جنوبی بندرگاہی شہر ماریوپل شدید گولہ باری کی زد میں ہے۔
شہر کے ڈپٹی میئر نے نیٹو رہنماؤں سے یوکرین میں فوج بھیجنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک وہ ملک کو صحرا نہ بنا دے اور بہت سے شہریوں کو ہلاک نہ کر دے۔
سرگئی اورلوف نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام میں کہا: ’ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ پوتن کو ہمارے شہریوں کو مارنے سے روکا جا سکے جب تک کہ نیٹو بیدار ہو کر یہ سمجھ نہ لے کہ یہ کوئی علاقائی تنازعہ نہیں ہے -‘
’یہ جمہوریت کے خلاف جنگ ہے، آزادی کے خلاف ہے، نیٹب ممالک کے خلاف جنگ ہے، یہ یورپ کی سب سے بڑی قوم کے خلاف جنگ ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا ’نیٹو رہنماؤں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ پوٹن نہیں رکیں گے، یہ رہنما خوفزدہ ہیں اور یہ افسوس کی بات ہے۔‘
’ہم امید کرتے ہیں کہ ایک دن نیٹو رہنما سمجھ جائیں گے کہ پوتن کو روکنے کے لیے یوکرین کو براہ راست فوجی مدد فراہم کرنا بہت ضروری ہے۔‘
انھوں نے کہا ’یا کم از کم یوکرین میں نو فلائی زون کا اطلاق کر دیں تاکہ ہمیں فضائی حملوں کے خطرے سے بچایا جا سکے۔‘
نو فلائی زون کیا ہوتا ہے؟
نو فلائی زون سے مراد یہ ہے کہ کسی خطے کی فضائی حدود کے اندر خاص قسم کے طیارے پرواز نہیں کر سکتے۔ یہ پابندی عموماً کسی ملک کے خاص مقامات کو فضائی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے لگائی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ کھیلوں کے مقابلوں اور بڑے عوامی اجتماعات کی صورت میں بھی نو فلائی زون کی پابندی عارضی طور پر لگائی جا سکتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد کسی خاص حدود کے اندر طیاروں کو داخلے سے روکنا ہوتا ہے، تاکہ ان مقامات کو حملوں اور دشمن کی جانب سے فضائی نگرانی سے محفوظ رکھا جا سکے۔
برطانیہ کے ایک وزیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر نیٹو ااتحاد نے یوکرین میں نو فلائی زون کا اطلاق کیا تو اس سے ’جوہری جنگ‘ کا آغاز ہو سکتا ہے۔
اس قسم کی پابندی کا اطلاق فوجی طاقت اور ذرائع سے کیا جاتا ہے، جیسے فوجی نگرانی، فوجی تنصیبات پر ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے دشمن کی فوج پر حملہ (پری ایمپٹِو سٹرائیک) اور ایسے طیاروں کو مار گرانا جو اس پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نو فلائی زون میں داخل ہو جائیں۔
اگر یوکرین میں نوفلائی زون کا اطلاق کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ فوجی، خاص طور پر اگر ضروری ہوا تو نیٹو اتحاد کی فوجیں یوکرین کی فضاؤں میں اڑنے والے روسی طیاروں کو براہ راست نشانہ بنا سکیں گی۔
مغرب یوکرین میں نو فلائی زون کا اطلاق کیوں نہیں کرے گا؟
اگر نیٹو فورسز روسی طیاروں یا روسی جنگی آلات کے ساتھ براہ راست ٹکراتی ہیں تو اس سے لڑائی میں بہت تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس حوالے سے امریکی فضائیہ کے سابق سینیئر افسر، جنرل فلپ بریڈلوو نے ایک جریدے کو بتایا تھا کہ ’آپ صرف یہ نہیں کہہ دیتے کہ فلاں علاقہ نو فلائی زون ہو گیا ہے، بلکہ آپ کو وہاں نو فلائی زون کا طاقت کے زور پر اطلاق کرنا پڑتا ہے۔‘
جنرل فلپ بریڈلوو سنہ 2013 سے 2016 تک نیٹو کے سپریم کمانڈر بھی رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ وہ بھی یوکرین میں نو فلائی زون کا اطلاق چاہتے ہیں لیکن یہ ایک بہت خطرناک فیصلہ ہو گا۔
’یہ جنگ چھیڑنے کے مترداف ہو گا۔ اگر ہم (یوکرین کو) نو فلائی زون قرار دینے جا رہے ہیں، تو ہمیں دشمن کی صلاحیت کو ختم کرنا ہو گا کہ وہ اس علاقے میں حملہ نہ کر سکے اور ہم اپنے نو فلائی زون پر عمل کروا سکیں۔‘ مزید پڑھیے >>