آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کیئو کے قریب روسی بمباری میں شہریوں کی ہلاکتیں، پولینڈ میں 10 لاکھ سے زیادہ پناہ گزین داخل

اطلاعات کے مطابق یوکرینی دارالحکومت کے قریب ایک علاقے میں روسی افواج کی شیلنگ سے ’ایک ہی خاندان کے تین افراد‘ ہلاک ہوگئے ہیں۔ ادھر ماریوپل کی سٹی کونسل کا کہنا ہے کہ اس جنگ زدہ شہر میں سیزفائر اور شہریوں کے انخلا کا عمل معطل ہوگیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. امریکہ میں روسی تیل کی برآمد پر پابندی لگانے پر اتفاق رائے

    امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں جب کہا کہ روس کو اپنے اقدامات کے نتائج برداشت کرنا ہوں گے تو انھیں کافی داد ملی اور کانگریس میں دونوں جماعتوں ڈیموکریٹک اور ریپبلکنز نے ان کے لیے تالیاں بجائیں۔ صدر بائئڈن نے امریکی فضائی حدود میں سے روسی طیاروں کے گزرنے پر پابندی لگا دی ہے اور انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ کریملن سے منسلک اہم شخصیات کے اثاثاجات کو نشانہ بنائیں گے۔

    ادھر دونوں سیاسی جماعتوں کے سینیئر اراکین نے وائٹ ہاؤس پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ روس سے تیل برآمد کرنے پر پابندی لگا دیں۔ تاہم ریپبلکن پارٹی کے اراکین نے اس کو بطور صدر بائیڈن کی تقریر پر ایک تنقید استعمال کیا ہے جہاں وہ کہہ رہے ہیں کہ تنازعے کے بیچ بھی امریکہ میں روس سے تیل برآمد کرنے کی اجازت ہے۔

    ادھر ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین بھی روس سے تیل برآمد کرنے پر پابندی کے حامی ہیں تاہم وہ امریکہ میں تیل کی داخلی پیداوار بڑھانے کی اجازت نہیں دینا چاہتے۔

  2. ’پوتن نے آزاد دنیا کی بنیاد ہلانے کی کوشش کی لیکن وہ غلطی پر ہیں‘: بائیڈن

    روس یوکرین تنازعے میں صورتحال اب بھی سنگین ہے اور ایسے میں امریکی صدر نے اپنے سٹیٹ آف یونین خطاب میں یوکرین پر روسی حملے کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’چھ دن پہلے پوتن نے یہ سوچتے ہوئے کہ وہ دنیا کو اپنے جارحانہ عزائم کے تحت چلا لیں گے آزاد دنیا کی بنیاد ہلانے کی کوشش کی۔‘

    ’لیکن وہ بہت غلطی پر ہیں۔‘

    انھوں نے یوکرینی عوام کو ’طاقت کی وہ دیوار قرار دیا جس کا پوتن نے کبھی سوچا بھی نہیں۔‘

    انھوں نے اپنی تقریر میں یوکرینی عوام کے بلند حوصلے اور اپنے یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ’ان کی جرات، پختہ ارادی اور بے خوفی نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔‘

    انھوں نے خطاب کے دوران چیمبر میں بیٹھے یوکرینی سفیر سے کھڑے ہونے اور جانے جانے کا کہا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’آئیں ہم سب مل کر آج دنیا اور یوکرین کو ایک پیغام بھیجیں۔‘

  3. یوکرین کے جنوبی شہر خیرسون پر روسی فوج کے قبضے کی اطلاعات

    یوکرین میں جاری جنگ کے دوران ملک کا جنوبی شہر خیرسون پر روسی فوجیوں کے قبضہ کرنے کی خبریں آ رہی ہیں۔

    خیرسون کی آبادی تقریباً ڈھائی لاکھ ہے۔

    خیرسون کے میئر قومی حکومت اور امدادی اداروں سے امداد کی اپیل کر رہے ہیں تاکہ خوراک اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور اور زخمیوں کو نکالا جا سکے۔

    مقامی کونسل کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ دو سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

    دریں اثنا، ملک کے شمالی مغربی علاقے میں ایمرجنسی سروسز کے مدد گار روس کی جانب سے کیے جانے والے میزائل حملوں کے باعث رہائشی عمارتوں میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

  4. یوکرین میں ہلاک ہونے والا انڈین طالبعلم بنکر سے نکل کر کھانا لینے گیا تھا

  5. ’آمر جب سبق نہیں سیکھتے تو وہ مزید افراتفری پھیلاتے ہیں‘: جو بائیڈن

    امریکی صدر جو بائیڈن منگل کی رات کانگریس میں اپنی پہلی پرائم ٹائم سٹیٹ آف دی یونین تقریر کرنے والے ہیں۔

    امریکی صدارتی دفتر وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان کی تقریر کے جاری کردہ متن کے مطابق امریکی صدر اپنے خطاب میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے اپنے ہمسائے یوکرین پر حملہ کرنے کے فیصلے کی مذمت کریں گے۔

    ان کی تقریر کے متن کے مطابق وہ کہیں گے کہ ’ہم نے اپنی تاریخ سے سبق سیکھا ہے کہ جب آمر اپنی جارحیت کی قیمت نہیں اٹھاتے تو وہ مزید افراتفری پھیلاتے ہیں۔‘

    ’وہ اپنے عزائم کے ساتھ آگے بڑھتے رہتے ہیں اور امریکہ اور دنیا کے لیے اخراجات اور خطرات بڑھتے رہتے ہیں۔ ‘

    وہ اپنی تقریر میں نیٹو اتحاد کی تعریف بھی یہ کہتے ہوئے کریں گے کہ ’اسے جنگ عظیم دوئم کے بعد یورپ میں امن اور استحکام لانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

    وہ امریکی قانون سازوں اور دیگر معزز اراکین کو بتائیں گے کہ ’پوتن کا یوکرین پر حملہ کرنے کا منصوبہ سوچا سمجھا اور بلااشتعال تھا۔ انھوں نے سفارتی کوشش کو مسترد کیا اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مغرب اور نیٹو اس پر ردعمل نہیں دیں گے۔ اور وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ وہ ہماری صفوں میں تفریق پیدا کر سکتے ہیں۔‘

    ’مگر پوتن غلطی پر ہیں اور ہم تیار ہیں۔‘

  6. مغربی ممالک نے اب تک روس پر کون سی پابندیاں عائد کی ہیں اور اس کا کتنا معاشی نقصان ہو رہا ہے؟

  7. عالمی بینک یوکرین کو تین ارب ڈالر کی امداد فراہم کرے گا

    ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ وہ آیندہ چند ماہ میں یوکرین کو تین ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرے گا۔ ان میں سے کم از کم 350 ملین ڈالرز اگلے ہفتے دیے جائیں گے۔

    ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف یوکرین کی مالی امداد کی تیاری کر رہے ہیں۔

    آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ وہ فوری طور پر یوکرین کی مالی امداد کی درخواست پر غور کرے گا۔ عالمی بینک نے امید دلائی ہے کہ وہ جون تک 2.2 بلین ڈالرز کی امداد فراہم کر سکے گا

    ایک مشترکہ بیان میں دونوں عالمی اداروں کے سربراہان کا کہنا تھا کہ روس کے یوکرین پر حملے کے ممکنہ مالی اثرات کے بارے میں فکر مند ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے اشیا خورو نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، معاشی منڈیوں میں مندی کا رحجان ہے اور عالمی سطح پر مزید مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے۔

  8. ’کچھ روسیوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں لیکن صورتحال پریشان کن ہے‘

    ایک سینیئر امریکی دفاعی اہلکار نے روسی مداخلت کا جائزہ لیا ہے کہ اسے پینٹاگون کس طرح دیکھتا ہے۔

    ان کے مطابق کچھ روسیوں کا حوصلہ کم ہوا ہے۔ روس نے اب تک چھ روز کے دوران فضائی برتری حاصل نہیں کی ہے اور ساحلی شہر میرپول پر قبضہ نہیں کیا۔ حکام کے مطابق کچھ روسی دستوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

    تاہم روسی دستوں نے بيرديانسک اور مغرب کی جانب میٹرولپول پر قبضہ کر لیا ہے۔

    پینٹاگون کا کہنا ہے کہ:

    • روس نے قریب 400 میزائل داغے ہیں تاہم یوکرین کا اینٹی میزائل دفاعی نظام کارآمد ثابت ہوا ہے
    • تھرموبیرک ہتھیاروں کے استعمال کے لیے لانچر یوکرین میں موجود ہیں مگر امریکی انٹیلی جنس حکام نے تصدق نہیں کی کہ آیا یوکرین میں تھرموبیرک ہتھیار موجود ہیں
    • قریب 80 فیصد روسی دستے جنھوں نے یوکرین کو گھیرا ہوا تھا وہ ملک میں داخل ہوچکے ہیں
    • ایسی علامات ملی ہیں کہ کچھ روسی دستوں کے پاس خوراک اور ایندھن ختم ہوگیا ہے

    ملک میں امدادی سامان داخل ہو رہا ہے۔ لیکن حکام کا کہنا ہے کہ نو فلائی زون بنانا ممکنہ آپشنز میں سے نہیں ہے۔

  9. زیلنسکی اور بائیڈن کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ 30 منٹ تک فون پر بات چیت کی ہے۔

    صدر زیلنسکی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ دونوں نے روس پر پابندیوں اور یوکرین کے لیے دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں جلد از جلد حملہ آور کو روکنا چاہیے۔‘

  10. ’مجھے اب خدا پر نہیں مگر یوکرینی افواج پر یقین ہے‘

    روسی افواج یوکرین کے دارالحکومت کیئو کی طرف پیش قدمی کر رہی ہیں۔ اس دوران ہماری بات اینا سے ہوئی ہے جو ایئر پورٹ اور کچھ فوجی اڈوں کے قریب علاقے سلومیاسکی میں رہتی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے فلیٹ کے ایک کونے میں بستر رکھا ہے اور انھیں امید ہے کہ اس عمارت کی دیواریں انھیں فائرنگ یا راکٹ سے محفوظ رکھیں گی۔

    وہ کہتی ہیں کہ ’میرے پاس یہاں بجلی ہے۔ میں نے ٹیبل لیمپ جلایا ہوا ہے۔ میرے پاس ایک سوٹ کیس میں کپڑے اور تمام ضروری اشیا ہیں جو میں لے کر نکل سکتی ہوں۔‘

    ہینا پیر کی شب اپنے کتے کو واک پر لے گئی تھیں مگر انھوں نے دھماکوں کی آواز سنی اور کیئو کی انتظامیہ نے پیغام دیا کہ وہاں راکٹ حملوں کا خدشہ ہے۔ اس لیے وہ گھر لوٹ گئیں۔

    وہ کہتی ہیں کہ ’ہم ڈرے ہوئے ہیں لیکن سچ کہوں تو میں کیئو اور یوکرین بھر کے بہت سے لوگوں کے بارے میں سوچتی ہوں۔ ہم نے اس کی عادت ڈالنا شروع کر دی ہے۔

    ’کیئو کے قریب بہت سے علاقے تباہ ہوگئے ہیں اس لیے میں خوراک اور دیگر سامان لانے سے متعلق پریشان ہوں۔‘

    وہ کیئو کی طرف بڑھتے اس بڑے روسی قافلے سے بھی ’بہت ڈری‘ ہوئی ہیں۔

    ’لیکن یوکرین کی مسلح افواج کی بدولت میں گذشتہ دو دنوں کے دوران سو سکی ہوں۔ مجھے اب خدا پر یقین نہیں لیکن یوکرینی مسلح افواج پر یقین ہے۔‘

  11. کیئو میں بڑھتی تشویش عیاں ہے, لیس ڈوسیٹ، بی بی سی

    روس کا بڑا فوجی قافلہ یوکرین کے دارالحکومت کیئو کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بڑا سوال یہ ہے کہ وہ کب تک شہر کے کنارے پر پہنچ جائیں گے۔

    یہ یوکرین پر روسی حملے کا چھٹا دن ہے اور ہم محض شہر کی طرف آتے فوجی گاڑیوں کے قافلے کو ہی نہیں بلکہ کیئو میں ٹی ٹاور کے قریب دھماکے بھی دیکھ رہے ہیں۔

    روسی وزارت دفاع کی جانب سے بہت سنجیدہ تنبیہ جاری کی گئی ہے کہ شہری دو بڑے سکیورٹی مراکز سے دور چلے جائیں۔

    یہ نہ صرف ان لوگوں کو کہا گیا ہے جو وہاں کام کرتے ہیں بلکہ انھیں بھی کہا گیا ہے جو قریبی علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔

  12. ’کیا روس کو اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی کونسل میں ہونا بھی چاہیے؟‘

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی کونسل کے اجلاس میں خطاب کے دوران روسی رکنیت پر سوال اٹھایا ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’اقوام متحدہ کی ایک رکن ریاست انسانی حقوق کی ہولناک خلاف وزیوں اور بڑے پیمانے پر انسانی بحران پیدا کر کے ایک دوسری رکن ریاست پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ پوچھنا جائز ہے کہ کیا اسے اس کونسل میں ہونا چاہیے؟‘

    انھوں نے مزید کہا کہ روس کی جانب سے ایک منتخب حکومت کو گرانے کی کوشش اور انسانی حقوق کی پامالی کی مذمت ہونی چاہیے۔ انھوں نے کریملن پر الزام لگایا کہ ان کی جانب سے اپنی سرحدوں کے اندر بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں۔

  13. صدر زیلنسکی: تاریخ خود کو دہرا رہی ہے

    یوکرین کے صدر نے کیئو میں ہولوکاسٹ کی یادگار کے مقام بابی یار کے قریب میزائل حملے پر اپنا ردعمل ٹوئٹر کے ذریعے دیا ہے۔

    اس یادگار کو یورپ میں ہولوکاسٹ کے بعد سب سے بڑی اجتماعی قبروں پر بنایا گیا تھا جہاں نازی ڈیتھ سکواڈ نے 1941 کے دوران صرف دو روز میں 33 ہزار سے زیادہ یہودیوں کو ہلاک کیا تھا۔

    صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’80 سال تک ’پھر کبھی نہیں‘ کہنے سے کیا ہوا اگر دنیا خاموش رہتی ہے جب بابی یار کے مقام پر بم گرتے ہیں؟ کم از کم پانچ افراد ہلاک۔ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔‘

  14. ’ٹی وی ٹاور پر حملے سے نشریات متاثر نہیں ہوئی‘, یوکرین کے سرکاری نشریاتی ادارے کا بیان

    یوکرین کے سرکاری نشریاتی ادارے نے کہا ہے کہ ٹی وی ٹاور پر میزائل حملے میں اس کی علاقائی نشریات اور انٹرنیٹ پر مبنی میڈیا پلیٹ فارمز متاثر نہیں ہوئے۔

    بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق ٹیلی گرام پر ایک پیغام میں اس کا کہنا ہے کہ علاقائی ٹی وی چینل معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

    اس نے یہ بھی کہا ہے کہ ویب سائٹ، ریڈیو اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔

  15. ’روس نے ہولوکاسٹ کی یادگار کے قریب ٹی وی ٹاور پر وحشیانہ حملہ کیا‘, یوکرینی وزارت خارجہ کا بیان

    یوکرین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ روس نے کیئو میں ہولوکاسٹ کی ایک یادگار کے قریب ٹی وی ٹاور پر وحشیانہ حملہ کیا ہے۔

    یہ یادگار بابی یار کے متاثرین کا مقام ہے جہاں نازی ہولوکاسٹ کے دوران بڑے پیمانے پر یہودیوں کو قتل کیا گیا تھا۔

    اس مقام پر بچوں سمیت مرنے والوں کی یاد میں تعمیرات کی گئی ہیں۔

    ٹوئٹر پر وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ’روسی دستوں نے ٹی وی ٹاور پر فائرنگ کی جو یادگار کے قریب ہے۔‘

    ’روسی مجرموں کی بربریت کو کچھ بھی نہیں روک سکتا۔ روس = بربریت۔‘

  16. بریکنگ, ٹی وی ٹاور کے قریب دھماکے میں پانچ افراد ہلاک

    یوکرین کی ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ کیئو میں ٹی وی ٹاور پر روسی حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    یہ واضح نہیں کہ آیا اس ٹاور کو براہ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ ٹاور اب بھی اپنی جگہ پر موجود ہے مگر اس سے بعض نشریات آف ایئر ہوئی تھی۔

    بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق اس میزائل حملے میں پانچ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    یہ ٹی وی ٹاور 380 میٹر اونچا ہے اور یہ اب تک اپنی جگہ پر موجود ہے۔

  17. روس نے ٹی وی ٹاور پر حملہ کیا، یوکرین کا دعویٰ

    یوکرین کی حکومت کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کیئو میں ٹی وی ٹاور کے قریب دھماکے میں روسی افواج ملوث ہیں اور انھوں نے اسے اپنے حملے میں نشانہ بنایا ہے۔

    وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اس حملے میں کچھ سامان کو نقصان پہنچا ہے اور بعض چینلز ’کچھ دیر کے لیے کام نہیں کریں گے۔‘

  18. روس نے یوکرین پر حملہ کیوں کیا اور صدر پوتن چاہتے کیا ہیں؟

    روس نے پڑوسی ملک یوکرین پر زمینی، سمندری اور ہوائی راستوں سے تباہ کن حملہ کرر کھا ہے اور اس کی افواج دارالحکومت کیئو کے مضافات میں پہنچ چکی ہیں۔

    اب جب یوکرین میں مرنے والوں کی تعداد میں روز اضافہ ہو رہا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ انھوں نے یورپ کے امن کو تباہ کر دیا ہے اور یوکرین میں جاری جنگ یورپ کے سکیورٹی ڈھانچے کو تار تار کر سکتی ہے۔

    روس ایک عرصے سے یوکرین کی یورپی تنظیموں جیسا کہ نیٹو اور یورپی یونین سے قربتوں کا مخالف رہا ہے۔ روسی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین مغربی ممالک کی ’کٹھ پتلی‘ ہے اور یہ خطہ کبھی بھی ایک باقاعدہ ریاست نہیں تھا۔

  19. یوکرین کے کھلاڑی بھی فوج میں بھرتی ہو رہے ہیں

    روس کے حملے کے بعد یوکرین کے ٹینس سٹار سرگئی سٹاخوسکی اور باکسر واسیلی لوماچینکو ان شہریوں میں شامل ہیں جو عارضی طور پر فوج کا حصہ بن گئے ہیں۔

    سٹاخوسکی کو امید ہے کہ انھیں اپنی بندوق استعمال کرنی نہیں پڑے گی لیکن وہ جانتے ہیں کہ اسے کیسے استعمال کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر مجھے بندوق استعمال کرنی پڑی تو میں ضرور کروں گا۔‘

    جنوری میں آسٹریلین اوپن کے بعد انھوں نے ریٹائرمنٹ لے لی تھی اور اب وہ اپنے ملک کی مدد کرنے کے لیے کیئو واپس آچکے ہیں۔

    دوسری طرف لوماچینکو نے فیس بک پر فوجی وردی پہنے ایک تصویر لگائی ہے جس میں ان کے کندھے پر رائفل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے یوکرین کی علاقائی دفاعی فورس میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

  20. کیئو ٹی وی ٹاور کے قریب دھماکہ

    یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں واقع ٹی وی ٹاور کے قریب دھماکے کی بعد دھواں اٹھتا دیکھا جاسکتا ہے۔

    بی بی سی نے اس ویڈیو کی تصدیق کی ہے تاہم یہ غیر واضح ہے کہ آیا اس دھماکے کے ذریعے براہ راست اس ٹاور کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اس سے قبل روسی وزارت دفاع نے کیئو کے شہریوں کو متنبہ کیا تھا کہ یوکرین کے دارالحکومت میں کچھ اہداف کو نشانہ بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔