سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری
تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔
انھوں نے روس اور یوکرین کے رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ ’تمام فریقین کے درمیان
ثالثی کی کوششیں کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘
روسی صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ الگ الگ فون
پر بات چیت میں، سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان نے دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے ’سیاسی
حل‘ کی حمایت کا اظہار کیا۔
انھوں نے صدر زیلنسکی کو بتایا کہ سعودی سلطنت یوکرینی سیاحوں اور رہائشیوں
کے ویزوں میں مزید تین ماہ کی توسیع کرے گی۔
سعودی عرب کے میڈیا کے مطابق، روسی صدر پوتن نے ولی عہد کو فون کیا تھا جس پر
سعودی ولی عہد نے یوکرین کی جنگ پر ’سعودی عرب کے موقف کو واضح کیا۔‘
کریملن کی جانب سے دونوں رہنماؤں کے ٹیلیفونک رابطے پر جاری اعلامیہ میں
کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے توانائی کے خدشات پر تبادلہ خیال کیا اور اوپیک
پلس اتحاد میں شامل کلیدی شراکت داروں کی حیثیت سے تیل کی پیداوار کے باے میں اپنی
حکمت عملی جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’متعدد مغربی ممالک کی طرف سے روس پر عائد پابندیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، صدر ولادیمیر
پوتن نے عالمی توانائی کی فراہمی کے مسائل کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کو ناقابل قبول
‘ قرار دیا۔