یوکرین کے معاملے پر اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس طلب

یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ یورپی یونین ایسا اقدام کر رہا ہے۔ دوسری جانب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے روسی افوج کو سٹریٹجک جوہری فورسز کو خصوصی الرٹ پر رکھنے کا حکم دیا ہے، جس پر امریکہ نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. یوکرین تنازع: روسی فوجیں اس وقت کہاں کہاں موجود ہیں؟

    bbc

    اندازوں کے مطابق یوکرین کی سرحد کے نزدیک موجود روسی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ سے ایک لاکھ 90 ہزار کے درمیان ہے۔

    اطلاعات کے مطابق یوکرین کی سرحد کے قریب موجود افواج کو ایسی تمام سہولیات مہیا کر دی گئی ہیں جو حملے کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ ان سہولیات میں فیلڈ ہسپتال، مرمتی ورکشاپس، اور کیچٹر ہٹانے والا ساز و سامان پہنچا دیا گیا ہے۔

    روس کے مختلف حصوں سے آنے والے 35 ہزار فوجیوں کو مستقل طور پر یوکرین کی سرحد کے قریب تعینات کر دیا گیا ہے۔ ان میں کچھ فوجی یونٹ چھ ہزار کلومیٹر دور مشرقی روس سے یہاں پہنچے ہیں۔

    بھاری جنگی ساز و سامان کو ریل کے ذریعے یہاں پہنچایا گیا ہے۔ کچھ گاڑیاں کراشیف اور بارنسک علاقوں سے ہوتے ہوئے یوکرین کی سرحد کے قریب پہنچی ہیں۔ مزید پڑھے >>

  2. یوکرینی صدر کی ملک میں مارشل لا نافذ کرنے کی سفارش

    گ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اپنے ملک کی قومی سلامتی اور دفاعی کونسل سے ملک میں مارشل لا نافذ کرنے کی سفارش کی ہے۔

    توقع کی جاری ہے کہ اس حوالے سے فیصلہ کرنے کے لیے کونسل ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی۔

  3. برطانیہ کی سیکریٹری خارجہ کی ’خوفناک بلااشتعال حملے‘ کی مذمت

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    برطانیہ کی سیکریٹری خارجہ لز ٹرس نے ایک ٹویٹ میں ’صدر پوتن کی جانب سے یوکرین کے عوام پر کیے گئے خوفناک، بلااشتعال حملے‘ کی شدید مذمت کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’برطانیہ یوکرین کے ساتھ کھڑا ہے اور وہ اس جارحیت سے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ بین الاقوامی ردِ عمل دے گا۔‘

  4. یوکرین پر روسی حملے کی صورت میں امریکہ کس حد تک جا سکتا ہے؟

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ یوکرین کو اپنے ‘خودمختار علاقے‘ کے دفاع میں مدد کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ صدر بائیڈن نے یوکرین پر حملہ ہونے کی صورت میں ایسے اقدامات کرنے کی بات کی کہ ‘جیسے کسی نے کبھی نہیں دیکھے۔‘

    لیکن انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یکطرفہ طور پر امریکی فوجیوں کی تعیناتی زیرِ غور نہیں۔

    یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ تنہا اپنے دفاع کے لیے تیار ہے۔ وزیر خارجہ دیمیٹرو کولیبا نے کہا کہ ہم یہ جنگ خود لڑیں گے۔

    لہٰذا اگر امریکہ یوکرین کی نیٹو میں شمولیت یا کسی اور چیز پر روس کی 'سرخ لکیروں' کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے تو بھی اس کے 'مضبوط اقتصادی اور دیگر اقدامات' یوکرین کی مدد کے لیے کہاں تک جائیں گے؟ مزید پڑھیے >>

  5. جنگ کے خطرے کے سائے میں زندگی: ’میں جنگ کا خوف مٹانے کے لیے ڈانس کرتی ہوں‘

    GETTY IMAGES

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرین کے شہری سنہ 2014 سے جنگ میں زندگی گزار رہے ہیں جب علیحدگی پسندوں نے ملک کے مشرقی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور روس نے کریمیا سے الحاق کر لیا تھا۔

    گذشتہ چند ہفتوں سے ملک کے دیگر حصوں میں بھی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جب روس نے یوکرین کے سرحد کے قریب بڑی تعداد میں فوجوں کو اکٹھا کر رکھا ہے۔

  6. بریکنگ, یوکرین کے دارالحکومت میں دھماکوں کی آوازیں

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی براہ راست نشریات کے دوران یوکرین کے دارالحکومت کئیو سے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    سی این این کے نامہ نگار میتھیو چانس جب نشریات کے براہ راست بات کر رہے تھے تو اس دوران دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    اس سے قبل، بی بی سی کے نامہ نگار پال ایڈمز نے صبح پانچ کے بعد یوکرین کے دارالحکومت میں پہلے دھماکے سنے۔

    وہ بتاتے ہیں کہ ’یہ چار سے پانچ دھماکے تھے جن کی آواز دور سے سنائی دی۔ جس کے بعد دھماکوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ تازہ ترین دھماکے کی آواز قریب سے آئی لیکن یہ شہر کے وسط سے نہیں آئی۔‘

    انھوں نے بتایا کہ کچھ اطلاعات کے مطابق شاید ایئرپورٹ پر حملہ کیا گیا ہے جبکہ ایک حکومتی اہلکار جو بین الاقوامی میڈیا سے رابطے میں ہیں نے بتایا ہے کہ ’ایئرفیلڈز اور فوجی ہیڈکوارٹرز پر حملہ کیا گیا ہے۔‘

  7. روس کا حملہ عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، نیٹو کے سیکریٹری جنرل

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹنبرگ نے روسی کے یوکرین پر حملے کی مذمت کی ہے۔

    ٹویٹر پر ایک پوسٹ میں ان کا کہنا ہے کہ اس سے ’بے شمار شہریوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔‘

    انھوں نے اس حملے کو عالمی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور خطے کے ممالک کی سیکیورٹی کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔

    نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ نیٹو اتحادی ملاقات میں فیصلہ کریں گے کہ روس کی جارحیت سے کیسے نمٹا جائے۔

  8. بریکنگ, صرف روس ہی اس حملے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں اور تباہی کی ذمہ دار ہو گا: جو بائیڈن

    biden

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ادھر امریکی صدر جو بائیڈن نے 'روسی فوج کے بلااشتعال اور بلاجواز حملے' سے متعلق اپنا ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'پوری دنیا کے لوگوں کی دعائیں یوکرین کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔'

    بائیڈن کا کہنا تھا کہ 'صدر پوتن نے پہلے سے منصوبہ بندی کر کے جنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے انسانی جانوں کا ضیاع ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی المیہ جنم لے گا۔'

    انھوں نے کہا کہ 'صرف روس پر ہی اس حملے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں اور تباہی کی ذمہ داری عائد کی جائے گی اور امریکہ اور اس کے اتحادی اور شراکت دار اس کے ردِعمل متحد اور فیصلہ کن انداز میں دیں گے۔ دنیا روس کو اس کا جوابدہ ٹھہرائے گی۔'

    بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ امریکیوں سے جمعرات کے روز امریکی عوام سے خطاب میں یہ بتائیں گے کہ روس کو کن نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  9. بریکنگ, پوتن نے جنگ شروع کر دی ہے، یوکرین کے وزیرِ خارجہ

    یوکرین کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ روس نے جنگ شروع کر دی ہے مگر یوکرین اپنا دفاع کرے گا اور یہ جنگ جیت جائے گا۔

    انھوں نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا کہ وہ روس کو روکنے کے لیے ’ہر ممکن کوشش کرے‘۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. بریکنگ, پوتن کا یوکرین میں فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان، یوکرینی فوجیوں سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ

    پوتن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ٹی وی پر قوم سے خطاب کے دوران یوکرین کے ڈونباس خطے میں 'فوجی آپریشن' کا اعلان کر دیا ہے۔

    پوتن کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل ان سے ایسا نہ کرنے کا پرزور مطالبہ کیا تھا۔ جمعرات کی صبح ٹیلی ویژن پر کی گئی تقریر میں پوتن نے مشرقی یوکرین میں فوجیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال کر اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔

    انھوں نے یوکرین کو خبردار کیا ہے کہ اگر خونریزی ہوتی ہے تو اس صورت میں الزام اسی پر عائد کیا جائے گا۔ پوتن کا مزید کہنا تھا کہ 'انصاف اور سچ' روس کی طرف ہیں اور خبردار کیا کہ اگر کسی نے روس کے خلاف جارحیت کی کوشش کی تو ماسکو کا ردِ عمل 'فوری' ہو گا۔

    روسی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ان کے ملک کے اقدامات اپنے دفاع میں لیے گئے ہیں۔ جمعرات کی صبح ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں پوتن کا کہنا تھا کہ ان کا ملک یوکرین پر قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

    یوکرین میں فوجی آپریشن کا اعلان کرتے ہوئے پوتن کا کہنا تھا کہ ’ان کا ملک کسے چلانا چاہیے، یوکرینی عوام آزادانہ طور پر اس بات کا فیصلہ کر سکیں گے۔‘

  11. روس، یوکرین تنازع سے متعلق بی بی سی اردو کے خصوصی لائیو پیج پر خوش آمدید

    روس، یوکرین تنازع سے متعلق بی بی سی اردو کے خصوصی لائیو پیج پر خوش آمدید۔

    اب سے کچھ ہی دیر قبل روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے یوکرین کے ڈونباس خطے میں فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔