یوکرین کے معاملے پر اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس طلب
یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ یورپی یونین ایسا اقدام کر رہا ہے۔ دوسری جانب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے روسی افوج کو سٹریٹجک جوہری فورسز کو خصوصی الرٹ پر رکھنے کا حکم دیا ہے، جس پر امریکہ نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
لائیو کوریج
وائٹ ہاؤس: پوتن اور لیوروف پر امریکہ سفری پابندی لگائے گا
،تصویر کا ذریعہReuters
وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین اور برطانیہ کے بعد اب امریکہ بھی روسی صدر ولادیمیر پوتن اور وزیر خارجہ سرگئی لیوروف پر پابندی عائد کرے گا۔
جمعے کو وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے بتایا کہ امریکہ پوتن، لیوروف اور روس میں قومی سلامتی کی ٹیم کے دیگر اراکین پر پابندی لگا کر یورپی اتحادیوں کے فیصلے کی حمایت کرے گا۔
برطانیہ اور یورپی یونین میں پوتن اور لیوروف کے اثاثے منمجد کیے جائیں گے مگر ان پر سفری پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔ جبکہ امریکہ میں اثاثے منجمد کیے جانے کے ساتھ سفری پابندی بھی شامل ہوگی۔
یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں پانچ دھماکوں کی اطلاعات
،تصویر کا ذریعہGetty Images
یوکرین میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کیئو میں پانچ دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں سے کچھ دھماکے شہر کے شمالی حصے میں ایک پاور سٹیشن کے قریب ہوئے ہیں۔
کیئو کے میئر کے مطابق ’ایمرجنسی سروسز جائے وقوع پر پہنچ رہی ہیں۔ ہم تفصیلات حاصل کر رہے ہیں۔
’بغیر کسی مبالغہ آرائی کے، کیئو میں حالات خطرناک ہیں۔ یہ رات بہت مشکل ہوگی۔‘
بائیڈن اور زیلینسکی کے درمیان رابطہ، 40 منٹ طویل گفتگو میں متعدد معاملات پر بات
امریکہ کے صدر جو بائیڈن اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کے درمیان جمعے کو ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے جس میں دونوں نے پابندیوں اور یوکرین کو امریکی دفاعی امداد پر اظہارِ خیال کیا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے 40 منٹ تک بات چیت کی ہے۔
اس گفتگو کے بعد زیلینسکی نے ٹویٹ کی کہ دونوں نے ’پابندیوں میں سختی، ٹھوس دفاعی امداد اور جنگ مخالف اتحاد پر بات چیت کی۔‘
اس کے علاوہ کال کی مزید تفصیلات نہیں فراہم کی گئیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
میں ابھی ابھی مشرقی یوکرین سے کیئو کے مرکزی ریلوے سٹیشن پہنچا ہوں جہاں دارالحکومت چھوڑ کر جانے کو بے تاب لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔
قومی ریلوے کا کہنا ہے کہ 80 فیصد ٹرینیں اب بھی چل رہی ہیں مگر یہ تاخیر کی شکار ہیں۔ بھاری اسلحے سے لیس پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ ہر کسی کو ٹرین پر چڑھنے دیں گے، چاہے ٹکٹ ہو یا نہ ہو، جب تک کہ ڈبہ بھر نہیں جاتا۔
یک پولیس اہلکار نے مجعمے پر چِلاتے ہوئے کہا کہ ’عورتیں اور بچے پہلے۔ میرا حکم مانو ورنہ ہم گولی مار دیں گے۔‘ وہ یہ بات کہتے ہوئے خوفناک حد تک سنجیدہ نظر آیا۔
باہر سڑکوں پر سناٹا چھایا ہوا ہے۔ یہ کسی بھی طرح معمول کے جمعے کی دوپہر نہیں لگ رہی۔ زیادہ تر ریستوران اور کیفے بند پڑے ہیں۔
کچھ دکانیں اب بھی کھلی ہیں مگر گاہک وہاں موجود ہر چیز خریدتے جا رہے ہیں۔ کچھ شیلف مکمل طور پر خالی نظر آئے۔ زیادہ تر لوگوں نے اب چہرے پر ماسک نہیں پہنے ہوئے۔
کچھ لوگ بیکری پر تازہ تیار چیزوں کے لیے لائن میں کھڑے تھے مگر اچانک فضائی حملے سے خبردار کرنے کے لیے سائرن بجا اور سب لوگ شیلٹرز کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔
زیرِ زمین میٹرو کے سوا شہر میں کوئی اور پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چل رہی۔ لوگ گولہ باری سے بچنے کے لیے زیرِ زمین میٹرو سٹیشنز جا رہے ہیں۔ بچوں اور پالتو جانوروں سمیت لوگوں نے گذشتہ رات سب وے کے پلیٹ فارمز پر گزاری۔
وہ کمبلوں اور کیمپنگ کے میٹس پر سونے کی کوشش کرتے رہے۔ کئی لوگوں کے لیے آج کی رات بھی ایسی ہی ہو گی۔ مگر لوگوں میں مزاحمت اور اتحاد کا احساس بھی دیدنی ہے۔
لوگ ایک دوسرے کو اپنی کہانیاں سنا رہے ہیں، گلے سے لگا رہے ہیں، اور ساتھ دعائیں بھی کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ صدر پوتن اور روس کے بارے میں ایسے لطیفے سنا کر خود کو حوصلہ دے رہے ہیں جن کا یہاں اعادہ نہیں کیا جا سکتا۔
یوکرین نے مذاکرات کی بات چھیڑ کر اپنی فورسز کی ترتیبِ نو کی، ماسکو کا الزام
،تصویر کا ذریعہGetty Images
روسی صدر کے ترجمان دمتری پیسکوف نے یوکرین پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے مذاکرات کی بات چھیڑ کر اپنی فورسز کی از سرِ نو ترتیب شروع کر دی ہے۔
روسیا 24 نیوز چینل پر نشر ہونے والے اپنے تبصرے میں پیسکوف نے کہا کہ جب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ’یوکرین کی غیر جانبدار حیثیت پر بات کرنے کی آمادگی‘ ظاہر کی تو روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے بیلروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو سے کہا کہ وہ منسک میں روسی اور یوکرینی مذاکرات کاروں کے درمیان بات چیت کی میزبانی کریں۔
دمتری پیسکوف کے مطابق ماسکو نے یہ معلومات کیئو کو فراہم کیں مگر یوکرینیوں نے مبینہ طور پر کہا کہ اُنھوں نے ’منسک کے متعلق اپنا خیال بدل لیا ہے اور اب وہ وارسا (پولینڈ) میں مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔‘
پیسکوف نے کہا: ’اور اس کے بعد اُنھوں نے رابطہ بالکل ہی ختم کر لیا اور یہ وقفہ اب کافی دیر سے جاری ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے اس وقفے کے دوران بڑے شہروں، بشمول کیئو کے رہائشی علاقوں میں قوم پرست عناصر راکٹ لانچ سسٹم نصب کر رہے ہیں۔ ہم اس صورتحال کو بہت خطرناک تصور کرتے ہیں اور ہم اس بارے میں کھل کر بات کرنا چاہتے تھے۔‘
یوکرینی شہریوں میں اسلحے کی تقسیم
ہم نے آپ کو کچھ دیر پہلے خبر دی تھی کہ یوکرینی حکام نے 18 ہزار کے قریب بندوقیں اپنے شہریوں میں تقسیم کی ہیں تاکہ وہ رضاکارانہ طور پر روس سے لڑ سکیں۔ ایسے ہی کچھ شہریوں کی تصاویر پیش ہیں۔ واضح رہے کہ یوکرینی حکام نے اپنے شہریوں کو پیٹرول بموں، بندوقوں اور ہر ممکن طریقے کے ذریعے روسی فوجوں سے لڑنے کی ترغیب دی ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
روس یوکرین جنگ: تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟
،تصویر کا ذریعہReuters
اگر آپ ہماری لائیو کوریج میں ابھی ابھی آئے ہیں تو خبروں کا خلاصہ پیش ہے
یوکرین نے کہا ہے کہ روسی فوجی کیئو کے شمالی مضافات میں ہیں اور اُنھوں نے شہر کے عین باہر موجود ہوستومل ایئرپورٹ پر قبضہ کر لیا ہے
برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ روسی فوجوں کی بڑی تعداد اب بھی شہر کے مرکز سے تقریباً 50 کلومیٹر دور ہے
کیئو پر روسی حملے کے پیشِ نظر یوکرینی حکام نے مقامی افراد میں 18 ہزار بندوقیں تقسیم کی ہیں۔ اس کے علاوہ یوکرینی فورسز نے شہر کی طرف آنے والے پل بھی مبینہ طور پر تباہ کر دیے ہیں
تھوڑی دیر قبل روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرینی فوج سے کہا کہ وہ حکومت کا تختہ الٹ دیں
امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ روس کا حملہ ماند پڑ رہا ہے کیونکہ اُنھیں توقع سے زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا
روس نے فن لینڈ اور سویڈن کی نیٹو اتحاد میں شمولیت پر ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی دی ہے
پوتن کی یوکرینی فوجوں کو اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینے کی ترغیب
ولادیمیر پوتن اس وقت روسی سلامتی کونسل سے گفتگو کر رہے ہیں اور اس بات چیت میں وہ بالواسطہ طور پر یوکرینی فوج سے بھی مخاطب ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ ’دورِ جدید کے نازیوں‘ نے کیئو اور خارکیئو سمیت کئی شہروں میں بھاری اسلحہ بشمول راکٹ لانچ سسٹم نصب کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر پوتن یوکرینی حکومت کی تضحیک کے لیے ’دورِ جدید کے نازی‘ کی اصطلاح اکثر و بیشتر استعمال کرتے ہیں تاہم یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی جو خود یہودی ہیں، اس کی مذمت کرتے ہیں۔
پوتن نے کہا: ’وہ پوری دنیا میں دہشتگردوں کی طرح برتاؤ کر رہے ہیں، عام لوگوں کی آڑ لیتے ہیں تاکہ روس پر پُرامن آبادی کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا جا سکے۔‘
’یہ واضح طور پر معلوم ہے کہ یہ سب غیر ملکی مشیروں کی تجویز پر ہو رہا ہے جس میں سرِفہرست امریکی مشیر ہیں۔‘
اس کے بعد وہ یوکرینی فوج سے مخاطب ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان ’جدید دور کے نازیوں کو اپنے بچوں، بیویوں اور بوڑھوں کو ڈھال کے طور پر استعمال نہ کرنے دیں۔‘
’طاقت اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ لگتا ہے کہ آپ اور ہم آسانی سے معاہدے پر پہنچ جائیں گے، کیئو میں ان نشئیوں اور جدید دور کے نازیوں کے ٹولے کے برعکس۔‘
مغربی ممالک نے اب تک روس پر کون سی پابندیاں عائد کی ہیں اور اس کا کتنا معاشی نقصان ہو رہا ہے؟
کیئو کی حفاظت کے لیے شہریوں میں 18 ہزار مشین گنیں تقسیم
،تصویر کا ذریعہAFP
روسی فوجوں کی دارالحکومت کیئو کی جانب پیش قدمی جاری ہے اور اب یوکرین کے حکام نے حملہ آور فوجیوں کو روکنے کے لیے عوام سے ’ہر ممکن کوشش‘ کرنے کے لیے کہا ہے۔
وزارت دفاع اور وزارت داخلہ نے کیئو کے شہریوں سے کہا ہے کہ ’ہمیں سپاہیوں کی نقل و حرکت کی اطلاع دیں، پیٹرول بم بنائیں اور دشمن کو نقصان پہنچائیں۔‘
پیٹرول بم بنانے کا ایک ہدایت نامہ وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا پر جاری کر دیا ہے۔
وزیر داخلہ کے مشیر وادیم دینیسینکو نے کہا ہے کہ کیئو میں تمام رضاکاروں کو 18 ہزار بندوقیں دی گئی ہیں، ان سب کو جو اسلحے کے ساتھ ہمارے دارالحکومت کا دفاع کرنا چاہتے ہیں۔‘
’یوکرینی فوجی ساز و سامان اب کیئو کے دفاع کے لیے وہاں پہنچ رہا ہے۔ میں کیئو کے تمام شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس کی فلمنگ نہ کریں، اس کی نقل و حرکت کی ویڈیوز نہ بنائیں۔ یہ ہمارے شہر کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔‘
کیئو کے بم شیلٹر میں ایک رات: ’نہ سو پائیں گے، نہ کھا پائیں گے‘
،تصویر کا ذریعہYeven Havrylov
کیئو میں رہنے والے ییوہین ہاوریلوف نے گذشتہ رات ایک بم شیلٹر میں گزاری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم لوگوں کی آنکھ 3 بجے میزائل حملے کے باعث کھلی۔ میں فوراً اپنے گھر والوں کو ایک بم شیلٹر میں لے گیا جو ایک قریبی سکول کے نیچے بنایا گیا ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ وہ دور ’مسلسل گولہ باری‘ کی آواز سن سکتے ہیں۔ مگر وہ کہتے ہیں کہ کل رات دھماکے بہت طاقتور تھے، اس سے پچھلی رات سے بھی زیادہ۔
وہ بتاتے ہیں کہ گھبراہٹ کے باعث ’آپ سو نہیں پائیں گے، کھا نہیں پائیں گے، بمشکل پانی پی سکیں گے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ حکام نے شیلٹرز کا بہتر انتظام کر رکھا ہے جہاں پینے کا پانی دستیاب ہے اور ان کی حفاظت یوکرینی فوجی کر رہے ہیں۔
چیچنیا نے یوکرین بھیجنے کے لیے ’10 ہزار رضاکاروں‘ پر مبنی فورس تیار کر لی
،تصویر کا ذریعہReuters
چیچن رہنما رمضان قادروف نے کہا ہے کہ اُنھوں نے اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 10 ہزار ارکان پر مشتمل ایک فورس تیار کر لی ہے جسے ضرورت پڑنے پر یوکرین بھیجا جا سکتا ہے۔
روس کے سرکاری خبر رساں ادارے آر آئی اے نوووستی کے مطابق قادروف نے چیچنیا کے دارالخلافہ گروزنی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ابھی کسی کو نہیں بھیج رہے۔ ہم نے آج رضاکاروں کو جمع کیا ہے جو کسی بھی وقت خطے میں کسی بھی خصوصی آپریشن کے لیے تیار ہیں تاکہ ہماری ریاست کا تحفظ کیا جا سکے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ ’میں باضابطہ طور پر بتا رہا ہوں کہ یوکرین میں اہم مقامات پر چیچن جنگجو قبضہ کریں گے۔‘
رمضان قادروف نے مزید کہا کہ روس یوکرین میں ’دہشتگردوں‘ سے لڑ رہا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی یوکرین سروس کی ایڈیٹر کی جنگ کے سائے میں کیئو سے نکلنے کی ڈرامائی کہانی
شام کے صدر بشار الاسد کی یوکرین پر روسی حملے کی حمایت
،تصویر کا ذریعہReuters
شام کے ایوانِ صدر کے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر بشار الاسد نے جمعے کو روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ٹیلیفون پر بات چیت میں روس کے یوکرین پر حملے کو ’تاریخ کی درستگی‘ قرار دیا ہے۔
دوسری طرف کریملن کی آفیشل ویب سائٹ پر جاری کیے گئے بیان کے مطابق بشار الاسد نے ’امریکہ اور نیٹو کی عدم استحکام کی پالیسی کی مذمت کی جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں حالات سنگین حد تک خراب ہوئے۔‘
واضح رہے کہ شام کی خانہ جنگی کے دوران ولادیمیر پوتن نے بشار الاسد کی حکومت اور اُن کی فورسز کی بھرپور مدد اور حمایت کی تھی۔
روس یوکرین سے مذاکرات کے لیے تیار، مگر شرائط بھی عائد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
روسی صدر کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین کے ساتھ بیلاروسی دارالحکومت منسک میں مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
روس کے سرکاری خبر رساں ادارے آر آئی اے نوووستی کے مطابق یہ بات چیت یوکرین کے ’غیر جانبدار‘ ہونے پر ہو گی۔ واضح رہے کہ روس چاہتا ہے کہ یوکرین نیٹو میں شمولیت کو ہمیشہ کے لیے ذہن سے نکل دے۔
یوکرین کے صدر نے اب سے کچھ دیر قبل روس کو مذاکرات کی دعوت دی تھی مگر یہ واضح نہیں کہ وہ پوتن کی ان شرائط پر مذاکرات کریں گے یا نہیں۔
منسک اس لیے اہم ہے کیونکہ سنہ 2014 میں مشرقی یوکرین میں پھوٹنے والے تنازعے کے حل کے لیے یہیں پر امن معاہدے طے پائے تھے۔
مگر یوکرین پر حملے سے ایسا لگتا ہے کہ روسی صدر یہ معاہدے پھاڑ چکے ہیں۔
اس سے قبل روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا تھا کہ تب تک بات چیت نہیں ہو سکتی جب تک کہ یوکرینی فوج ہتھیار نہیں ڈال دیتی۔
روس یوکرین جنگ: چین ’مذاکرات کے ذریعے‘ بحران کے حل کا حامی
،تصویر کا ذریعہEPA
جہاں مغربی ممالک روس کے خلاف متحد ہو چکے ہیں وہاں روس کا پڑوسی ملک چین روس کے خلاف نظر نہیں آ رہا۔
چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق جمعے کو ایک فون کال کے دوران چین کے صدر شی جن پنگ نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کو بتایا کہ چین یوکرینی بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کرتا ہے۔
یوکرین روس تنازع چین کے لیے کئی طرح سے ایک بڑا چیلنج ہے۔ روس اور چین کے درمیان ہمیشہ سے موجود مضبوط سفارتی تعلق سرمائی اولمپکس میں بھی دیکھا گیا جب پوتن بیجنگ آنے والے معدودے چند عالمی رہنماؤں میں سے ایک تھے۔
اس سے قبل چین کی وزارتِ خارجہ روسی فوجی کارروائی کو ’حملہ‘ قرار دینے سے گریز کر چکی ہے۔
یوکرین سے پاکستانی شہری اب پولینڈ میں داخل ہو سکیں گے
پولینڈ میں پاکستانی سفارت خانے کے مطابق پولینڈ کی وزارتِ خارجہ نے پاکستانی شہریوں کو یوکرین سے اپنے ملک میں داخلے کی اجازت دے دی ہے۔
پاکستانی سفارت خانے کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پاکستانی شہری 15 روز کے اندر اندر بذریعہ زمینی راستہ پولینڈ میں داخل ہو سکتے ہیں اور ایسے تمام افراد کے لیے کووڈ 19 کی پابندیاں اور ویکسینیشن کی شرط معطل کر دی گئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
کیئو جانے والی ٹرین کے چند مسافروں سے بات چیت, اولیگ کارپیاک، بی بی سی یوکرینیئن
میں مشرقی شہر دنیپرو سے شمال میں واقع دارالحکومت کیئو جانے والی ٹرین میں سوار ہوں۔ زیادہ تر لوگ کیئو جانے کے بجائے وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں، چنانچہ کچھ بوگیاں بالکل خالی ہیں۔
کچھ مسافر مجھے بتاتے ہیں کہ وہ روسی فضائی حملوں کے باوجود کیئو جا رہے ہیں۔
ویلنٹینا نامی ایک سکول ٹیچر اپنی 12 سالہ پوتی اور بونیا نامی اپنی بلی کے ساتھ کیئو جا رہی ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ وہ دنیپرو سے 80 کلومیٹر دور پاولوگراد میں رہتی ہیں جہاں ایک بہت بڑا کیمیائی پلانٹ موجود ہے۔ اُنھیں خوف ہے کہ یہ روس کا اگلا ہدف ہو سکتا ہے۔
اس لیے اُن کے خاندان نے فیصلہ کیا کہ بچی کو کیئو واپس پہنچا دیا جائے۔
بعد میں وہ کسی اور جگہ منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنآئیوان کراوچیشین
پاس ہی ایک فلم ڈائریکٹر آئیوان کراوچیشین بیٹھے ہیں۔ وہ آودیویکا نامی شہر میں روسی فوجوں سے لڑنے والے یوکرینی فوجیوں کی فلم بندی کرتے رہے۔
یہ شہر مشرقی خطے دونباس میں واقع ہے جسے ماسکو نے رواں ہفتے آزاد قرار دے دیا ہے۔ اُنھوں نے مسکراتے ہوئے کہا: ’میں آپ کو ٹھیک سے سن نہیں سکتا۔ میں گولہ باری کی وجہ سے تقریباً بہرہ ہو چکا ہوں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ یہ تاریخ ساز لمحات ہیں اور وہ کسی محفوظ مقام پر نہیں رہ سکتے۔
کیئو کے قریب جہاں انتونوو ایئرپورٹ پر لڑائی ہو رہی ہے، وہاں قریب ہی اُن کا خاندان رہتا ہے۔ اس کے بعد وہ سوچیں گے کہ کہاں جانا چاہیے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم فلم ڈائریکٹرز، رائٹرز، ہر طرح کے آرٹسٹ، ہم کہانی گو ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جو یوکرینی لوگوں کے لیے حقیقت پیدا کریں گے جسے وہ ٹی وی، انٹرنیٹ اور سینماز پر دیکھیں گے۔‘
’تو مستقبل میں یہ حقیقت کیسی نظر آئے گی، یہ ہم پر منحصر ہے۔‘
یوکرینی صدر کی پوتن کو مذاکرات کی دعوت، ’لوگوں کی اموات روکنے کے لیے مذاکرات کی میز پر آئیں‘
،تصویر کا ذریعہOffice of the President of Ukraine
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے کہا ہے کہ وہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی میز پر آئیں۔
اُنھوں نے یوٹیوب پر جاری اپنے پیغام میں روسی زبان میں کہا: ’میں روس کے صدر سے مخاطب ہونا چاہتا ہوں۔ پورے یوکرین میں جنگ ہو رہی ہے۔ آئیں مذاکرات کی میز پر بیٹھیں تاکہ لوگوں کی موت رک سکے۔‘
اس کے بعد اُنھوں نے یوکرینی افواج سے کہا کہ وہ ’قدم جمائے رکھیں۔‘
زیلینسکی نے یوکرینی زبان میں اپنی فوجوں سے کہا: ’آپ ہی ہمارا سب کچھ ہیں۔ آپ ہی ہماری ریاست کے محافظ ہیں۔‘
دنیپرو میں روسی پیش قدمی روکنے کے لیے مورچہ بندی, سارا رینسفورڈ، بی بی سی نامہ نگار برائے مشرقی یورپ
،تصویر کا ذریعہReuters
ہم گذشتہ رات مشرقی یوکرین کے خطے دونباس سے مرکزی شہر دنیپرو گئے جہاں توقع کی جا رہی ہے کہ روسی فوجی وہاں پیش قدمی کریں گے۔
یہاں پہلے ہی اگلے مورچوں پر روسی فوجیوں کی یوکرینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپیں جاری ہیں۔
دونباس میں اگلے مورچے آٹھ سالوں سے قائم ہیں مگر روسی فوجیں اب آگے بڑھ کر زیادہ سے زیادہ علاقے پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
کل ہم نے پورا دن تھوڑے تھوڑے وقفے سے دھماکوں کی آوازیں سنیں۔
تقریباً سات ہزار لوگ دونباس سے خصوصی ٹرینوں کے ذریعے نسبتاً محفوظ علاقوں کی جانب جا چکے ہیں۔
ہم نے دونباس سے بہت سی گاڑیوں کو بھی سڑکوں پر دیکھا۔
جب ہم ایک نمایاں شہر پاولوگراد سے گزرے تو ہم نے فوجیوں اور مزدوروں کو بھاری مشینری کے ذریعے ایک بڑی چوکی تیار کرتے ہوئے دیکھا۔ وہ بڑے کنکریٹ بلاکس اور ریت کی بوریوں کی مدد سے مورچہ بندی کر رہے تھے تاکہ روسی فوجیوں کی ملک میں مغرب کی طرف پیش قدمی کو روکا جا سکے۔
دریائے دنیپر کے پاس قائم شہر دنیپرو سٹریٹجک حیثیت کا حامل ہے۔ اس شہر کے جنوب میں اور شمال میں خارکیئو کی طرف بھی لڑائی جاری ہے اور لوگ مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں۔