصل ہے جبکہ وسکونسن اور مشی گن میں انھیں معمولی برتری حاصل ہے۔

    دریں اثنا ٹرمپ کو نیواڈا، جارجیا، شمالی کیرولائنا اور ایریزونا میں اب بھی معمولی برتری حاصل ہے۔

    بی بی سی کی امریکی انتخابات سے متعلق لائیو کوریج پڑھتے رہیں، امریکہ اور لندن میں موجود ہمارے نمائندے آپ تک اس یادگار انتخابات کے بارے میں تازہ ترین معلومات پہنچاتے رہیں گے۔

  10. صدارتی انتخابات میں تناؤ کے پیش نظر واشنگٹن میں سکیورٹی سخت کر دی گئی, بیانکا اسٹراڈا، واشنگٹن

    امریکی صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل شام تک جاری رہے گا تاہم وائٹ ہاؤس کے ارد گرد تناؤ کا ماحول ابھی سے محسوس ہو رہا ہے۔

    واشنگٹن کی ہر گلی کوچے پر پولیس اہلکار اور پولیس موبائلز کھڑی دکھائی دے رہی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ارد گرد آٹھ فٹ اونچی لوہے کی باڑ لگا دی گئی جو اس بات کی عکاس ہے کہ علاقے میں سیکورٹی کو سخت کر دیا گیا ہے۔

    کپٹل کی عمارت کے گرد بھی باڑ اور رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہے اور متعدد جگہوں پر ’پولیس لائن، اسے عبور مت کریں‘ کے انتباہی پیغامات پڑھنے کو ملتے ہیں۔

    آج رات کے نتائج کے پیش نظر لوگوں نے اپنے کاروبار بند کر دیے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ لوگوں میں خوف پایا جاتا ہے۔ تاہم کاروباری افراد نے اس متعلق تبصرہ کرنے سے معذرت کی ہے۔

    آج علاقے میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ملک کے دیگر حصوں میں بھی کاروباری مراکز نے اسی طرح کے اقدامات کیے ہیں تاہم اوریگون، پنسلوینیا اور کیلیفورنیا میں حفاظتی اقدامات زیادہ سخت ہیں۔

  11. امریکی صدارتی انتخاب: ووٹنگ کا عمل جاری مگر کہیں قطاریں کہیں انتظار, ترہب اصغر، بی بی سی اردو واشنگٹن ڈی سی

    امریکی صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔ ووٹرز کے بڑی تعداد اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ سٹیشن پر موجود ہیں۔ چند ریاستوں سے ووٹنگ کے عمل میں سست روی کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ مزید بتا رہی ہیں واشنگٹن ڈی سی سے بی بی سی اردو کی نامہ نگار ترہب اصغر۔

  12. ٹرمپ اور ڈیموکریٹس کو دھمکیاں دینے پر دو افراد گرفتار: امریکی میڈیا

    امریکی ریاست مشیگن میں فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (ایف بی آئی) نے صدارتی انتخاب کے حوالے سے دھمکیاں دینے پر دو افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

    مقامی میڈیا آؤٹ لیٹ ’دا ڈیٹروئٹ نیوز‘ کے مطابق گرفتار کیے جانے والا ایک شخص ڈونلڈ ٹرمپ کو دھمکانے میں بھی ملوث تھا۔

    آئزیک سیسل نامی شخص کا ریڈٹ پر ’شوٹ اپ ٹرم ریلی‘ کے نام سے ایک اکاؤنٹ ہے اور انھوں نے مبینہ طور پر تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ ’اگر ٹرمپ مرجائیں تو زیادہ بہتر رہے گا۔‘

    دوسری جانب منگل کو سامنے والی اطلاعات کے مطابق 46 سالہ کرسٹوفر کلے پیئرس پر الزام ہے کہ انھوں نے گذشتہ دو برسوں میں ڈیموکریٹس سے منسلک ایک پولیٹیکل ایکشن کمیٹی کو دھمکیاں دی ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق ایف بی آئی نے پیئرس کو ماضی میں خبردار کیا تھا کہ اگر وہ اپنی آن لائن سرگرمیاں نہیں چھوڑتے تو ان کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔

  13. جارجیا میں بم دھماکوں کی دھمکیوں کے تانے بانے روس سے ملتے ہیں: حکام

    امریکی ریاست جارجیا کی سیکریٹری آف سٹیٹ بریڈ رفینسپرجر کا کہنا ہے کہ آج صبح متعدد پولنگ سٹیشنز کو دی گئی بم دھماکوں کی دھمکیوں کے تانے بانے روس سے ملتے ہیں اور یہ تمام ہی دھمکیاں غیرمستند تھیں۔

    ایک پریس کانفرنس کے دوران رفینسپرجر کا ان دھمکیوں کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’ہم انھیں ہر دفعہ پکڑ لیتے ہیں‘ اور ان کا ’مقصد امریکہ کو عدم استحکام‘ سے دوچار کرنا ہے۔

    یاد رہے اس سے قبل جارجیا کی فُلٹن کاؤنٹی میں متعدد پولنگ سٹیشنز پر بم کی اطلاعات دی گئیں تھیں، جس کے بعد دو پولنگ سٹیشنز کو عارضی طور پر خالی بھی کروالیا گیا تھا۔

  14. سوشل میڈیا پر دہشتگردی اور انتخابی دھاندلی کے حوالے سے جعلی ویڈیوز پر ایف بی آئی کا انتباہ

    امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (ایف بی آئی) کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر دو جعلی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں امریکیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ پولنگ سٹیشنز پر ووٹ ڈالنے نہ جائیں کیونکہ وہاں دہشتگردی یا دھاندلی کا خدشہ ہے۔

    ان ویڈیوز کو اس طرح سے بنایا گیا ہے جیسے کہ ایف بی آئی نے خود دہشتگردی سے ہوشیار رہنے کے حوالے سے کوئی بیان جاری کیا ہو۔ دوسری ویڈیو پر امریکی چینل سی بی ایس کا لوگو استعمال کیا گیا ہے۔

    یہ دونوں ویڈیوز ایکس پر کم ہی لوگوں نے دیکھی ہیں۔ ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ ان ویڈیوز کا مقصد ’ہمارے جمہوری عمل کو نقصان پہنچانا اور انتخابی نظام پر لوگوں کے بھروسے کو کم کرنا ہے۔‘

    دوسری جانب سی بی سی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ویڈیو کو جعلی قرار دیا ہے۔

    بی بی سی ویریفائی کے مطابق ان ویڈیوز کا مواد روس کے ایک ڈِس انفارمیشن نیٹ ورک کی بنائی گئی ویڈیوز سے مطابقت رکھتا ہے۔

  15. گھروں سے ’باہر نکلیں اور ووٹ ڈالیں‘: کملا ہیرس کا امریکی عوام کو پیغام

    کملا ہیرس نے متعدد ریڈیو سٹیشنز کو دیے گئے انٹرویوز میں امریکی عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ گھروں سے ’باہر نکلیں اور ووٹ ڈالیں۔‘

    اٹلانٹا کے ایک ریڈیو سٹیشن کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اپنا کام پورا کرنا ہوگا، آج انتخاب کا دن ہے۔ لوگوں کو گھر سے باہر نکلنے اور متحرک رہنے کی ضرورت ہے۔‘

    جارجیا میں ایک اور ریڈیو سٹیشن کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ’ذمہ داریوں‘ پر توجہ دے رہی ہیں اور ’اپنی پالیسیوں کے تحت لوگوں کی ضروریات‘ کا خیال رکھیں گی۔

    انھوں نے تصدیق کی کہ وہ آج رات ہارورڈ یونیورسٹی میں الیکشن نائٹ پارٹی کی میزبانی کریں گی۔

  16. امریکی صدارتی انتخاب: ورجینیا میں لولی پاپ اور چاکلیٹ بسکٹس سے ووٹرز کی تواضح

    امریکی ریاست ورجینیا کے شہر الیگزینڈریا میں زیادہ تر لوگ ڈیموکریٹس کو ووٹ دیتے ہیں۔

    اس شہر میں ایک پولنگ سٹیشن کے باہر ہم لوگوں کو آتا جاتا دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ الیگزینڈریا کے لوگ کافی منظم ہیں اور وہ ہمیشہ ہی جلدی ووٹ ڈالنے گھروں سے نکلتے ہیں۔

    رپبلکن اور ڈیموکریٹ جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رضاکار بھی پولنگ سٹیشن کے باہر موجود ہیں تاکہ وہ ووٹرز کی رہنمائی کر سکیں۔

    رپبلکن رضاکار ایک طرف میز سجائے بیٹھے ہیں اور آنے جانے والے ووٹرز کو لولی پاپ پیش کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ڈیموکریٹ امیدوار چاکلیٹ بسکٹس سے لوگوں کو اپنی طرف مائل کر رہے ہیں۔

  17. فلوریڈا میں ’پُراعتماد‘ ٹرمپ نے اپنا ووٹ ڈال دیا, کیلا ایپسٹین، بی بی سی نیوز فلوریڈا

    رپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ پام سپرنگز، فلوریڈا میں اپنا ووٹ ڈال دیا ہے۔

    ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں بہت پُراعتماد ہوں اور ایسا لگتا ہے کہ رپبلکن اپنی طاقت دکھا چکے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ انھیں یہ دیکھ کر ’فخر‘ محسوس ہو رہا ہے کہ یہاں ووٹرز کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہیں۔

    گذشتہ رات مشیگن میں اپنی ریلی کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم گذشتہ رات دیر سے واپس آئے تھے۔‘

    خیال رہے کملا ہیرس نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ انھوں نے اپنا ووٹ میل کے ذریعے ارسال کیا ہے۔

    صدارتی امیدوار کی موجودگی میں ووٹ ڈال کر کیسا لگا؟

    آسمانی رنگ کی پتلون میں ملبوس ایک خاتون نے اُسی وقت اپنا ووٹ ووٹ ڈالا جب رپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ ووٹ کاسٹ کر رہے تھے۔

    وہاں موجود حکام نے اس خاتون کا بیگ چیک کیا اور اس کے بعد ہی انھیں پولنگ سٹیشن کے اندر جانے کی اجازت دی گئی۔

    انھوں نے فلوریڈا میں بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے کملا ہیرس کو ووٹ دیا ہے۔

  18. بم کی موجودگی کی غیرمستند اطلاعات: جارجیا میں پولنگ سٹیشن خالی کروالیے گئے

    امریکی ریاست جارجیا کی فُلٹن کاؤنٹی میں پولنگ کے پانچ مقامات پر بم کی موجوگی کی غیرمستند اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر سی بی ایس کے مطابق فُلٹن کاؤنٹی میں الیکشن ڈائریکٹر نڈائن ولیمز کا کہنا ہے کہ بم کی موجودگی کی اطلاعات کے سببدو مقامات پر پولنگ سٹیشنز کو آدھے گھنٹے کے لیے عارضی طور پر خالی کروایا گیا تھا۔

    فُلٹن میں حکام کوشش کر رہے ہیں کہ عدالتی حکم کے ذریعے ووٹنگ کا وقت بڑھوایا جائے۔

  19. کملا ہیرس بمقابلہ ڈونلڈ ٹرمپ: پولنگ ڈیٹا کے مطابق سوئنگ ریاستوں میں کون آگے ہے؟

    امریکہ کی تمام سوئنگ ریاستوں میں صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ شروع ہو چکی ہے اور پولنگ ڈیٹا کے مطابق کملا ہیرس کو پینسلوینیا جیسی اہم ریاست میں معمولی برتری حاصل ہو چکی ہے۔

    امریکی سیاسی پنڈتوں کے مطابق پینسلوینیا وہ سوئنگ ریاست ہے جو صدارتی انتخاب میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس دونوں نے ہی یہاں حالیہ ہفتوں میں سب سے زیادہ وقت گزارا ہے۔

    ساتوں سوئنگ ریاستوں میں ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس دونوں کو ایک دوسرے پر معمولی برتری ہی حاصل ہے۔ اسی سبب ابھی یہ کہنا تقریباً ناممکن ہے کہ اگلا امریکی صدر کون ہوگا۔

    پولنگ ڈیٹا کے مطابق نیواڈا، جارجیا، شمالی کیرولینا اور ایریزونا میں ٹرمپ، جبکہ مشی گن اور وسکونسن میں کملا ہیرس آگے ہیں۔

  20. بدامنی کا خدشہ: امریکی نیشنل گارڈ ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کو تیار, سارہ سمتھ، ایڈیٹر برائی شمالی امریکہ

    امریکہ میں صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ جاری ہے اور وائٹ ہاؤس کا اگلا مکین کون ہوگا اس حوالے سے صورتحال تاحال غیرواضح ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس دونوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے اور کسی کو بھی نہیں معلوم کہ اس انتخاب میں کون فاتح ہوگا۔

    ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ صدارتی انتخاب کے حتمی نتائج کب سامنے آئیں گے کیونکہ پینسلوینیا جیسی سوئنگ ریاستوں سے نتائج آنے میں اکثر کئی دن بھی لگ جاتے ہیں۔

    یہاں یہ خدشات بھی پائے جاتے ہیں کہ پتا نہیں لوگ الیکشن کے نتائج پر کیسے ردِ عمل کا اظہار کریں گے۔ واشگٹن، اوریگون اور نیواڈا میں امریکی نیشنل گارڈ کسی بھی قسم کی بدامنی سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

    ووٹرز کا کہنا ہے کہ وہ انتخابی عمل کے دوران انتہائی تھکاوٹ کا شکار ہوگئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ صدارتی انتخاب اب بس اختتام کو پہنچیں۔

    امریکہ آج پہلے سے زیادہ منقسم ہے اور ایسے میں یہاں شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔