یوکرین کے معاملے پر اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس طلب

یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ یورپی یونین ایسا اقدام کر رہا ہے۔ دوسری جانب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے روسی افوج کو سٹریٹجک جوہری فورسز کو خصوصی الرٹ پر رکھنے کا حکم دیا ہے، جس پر امریکہ نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. روسی کی جانب سے حملے کہاں کہاں ہو رہے ہیں?

    russia

    یوکرین کے صدر ولودیمر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ان کی افواج روسی حملوں کو نہ صرف مشرقی یوکرین میں ڈونباس کے علاقے میں پسپا کر رہی بلکہ دیگر خطوں میں جہاں جہاں حملے ہو رہے ہیں ان سے بھی مقابلہ کر رہی ہیں۔

    روسی افواج کا دوسری جانب دعوی ہے کہ ان کے فوجیوں کو زیادہ مزاحمت کا اب تک سامنا کرنا نہیں پڑا۔

    یوکرینی فوج نے دعوی کیا ہے کہ وہ اب تک روس کے 50 ’قبضہ کرنے والے‘ افراد کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ انھوں نے روس کے کم از کم چھ طیارے تباہ کر دیے ہیں۔ ان دعوں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

  2. پوتن نے ’تشدد کی بڑی لہر‘ کو جنم دیا ہے: بورس جانسن

    بورس جانسن

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے روس کا یوکرین پر حملہ ’ صدر پوتن کا اشتعال انگیز اور بربریت پر مبنی کھیل‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے اس کا ’نتیجہ ناکامی پر ہو گا۔‘

    اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ روس کے صدر پوتن نے یوکرین میں ’تشدد کی ایک بڑی لہر‘ کو جنم دیا ہے۔

    روسی شہریوں کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کہ انھیں یقین نہیں آ رہا کہ یہ سب کچھ ’آپ کے نام پر کیا جا رہا ہے‘ یا یہ مانا جائے کہ روسی شہریوں اپنے ملک کو ’خارجی ملک‘ بنانا چاہتا ہے۔

    یوکرین کو مخاطب کرتے ہوئے بورس جانسن کا کہنا تھا کہ ’ہم آپ کے ساتھ ہیں، ہم آپ کے اور آپ کے اہل خانہ کے لیے دعا گو ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں ’آزادی کی کرن‘ دوبارہ روشن ہو گی، میں اس پر یقین نہیں رکھتا کہ روسی ڈکٹیٹر یوکرینی شہریوں کی قومی امنگوں کو دبا نہیں سکتے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ برطانیہ یورپی ممالک میں سے وہ پہلا ملک ہے جو یوکرین کو دفاعی مدد کے لیے ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دیگر اتحادیوں نے بھی اس پر عمل کیا ہے اور برطانیہ آنے والے دنوں میں مزید اقدامات کریں گا۔ تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    بورنس جانسن کا کہنا تھا کہ ’اتحادیوں کے ساتھ آج کے اجلاس میں ہم نے روس کی لنگڑاتی معیشت پر مزید بھاری اقتصادی پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ یورپی مشترکہ طور پر تیل اور گیس پر انحصار کم کریں گا جس نے پوتن کو یورپ پر اپنی گرفت بنانے کا موقع فراہم کیا۔

  3. روس یوکرینی قیادت کا ’سر قلم‘ کرنا چاہتا ہے: روسی صدر کے قریبی مشیر کا دعوی

    ukraine

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یوکرین کے صدر زیلنسکی کے قریبی مشیر مئیخالو پوڈولیاک نے دعوی کیا ہے کہ روس یوکرین کی قیادت کا ’سر قلم کرنا‘ چاہتا ہے۔

    پریامی ٹی وی چینل پر دکھائی جانے والی بریفنگ میں مئیخالو پوڈولیاک نے مزید کہا کہ روسی فوج کا مقصد ہے کہ وہ یوکرین کی قیادت کو ختم کر دیں۔

    ’وہ چاہتے ہیں کہ ہیجان کی کیفیت برپا کر دیں اور تمام قیادت کا سر قلم کر دیں تاکہ اس کے بعد کوئی حکومت نہ رہے اور وہ (روسی) اپنی پسند کے لوگوں کو یہاں بٹھا دیں جو روسی حکومت کے ساتھ دو طرفہ تعلقات پر کوئی معاہدے کر لیں۔‘

  4. روسی حملہ براعظم یورپ کے لیے ’تاریخ ساز‘ لمحہ ہے: فرانسیسی صدر میخواں

    frace

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    فرانس کے صدر ایمانوئیل میخواں نے روس کی جانب سے یوکرین پر کیے جانے والے کو براعظم یورپ کے لیے ’تاریخ ساز لمحہ قرار‘ دیا ہے۔

    قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ فرانس پوری طرح یوکرین کے ساتھ ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ روسی اقدام سے یورپ میں دور رس اور گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

  5. روس نے ملکی تنصیبات میں 30 سے زائد میزائل حملے کیے: یوکرینی فوج

    میزائل حملہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرین کی فوج کے ترجمان نے فیس بک پر دعویٰ کیا ہے کہ روس کی فوج نے ملک کی 30 سے زائد عسکری و سول تنصیبات پر میزائل حملے کیے ہیں۔

    بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق یوکرین کی فوج کے ترجمان نے اپنے فیس بک پر اطلاع دیتے ہوئے انگریزی میں لکھا کہ ’ جمعرات کو دوپہر ایک بجے تک روس کی فوج نے یوکرین کی عسکری اور سول تنصیبات پر 30 سے زائد کروز میزائل حملے کیے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق روس کی فوج نے فضائیہ کی مدد سے یوکرینی سرحد پر پیش قدمی جاری رکھے ہوئی ہیں اور اس کی فوج خيرسون، آرمینسک، خیخوا کے علاقوں کی جانب بڑھ رہی ہیں۔

  6. روسی میڈیا یوکرین پر حملے کو کیسے نشر کر رہا ہے؟, فرانسس سکار، بی بی سی مانیٹرنگ، ماسکو

    ukraine

    ،تصویر کا ذریعہRossiya 24

    روس کا بیشتر میڈیا سرکاری کنٹرول میں ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ملک کے ٹی وی چینلز پر یوکرین کے خلاف کیے جانے والا حملہ دفاعی قدم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور جس کا مقصد صرف یوکرین کی فوج کو نشانہ بنانا ہے۔

    ملک میں چلنے والے کئی ٹی وی چینلز پر وزارت دفاع کی بیان نشر کیا جا رہا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ’روس انتہائی باریک بینی سے نشانہ بنانے والے ہتھیار‘ استعمال کر رہے ہیں جس کا مقصد محض یوکرین کے فوجی مراکز کو نقصان پہنچانا ہے۔

    سرکاری ٹی وی روسیا ون نے اپنے ایک نیوز بلیٹن کا آغاز اس خبر سے کیا: ’آج روس نے ایک خاص عسکری آپریشن کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد ان لوگوں کو تحفظ دینا ہے جو کیئو کی حکومت کی جانب سے گذشتہ آٹھ برس سے ظلم و بربریت کا سامنا کر رہے ہیں۔‘

    اس کے علاوہ ان خبروں میں مشرقی یوکرین میں روسی نواز باغیوں کے زیر انتظام علاقوں سے انٹرویو نشر کیے گئے جہاں ’مقامی‘ افراد کو دکھایا گیا اور انھوں نے روسی کارروائی پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔

    ایک عورت نے روسیا 24 سے بات کرتے ہوئے کہا: ’یہ بہت ہی زبردست ہے۔ ہم نے آٹھ سال اس کا انتظار کیا ہے۔‘

  7. ’ہر کوئی چاہ رہا ہے کہ وہ شہر چھوڑ دے۔۔۔‘

    ’ہر کوئی چاہ رہا ہے کہ وہ شہر چھوڑ دے۔۔۔‘ یوکرین کے شہر خارخیو میں موجود پاکستانی طالبعلم نے کیا دیکھا، جانیے ہماری ویڈیو میں۔۔۔ایڈیٹنگ: محمد ابراہیم

  8. جنوبی یوکرین میں روسی حملے میں 18 افراد ہلاک

    جنوبی یوکرین کے صوبے اوڈیسا کے ایک مقامی گاؤں پر روسی حملے میں اٹھارہ افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

    بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق یوکرین کے صوبے اوڈیسا کی مقامی ایمرجنسی سروسز نے فیس بک پر اس حملے کے متعلق اطلاع دی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں آٹھ مرد جبکہ دس خواتین شامل ہیں۔

    تاہم مقامی گاؤں میں حملے کے بعد ملبے سے چھ افراد کو نکال لیا گیا ہے اور قریبی مرکزی ہسپتال پنچایا گیا۔ ان میں سے ایک زخمی ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ مقامی ایمرجنسی سروسز ملبے تلے مزید افراد کی تلاش کر رہے ہیں۔

  9. یوکرینی وزیر دفاع کا ’روس کو بھاری جانی نقصان‘ پہنچانے کا دعویٰ

    وکرین کے وزیر دفاع اولکسی ریزنیکوف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرین کے وزیر دفاع اولکسی ریزنیکوف نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کی فوج نے مشرقی علاقوں پر حملہ آور ہونے والے روسی فوجیوں کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے اور ان کی ہیش قدمی کو روک دیا ہے۔

    ان کا ویڈیو خطاب یوکرین کے مقبول ٹی وی چینل یوکریینا 24 پر نشر کیا گیا۔

    بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق انھوں نے اپنے نشر کیے جانے والے خطاب میں کہا کہ ’ یوکرین کے عزیز شہریوں دشمن کا ہمیں توڑنے کا خواب پورا نہیں ہوا۔ یوکرین کامیابی سے جنگ لڑ رہا ہے۔ یوکرین کی افواج نے دشمن کی حملہ آور فوج کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے۔ درجنوں فوجیوں کی لاشیں روس واپس بجھوائی گئی ہیں۔ ہم ملک کے مشرقی علاقوں میں کامیابی سے اپنا دفاع کر رہے ہیں۔ دشمن کا حملہ پسپا کر دیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا ’دشمن کے پہلے ہی چھ جہاز، دو ہیلی کاپٹر اور پانچ ٹینک تباہ ہو چکے ہیں۔‘

    یوکرین کے وزیر دفاع کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ ’ میں یوکرین کے ہر مرد اور عورت محافظ پر فخر محسوس کرتا ہوں۔ ہماری فوج، نیشنل گارڈز اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے جوان ثابت قدمی سے اپنے وطن کا دفاع کر رہے ہیں۔ اور جہاں سے بھی دشمن حملہ کرنے کی کوشش کریں گا ہم اپنا بھرپور دفاع کریں گے۔۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے بین الاقوامی مدد طلب کر لی ہے اور میری اس سلسلے میں برطانیہ، لتھوینا، ترکی اور دیگر اتحادیوں کے وزرا دفاع سے بات ہوئی ہے۔ اب ہمارے پاس مزید اسلحہ اور تحفظ کا سامان موجود ہو گا لیکن ہمارا سب سے بڑا تحفظ ہماری افواج اور عوام ہیں۔‘

  10. روسی فوجی دستے شمالی علاقوں سے ملک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں: یوکرین

    russia

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یوکرین کے سٹیٹ بارڈر سروس نے اپنے فیس بک پیج پر خبر دی ہے کہ روسی فوج ملک کے شمالی حصے میں واقع کیئو خطے کے ولچا چیک پوائنٹ سے داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن سرحدی دفاعی دستے نے یوکرینی فوج کے ہمراہ انھیں روکا ہوا ہے۔

    خبر میں مزید بتایا گیا ہے کہ سرحدی حصے پر راکٹ حملے بھی کیے گئے اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یوکرین کے سرحدی دستے اپنی پوزیشن تبدیل کر رہے ہیں۔

  11. روسی فوج کا کریمیا جانے والی نہر کا کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ

    russia

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنشمالی کریمین کنال

    یوکرین کے عوامی نشریاتی ادارے سسپلین کے مطابق روسی فوج نے دعوی کیا ہے کہ وہ کریمیا کے خطے میں جانے والی کنال ’شمالی کریمین کنال‘ پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں اور خیرسن خطے میں پانی سے چلنے والے ہائڈرو پاور پلانٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔

    اس کنال کو کریمیا اور خیرسن خطے میں پانی پہنچانے کے مقصد کے لیے تعمیر کیا گیا تھا تاہم جب 2014 میں روس نے کریمیا پر قبضہ کر لیا تھا تو یوکرین نے اس کنال سے پانی کی فراہمی بند کر دی تھی۔

  12. بریکنگ, نیٹو نے اپنے ’دفاعی منصوبے فعال کر دیے ہیں‘

    russia

    نیٹو کے سربراہ جیسن سٹولٹنبرگ نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی فوجی کارروائی کو ختم کرے اور یوکرین سے اپنی فوج کو واپس بلائے اور سفارتکاری پر توجہ دے۔

    نیٹو کے سربراہ نے اپنے بیان میں مزیدکہا کہ روس طاقت کی مدد سے تاریخ تبدیل کرنے کا خواہشمند ہے اور یوکرین سے ان کی آزادی اور ان کی خودمختاری سلب کر رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ شمالی اٹلانٹک کونسل جو کہ نیٹو تنظیم کا فیصلہ ساز ادارہ ہے، نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی منصوبوں کو فعال بنا رہے ہیں تاکہ نیٹو کے زیر انتظام دیگر ممالک کا دفاع کر سکیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ نیٹو اپنے افواج کو کہیں بھی تعینات کر سکتا ہے جہاں اس کی ضرورت ہے۔

    یاد رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کہہ چکے ہیں کہ امریکی فوج یوکرین نہیں جائے گی۔

  13. روس اور یوکرین کے درمیان جنگ: فریقین کا ماضی کیا ہے؟

    russia

    ساری دنیا کی کچھ گھنٹے قبل شروع ہونے والی اس جنگ پر نظریں مرکوز ہیں ، تو اپنے قارئین کو چند سطروں میں یہ بتاتے چلیں کہ اس لڑائی کے فریقین کون ہیں اور ان کا ماضی کیا ہے۔

    یوکرین یورپ کے مشرقی سرے پر روس کے ساتھ واقع ہے۔ یہ زمینی رقبے کے اعتبار سے یورپ کا دوسرا بڑا ملک ہے اور رقبے کے اعتبار سے دنیا کے سب سے بڑے ملک روس نے جمعرات کی صبح اس پر حملہ کر دیا تھا۔

    یوکرین کی آبادی تقریباً ساڑھے چار کروڑ ہے جبکہ روس کی آبادی ساڑھے 14 کروڑ ہے۔

    روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ اس جنگ میں ان کا مقصد یوکرین کی عسکری صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔

    ادھر یوکرین کے صدر ولودیمر زیلنسکی نے عہد کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کی آزادی کی جنگ لڑیں گے۔ ’ہم طاقتور ہیں اور ہم کسی بھی صورتحال کے لیے تیار ہیں۔‘

    یوکرین ماضی میں سویت یونین کا حصہ تھا اور اس کے روس کے ساتھ بہت گہرے سماجی اور ثقافتی تعلقات ہیں اور ان کے چالیس لاکھ سے زیادہ شہری روس میں رہائش پذیر ہیں اور یوکرین میں روس زبان عام ہے۔

    سنہ 2014 کے اوائل میں یوکرین کے روسی نواز صدر کے ہٹائے جانے کے بعد روس نے یوکرین کے کریمیا کے خطے پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد سے یوکرین بتدریج یورپی ممالک اور یورپی اداروں کی جانب مائل ہوتا جا رہا ہے اور صدر پوتن کی خواہش ہے کہ ایسا نہ ہو۔

  14. یوکرینی ڈیفینس انٹیلیجنس ہیڈکوارٹرز کی عمارت پر میزائل حملہ

    ukraine

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یوکرین کے وزارت دفاع کے انٹیلیجنس کے ہیڈ کوارٹر سے نکلنے والے دھوئیں کے بارے میں تازہ ترین اطلاعات یہ ہے کہ عمارت تو ابھی اپنی جگہ پر ثابت ہے لیکن دھواں اس کے ساتھ موجود عمارت سے نکل رہا ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق یونی فارم میں ملبوس افراد اس عمارت پر بوریاں پھینک رہے ہیں تاکہ آگ کو بجھایا جا سکے۔

    یوکرین نے کہا ہے کہ ان کے چند دفاعی مراکز پر روسی میزائل سے حملہ ہوا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کیئو سے کچھ باہر بروری کے قصبے میں روسی میزائل حملوں سے کم از کم چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

    یوکرینی ڈیفینس انٹیلیجنس ہیڈکوارٹرز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں واقع یوکرینی ڈیفینس انٹیلیجنس ہیڈکوارٹرز کی عمارت سے سیاہ دھواں اٹھتا دیکھا گیا ہے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ اس کے کچھ ملٹری کمانڈ سنٹرز کو روسی میزائلوں نے نشانہ بنایا ہے۔

  15. روس کا یوکرین پر حملہ’ناجائز اور دانستہ اور سوچی سمجھی جارحیت‘

    nato

    عسکری اتحاد نیٹو کے سربراہ نے کہا ہے کہ روس کے یوکرین پر ’بلااشتعال اور ناجائز‘ حملے سے لاتعداد معصوم جانوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

    ہانس سٹولٹنبرگ کے مطابق روس نے یوکرین پر زمینی اور میزائل حملے کیے ہیں اور ’یہ ایک دانستہ اور سوچی سمجھی جارحیت ہے۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روس کے رہنماؤں کو ان اقدامات اور ان کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان کی مکمل ذمہ داری لینی ہو گی۔

    نیٹو نے کچھ دیر قبل بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے روس کے ’یوکرین پر کیے گئے بدترین حملے‘ پر شدید تنقید کی ہے اور اسے ’مکمل طور پر بلاجواز اور بلااشتعال‘ قرار دیا۔

    امریکہ، برطانیہ اور کئی یورپی ممالک پر مشتمل عسکری اتحاد نے ماضی میں سویت یونین کا حصہ رہنے والے ملک بیلاروس پر شدید تنقید کی ہے اور ان پر ’ اس حملے میں روس کی مدد‘ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

  16. بریکنگ, یوکرین میں روسی فوج کے داخلے کے بعد دھماکے اور میزائل حملے

    صدر پوتن کے حکم پر جمعرات کو روسی افواج سرحد عبور کر کے یوکرین میں داخل ہوئی ہیں۔ روسی افواج نے اس حملے کے دوران بڑے شہروں کے قریب واقع عسکری تنصیبات کے علاوہ کچھ رہائشی علاقے بھی نشانہ بنے ہیں۔

    ،ویڈیو کیپشنروسی افواج کے حملے کے بعد رہائشی عمارتوں سے بھی دھواں اٹھتا دیکھا گیا ہے
  17. ’میری آنکھ بم دھماکوں سے کھلی‘

    women

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرین کے شمال مشرقی شہر خارخیو میں رہنے والی ایک خاتون کے صبح پانچ بجے آنکھ ’بمباری کی آوازوں‘ سے کھلی۔

    انھوں نے بتایا کہ ’میرے ہمسائے گھر کی گھنٹی بجا رہے تھے اور مجھے بتا رہے تھے کہ اب شہر سے انخلا کا وقت ہو گیا ہے۔‘

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے انھیں بتایا جا رہا ہے کہ وہ جتنا ہو سکے گھر تک محدود رہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ہمیں نہیں معلوم کے شہر چھوڑ کر جانا محفوظ ہے یا نہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے کہ فوج ’اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

  18. بریکنگ, ’طلبا ترنوپل شہر پہنچیں، حالات نے اجازت دی تو انخلا کے انتظامات کیے جائیں گے: پاکستانی سفارت خانہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا ہے کہ یوکرین کے ایئرپورٹ بند ہو چکے ہیں اور سفارت خانہ اس وقت ان طالبعلموں سے رابطے میں ہے جو ہدایات کے باوجود ملک نہیں چھوڑ سکے تھے۔

    ایسے طالبعلموں سے کہا گیا ہے کہ ’وہ ترنوپل نامی شہر پہنچیں اورجب حالات نے اجازت دی تو وہاں سے ان کی واپسی یا انخلا کے انتظامات کیے جائیں گے۔‘

    روسی سرحد کے قریب واقع یوکرینی شہر خارخیو کے نواح میں موجود پاکستانی طالب علم چوہدری محمد موسی خان نے صحافی محمد زبیر سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم سو کے قریب طالب علم جمع ہوئے کہ کسی طرح شہر چھوڑ سکیں مگر اسی دوران ہم لوگوں نے دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’دھماکوں کی آوازیں انتہائی شدید تھیں۔ فضا میں جنگی طیارے بھی موجود ہیں اور اس کے بعد ہم لوگ واپس اپنے گھروں کو چلے گئے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کی بڑی تعداد نے بم پروف میٹرو سٹیشن کے تہہ خانوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ جن لوگوں کے پاس اپنی گاڑیاں ہیں وہ شہر چھوڑ چکے ہیں یا چھوڑ رہے ہیں۔

    ’میرے خیال میں شہر آدھے سے زیادہ خالی ہو چکا ہے اور صرف وہی لوگ موجود ہیں جن کے پاس وسائل کم ہیں۔‘

  19. ’ہر کوئی چاہ رہا ہے کہ وہ شہر چھوڑ دے‘: خارخیو میں پاکستانی طالبعلم

    کامران

    ،تصویر کا ذریعہCourtesy Kamran Shah

    پاکستانی طالب علم سید کامران شاہ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ وہ بدھ کو اپنے ضروری کاغذات کے حصول کے لیے خارخیو پہنچے تھے۔

    خارخیو ان یوکرینی شہروں میں شامل ہے جو روسی فوج کے حملے کا نشانہ بنے ہیں۔

    صحافی محمد زبیر کو سید کامران شاہ نے بتایا کہ ’اس وقت شہر کی تمام مارکیٹیں تقریبا بند ہیں۔ شہر میں اس وقت سیکورٹی فورسز موجود ہیں جن کا گشت جاری ہے۔ انتظامیہ نے بھی شہر کی تمام ٹریفک کو مرکزی سڑک پر منتقل کر دیا ہے۔‘

    ان کے مطابق لوگوں کی بڑی تعداد شہر چھوڑ رہی ہے اور ہر کوئی چاہ رہا ہے کہ وہ شہر چھوڑ دے۔

    کامران کے مطابق ’غیرملکی طالب علموں نے جو کہ عموما ٹیکسی چلاتے ہیں اپنی گاڑیوں میں ساتھی طالبعلموں کو شہر سے باہر منتقل کیا ہے۔‘

    ایک اور شہری نے بتایا ہے کہ خارخیو سے باہر جانے والے راستوں پر بہت زیادہ ٹریفک ہے اور تین گھنٹے کے دوران انھوں نے دس کلومیٹر کا سفر بھی طے نہیں کیا ہے۔

  20. بریکنگ, روسی جارحیت کے پہلے چند گھنٹوں میں 40 یوکرینی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق

    یوکرین نے روسی حملے کے پہلے چند گھنٹوں میں 40 یوکرینی فوجیوں کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    یوکرین میں میڈیا کو پریس بریفننگ کے دوران صدارتی دفتر کے ایک اہلکار اولیکسی آریسچوویچ نے روس کی جانب سے فضائی اور میزائل حملوں کو زیادہ ہلاکتوں کی وجہ قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’جیسا کہ پہلے میں نے بتایا تھا کہ ان کا پہلا حملہ ناکام ہوا ہے۔ عام شہریوں کے نزدیک یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ یقین مانیں انھوں نے اس سے کہیں زیاہ کی توقع کی تھی۔‘

    بلکہ ’وہ ہمیں زیادہ نقصان پہنچانے میں ناکام رہے ہیں۔‘