‘پوتن روس نہیں ہے‘، روسی اپوزیشن رہنما الیکسی نوالنی کی روزانہ مظاہروں کال
جیل میں قید روسی اپوزیشن رہنما الیکسی نوالنی نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں روس اور دنیا بھر میں روزانہ کی بنیادوں پر مظاہروں کا مطالبہ کیا ہے۔
الیکسی نوالنی کو ماضی میں زہر دیا تھا تاہم وہ اس حملے میں بچ گئے تھے اور کریملن کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ اس کے بعد وہ ایک سال سے جیل میں قید ہیں۔
گذشتہ ماہ ان پر ایک نیا مقدمہ شروع کیا گیا ہے جس میں انھیں مزید ایک دہائی تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
انھوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ‘ہم ۔۔ روس ۔۔ ایک پرامن ملک ہونا چاہتے ہیں۔ افسوس کے اب شاید ہی کوئی ہمیں وہ (پرامن) پکارے۔‘
مگر روسیوں کو ‘کم از کم ایک خوفزدہ خاموش قوم نہیں بننا چاہیے جو کہ ایک جنگ کو نوٹس ہی نہ کرنے کا ڈرامہ کریں۔‘
انھوں نے کہا کہ ‘یہ 21ویں صدی کی تیسری دہائی ہے اور ہم ٹینکوں تلے اور بمباری کا نشانہ بننے گھروں میں لوگوں کی خبریں سن رہے ہیں۔ ہم اپنے ٹی وی پر ایک جوہری جنگ کے حقیقی خطرات دیکھ سکتے ہیں۔‘