آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کیئو کے قریب روسی بمباری میں شہریوں کی ہلاکتیں، پولینڈ میں 10 لاکھ سے زیادہ پناہ گزین داخل

اطلاعات کے مطابق یوکرینی دارالحکومت کے قریب ایک علاقے میں روسی افواج کی شیلنگ سے ’ایک ہی خاندان کے تین افراد‘ ہلاک ہوگئے ہیں۔ ادھر ماریوپل کی سٹی کونسل کا کہنا ہے کہ اس جنگ زدہ شہر میں سیزفائر اور شہریوں کے انخلا کا عمل معطل ہوگیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. ائیر بی این بی نے روس اور بیلاروس میں آپریشنز معطل کر دیے

    امریکین کمپنی ائیر بی این بی نے اعلان کیا ہے کہ وہ روس اور بیلاروس میں آپریشنز روک رہے ہیں۔

    کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو نے چند گھنٹے پہلے ٹویٹ میں یہ اطلاع دی ہے۔

    یہ پابندی امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے روسی معیشیت پر لگائی گئی پابندیوں کا تسلسل ہے۔

  2. یوکرین کے ساحل پر کارگو جہاز دھماکے کے بعد ڈوب گیا

    ایستونیا کے ایک مال بردار جہاز کے مالکان کا کہنا ہے کہ ان کا جہاز ایک دھماکے کے بعد یوکرین کے ساحل کے قریب ڈوب گیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ عملے کے چھ ارکان کو یوکرین کی مقامی ریسکیو سروس نے بچا لیا ہے۔

    پاناما کے جھنڈے والا یہ جہاز ایستونیا کی کمپنی وسٹا شپنگ ایجنسی کی ملکیت ہے۔

    ایستونیا نیٹو کی رکن ہے اور اس کی سرحد روس سے ملتی ہے۔

    یہ بحری جہاز چند روز قبل اودیسا کے قریب چورنومورسک کی جنوبی بندرگاہ سے نکلنے کے بعد یوکرین کے ساحل پر لنگر انداز ہو گیا تھا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ دھماکہ کس وجہ سے ہوا۔

    یوکرین کی فوج کا کہنا ہے کہ روس جنوبی یوکرین میں اپنی پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے دس لاکھ آبادی والے شہر اور ایک اہم بندرگاہ اودیسا پر قبضہ کرنے کے لیے بڑے جہاز بھیج رہا ہے۔

  3. بریکنگ, روس میں بی بی سی پر پابندی

    سرکاری خبر رساں ایجنسی آر آئی اے کی رپورٹ کے مطابق روس کی کمیونیکیشن اتھارٹیز کو ملک میں بی بی سی کی روسی سروس تک محدود رسائی حاصل ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ دیگر دو خبر رساں اداروں کو بھی بلاک کر دیا گیا ہے جن میں میڈوزا اور ریڈیو لبرٹی شامل ہیں۔

  4. جوہری پلانٹ پر حملے کے بعد ایشیا کی سٹاک مارکیٹوں میں مندی، تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

    یوکرین میں واقع یورپ کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ میں لگنے والی آگ کے بعد ایشیا میں حصص کی قیمتیں گر گئی ہیں۔

    ٹوکیو اور ہانگ کانگ کی منڈیوں میں شدید ترین گرواٹ دیکھی گئی، جاپان کا بینچ مارک نکی انڈیکس 2.5 فیصد کم ہوا جبکہ ہانگ کانگ میں ہینگ سینگ میں 2.6 فیصد کمی ہوئی۔

    ایشیا میں صبح کا آغاز تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ہوا، برینٹ کروڈ کی قیمت 112 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی ہے۔

    جوہری پلانٹ پر روسی فوجیوں کی طرف سے گولہ باری کے بعد یہاں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

    یوکرین کی ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ پہلے انھیں جوہری پلانٹ تک پہنچنے سے روک دیا گیا تھا لیکن بعد میں وہ عمارت تک رسائی حاصل کرنے اور آگ پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے۔

    • پانچ نتائج جن پر یوکرین اور روس کی جنگ کا اختتام ہو سکتا ہے

    • جوہری پلانٹ میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا: ایمرجنسی سروسز

      یوکرین کی ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ وہ جوہری پاور پلانٹ میں لگی آگ بجھانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

      سٹیٹ ایمرجنسی سروس نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر لکھا: ’تربیتی عمارت میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا ہے اور کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔‘

    • جوہری پلانٹ میں لڑائی رک گئی ہے

      جیسا کہ اس سے قبل ہم نے رپورٹ کیا ہے کہ فائر فائٹرز زیپروزیا جوہری پلانٹ کی عمارت میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

      بی بی سی یوکرین سروس کا کہنا ہے کہ اینرگودر کے میئر دیمیترو اورلوف نے نجی میڈیا کو بتایا ہے کہ جوہری پلانٹ میں لڑائی اب رک گئی ہے۔

      مبینہ طور پر کئی گھنٹوں سے اس پلانٹ پرشدید گولہ باری کی جا رہی تھی۔

      یوکرین کے حکام کے مطابق اس لڑائی سے ایٹمی کمپلیکس کی عمارت کی تیسری، چوتھی اور پانچویں منزل پر آگ بھڑک اٹھی۔

    • کینیڈا کا جوہری پلانٹ پر حملے ’فوری طور پر بند‘ کرنے کا مطالبہ

      کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے زیپروزیا جوہری پلانٹ پر روس کے حملے کے بعد یوکرین کے صدر سے بات کی ہے۔

      انھوں نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ’فوری طور پر انھیں بند کرنے‘ کا مطالبہ کیا۔

    • فائر فائٹرز آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں

      یوکرین کی ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ فائر فائٹر کا عملہ بالآخر زیپروزیا پاور پلانٹ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا جہاں روسی فوج کی گولہ باری کے بعد تربیتی عمارت میں آگ لگی ہوئی ہے۔

      گذشتہ ایک گھنٹے سے یہاں آگ لگی ہوئی ہے اور فائر فائٹرز عمارت تک پہنچنے کی کوششیں کر رہے تھے۔

      سروس نے پہلے اطلاع دی تھی کہ روسی فوجی انھیں آگ بجھانے سے روک رہے ہیں۔

    • جوہری پلانٹ پر حملہ: امریکہ نیوکلیئر رسپانس ٹیم کو فعال کر رہا ہے

      امریکی وزیر توانائی جینیفر گرانہوم نے ٹویٹ کیا ہے کہ انھوں نے یوکرین کے وزیر توانائی سے زیپروزیا پلانٹ میں لگنے والی آگ کے بارے میں بات کی ہے اور امریکی نیوکلیئر انسیڈینڈ ریسپانس ٹیم کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

      امریکی جوہری ہتھیاروں کی نگرانی کرنے والے گران ہولم نے پلانٹ کے قریب روسی فوجی کارروائی کو ’لاپرواہی‘ قرار دیتے ہوئے انھیں بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

      ’پلانٹ کے ری ایکٹر مضبوط کنٹینمنٹ کے ذریعے محفوظ ہیں اور اس وقت ان ری ایکٹرز کو محفوظ طریقے سے بند کیا جا رہا ہے۔‘

    • سب سے بڑے جوہری پلانٹ میں آگ لگ گئی ہے: زیلینسکی

      یوکرین کے صدر نے یورپ کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ پر روسی حملوں کے بعد دنیا بھر کے ممالک سے ’فوری کارروائی‘ کا مطالبہ کیا ہے۔

      ولادیمیر زیلنسکی نے ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا ’یورپ کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ میں اس وقت آگ بھڑک رہی ہے۔‘

      اس نے روسیوں پر الزام لگایا کہ وہ جان بوجھ کر زیپروزیا پلانٹ کے چھ ری ایکٹروں پر تھرمل امیجنگ سے لیس ٹینکوں سے فائرنگ کر رہے ہیں۔

      1986 میں چرنوبل میں ہونے والی تباہی کی مثال دیتے ہوئے، انھوں نے خبردار کیا کہ زیپروزیا میں پگھلاؤ کے نتائج کہیں زیادہ بدتر ہوں گے۔

      انھوں نے التجا کی کہ ’یورپیو اٹھو، اپنے سیاستدانوں کو بتاؤ کہ روسی افواج یوکرین میں جوہری پلانٹ پر حملہ کر رہی ہیں۔‘

      ’روسی کہتے آئے ہیں کہ وہ دنیا کو جوہری راکھ تلے دبا دیں گے۔۔ اب یہ ایک وارننگ نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے۔‘

    • جوہری پلانٹ پر حملے کی اطلاعات پر یوکرین کے ساتھ رابطے میں ہیں: بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی

      بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے کہا ہے کہ وہ یورپ سمیت یوکرین کے سب سے اہم جوہر پلانٹ پر روسی حملے کی اطلاعات کے پیش نظر یوکرینی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

      جوہری پلانٹ کے ایک ترجمان نے سوشل میڈیا پر بھی کہا ہے کہ روسی افواج ’بھاری ہتھیاروں سے گولہ باری بند کریں۔‘

      امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، اینڈری ٹز نے ٹیلی گرام پر ایک ویڈیو میں کہا کہ ’یورپ کے سب سے بڑے ایٹمی توانائی پلانٹ میں نقصان سے جوہری نقصان کا خطرہ ہے۔‘

      ٹز کا کہنا تھا کہ ’پلانٹ براہ راست روسی گولہ باری کی زد میں ہے اور آگ بجھانے والا عملہ جوہری پلانٹ میں بھڑک اٹھنے والی آگ کو بجھانے کے لیے اس کے قریب نہیں جا سکتے۔ ‘

    • یورپ کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ میں روسی گولہ باری کے باعث آگ لگنے کی اطلاعات

      یورپ کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ زاپوریزخیا میں مبینہ طور پر آگ بھڑک اٹھی ہے۔

      یوکرین کے قریبی شہر اینرودر کے میئر دیمیترو اورلوف کے مطابق ’ایسا لگتا ہے کہ یہ (پلانٹ کی) عمارت دشمن کی مسلسل گولہ باری‘ کی وجہ سے ہوا ہے۔

      میئر اورلوف نے اس سے قبل اپنے شہر کے مضافات میں، جو یوکرین کے جنوب مشرق میں واقع ہے، یوکرین اور روسی افواج کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاع دی تھی۔

      اطلاعات کے مطابق روسی فوجی ٹینکوں نے شہر میں داخل ہونے اور پلانٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن بدھ کے روز مقامی رہائشیوں اور کارکنوں کو جوہری پلانٹ اور اس کے آس پاس کی سڑکوں پر اکٹھا ہوتے دیکھا گیا۔

      یوکرین میں زاپوریزخیا سمیت چار جوہری پلانٹ ہیں۔

      یہ پلانٹ چرنوبل کی طرح جو اب روس کے قبضے میں ہے جوہری فضلے کو استعمال میں لانے اور تلف کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

      اس سے قبل بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے کہا ہے کہ وہ یوکرین اور دیگر کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں تاکہ ملک کو زیادہ سے زیادہ ممکنہ مدد فراہم کی جا سکے کیونکہ وہ موجودہ مشکل حالات میں جوہری تحفظ اور سلامتی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

    • سعودی عرب کی ماسکو اور کیئو کے درمیان ثالثی کی پیشکش

      سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔

      انھوں نے روس اور یوکرین کے رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ ’تمام فریقین کے درمیان ثالثی کی کوششیں کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

      روسی صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ الگ الگ فون پر بات چیت میں، سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان نے دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے ’سیاسی حل‘ کی حمایت کا اظہار کیا۔

      انھوں نے صدر زیلنسکی کو بتایا کہ سعودی سلطنت یوکرینی سیاحوں اور رہائشیوں کے ویزوں میں مزید تین ماہ کی توسیع کرے گی۔

      سعودی عرب کے میڈیا کے مطابق، روسی صدر پوتن نے ولی عہد کو فون کیا تھا جس پر سعودی ولی عہد نے یوکرین کی جنگ پر ’سعودی عرب کے موقف کو واضح کیا۔‘

      کریملن کی جانب سے دونوں رہنماؤں کے ٹیلیفونک رابطے پر جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے توانائی کے خدشات پر تبادلہ خیال کیا اور اوپیک پلس اتحاد میں شامل کلیدی شراکت داروں کی حیثیت سے تیل کی پیداوار کے باے میں اپنی حکمت عملی جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔

      اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’متعدد مغربی ممالک کی طرف سے روس پر عائد پابندیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، صدر ولادیمیر پوتن نے عالمی توانائی کی فراہمی کے مسائل کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کو ناقابل قبول ‘ قرار دیا۔

    • ’مسٹر مک ایڈمز میرا نام ہے اور میں نے ابھی تک ایک لفظ بھی نہیں بولا۔۔۔‘

    • پرامن انخلا کے راستوں پر اتفاق

      یوکرین کے مذاکرات کار میخیلو پودولیار کا کہنا ہے کہ شہریوں کے پرامن انخلا کے لیے دونوں جانب سے اس سمجھوتے پر پہنچی ہیں کہ وہ مشترکہ طور پر اس مقصد کے لیے موجود انسانی راہداریوں کو محفوظ رکھیں گی، اورجہاں شدید جنگ جاری ہے وہاں ادویات اور خوراک کی فراہمی پر بھی۔‘

      انھوں نے جنگ بندی کے نمکان پر بات کی اور کہا کہ’ میں زور دیتا ہوں، انخلا کے عرصے میں کچھ خاص سیکٹرز میں عارضی سیز فائر کے امکان پر۔‘

    • بریکنگ, مذاکرات سے وہ نتیجہ نہیں ملا جس کی ہم توقع کر رہے تھے: یوکرین

      .یوکرین کی جانب سے مذاکرات کار میخیلو پودولیار نے روس کے ساتھ بات چیت کے بعد اپنی گفتگو میں کہا کہ ’بہت مایوسی کے ساتھ‘ روس اور یوکرین کے درمیان حالیہ مذاکرات وہ نتائج نہیں حاصل کر پائے جن کی ہم امید کر رہے تھے۔

      مگر ان کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے اس بات پر آمادگی کا اظہار کیا گیا ہے کہ ہم مستقبل قریب میں بات چیت کو جاری رکھیں گے۔

      انھوں نے یہ کہا کہ فقط ایک بات جو میں کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم نے اس معاملے کے انسانی پہلو کو تفصیل سے دیکھا ہے کیونکہ بہت سے شہر اب گھیراؤ میں ہیں۔

    • روس دوسری سب سے بڑی آئل کمپنی کا جنگ بندی کا مطالبہ

      روس کی دوسری سب سے بڑی آئل کمپنی لک آئل نے یوکرین میں تنازع کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

      کمپنی کی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسے ’یوکرین میں پیش آنے والے واقعات پر خدشات ہیں‘ اور یہ کہ کمپنی مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل کی حمایت کرتی ہے۔

      خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ کمپنی حملے کے خلاف بیان دینے والی روس کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔

    • بریکنگ, روسی فوجی آپریشن منصوبے کے عین مطابق جاری ہے: صدر پوتن

      روسی صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے روس کا ’خصوصی فوجی آپریشن‘ یعنی یوکرین پر حملہ منصوبے کے مطابق جاری ہے۔

      ان کا یہ دعویٰ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب کچھ تجزیہ نگاروں نے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ اب تک روسی حملہ منصوبے کے برعکس رہا ہے۔

      ان کی جانب سے ٹیلی ویژن پر دکھائی گئی تقریر میں انھوں نے یوکرینی فوجیوں پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے ’ہزاروں غیرملکیوں کو یرغمال‘ بنایا ہوا ہے اور وہ اپنے شہریوں کو ’انسانی ڈھال‘ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم انھوں نے ان الزامات کا کوئی ثبوت نہیں دیا۔

      ان کا مزید کہنا تھا کہ روسی اور یوکرینی شہری ایک ہی ہیں اور ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ مغرب کی جانب سے بنایا گیا ’روس مخالف بیانیہ ختم کر دیں گے۔‘

    • روس کے یوکرین پر حملے کے پہلے ہفتے کی ٹائم لائن

      پوتن کی تقریر، میزائل حملوں اور دھماکوں سے لے کر یوکرین کی جانب سے شہریوں کو لڑائی کی کال تک۔

      یوکرین پر روس کے حملے کے پہلے ہفتے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اقوام متحدہ ادارہ برائے پناہ گزیں یو این ایچ سی آر کے مطابق تقریباً نو لاکھ افراد ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

      روس پر پابندیاں عائد کی گئیں اور دنیا بھر میں احتجاج بھی ہوا۔ دیکھیے روس کے یوکرین پر حملے کے پہلے ہفتے کی ٹائم لائن