آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیئو کے قریب روسی بمباری میں شہریوں کی ہلاکتیں، پولینڈ میں 10 لاکھ سے زیادہ پناہ گزین داخل
اطلاعات کے مطابق یوکرینی دارالحکومت کے قریب ایک علاقے میں روسی افواج کی شیلنگ سے ’ایک ہی خاندان کے تین افراد‘ ہلاک ہوگئے ہیں۔ ادھر ماریوپل کی سٹی کونسل کا کہنا ہے کہ اس جنگ زدہ شہر میں سیزفائر اور شہریوں کے انخلا کا عمل معطل ہوگیا ہے۔
لائیو کوریج
ماریوپل میئر: ’ہم گلیوں سے زخمیوں کو بھی نہیں اٹھا سکتے‘, ول رونن، بی بی سی ماسکو
بحیرہ اسود کے ساحل پر موجود یوکرین کے شہر ماریوپل پر روسی فوج کی جانب سے اب تک متعدد حملے ہو چکے ہیں۔
ماریوپل کے میئر نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’ہم گلیوں اور اپارٹمنٹس سے زخمیوں کو بھی نہیں اٹھا سکتے کیونکہ بمباری رکنے کا نام نہیں لیتی۔‘
روس کی وزارت دفاع نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ’حفاظتی راستے‘ کے ذریعے شہر چھوڑ دیں۔
آج روس نواز باغیوں کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ’اگر یوکرینی افواج نے ہتھیار نہ ڈالے تو انھیں ہدف بنا کر نشانہ بنایا جائے گا۔‘
برطانوی ملٹری انٹیلیجنس: ’کیئو کی جانب روسی قافلے کی پیش قدمی انتہائی آہستہ ہے‘
برطانوی ملٹری انٹیلیجنس کے ایک اندازے کے مطابق گذشتہ تین روز سے یوکرین کے دارالحکومت کیئو کی جانب جاری روسی فوجی قافلے کی پیش قدمی انتہائی آہستہ ہے۔
وزارت دفاع کی تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق خارکیو، چرنیہیو اور ماریوپل شہر یوکرین کے کنٹرول میں ہیں۔
اس لڑائی میں روسی فوجیوں کی اموات کے حوالے سے برطانیہ کی پیشگوئی ہے کہ یہ تعداد اصل میں ’کہیں زیادہ‘ ہے۔
واضح رہے کہ روس کے مطابق یوکرین میں جاری جنگ میں اس کے 498 فوجی ہلاک جبکہ 1597 زخمی ہوئے ہیں۔
بریکنگ, سرمائی پیرالمپکس 2022: روس اور بیلاروس کے کھلاڑیوں پر پابندی عائد
بین الاقوامی پیرالمپکس کمیٹی نے کہا ہے کہ روس اور بیلاروس کے ایتھلیٹس کو سنہ 2022 میں بیجنگ میں منعقد ہونے والے سرمائی پیرالمپکس میں شرکت کی اجازت نہیں ہو گی۔
روسی حملے کا آٹھواں روز: یوکرین میں تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟
روس نے گذشتہ ہفتے جمعرات کے روز یوکرین پر حملہ کیا تھا۔ روسی حملے کے آٹھویں روز یوکرین کی تازہ ترین صورتحال کیا ہے:
کیئو:
گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران چار زوردار دھماکے سنے گئے ہیں جن کو ایک عینی شاہد نے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ بھی کیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق انھیں اپنے بنکر میں بھی ان دھماکوں کی آواز سنائی دی۔
امریکہ کے ایک دفاعی اہلکار کے مطابق روسی فوج کا ایک بڑا قافلہ ایندھن اور خوراک کی کمی کے باعث کیئو کے نزدیک ’رک‘ گیا ہے۔
جنوب:
روسی فوج نے یوکرین کے اہم شہر خیرسون پر قبضہ کر لیا ہے۔
شہر ماریوپل کے ڈپٹی مئیر کے مطابق گھنٹوں جاری رہنے والی بمباری میں سینکڑوں افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔
شمال مشرق:
یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارخیو میں بھی شدید بمباری ہوئی ہے۔
وہ معاملہ جس پر انڈیا اور پاکستان بظاہر ایک صفحے پر نظر آ رہے ہیں
ماریوپل ابھی بھی ہمارے قبضے میں ہے: یوکرینی فوج
یوکرین کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کا جنوبی شہر ماریوپل ابھی بھی ان کے قبضے میں ہے جبکہ روسی افواج کی پیش قدمی ’ناکام‘ رہی ہے۔
یوکرینی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے اس بیان کے مطابق دارالحکومت کیئو کے قریبی علاقوں میں روسی فوج کے حملے جاری ہیں۔
بیان کے مطابق روس کے چھاتہ بردار فوجیوں کو بحیرہ اسود کے علاقے میں دیکھا گیا ہے جہاں سے وہ ملک کے جنوبی بندرگاہی علاقے اوڈیسا کی جانب جا رہے ہیں۔
یوکرینی فوج کے اس بیان میں انٹرنیٹ صارفن کو ’بمباری سے متعلق معلومات‘ شیئر کرنے سے خبردار کیا گیا ہے کیونکہ اس سے روسی فوجیوں کو مدد مل سکتی ہے۔
بی بی سی کی جانب سے ان دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی۔
روس، یوکرین تنازع: روس نے یوکرین پر حملہ کیوں کیا اور صدر پوتن چاہتے کیا ہیں؟
روس نے پڑوسی ملک یوکرین پر زمینی، سمندری اور ہوائی راستوں سے تباہ کن حملہ کرر کھا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے مہینوں تک یوکرین پر حملے کی منصوبہ بندی سے انکار کرنے کے بعد گذشتہ ہفتے یوکرین کے ڈونباس خطے میں ’خصوصی فوجی کارروائی‘ کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔
روس کی جانب سے یوکرین میں فوجی کارروائی کا قدم صدر پوتن کی جانب سے ’امن بحال رکھنے کی خاطر‘ یوکرین میں باغیوں کے زیرِ اثر دو مشرقی علاقوں میں فوج بھیجنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا۔
اب جب یوکرین میں مرنے والوں کی تعداد میں روز اضافہ ہو رہا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ انھوں نے یورپ کے امن کو تباہ کر دیا ہے اور یوکرین میں جاری جنگ یورپ کے سکیورٹی ڈھانچے کو تار تار کر سکتی ہے۔
امریکہ کا پوتن سے ’فوری طور پر خونریزی روکنے‘ کا مطالبہ
امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے ’فوری طور پر خونریزی روکنے‘ اور یوکرین سے اپنی افواج واپس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے بیان میں امریکی محکمہ خارجہ نے روس پر ’میڈیا کی آزادی پر حملے‘ کا الزام بھی عائد کیا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں روس پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹاگرام تک رسائی کو محدود کرنے کی نشاندہی بھی کی۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس کی جانب سے یوکرین کے اہم شہروں پر حملوں کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔
یوکرین کے دارالحکومت کیئو سے دھماکوں کی زوردار آوازیں
یوکرین کے دارالحکومت کیئو اور دوسرے شہروں میں بدھ کی رات سے جمعرات کی صبح تک دھماکوں کی زوردار آوازیں سنی گئی ہیں۔
مقامی وقت کے مطابق رات تین بجے کے قریب چار زوردار دھماکوں کی آواز سنی گئی جن کی وجہ سے آسمان روشن ہو گیا تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس حملے کا ہدف کیا تھا یا اس میں کتنا جانی نقصان ہوا۔
ان مناظر کو ایک عینی شاہد نے اپنے کیمرے میں نظر بند بھی کیا۔
یہ دھماکے کیئو کے مرکزی ریلوے سٹیشن کے نزدیک ہونے والے ایک بڑے دھماکے کے کچھ گھنٹے بعد ہوئے۔
یہ دھماکے اس مقام کے نزدیک ہوئے ہیں جہاں ہزاروں یوکرینی شہری روس کی بمباری سے پچنے کے لیے پناہ لیے ہوئے ہیں۔
یوکرین دنیا کی تیسری بڑی جوہری طاقت سے موجودہ حالت تک کیسے پہنچا؟
انڈیا: ’ہمارے طلبا کو یوکرین میں یرغمال نہیں بنایا گیا‘
انڈین حکومت نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے جن کے مطابق انڈین طلبا کو یوکرین میں یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔
روس نے کہا تھا کہ یوکرین کی مسلح افواج ان طلبا کو ’انسانی ڈھال‘ کے طور پر استعمال کر رہی ہیں تاہم جمعرات کے روز جاری ایک بیان میں انڈیا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ انھیں یوکرین سے ’کسی بھی طالب علم کو یرغمال بنانے سے متعلق اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انڈیا نے یوکرینی حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ خارخیو اور ملک کے مغربی علاقوں میں موجود طلبا کو نکالنے کے لیے خصوصی ٹرینوں کا بندوبست کریں۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ ہزاروں انڈین طلبا ابی بھی خارخیو میں موجود ہیں۔
یوکرین کے شہر ازیئم میں عام شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع
یوکرین کے شہر خارخیو کے جنوب مشرق میں دو گھنٹے کے فاصلے پر واقع شہر ازیئم کے ایک حکومتی اہلکار نے بتایا ہے کہروس کے فضائی حملے میں دو بچوں سمیت آٹھ شہری مارے گئے ہیں۔
ڈپٹی میئر دلادیمیر میتسوکن نے بتایا کہ شہر کے مرکزی حصے کو کافی نقصان پہنچا ہے جبکہ ایک عمارت پر حملے کے نتیجے میں پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
اس سے قبل دلادیمیر میتسوکن نے فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ایک رہائشی عمارت پر بمباری میں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
روس کے شہر سینٹ پیٹرسبرگ میں یوکرین پر حملے کے خلاف ایک بار پھر احتجاج شروع
روس کے شہر سینٹ پیٹرسبرگ میں یوکرین پر حملے کے خلاف ایک بار پھر احتجاج شروع ہو گیا ہے۔
کچھ دن پہلے ہوئے احتجاج میں سکیورٹی اہلکاروں نے تشدد کے ذریعے مظاہرین کو منتشر کیا جبکہ درجنوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔
حالیہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب روسی صدر پوتن کے شدید مخالف الیکسی نوالنی، جو اس وقت جیل میں ہیں، نے فوجی حملے کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر ریلیاں نکالنے پر زور دیا۔ الیکسی نوالنی نے کہا کہ روس ’خوفزدہ بزدلوں کی قوم نہیں ہونی چاہیے۔‘
روس نے یوکرین کی ’تباہ شدہ‘ فوجی تنصیبات سے متعلق اعدادوشمار جارے کر دیے
روس کی وزارت دفاع نے یوکرین کی ’تباہ شدہ‘ فوجی تنصیبات سے متعلق اعدادوشمار جارے کیے ہیں۔
روس کی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف کے روسی ٹی وی پر چلنے والے ایک بیان کے مطابق حملے کے بعد سے اب تک یوکرین اپنے 1533 ’اثاثوں‘ سے محروم ہوا ہے جس میں 54 کمانڈ اینڈ کنٹرول پوسٹس، 39 ایس 300 اور بک ایم ون میزائلوں کے علاوہ 52 رڈار، فضا میں گردش کرتے 47 ایئر کرافٹ جبکہ زمین پر موجود 13 طیاروں کو تباہ کیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق روس نے یوکرین کے 484 ٹینک، 63 لانچ راکٹ سسٹم، 217 آرٹلری بندوقیں، 226 فوجی گاڑیاں اور 47 ڈرون بھی تباہ کیے ہیں تاہم اس رپورٹ میں روس کو ہونے والے نقصان سے متعلق اعدادوشمار جاری نہیں کیے گئے۔
بریکنگ, روس کے خلاف ممکنہ جنگی جرائم کے سلسلے میں تفتیش کا آغاز
یوکرین میں روس کی جانب سے مبینہ طور پر عام شہریوں پر بمباری کے الزامات کے بعد، ممکنہ جنگی جرائم کے سلسلے میں تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے
عالمی عدالت انصاف کے چیف استغاثہ نے کہا ہے کہ انسانیت کے خلاف مبینہ جرائم کے شواہد جمع کیے گئے ہیں۔
ان تحقیقات کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب 38 ممالک نے مل کر یوکرین کی صورتحال سے متعلق پراسیکیوٹر دفتر سے رجوع کیا۔
یوکرین کا دارالحکومت کیئو جبکہ شہر خارخیو اور خیرسون شدید بمبادری کی ذد میں آئے ہیں۔
واضح رہے کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی روس پر پہلے ہی جنگی جرائم کا الزام عائد کر چکے ہیں۔
روسی افواج نے یوکرین کے اہم شہر خيرسون پر کنٹرول حاصل کر لیا
روسی افواج نے یوکرین کے اہم شہر خیرسون پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
خرسون کے میئر ایگور کولیخائیف نے کہا ہے کہ روسی افواج شہر کی کونسل بلڈنگ میں داخل ہو چکی ہیں اور شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد خیرسون وہ پہلا اہم شہر ہے، جس پر روسی افواج نے قبضہ کیا ہے۔
’یوکرین سے 1250 پاکستانی شہریوں کا انخلا مکمل‘
یوکرین میں پاکستانی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ اس ملک میں پاکستانی برادری کی تعداد 4000 تھی اور 3000 پاکستانی طلبہ مقیم تھے جبکہ ان کے انخلا کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
سفارتخانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ان میں سے اکثر پاکستانیوں نے 24 فروری سے قبل سفارتخانے کی ہدایت پر پہلے ہی یوکرین چھوڑ دیا تھا۔‘
اس کے مطابق 1250 پاکستانی شہریوں کا یوکرین سے انخلا مکمل کر لیا گیا ہے جن میں طلبہ، برادری اور سفارتی عملے کے خاندان شامل ہیں۔ چھ افراد یوکرین-ہنگری کی سرحد کی جانب بڑھ رہے ہیں، 19 افراد یوکرین-رومینیا کی سرحد پر موجود ہیں اور چار افراد پولینڈ کی سرحد کی طرف گامزن ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ خارخیو سے تمام پاکستانیوں کا انخلا مکمل کر لیا گیا ہے۔ جبکہ ترنوپل میں طلبہ کو رہائش اور ٹرانسپورٹ فراہم کیا گیا ہے۔
بریکنگ, اقوامِ متحدہ کی روسی حملے کی مذمت، افواج کے انخلا کا مطالبہ
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں روس کے یوکرین پر حملے کی مذمت اور اس کی افواج کے فوری انخلا سے متعلق ایک قرار داد منظور کی گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے بلائے گئے جنرل اسمبلی سیشن میں اس قرارداد کے حق میں جنرل اسمبلی کے 193 میں سے 141 رکن ممالک نے ووٹ کیا ہے۔
اس ووٹ سے قبل اقوامِ متحدہ میں یوکرین کے سفیر سرجی کسلٹسیا نے کہا کہ ’روس نے یوکرین سے موجود ہونے کا حق چھین لیا ہے۔
روسی سفیر ویسیلی نیبنزیا کا کہنا تھا کہ روس مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسند تنازع حل کروانا چاہتا ہے اور انھوں نے مغربی ممالک پر الزام عائد کیا کہ وہ ’کھلی اور مذموم دھمکیاں‘ دے رہے ہیں تاکہ ممالک اس قرار داد پر ووٹ دے سکیں۔
یہ 1997 کے بعد اسمبلی کی پہلی ہنگامی میٹنگ ہے۔
بریکنگ, ’قریب 500 روسی فوجی ہلاک ہوئے ہیں‘, ماسکو کا دعویٰ
روس کی وزارت دفاع نے یوکرین میں حملے کے بعد پہلی مرتبہ اپنے فوجیوں کی ہلاکت سے متعلق اعداد و شمار دیے ہیں۔
روسی میڈیا کے مطابق اس کا کہنا ہے کہ اب تک 498 روسی فوجی مارے گئے ہیں اور 1597 زخمی ہوئے ہیں۔
یہ دعویٰ یوکرینی جائزے سے بہت کم ہے۔ کیئو کا دعویٰ ہے کہ اس نے 5940 روسی فوجی ہلاک کیے ہیں۔
تاہم یوکرین کی حکومت نے اپنے فوجیوں کی اموات سے متعلق اعداد و شمار نہیں دیے ہیں۔
بی بی سی نے روسی اور یوکرینی دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے۔ تاہم برطانیہ کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ماسکو کی افواج کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یوکرینی ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ اب تک 2000 شہری اور ریسیکو عملے کے 10 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔