آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیئو کے قریب روسی بمباری میں شہریوں کی ہلاکتیں، پولینڈ میں 10 لاکھ سے زیادہ پناہ گزین داخل
اطلاعات کے مطابق یوکرینی دارالحکومت کے قریب ایک علاقے میں روسی افواج کی شیلنگ سے ’ایک ہی خاندان کے تین افراد‘ ہلاک ہوگئے ہیں۔ ادھر ماریوپل کی سٹی کونسل کا کہنا ہے کہ اس جنگ زدہ شہر میں سیزفائر اور شہریوں کے انخلا کا عمل معطل ہوگیا ہے۔
لائیو کوریج
روس: ’یوکرین قوم پرستوں نے شہریوں کو انخلا سے روکا‘
یوکرین کے شہر ماریوپل کے ڈپٹی میئر کا دعویٰ ہے کہ روس عارضی جنگ بندی پر عمل درآمد نہیں کر رہا اور شہر پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے اور اسی لیے شہر سے انخلا کا سلسلہ روک دیا گیا ہے تاہم روس کی وزارت دفاع کا اس حوالے سے بیان یکسر مختلف ہے۔
روس کی خبر رساں ایجنسی ریا کے مطابق ملک کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یوکرین کے ’قوم پرستوں‘ نے شہریوں کو وہاں سے نکلنے سے روک رکھا ہے۔
یوکرین اور روس کے درمیان نوبت جنگ تک کیوں آ پہنچی؟
یوکرین اور روس کے درمیان ماضی میں کیا تنازعات رہے ہیں اور اس بار نوبت کیوں روس کی جانب سے یوکرین پر حملے تک آ پہنچی؟
نظر ڈالتے ہیں دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات پر اس ویڈیو میں۔۔۔
فیشن برانڈ زارا کا روس میں اپنے 502 سٹور بند کرنے کا فیصلہ
فیشن برانڈ زارا نے کہا ہے کہ وہ کل سے روس میں موجود اپنے 502 سٹور بند کر رہا ہے۔
کمپنی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جب تک روس میں اس کی سروسز ’عارضی‘ طور پر بند رہیں گی، وہ اپنے نو ہزار ورکرز کی مدد کے لیے پلان ترتیب دے رہا ہے۔
دوسری جانب روس میں سمارٹ فونز فراہم کرنے والی سب سے بڑی کمپنی سام سنگ ’موجودہ جغرافیائی سیاسی پیشرفت‘ کے باعث ملک میں اپنی ترسیل معطل کر رہی ہے۔
آن لائن ادائیگیوں کی کمپنی ’پے پال‘ نے بھی روس کی جانب سے یوکرین میں ’پرتشدد فوجی جارحیت‘ کی مذمت کرتے ہوئے روس میں اپنی سروسز بند کر دی ہیں۔
بریکنگ, ماریوپل سے شہریوں کا انخلا ملتوی کر دیا گیا
ماریوپل کی سٹی کونسل کے مطابق شہر سے لوگوں کا انخلا ملتوی کر دیا گیا ہے کیونکہ روس کی جانب سے عارضی جنگ بندی پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔
ماریوپل سٹی کونسل نے کہا ہے کہ رہائشی منتشر ہو جائیں اور پناہ کے لیے جگہ ڈھونڈیں جبکہ انخلا کے حوالے سے مزید معلومات جلد فراہم کی جائیں گی۔
کچھ دیر قبل ماریوپل کے ڈپٹی میئر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہر پر بمباری کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے اور اطلاعات ہیں کہ انخلا کے راستے پر جنگ جاری ہے۔
ماریوپل کے شہری: ’ہر تین منٹ بعد بمباری کی آواز آتی ہے‘, جویل گنٹر، بی بی سی نیوز، یوکرین
ماریوپل کے ایک شہری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود شہر میں بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔
44 برس کے انجینئیر الیگزینڈر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس وقت میں ماریوپل میں موجود ہوں۔ میں گلی میں ہوں اور ہر تین سے پانچ منٹ بعد میں بمباری کی آواز سن سکتا ہوں۔‘
’حفاظتی گزرگاہ صرف بکواس ہے۔ میں نے ان لوگوں کی گاڑیوں کو واپس آتے دیکھا ہے جو یہاں سے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔‘
بریکنگ, انخلا کے راستوں پر جنگ بندی پر عمل درآمد نہیں ہو رہا: یوکرین کا دعویٰ
ماریوپل سٹی کونسل کا دعویٰ ہے کہ شہریوں کو نکلنے کی اجازت دینے کے لیے روس اور یوکرین کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی پر پوری طرح سے عمل نہیں کیا جا رہا۔
ٹیلی گرام پر پوسٹ کردہ ایک پیغام میں کونسل نے کہا کہ جس شہر (زاپوریزہیا) میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی گئی راہداری ختم ہوتی ہے، وہاں لڑائی ہو رہی ہے۔
پیغام میں کہا گیا ہے کہ انخلا کے دوران عارضی جنگ بندی کی تصدیق کے لیے یوکرینی حکام روسی فریق کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
روس پر معاشی پابندیوں کی صورت میں کیا چین پوتن کی مدد کر سکتا ہے؟
بریکنگ, یوکرین کی روس کو جنگ بندی کے’غلط استعمال‘ اور پیش قدمی نہ کرنے کی تنبیہ
یوکرین کی نائب وزیر اعظم ایرینا ویریشچک نے روس کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کو آگے بڑھانے کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر منظور کی گئی راہداری کا غلط استعمال نہ کرے۔
انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت ان معلومات کی ’تصدیق‘ کر رہی ہے کہ روسی فوجی انخلا کے راستوں کے ساتھ والے علاقوں میں یوکرین کی پوزیشنوں کے قریب جانے کے لیے جنگ بندی کا استعمال کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم اس موقع کو عام شہریوں، خواتین اور بچوں کو نکالنے کے ساتھ ساتھ باقی ماندہ لوگوں تک امدادی سامان پہنچانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔‘
ویریشچک نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے جنگ بندی پر بات چیت میں ثالثی کی ہے اور وہ شہروں سے باہر جانے والے راستوں پر قافلوں کے ساتھ چلیں گے۔
سیز فائر کا اطلاق مقامی وقت کے مطابق 09:00 سے 16:00 بجے تک رہے گا۔
بریکنگ, ماریوپل سے انخلا شروع ہونے کو ہے
شہری کونسل کی طرف سے دی گئی ٹائم لائن کے مطابق ماریوپل سے شہریوں کا انخلا اب شروع ہو جانا چاہیے۔
مقامی وقت کے مطابق صبح 11:00 بجے سے شہر کے تین مقامات سے لوگوں کو بسوں کے ذریعے محفوظ علاقوں تک پہنچانے کا انتظام کیا گیا ہے۔
رہائشیوں کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنگ بندی کے دوران وہ شمال مغرب میں زاپوریزہیا شہر جانے کے لیے مخصوص راستے کا استعمال کر سکتے ہیں اور اپنی گاڑیوں سے وہاں تک سفر کر سکتے ہیں۔
سیز فائر کا اطلاق مقامی وقت کے مطابق 09:00-16:00 بجے تک رہے گا۔
روسی افواج نے کئی دنوں سے ماریوپل کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
وولونواخا میں بھی جنگ بندی اور راہداریاں کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
بریکنگ, ہمارے پاس انخلا کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے: ماریوپل کے میئر
ماریوپل کے میئر وادیم بوئیچنکو نے اپنے شہر کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راہداری کھلنے کے اعلان کے بعد ایک بیان دیا ہے۔
انھوں نے کہا ’ماریوپل سڑکیوں اور گھروں سے نہیں بنا۔۔۔۔ یہ شہر یہاں کے لوگوں سے قائم ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا ’روسیوں کی طرف سے مسلسل بے رحم گولہ باری کے باعث شہریوں کو ماریوپل سے بحفاظت نکلنے کا موقع دینے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔‘
66000 سے زیادہ یوکرینی مرد جنگ لڑنے کے لیے بیرون ملک سے وطن واپس آئے ہیں: وزیر دفاع
ابھی تک یہی کہا جاتا رہا ہے کہ روس کے مقابلے یوکرینی فوج کی تعداد نسبتاً کم ہے۔
یوکرین کے وزیر دفاع اولیسکی رزنیکوف کا کہنا ہے کہ روسی افواج کے مقابلے میں اب بھی کم ہونے کے باوجود، 66000 سے زیادہ یوکرینی مرد اپنے وطن کی آزادی کی لڑائی لڑنے کے لیے بیرون ملک سے واپس آئے ہیں۔
رمضان قادروف: صوفی سلسلے کے سرپرست اور پوتن کے وفادار ساتھی
بریکنگ, یوکرین کی دو شہروں میں عارضی جنگ بندی کی تصدیق
جیسا کہ اب سے کچھ دیر قبل ہم نے خبر دی تھی کہ روس کی وزارت دفاع نے جنوب مشرقی یوکرین کے دو شہروں میں عارضی جنگ بندی اور انسانی بنیادوں پر راہداریاں کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ یوکرین کی طرف سے اس پر اتفاق کیا گیا ہے۔
اب دونیتسک کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ پاولو کریلینکو نے یوکرین کی جانب سے بی بی سی کو اس کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔
انھوں نے مقامی وقت 9:00 بجے سے عارضی جنگ بندی کی تصدیق کی اور کہا کہ ان کی انتظامیہ فی الحال انخلا کی تفصیلات پر کام کر رہی ہے۔
بریکنگ, جنگ کا 10واں دن: یوکرین کے دو شہروں میں عارضی جنگ بندی
یوکرین پر روسی حملے کا آج 10واں دن ہے۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ اب تک کیا ہوا:
- روس کی وزارت دفاع نے سنیچر کے روز ماسکو کے مقامی وقت کے مطابق 10:00 بجے سے جنوب مشرقی یوکرین کے دو شہروں ماریوپل اور وولونواخا میں عارضی جنگ بندی اور شہریوں کے لیے انسانی بنیادوں پر راہداری کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
- روس کا کہنا ہے کہ اس نے یوکرین کے ساتھ شہروں سے باہر جانے والے راستوں پر اتفاق کیا ہے، لیکن بی بی سی نے یوکرین کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں دیکھی۔
- ماریوپل ایک اہم بندرگاہی شہر ہے اور کئی دنوں سے روسی افواج نے اس کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ وولونواخا میں بھی شدید لڑائی ہوئی ہے۔
- اس سے قبل ماریوپل کے میئر وادیم بوئیچنکو نے روسی فوجیوں کے حملے محاصرے کے دوران انسانی بنیادوں پر راہداری کا مطالبہ کیا تھا۔
- دوسرے علاقوں میں روسی اور یوکرینی فوجیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ یوکرین کے شمال مشرق میں واقع خارخیو میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
- یوکریی میڈیا کے مطابق مشرقی شہر سومی جسے روسی فوجیوں نے گھیرا ہوا ہے وہاں آج صبح 5:00 گولہ باری شروع ہوئی۔
امریکی سینیٹ زوم پر زیلنسکی سے بات چیت کرے گی
اطلاعات کے مطابق امریکی سینیٹ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو زوم پر بات چیت کرنے کے لیے مدعو کیا ہے۔
زیلنسکی صدر بائیڈن کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہو گا جب روسی حملے کے بعد سینیٹ یوکرینی رہنما سے بات کرے گی۔
گذشتہ ہفتے امریکہ میں یوکرین کی سفیر اوکسانا مارکارووا نے سینیٹ کے ارکان سے ملاقات کی اور کہا تھا کہ روس سے لڑنے کے لیے ان کے ملک کو فوری طور پر مزید امداد کی ضرورت ہے۔
بریکنگ, روس کا یوکرین کے دو شہروں کے لیے انسانی بنیادوں پر راہداریاں کھولنے کا اعلان
روس نے انسانی بنیادوں پر یوکرین کے دو شہروں کے لیے راہدریاں کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ انسانی بنیادوں پر یوکرین کے دو شہروں (ماریوپل اور وولونواخا) کے لیے راہداریاں سنیچر کو ماسکو کے مقامی وقت کے مطابق 10:00 بجے کھل جائیں گی۔
روسی میڈیا کے مطابق وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ان شہروں سے لوگوں کے نکلنے کے لیے بالکل خاموشی اختیار کی جائے گی یعنی کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی اور یوکرینی حکام کے ساتھ اس پر اتفاق ہو گیا ہے۔
تاہم بی بی سی نے ابھی تک یوکرین کی طرف سے ایسی کوئی تصدیق نہیں دیکھی ہے۔
اس سے قبل ماریوپل کے میئر وادیم بوئیچنکو نے روسی فوجیوں کے حملے اور ناکہ بندی کے دوران انسانی بنیادوں پر راہداری کا مطالبہ کیا تھا۔
سربیا میں پوتن کی حمایت میں مارچ، ہزاروں افراد کی شرکت
سربیا کے دارالحکومت بلغراد میں ہزاروں افراد نے یوکرین پر روسی حملے کی حمایت میں ایک بڑے مظاہرے میں شرکت کی۔
تقریباً 4000 افراد روسی زار نکولس دوئم کی یادگار کے سامنے جمع ہو کر مارچ میں شامل ہوئے۔ انھوں نے روس اور سربیا کے قومی ترانے بجائے اور دونوں ممالک کو برادر ملک قرار دیا۔
مظاہرین نے روسی پرچم اور صدر ولادیمیر پوتن کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں۔
انگریزوں سے باغی زمیندار جن کا سر ’110 سال تک محفوظ رہا‘
روسی فوجی یوکرین کے ایک اور جوہری پلانٹ کے قریب پہنچ چکے ہیں: امریکی سفیر کا دعویٰ
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی فوجی یوکرین کے ایک اور جوہری پلانٹ کی جانب پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔
جمعرات کی رات روسی افواج نے یوکرین کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ پر قبضہ کر لیا تھا۔
لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے جمعے کے روز کہا کہ روسی فوجی یوکرین کی دوسری سب سے بڑی جوہری تنصیبات سے ’20 میل دور ہیں اوراس کے قریب پہنچ رہے ہیں۔‘
ان کا اشارہ کیئو سے تقریباً 200 میل جنوب میں یوزوکرینسک پاور سٹیشن کی جانب تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ خطرہ ابھی بھی باقی ہے اور بین الاقوامی برادری کو روسی افواج کے خطرناک حملے کو روکنے کے لیے متفق ہونا چاہیے۔