آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کیئو کے قریب روسی بمباری میں شہریوں کی ہلاکتیں، پولینڈ میں 10 لاکھ سے زیادہ پناہ گزین داخل

اطلاعات کے مطابق یوکرینی دارالحکومت کے قریب ایک علاقے میں روسی افواج کی شیلنگ سے ’ایک ہی خاندان کے تین افراد‘ ہلاک ہوگئے ہیں۔ ادھر ماریوپل کی سٹی کونسل کا کہنا ہے کہ اس جنگ زدہ شہر میں سیزفائر اور شہریوں کے انخلا کا عمل معطل ہوگیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. روس یوکرین تنازع: روس کا 64 کلومیٹر طویل روسی قافلہ آخر کیئو کے پاس پہنچ کر رک کیوں گیا؟

    روس کا ایک بڑا فوجی قافلہ اس وقت یوکرین کے دارالحکومت کے قریب ہے جس کی لمبائی 40 میل یعنی (64 کلومیٹر) بتائی جا رہی ہے۔ تاہم برطانوی وزارت دفاع کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ تین دنوں میں اس قافلے نے نہ ہونے کے برابر پیش قدمی کی ہے۔

    تاہم امریکی دفاعی حکام کہتے ہیں کہ روس کا اب بھی یہ ارادہ ہے کہ اگر ضروری ہو تو وہ محاصرے کے حربے کو استعمال کر کے اس شہر جس میں 30 لاکھ افراد بستے ہیں کا گھیراؤ کرے اور اس پر قبضہ کر لے۔

    حالیہ سیٹیلائٹ تصاویر میں روسی قافلے کے حجم کو دیکھ کر یہ خدشات بڑھ گئے تھے کہ یہ حملہ جلد ہی کیا جائے گا۔

    مگر برطانوی اور امریکی حکام کے دعوے ہیں کہ لاجیسٹیکل مسائل کی وجہ سے مزید پیش قدمی سست ہو سکتی ہے۔

  2. بریکنگ, زیلینسکی کی نیٹو سے اپیل: ’ہمیں جنگی طیارے بھیجو‘

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے ایک نیوز کانفرنس میں مغرب سے یوکرین میں جنگی طیارے بھیجنے کی اپیل کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ کے پاس یوکرین میں نو فلائی زون نافذ کرنے کی طاقت نہیں ہے تو مجھے طیارے بھیجو۔

    ’اگر ہم نہ رہے تو خدا نہ کرے، لیٹویا، لتھوینیا، ایسٹونیا اگلا ہدف ہوں گے۔‘

    یہ ممالک نیٹو اتحاد کا حصہ ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر روس نے ان میں سے کسی ایک پر بھی حملہ کیا تو اسے نیٹو پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پوتن سے براہ راست مذاکرات ہی اس جنگ کے خاتمے کا اکلوتا طریقہ ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم روسیوں پر حملہ نہیں کر رہے اور ہمیں ایسا کرنے کا منصوبہ بھی نہیں رکھتے، آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں، ہماری زمین چھوڑ دیں۔

    ’میرے ساتھ بیٹھیں۔ ویسے نہیں جیسے آپ صدر میخواں سے 30 میٹر دور بیٹھے تھے۔‘

  3. صدر پوتن کے قریب ترین ساتھی جو جنگ سے متعلق فیصلوں میں ان کی مدد کر رہے ہیں

  4. برطانیہ میں یوکرین کے سفارتخانے پر سائبر حملہ

    برطانیہ میں یوکرینی سفارتخانے پر سائبر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    ٹوئٹر پر ایک بیان میں سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ’برطانیہ میں یوکرینی سفارتخانے پر مسلسل سائبر حملوں کی وجہ سے ہماری سرکاری ویب سائٹ اور ای میلز فی الحال کام نہیں کر رہے۔‘

  5. روس کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات میں کیا ہوگا؟, اینا ہولیگن، بی بی سی

    39 ملکوں کی جانب سے ریکارڈ جمع کرائے جانے کے بعد روس کو جنگی جرائم کی تحقیقات کا سامنا ہے۔ یہ عالمی تشویش کے شواہد ہیں اور کسی علامتی اقدام سے بڑھ کر ہیں۔ یعنی یہ تحقیقات فوراً شروع ہوسکتی ہے۔

    انٹرنیشنل کریمینل کورٹ (آئی سی سی) کے پراسیکیوٹر کریم خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھوں نے اس خطے میں ایک ٹیم بھیجی ہے جو عدالت کی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے تشدد سے متعلق شواہد اکٹھے کریں گے۔

    اس میں جنگی جرائم، انسانی حقوق کی خلاف ورزی، نسل کشی اور ایسے تمام الزامات شامل ہیں جو جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔

    مثلاً رہائشی علاقوں میں مسلسل شیلنگ، ایسی عمارتوں اور شہریوں کو نقصان پہنچانا جن کا فوج سے کوئی تعلق نہیں، خارخیو میں کنسرٹ کے مقام اور کیئو میں ٹی وی ٹاور پر حملہ وغیرہ۔

    اس میں ایسے ہتھیاروں کا استعمال شامل ہے جن سے شہریوں کی اموات ہوسکتی ہیں، جیسے کلسٹر اور ویکیوم بم حملے۔ امریکہ میں یوکرینی سفیر نے ماسکو پر ایسے بم حملوں کا الزام لگایا ہے تاہم کریملن نے اس کی تردید کی ہے۔

    آئی سی سی کے محققین گراؤنڈ پر پہنچ کر شواہد جمع کریں گے اور ایسے لوگوں کے خلاف الزامات دائر کریں گے جو ان حملوں کا حکم دے رہے ہیں۔

    روس آئی سی سی کا رکن نہیں ہے، اس لیے قانون کی عملداری کے لیے روسی شہریوں کی دی ہیگ میں حوالگی ضروری ہوگی۔

    تاہم تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ آج بے انتہا طاقت کے حامل رہنما جنھیں کوئی چھو بھی سکتا، ضروری نہیں ان کے لیے کل بھی ایسے ہی حالات ہوں۔

  6. روس میں جنگ مخالف مظاہرے جاری، مگر کیا ان سے کوئی فرق پڑے گا؟, جینی ہل، بی بی سی، ماسکو

    یوکرین پر حملے کے بعد سے ہر روز روس میں لوگ سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے ملک کے نام پر کسی دوسرے ملک میں مداخلت پر خوش نہیں۔

    کئی افراد کو پولیس حراست میں لیتی ہے۔ آج صبح حکام نے متنبہ کیا کہ بغیر اجازت ’پُرتشدد‘ مظاہروں (بہت کم ہی مظاہروں کو یہاں اجازت ملتی ہے) میں شرکت پر آٹھ سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

    مغربی ممالک کا خیال ہے کہ جنگ مخالف مظاہروں اور پابندیوں کے بعد لوگوں کے بڑھتے غصے کی وجہ سے ولادیمیر پوتن اپنے فیصلے واپس لے سکتے ہیں۔

    لیکن قلیل مدتی عرصے میں ایسا ہونا مشکل لگتا ہے۔

    کریملن نے سرکاری ٹی وی اور کمرشل میڈیا کمپنیوں پر سختی کر رکھی ہے کہ یہ جنگ نہیں بلکہ ’خصوصی فوجی آپریشن‘ ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ یوکرین میں ’نازی سوچ ختم کر رہے ہیں۔‘

    ہلاک ہونے والے روسی فوجیوں کو کریملن اپنے ہیرو قرار دیتا ہے۔ خیال ہے کہ روس پر عائد ہونے والی پابندیوں کو مغربی جارحیت کی ایک مثال کہا جائے گا۔

    ایک بیانیہ یہ بھی ہے کہ اثر و رسوخ رکھنے والی مزید روسی شخصیات بین الاقوامی پابندیوں کے بعد صدر پوتن کی مخالفت کریں گے۔

    مگر یہ بھی ان حالات میں ممکن نہیں لگتا۔

    اکثر تجریہ کار سمجھتے ہیں کہ روسی صدر نے خود کو اتنا طاقتور بنا لیا ہے کہ بہت کم لوگ ان کے سامنے کھڑے ہونے کا خطرہ مول لے سکتے ہیں۔

  7. یوکرین میں ’ڈی ملٹرائزیشن‘ کا مقصد پورا ہوجائے گا، پوتن کا میکخواں کو پیغام

    روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے فرانسیسی ہم منصب سے کہا ہے کہ یوکرین میں روسی آپریشن کا مقصد یہاں ’ڈی ملٹرائزیشن‘ کرنا اور نیوٹرل درجے پر لانا ہے جسے مکمل کر لیا جائے گا۔

    جمعرات کو دونوں رہنماؤں کے درمیان 90 منٹ تک ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔

    پوتن کا کہنا تھا کہ اگر کیئو نے مذاکرات میں تاخیر کی تو ماسکو اپنے مطالبات بڑھاتا رہے گا۔

  8. یوکرین بات چیت سے امدادی راہداری حاصل کرنے کی کوشش کرے گا

    آئندے گھنٹے کے دوران بیلاروس میں یوکرینی اور روسی نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوگا۔

    یوکرینی مذاکرات کار کے مطابق کیئو کی کوشش ہوگی کہ کم از کم انسانی ہمدردی کی امداد کے لیے راہداری قائم کرائی جاسکے۔ اس سے شہری حملے کی زد میں آنے والے علاقوں سے نکل سکیں گے۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لوروف کے مطابق روس کی کوشش ہوگی کہ:

    • یوکرین میں فوجی سرگرمیاں ختم کرائی جائیں
    • کیئو کریمیا کو روس کا حصہ تسلیم کرے
    • مشرقی یوکرین کی ریاستوں دونیسک اور لوہانسک، جہاں روسی حمایت یافتہ باغیوں کا کنٹرول ہے، کو بطور آزاد ریاستیں تسلیم کیا جائے
  9. ’یوکرین میں مداخلت کا منصوبہ ایک سال قبل بنایا گیا‘, روسی رکن پارلیمان کا بیان

    ایک روسی رکن پارلیمان کا کہنا ہے کہ ماسکو نے 12 ماہ قبل یوکرین میں مداخلت کا منصوبہ بنایا تھا۔

    ریاست دوما کے رکن ريفت شیخوتدینوف نے سرکاری چینل ون ٹی وی کو بتایا کہ ’ہم نے اچانک اس آپریشن کی تیاری نہیں کی ہے۔‘

    ’یہ تیاری ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے سے چل رہی تھی۔ ہمیں سمجھ آرہی تھی کہ کیا ہو رہا ہے اور ہم انھیں پہلے سے متنبہ کر رہے تھے۔‘

    ان کے مطابق اگر روس نے یہ مداخلت نہ کی ہوتی تو الٹا روس پر حملہ ہوسکتا تھا۔

    ’انٹیلیجنس ڈیٹا موصول ہوئی کہ۔۔۔ ہم نے حملہ کر کے انھیں دو دنوں سے ہرا دیا۔ ظاہر ہے ہم سب سے پہلے اپنے شہریوں کا دفاع کر رہے ہیں۔‘

  10. یوکرین-روس جنگ: اب تک کی اہم اطلاعات

    • یوکرین میں روسی مداخلت کو ایک ہفتے سے زیادہ وقت گزر چکا ہے اور اہم شہروں پر افواج کے حملے بڑھ رہے ہیں
    • یوکرین کے 10 لاکھ سے زیادہ شہری ملک چھوڑ چکے ہیں اور اطلاعات کے مطابق اس مداخلت کے بعد سے سینکڑوں شہری ہلاک بھی ہوئے ہیں
    • روسی افواج نے جنوبی شہر خیرسون پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ روسی قبضے میں آنے والا پہلا بڑا شہر ہے
    • اگر روسی دستے مزید جنوبی شہروں پر قبضہ کر لیتے ہیں تو یوکرینی افواج کے لیے سمندری راستہ بند ہوسکتا ہے
    • روسی سرحد کے قریب واقع ساحلی شہر ماریوپل میں شدید شیلنگ کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات درپیش ہیں
    • دارالحکومت کیئو اب بھی یوکرینی حکومت کے کنٹرول میں ہے تاہم اس کی جانب ایک بڑے روسی فوجی قافلے کی پیش قدمی جاری ہے
    • صدر ولادیمیر پوتن کے وزیر خارجہ نے متنبہ کیا ہے کہ تیسری عالمی جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال ہوسکتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ روسی اس بارے میں نہیں سوچ رہے
  11. بریکنگ, خیرسون میں انتظامیہ کی عمارت پر قبضہ

    یوکرین کے شہر خیرسون میں انتظامیہ کے سربراہ نے فیس بک پر لکھا ہے کہ روسی فوجی دستوں نے علاقائی انتظامیہ کی عمارت پر قبضہ کر لیا ہے۔

    تاہم وہ لکھتے ہیں کہ انھوں نے اب تک اپنی ذمہ داریوں سے ہار نہیں مانی ہے۔

    ’علاقائی انتظامیہ کے عملے، جس کی میں سربراہی کرتا ہوں، نے کام جاری رکھا ہوا ہے اور وہ علاقہ مکینوں کی مدد کر رہے ہیں۔‘

    ’ہم انسانی ہمدردی کی امداد کے منتظر ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’مہربانی فرما کر غلط معلومات پر یقین نہ کریں اور گھبرائیں مت۔‘

  12. انڈیا نے اپنے 798 شہریوں کو یوکرین سے نکال لیا

    انڈیا کے خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق انڈیا نے اپنے 798 شہریوں کو یوکرین سے نکال لیا ہے۔

    اے این آئی کے مطابق انڈین شریوں کو نکالنے کے لیے رومانیہ، ہنگری اور پولینڈ کے فضائی اڈے استعمال کے گئے ہیں۔

    اے این آئی کے مطابق انخلا کے اس آپریشن میں سی 17 ایئر کرافٹ کو استعمال کیا گیا جبکہ اس دوران 9.7 ٹن امدادی سامان بھی پہنچایا گیا۔

  13. شہروں پر روسی بمباری میں کوئی تعطل نہیں آیا: ولادیمیر زیلنسکی

    ایک طرف ماسکو میں روسی وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس جاری ہے تو دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے ایک نئی ویڈیو جاری کی ہے۔

    اس ویڈیو میں یوکرین کے صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کے شہروں پر روسی بمباری میں کوئی تعطل نہیں آیا۔

    انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ روس کی جانب سے شہری علاقوں پر بمباری کی حمکت عملی یہ ظاہر کرتی ہے کہ یوکرین ماسکو کے جلد قبضے کے منصوبے کی مزاحمت کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔

    ولادیمیر زیلینسکی نے یہ بھی کہا کہ ’ہمارے پاس ہماری آزادی کے علاوہ کھونے کو کچھ نہیں۔‘

  14. کیا صدر پوتن نے یوکرین کے حوالے سے غلط اندازہ لگایا تھا؟

  15. بریکنگ, تیسری عالمی جنگ جوہری ہو سکتی ہے: روسی وزیر داخلہ

    روسی وزیر داخلہ سرگئی لاروف نے خبردار کیا ہے کہ تیسری عالمی جنگ جوہری ہو سکتی ہے۔

    ماسکو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران روسی وزیر داخلہ نے کہا امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ پابندیوں کا متبادل تیسری عالمی جنگ ہے‘ لیکن سرگئی لاروف نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ صرف ایٹمی جنگ ہو سکتی ہے۔

    وزیر داخلہ سرگئی لاروف نے یہ بھی کہا کہ جنگ روسیوں کے دماغ میں نہیں بلکہ صرف مغربی سیاستدانوں کے دماغ میں ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’اگر ہمارے اوپر اصلی جنگ مسلط کی گئی تو ایسے منصوبے بنانے والوں کو اس بارے میں سوچنا ہو گا اور میرے خیال میں ایسے منصوبے بنائے جا چکے ہیں۔‘

  16. یوکرین پر حملے میں روس کے نو ہزار فوجی ہلاک ہوئے، یوکرینی فوج کا دعویٰ

    یوکرین کی مسلح افواج کا دعویٰ ہے کہ یوکرین پر حملے میں روس کے نو ہزار فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

    جمعرات کے روز یوکرین کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے فیس بک پر کہا کہ اس نے روس کے 217 ٹینکس جبکہ 30 جنگی جہازوں اور 31 ہیلی کاپٹرز کو بھی تباہ کیا ہے۔

    یوکرینی فوج کے مطابق انھوں نے روس کی 374 فوجی گاڑیوں، دو سپیڈ بوٹس اور 60 فیول ٹینک بھی تباہ کیے ہیں۔

  17. روسی افواج کا سامنا کرتے یوکرین کے شہری

    ایک ہفتہ قبل بطور وکیل کام کرنے والے یوکرینی شہری آج ایک مورچے پربندوق اٹھائے بیٹھے ہیں۔

    یوکرین کے دارلحکومت کیئو کے کئی شہری روسی افواج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

  18. ’خیرسون کے رہائشیوں‘ کو خوراک اور طبی امداد کی ضرورت ہے

    خیرسون کے ایک اور رہائشی نے بتایا ہے کہ انھوں نے آج لوگوں کی مدد کے لیے ایک رضاکارانہ سینٹر کا آغاز کیا ہے جہاں پر شہریوں کو خوراک، پانی اور ادویات فراہم کی جائیں گی۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’خوراک کی فراہمی ناکافی ہے اور کچھ ایسے زخمی بھی ہیں، جنھیں علاج کے لیے شہر سے باہر لے جانے کی ضرورت ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ روسی ’لوگوں کی مدد کے لیے ریڈ کراس کو ایمبولینس اور ادویات لانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔‘

  19. خيرسون کے رہائشی: ’ہم روس سے خوفزدہ نہیں ہیں‘

    جیسا کہ ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ روسی فوج نے یوکرین کے شہر خیرسون پر قبضہ کر لیا ہے۔ حملے کے بعد روس کے قبضے میں آنے والا یہ یوکرین کا پہلا اہم شہر ہے۔

    اس شہر سے ایک رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی افراد روسی فوجیوں سے ’خوفزدہ نہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’جنگ شروع ہونے سے اب تک وہ صرف دس منٹ کے لیے اپنے گھر سے باہر نکلے ہیں۔‘

    ’میں اپنے گھر کی کھڑکی سے باہر دیکھتا ہوں تو مجھے روسی فوجی اور ٹینک نظر آتے ہیں۔ میں مقامی خبریں دیکھ رہا ہوں تو مجھے اندازہ ہے کہ باہر جانا بہت خطرناک ہے۔‘

    لیکن انھوں نے بتایا کہ بہت سے مقامی افراد روسی فوجیوں کے پاس جا کر انھیں یہاں سے جانے کا کہتے ہیں۔

    ’لوگ فوجیوں سے خوفزدہ نہیں۔ ہم روس سے خوفزدہ نہیں ہیں۔‘

    ’روسی فوجی کہہ رہے ہیں کہ ہمیں بھی یہ صورتحال پسند نہیں۔ ہم آپ کو ہاتھ نہیں لگائیں گے اور شاید کچھ دن میں یہاں سے چلے جائیں گے۔ ہم حکم نامے کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

    ’ان کے رویوں سے صاف واضح ہے کہ وہ یہاں خوش نہیں۔‘

  20. فرانس کی اپنے شہریوں کو روس چھوڑنے کی ہدایت

    یوکرین اور روس کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر فرانس نے اپنے شہریوں کو کہا ہے کہ وہ روس چھوڑ دیں۔

    کچھ دوسرے ممالک نے بھی اپنے شہریوں کو ایسا کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

    برطانیہ کے دفتر خارجہ نے بھی اپنے شہریوں کو روس کے سفر سے اجتناب کرنے کا کہا ہے کیونکہ ان کے لیے روس سے انخلا مشکل ہو سکتا ہے جبکہ روس کی معیشت بھی اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے بھی یہی ہدایت جاری کی ہے، جس کی ایک وجہ روسی حکومت کے سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں امریکی شہریوں کی ممکنہ ہراسانی بھی ہے۔