یوکرین کے معاملے پر اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس طلب

یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ یورپی یونین ایسا اقدام کر رہا ہے۔ دوسری جانب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے روسی افوج کو سٹریٹجک جوہری فورسز کو خصوصی الرٹ پر رکھنے کا حکم دیا ہے، جس پر امریکہ نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. شمال مغربی کیئو میں میزائل حملے کی فوٹیج

    ٹوئٹر پر شائع کی جانے والی ایک فوٹیج میں شمال مغربی کیئو میں روسی میزائل حملے کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    بی بی سی نے اس فوٹیج کی تصدیق کروا لی ہے جس میں بچا کے رہائشی علاقے میں میزائل کو ایک عمارت کو نشانہ بناتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    یہ فوٹیج اس وقت سامنے آئی ہے جب یوکرینی حکام نے روسی فوجیوں کے کیئو میں داخل ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. 35 طلبہ کو مغربی یوکرین کے شہر ٹرنوپل میں اکٹھا کر لیا ہے: پاکستانی سفارت خانہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے یوکرین کے شہر کیئو میں سفارتخانے کی طرف سے ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 35 طلبا کو مغربی یوکرین کے شہر ٹرنوپل میں اکٹھا کر لیا گیا ہے۔

    یہ پریس ریلیز پاکستان کے دفترِ خارجہ نے شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ یوکرین میں پاکستان کا سفارتخانہ مکمل طور پر فعال ہے اور اب تک کئی طلبہ سے رابطے میں ہے۔

    نامہ نگار سحر بلوچ کے مطابق انھوں نے بتایا ہے کہ تمام تر طلبہ مغربی یوکرین کے شہر ٹرنوپل میں استقبالیہ مراکز پہنچیں جہاں سے انھیں ملک سے باحفاظت نکالا جائے گا۔

    مغربی شہر لویو میں ایک ریسیپشن بھی بنایا گیا ہے جہاں پہنچ کر طلبہ معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

    اس سے پہلے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نوشہرو فیروز سے تعلق رکھنے والے ایک والد منظور حسین کیریو نے بتایا کہ ان کا بیٹا پیروٹائن میں بطور انجینئیر کام کرتا ہے۔

    ’پاکستانی سفارتخانے سے بات کرنے پر اسے بہت اطمینان بخش جواب نہیں دیا گیا لیکن میں اس سے مسلسل رابطے میں ہوں تاکہ یہاں پاکستان میں جو بھی اپ ڈیٹ آئے میں اس تک پہنچا سکوں۔‘

    اسی طرح یوکرین میں پڑھنے والے بہت سےطلبہ کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے جن کے والدین بھی حکومت سے رابطہ نہیں کر پا رہے ہیں۔

    اس سے پہلے بی بی سی کو یوکرین سے ایک طالبعلم کامران شاہ نے بتایا تھا کہ کیئو میں حملہ ہونے سے کچھ دیر پہلے ہی تقریباً پینتالیس طلبہ شہر چھوڑ کر ملک کے مغربی حصے کی جانب نکل چکے ہیں۔

  3. یوکرینی فوج 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو فوج میں بھرتی کرے گی

    ukraine

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اس سے قبل ہم رپورٹ کر چکے ہیں کہ یوکرین کی ڈیفنس فورس نے ایک ٹویٹ میں شہریوں سے فوج کا حصہ بننے کا کہا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے عمر کی کوئی قید نہیں ہو گی۔

    فوج کے کمانڈر کی جانب سے جاری کردہ بیان سے یہ اشارہ ملتا تھا کہ کم عمر افراد کو بھی بھرتی کیا جا سکتا ہے۔

    تاہم ایک نئے بیان میں وزیرِ دفاع ایلیکسی ریزنیکوو نے بظاہر اپنے بیان کی تصحیح کرتے ہوئے کہا کہ عمر کی قید نہ ہونے کا مطلب یہ تھا کہ 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد بھی فوج میں شامل ہو سکتے ہیں۔

    ریزنیکوو نے لکھا کہ ’میں نے یوکرین کی فوج کے کمانڈر سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ ہم 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو بھی فوج میں شامل کریں گے جو جسمانی طور پر اس قابل ہوں گے کہ وہ دشمن کو شکست دے سکیں۔‘

  4. چرنوبل جوہری حادثہ: وہ جگہ جہاں 24 ہزار سال تک انسان آباد نہیں ہو سکتے

  5. بریکنگ, روسی فضائی حملوں میں کم سے کم 25 شہری ہلاک ہوئے: اقوامِ متحدہ

    اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کا کہنا ہے کہ اس کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اب تک یوکرین میں کم سے کم 127 شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے ’روسی فضائی حملوں اور شیلنگ‘ میں 25 افراد ہلاک اور 102 زخمی ہوئے ہیں۔

    ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ اصل اعداد و شمار ان اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔

  6. یوکرین اور پولینڈ کی سرحد پر ’ہزاروں کا مجمع‘

    passengers

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جمعہ کی صبح بھی یوکرین سے سینکڑوں افراد لوگ پولینڈ کی سرحد پر پہنچے ہیں جو سرحد عبور کر کے پولینڈ میں پناہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

    ان افراد میں شامل پاکستانی شہری عبدالعزیز نے صحافی زبیر خان کو بتایا کہ ’سرحد پر کم از کم پانچ، چھ ہزار لوگ جمع ہو چکے ہیں جو طویل سفر طے کر کے یہاں پہنچے ہیں۔ ان میں بچے، عورتیں اور بوڑھے سب شامل ہیں‘۔

    سید کامران شاہ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو پولینڈ اور یوکرین کی سرحد پر پہنچے ہیں۔

    passenger

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وہ کہتے ہیں کہ ’میں اس وقت لائن پر کھڑا ہواں۔ بظاہر مجھے ایسے لگ رہا ہے کہ پولینڈ کے حکام کسی کو بھی جو یوکرین سے آئے گا پولینڈ میں داخل ہونے سے نہیں روکیں گے مگر ابھی تک انھوں نے کسی کو اجازت بھی نہیں دی ہے۔ ’ہم سب لوگ لائنوں میں کھڑے ہیں جبکہ ہم لوگ دیکھ سکتے ہیں کہ پولینڈ کے سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھوں نے راستے میں بڑی تعداد میں لوگوں کو پولینڈ کی سرحد کی طرف سفر کرتے دیکھا ہے۔ ’یہ سفر بہت سست رفتاری سے ہو رہا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ آنے والے چند گھنٹوں میں پولینڈ کی سرحد پر بہت بڑا مجمع اکٹھا ہونے والا ہے۔‘

  7. یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں لڑائی کی صورتحال کیا ہے

    کیئو میں لڑائی

    اطلاعات کے مطابق روسی افواج یوکرینی دارالحکومت کیئو کے شمالی علاقے اوبولون میں موجود ہیں۔

    یہ ایک رہائشی علاقہ ہے جو کیئو کی پارلیمان اور شہر کے مرکز سے صرف نو کلومیٹر دور ہے۔

    جمعے کو مقامی وقت کے مطابق دس بجے سے قبل یوکرین کی وزارتِ دفاع نے روسی فوج کی کیئو آمد کا اعلان کرتے ہوئے مقامی افراد سے اپیل کی کہ وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاری کریں اور آتش گیر بم بنائیں۔

    اسی اثنا میں ایسی متعدد ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں اوبولون کی سڑکوں پر بکتر بند گاڑیوں کو حرکت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    بی بی سی نے ان ویڈیوز کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی ہے کہ یہ اوبولون میں ہی بنائی گئی ہیں۔

    ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں شہریوں کو فوجی وردی میں ملبوس افراد سے لڑتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    کیئو روسی فضائیہ کے حملوں کا بھی نشانہ بنا ہے اور یہاں کے رہائشیوں نے زیرِزمین چلنے والی ریل کے سٹیشنز میں پناہ لے رکھی ہے۔

  8. صدر بائیڈن یوکرین کی مدد کے لیے امریکی فوجیں بھیجنے سے کیوں کترا رہے ہیں؟

  9. چین اب بھی روس کی مذمت کرنے سے انکاری

    russia

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طویل عرصے سے روس کے اتحادی چین نے تاحال روس کی مذمت نہیں کی ہے اور اس کی وزارتِ خارجہ نے روس کے یوکرین کے خلاف اقدام کو ’حملہ‘ قرار دینے سے انکار کیا ہے۔

    بیجنگ میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی بریفنگ میں ترجمان وینگ وینبن نے چین کا مؤقف دہرایا اور کہا کہ جہاں وہ تمام ممالک کی سرحدی سالمیت کا احترام کرتا ہے وہیں اسے ’روس کے اپنی سکیورٹی کے حوالے سے جائز خدشات‘ بھی سمجھ آتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ چین اب بھی یوکرین کو ایک خودمختار ریاست تسلیم کرتا ہے اور اس مسئلے کا سیاسی حل اب بھی ممکن ہے لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ مذاکرات کیسے کیے جا سکتے ہیں۔

    انھوں نے اس بارے میں بھی کوئی بات نہیں کی کہ بیجنگ ڈونیسک اور لوہانسک کی ریاستوں کو تسلیم کرے گا یا نہیں۔

    بی بی سی کی جانب سے جب وزارتِ خارجہ کے ترجمان سے جو بائیڈن کے بیان کے بارے میں سوال کیا گیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’ایسا کوئی بھی ملک جو روس کی جارحیت کی حمایت کرتا ہے اس پر روس کی رفاقت کا داغ لگ جائے گا۔‘

    اس پر وینگ نے ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’اس ملک کی شہرت داغدار ہونی چاہیے جس نے انسانی حقوق کے نام پر دوسرے ملکوں کے ذاتی معاملات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی اور جنگیں شروع کیں۔‘

    پابندیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سنہ 2011 سے امریکہ نے روس پر 100 سے زیادہ پابندیاں لگائی ہیں لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔

  10. بریکنگ, روس سے چیمپیئنز لیگ فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی

    champions

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سنہ 2022 کی چیمپیئنز لیگ کا فائنل اب روس کی بجائے پیرس میں کھیلا گیا جائے گا۔

    یوایفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور روس سے اس میچ کی میزبانی واپس لے گئی ہے۔

    اس دوران یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ روسی اور یوکرینی فٹبال کلب اور ان کی قومی ٹیمیں جو یوایفا کے مقابلوں میں حصہ لے رہی ہیں وہ اپنے ہوم میچ اب کسی نیوٹرل ملک میں کھیلیں گے۔

  11. ولادیمیر پوتن : سرکاری کوارٹرز میں رہنے والے سابق جاسوس صدر کیسے بنے؟

  12. عمران خان نے یوکرین بحران کے باوجود روس کا دورہ اور صدر پوتن سے ملاقات کیوں کی؟

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPM office

    پاکستان میں خارجہ پالیسی کے بعض ماہرین اتفاق کرتے ہیں کہ یہ دورہ مغربی دنیا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب نہیں کرے گا، تاہم یوکرین کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے کسی سخت مؤقف کی صورت میں مستقبل میں مغرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں سرد مہری و کشیدگی آ سکتی ہے۔۔

    دفاعی تجزیہ کار عمر فاروق کے مطابق ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ ماسکو میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی باضابطہ بات چیت میں پاکستان نے دوطرفہ تعلقات اور افغانستان پر توجہ مرکوز کی۔

    سابق سفارتکار عبدالباسظ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم یوں ہی اس دورے کو منسوخ نہیں کرسکتے تھے۔ سب جانتے ہیں کہ دورے مہینوں پہلے مرتب ہوتے ہیں اور اس کا یوکرین کے بحران سے کوئی تعلق نہیں۔‘

  13. مودی کا پوتن سے رابطہ، نیٹو سے مذاکرات کا مشورہ

    modi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈین اخبار دی ہندو کے مطابق انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے فون پر رابطہ کیا ہے اور یوکرین کے ساتھ جاری تنازع کے دوران تشدد کے خاتمے کی اپیل کی۔

    وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق پوتن نے مودی کو یوکرین کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں بریف کیا ہے۔ جبکہ انڈیا کے رہنما نے اس بات پر زور دیا کہ ’نیٹو اور روس کے اختلافات مخلصانہ مذاکرات کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔‘

    وزیرِاعظم نے روسی صدر کو انڈیا کے تحفظات کے بارے میں آگاہ کیا اور یوکرین میں موجود انڈین شہریوں خاص کر طلبا کے بارے میں بتایا اور کہا کہ انڈیا ان کے فوری انخلا کے لیے کوشاں ہے۔

  14. کیئو کی سڑکوں پر گشت کرتے روسی ٹینک

    سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی متعدد ویڈیوز میں کیئو شہر کے شمال میں موجود علاقے اوبولان میں روسی ٹینک گشت کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    ابھی کچھ ہی دیر قبل، یوکرین کے وزیرِ دفاع نے روسی فوجیوں کے رہائشی علاقوں میں داخل ہونے کی تصدیق کی تھی۔

    یہ ویڈیوز بظاہر مقامی افراد نے اپنے گھروں سے بنائی ہیں۔ بی بی سی نے یہ تصدیق کی ہے کہ یہ ویڈیوز اوبولان کی ہی ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  15. بریکنگ, حملے کے پہلے روز روس کے 450 فوجی ہلاک ہوئے: برطانوی سیکریٹری دفاع کا دعویٰ

    برطانیہ کے سیکریٹری دفاع بین والیس نے اب سے کچھ دیر قبل بی بی سی ریڈیو 4 سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ برطانوی خفیہ سروسز کی مصدقہ جائزے کے مطابق روس حملے کے پہلے روز اپنے کسی بھی مقصد کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔

    انھوں نے کہا کہ ’روس ناکام ہوا کیونکہ یوکرینیوں نے لڑائی کی، اسے پوتن کی انا کے باعث بھی ناکامی ہوئی کیونکہ پوتن سمجھتے رہے کہ انھیں یوکرین کے لوگ آزاد کرنے والا سمجھیں گے۔‘

    ’یہ اس لیے بھی ناکام ہوا کیونکہ یوکرین کو اسلحے کی صورت میں امداد دی گئی تھی تاکہ وہ روسی ٹینکوں اور طیاروں کو نشانہ بنا سکیں۔‘

    بین والیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ’روسی فوج کے تقریباً 450 اہلکار ہلاک ہوئے۔ انھیں ایلیٹ سپیٹسناز کے ذریعے کیئو کے شمال میں موجود ایئرپورٹ پر قبضہ کرنے میں بھی ناکامی ہوئی۔‘

  16. بریکنگ, روسی افواج اب یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں موجود ہیں: یوکرینی حکام

    یوکرین کے حکام نے ایک ٹویٹ کے ذریعے تصدیق کی ہے کہ روسی اہلکار کیئو میں موجود ہیں۔۔

    یوکرین کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ’دشمن‘ کیئو میں موجود پارلیمان کی عمارت سے نو کلومیٹر جانب شمال واقع اوبولان ڈسٹرکٹ میں موجود ہے۔

    وزارت دفاع نے چند مقامی افراد کو فی الفور محفوظ مقامات پر پناہ لینے جبکہ لڑائی کے قابل افراد کو مزاحمت کرنے کی بات کی ہے۔

    پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’امن پسند شہری، ہوشیار رہیں۔ اپنے گھروں سے باہر مت نکلیں۔‘

    کیئو میں موجود نمائندگان بی بی سی نے اس سے پہلے فائرنگ کی آوازیں سننے کی تصدیق کی تھی تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ وضاحت پیش کرنا مشکل ہے کہ درحقیقت کیا ہو رہا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے بعد اب بلند آواز میں ہونے والے دھماکوں کی آوازیں بھی آ رہی ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. یوکرین اور پولینڈ کی سرحد پر ’ہزاروں افراد‘ جمع

    جمعہ کی صبح بھی یوکرین سے سینکڑوں افراد لوگ پولینڈ کی سرحد پر پہنچے ہیں جو سرحد عبور کر کے پولینڈ میں پناہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان افراد میں شامل پاکستانی شہری عبدالعزیز نے صحافی زبیر خان کو بتایا کہ ’سرحد پر کم از کم پانچ، چھ ہزار لوگ جمع ہو چکے ہیں جو طویل سفر طے کر کے یہاں پہنچے ہیں۔ ان میں بچے، عورتیں اور بوڑھے سب شامل ہیں‘۔

    سید کامران شاہ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو پولینڈ اور یوکرین کی سرحد پر پہنچے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں اس وقت لائن پر کھڑا ہواں۔ بظاہر مجھے ایسے لگ رہا ہے کہ پولینڈ کے حکام کسی کو بھی جو یوکرین سے آئے گا پولینڈ میں داخل ہونے سے نہیں روکیں گے مگر ابھی تک انھوں نے کسی کو اجازت بھی نہیں دی ہے۔

    ’ہم سب لوگ لائنوں میں کھڑے ہیں جبکہ ہم لوگ دیکھ سکتے ہیں کہ پولینڈ کے سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے‘۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھوں نے راستے میں بڑی تعداد میں لوگوں کو پولینڈ کی سرحد کی طرف سفر کرتے دیکھا ہے۔ ’یہ سفر بہت سست رفتاری سے ہو رہا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ آنے والے چند گھنٹوں میں پولینڈ کی سرحد پر بہت بڑا مجمع اکٹھا ہونے والا ہے۔‘

  18. افغان طالبان کی روس اور یوکرین سے ’تحمل کا مظاہرہ‘ کرنے کی اپیل

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغان وزارت خارجہ کی جانب سے جمعہ کے روز جاری کیے جانے والے ایک بیان میں یوکرین میں شہریوں کی ہلاکتوں کے ’حقیقی امکان‘ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امارات اسلامی صورتحال پر بغور نظر رکھے ہوئے ہے۔

    وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امارات اسلامی دونوں فریقوں، روس اور یوکرین، سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتی ہے۔ تمام فریقین ان بیانات سے گریز کریں جو تشدد کو مزید بھڑکا سکتے ہیں۔‘

    وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ امارات اسلامی اپنی غیرجانبدار رہنے کی پالیسی کے تحت اس تنازع کے پرامن اور بات چیت کے ذریعے حل کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔

    اس سے قبل افغان وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے کی جانے والی ایک ٹویٹ میں روس اور یوکرین سے کہا گیا تھا کہ وہ اس تنازع کے دوران یوکرین میں موجود افغان طلبا اور پناہ گزینوں کی حفاظت کے اقدامات کو یقینی بنائیں۔

  19. روسی حملے کے دوسرے روز کیئو کی فضا میں بڑے دھماکے کا منظر

    ،ویڈیو کیپشنکیئو کی فضا میں بڑے دھماکے کا منظر

    روسی حملے کے دوسرے روز کیئو کی فضا میں ایک بڑا دھماکہ کیمرے پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔

  20. جب 13 یوکرینی محافظ ایک روسی جنگی بحری جہاز کے سامنے ڈٹ گئے

    Island

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرینی فوجیوں سے متعلق ایک کہانی جو ملک کے شہریوں کے جذبات ابھار رہی ہے وہ سنیک آئی لینڈ نامی جھڑپ کے بارے میں ہے۔

    اس جھڑپ میں بحیرہ اسود میں قائم اس چھوٹے سے جزیرے پر 13 یوکرینی محافظوں نے ایک روسی جنگی بحری جہاز کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا۔ اس دوران انھوں نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور آخری دم تک لڑتے رہے لیکن بالآخر بمباری ہلاک ہو گئے۔

    ان محافظوں کے آخری لمحات میں کہے گئے الفاظ ٹوئٹر، ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے ہیں۔

    جب روسی بحری جہاز یوکرینی محافظوں سے کہتی ہے کہ ’ہم آپ کو مشورہ دیں گے کہ آپ ہتھیار ڈال دیں اور خود کو ہمارے حوالے کر دیں، ورنہ میں فائرنگ کر دوں گا، کیا آپ کو ہماری آواز آ رہی ہے۔‘

    یوکرینی محافظوں کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’بس بہت ہو چکا۔ روسی بحری جہاز، دفعہ ہو جاؤ۔‘

    یوکرین کے صدر زیلینسکی نے ان محافظوں کی بہادری کی تعریف کی اور کہا کہ ان تمام محافظوں کو مرنے کے بعد جنگی ہیروز کے طور پر اعزازات دیے جائیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارے ایک جزیرے پر محافظوں نے آخری دم تک لڑائی کی اور دلیری سے لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے۔ لیکن انھوں نے ہار نہیں مانی۔

    ’انھیں ہیرو آف یوکرین کا اعزاز دیا جائے گا۔ یہ ان کی ابدی یاد کے لیے ہے جنھوں نے یوکرین کے لیے اپنی جان دی۔‘