اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے کریملن میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی ہے جس میں یوکرین کی جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تین گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد بینیٹ کے ترجمان نے کہا کہ انھوں نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بھی فون پر بات کی ہے۔
ایک اسرائیلی اہلکار کا کہنا ہے کہ بینیٹ امریکہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ بحران کا حل نکالنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
بینیٹ کے دفتر کا کہنا ہے کہ امریکہ کو پہلے سے ہی اس ملاقات کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ پوتن سے ملاقات کے بعد بینیٹ جرمن چانسلر اولاف شولز کے ساتھ بات چیت کے لیے برلن گئے ہیں۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ بینیٹ نے یہودیوں کے مذہبی سبت کے دن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صبح سویرے ماسکو کے لیے طیارے میں سفر کیا، بینیٹ عام طور پر اس دن کوئی سرکاری کام نہیں کرتے ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر مقصد انسانیت کو بچانا ہو تو اس صورت میں یہودی مذہب میں اس خلاف ورزی کی اجازت ہے۔
بینیٹ کے ماسکو کے دورے میں اسرائیلی وزیر ہاؤسنگ زیف ایلکن ان کے ساتھ تھے جن کی پیدائش یوکرین میں ہوئی تھی۔
اگرچہ اسرائیل امریکہ کا ایک بڑا اتحادی ہے لیکن بینیٹ نے روس کے ساتھ بھی اچھے تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔