یوکرین کے معاملے پر اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس طلب

یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ یورپی یونین ایسا اقدام کر رہا ہے۔ دوسری جانب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے روسی افوج کو سٹریٹجک جوہری فورسز کو خصوصی الرٹ پر رکھنے کا حکم دیا ہے، جس پر امریکہ نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. دارالحکومت کئیو پر دو میزائل حملے

    ReutersCopyright

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آج صبح کیئو کے جنوب مغرب میں ایک علاقے کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان میزائل حملوں کے اہداف کیا تھے۔ کیئو کی انتظامیہ کے مطابق ان میزائلوں میں سے ایک رہائشی عمارت پر گرا۔

    روئٹرز کے مطابق دوسرا میزائل دارالحکومت میں زولیانی ہوائی اڈے کے قریبی علاقے میں گرا ہے۔

  2. امریکی صدر بائیڈن یوکرین میں فوجیں کیوں نہیں بھیجیں گے؟

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرین امریکہ کے پڑوس میں نہیں ہے۔ نہ اس کی کوئی سرحد امریکہ سے لگتی ہے اور نہ ہی یہاں کوئی امریکی فوجی اڈہ موجود ہے۔ اس ملک کے پاس تو تیل کے وسیع تر ذخائر بھی نہیں ہیں اور نہ ہی امریکہ اور یوکرین کے مابین بڑے پیمانے پر تجارت ہوتی ہے۔

    لیکن اس سے قبل قومی مفادات کی غیر موجودگی نے امریکہ کے سابق صدور کو دوسرے ممالک پر حملوں اور مداخلت سے روکا نہیں۔۔ انسانی حقوق کی بنیاد پر 1995 میں بل کلنٹن نے یوگوسلاویہ کے خاتمے کے لیے ہونے والی جنگ میں فوجی مداخلت کی اور 2011 میں براک اوباما نے لیبیا کی خانہ جنگی کے دوران بھی ایسا ہی کیا۔

    1990 میں جارج ڈبلیو بش نے عراق کو کویت سے نکالنے کے لیے جب بین الاقوامی اتحاد بنایا تو اس کا جواز یہ دیا کہ وہ جنگل کے قانون کے خلاف قانون کی حکمرانی قائم کروانا چاہتے ہیں۔

    بائیڈن انتظامیہ میں شامل قومی سلامتی کے حکام نے بھی ایسی ہی زبان میں روس کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔

    فرق صرف یہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ فوجی کارروائیوں کے بجائے روس پر اقتصادی پابندیوں کا پرچار کر رہی ہے۔ مزید پڑھیے >>

  3. روس اور یوکرین کا بحران چین کے لیے بڑا چیلنج کیوں؟

  4. زیلنسکی کی نئی ویڈیو: ’ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور اپنی ریاست کا دفاع کریں گے‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ٹویٹر پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں وہ کیئو کی سڑکوں پر گھومتے نظر آ رہے ہیں۔

    کہا جا رہا ہے بظاہر انھوں نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ انھوں نے فوج سے روسی فوجیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ نہیں کیا۔

    انھوں نے کیئو کے گوروڈیٹسکی ہاؤس کے سامنے کھڑے ہو کر کہا ’میرے حوالے سے بہت سی جعلی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں کہ میں نے اپنی فوج سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے اور میں خود یہاں سے نکل رہا ہوں۔‘

    ’میں یہیں ہوں، ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور اپنی ریاست کا دفاع کریں گے۔‘

  5. یوکرین کا 3500 روسی فوجی مارنے کا دعویٰ

    یوکرینی فوج نے روسی فوج کو پہنچائے جانے والے نقصانات کے متلعق چند دعوے کیے ہیں۔

    مسلحہ افواج کے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ کے مطابق انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک 3500 سے زائد روسی فوجی ہلاک اور 200 کے قریب قیدی بنا لیے گئے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ روس اب تک 14 طیارے، 8 ہیلی کاپٹر اور 102 ٹینک بھی گنوا چکا ہے۔ بی بی سی ان میں سے کسی بھی دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

    دوسری جانب روس نے ابھی تک کسی جانی نقصان کا اعتراف نہیں کیا ہے۔

  6. یوکرین کے صدر نے انخلا کی امریکی پیشکش ٹھکرا دی: ’مجھے اسلحے کی ضرورت ہے، نکلنے کے لیے فلائٹ کی نہیں‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی میڈیا کے مطابق یوکرین کے صدر ولادیمر زیلنسکی نے یوکرین سے انخلا میں مدد کے لیے واشنگٹن کی پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے۔

    ایسیوسی ایٹڈ پریس نے ایک سینئر انٹیلی جنس اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ زیلینسکی کا کہنا ہے ’یہاں لڑائی ہو رہی ہے۔ مجھے اسلحے کی ضرورت ہے، نکلنے کے لیے فلائٹ کی نہیں۔‘

    واشنگٹن پوسٹ نے امریکی اور یوکرینی حکام کا بھی حوالہ دیا تھا جن کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت زیلنسکی کی مدد کے لیے تیار ہے۔

    سوشل میڈیا پر روسی حملے کے جواب میں زیلینسکی کی بہت تعریف کی جا رہی ہے۔ زیلینسکی جو ایک سابق کامیڈین اور اداکار رہ چکے ہیں ، انھوں نے ایک تقریر میں لڑائی جاری رکھنے کے عزم کیا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا ’ہم پر حملے کرتے ہوئے آپ کو ہمارے چہرے نظر آئیں گے، ہماری پیٹھ نہیں۔‘

  7. بریکنگ, بحیرہ اسود سے یوکرین پر میزائل حملوں کی اطلاعات

    بحیرہ اسود سے یوکرین پر میزائل حملوں کی اطلاعات ہیں۔

    کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور کئی علاقوں میں فضائی حملوں کی بھی اطلاع دی جا رہی ہے۔

  8. روس کا یوکرین پر حملہ: اب تک کی صورتحال

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرین پر روسی حملے کا آج تیسرا دن ہے اور اس وقت یوکرین میں صبح کے سات بجے ہیں۔

    اپنے گھروں کے تہہ خانوں اور حکومتی شیلٹروں میں موجود بہت سے لوگوں کے لیے یہ ایک لمبی رات رہی ہو گی جس کے دوران وہ مسلسل سائرنوں کی آوازیں سنتے رہے ہوں گے۔

    رات بھر ہمیں بھی کیئو سے شید فائرنگ اور دھماکوں کی اطلاعات ملتی رہی ہیں۔

    آئیے آپ کو اب تک کی صورتحال بتاتے ہیں:

    • یوکرینی فوج نے فیس بک پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ روسی حملوں کو پسپا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کیؤ میں ان کے ایک یونٹ نے شہر کے راستے پر روسی افواج کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔
    • آج صبح، یوکرین کی مسلح افواج نے ایک اور فیس بک پوسٹ میں کہا کہ شہر کے ایک حصے میں ’ شدید لڑائی جاری ہے‘۔ اسی پوسٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اب دارالحکومت کی سڑکوں پر بھی ’لڑائی‘ شروع ہو گئی ہے۔ اس سے قبل یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے متنبہ کیا تھا کہ روس آئندہ چند گھنٹوں میں دارالحکومت کیئو پر حملہ آور ہو گا۔
    • کیئو انڈیپنڈنٹ کے مطابق، دارالحکومت میں 50 سے زائد دھماکوں اور مشین گن سے ہونے والی شدید فائر کی اطلاع ملی ہے۔
    • تاہم یوکرین کی قومی سلامتی اور دفاعی کونسل کے سکریٹری اولیکسی دینیلوف کا کہنا ہے کہ ’کیئو میں صورتحال فوج کے کنٹرول میں ہے اور ہم تمام دستیاب وسائل کا استعمال کرتے ہوئے روسیوں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    • امریکی انتظامیہ نے یوکرین کی مدد کے لیے کانگریس سے 6.4 بلین ڈالر کی امداد مانگی ہے۔
    • اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ تقریباً پچاس لاکھ یوکرینی باشندے ارد گرد کے ممالک میں پناہ لینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
  9. نیٹو کیا ہے اور روس کو اس پر اعتبار کیوں نہیں

  10. شہر کے مرکز سے زوردار دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں آ رہی ہیں

    یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں صبح کا آغاز ہوتے ہی شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔

    یوکرینی فوج کے فیس بک پیج کے مطابق شہر کے وسیلکیو علاقے میں ’شدید لڑائی‘ جاری ہے۔

    اس پوسٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اب دارالحکومت کی سڑکوں پر ’لڑائی‘ شروع ہو گئی ہے۔

    اس سے قبل کیئو کی انتظامیہ نے بھی ایک بیان میں لڑائی کی تصدیق کرتے ہوئے رہائشیوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ کھڑکیوں یا بالکونیوں کے قریب نہ جائیں اور شیلٹروں میں رہیں۔

    سوشل میڈیا پر کیئو میں مقیم صحافیوں کی رپورٹس سے بھی یہی پتا چلتا ہے کہ واقعی سڑکوں پر لڑائی چھڑ گئی ہے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ شہر کے مرکز کے قریب سے زور دار دھماکوں اور گولیوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔

    اس سے قبل یوکرین کی مسلح افواج کا کہنا تھا کہ اس کے فوجیوں نے بہت سے روسیوں کو نشانہ بنایا ہے اور انھیں یوکرین کے کسی بھی شہر پر قبضے سے روک دیا ہے۔

  11. روسی ہیکر: ’میں کمپیوٹر سے یوکرین کو شکست دوں گا‘

  12. بریکنگ, یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں لڑائی شروع

    یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں لڑائی شروع گئی ہے۔

    یوکرین کی نیوز ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق دارالحکومت کیئو کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ شہر کی گلیوں میں لڑائی کا آغاز ہو گیا ہے۔

    اس موقع پر شہریوں کو اپنے گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  13. یوکرین اور روس کی جنگ آپ کے کچن اور بجٹ کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟

  14. کیئو میں دھماکوں کی اطلاعات

    کیئو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنیوکرین کے دارالحکومت میں رات کا کرفیو نافذ ہے

    یوکرین کے دارالحکومت کیئو سے دھماکوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ میدان سکوائر کے قریب ایک بڑے دھماکے کی آواز سنائی دی ہے اور ٹروئیشچینا سے دھماکوں کی اطلاعات آ رہی ہیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق کیئو شہر کے مرکز میں توپوں کے حملے واضح طور پر میلوں دور سے سنائی دیے ہیں۔ کیئو انڈیپنڈنٹ کے مطابق شہر کے چڑیا گھر اور شلیاوکا کے علاقے میں 50 سے زیادہ دھماکوں اور گولہ باری کی اطلاعات ملی ہیں۔

    فاکس نیوز کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یوکرینی دارالحکومت پر ’کئی سمتوں سے حملہ کیا گیا ہے۔‘

    یوکرین میں سٹیٹ سپیشل سروس کے مطابق شہر کے ٹروئیشچینا علاقے میں سی ایچ پی 6 پاور سٹیشن کے قریب فائرنگ کی آوازیں جاری ہیں۔ اس حملے کا مقصد شہر میں بجلی کی ترسیل کو متاثر کرنا ہوسکتا ہے۔

    کیئو کی ایک شاہراہ پر تباہ شدہ گاڑیوں اور آتشزدگی کو دیکھا گیا ہے۔ ایک ایئر فیلڈ کے قریب فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات ہیں۔ خیال ہے کہ یہاں اتر کر روسی چھاتہ بردار دستے کیئو کے مرکزی علاقوں کا رُخ کریں گے۔

    یوکرینی افواج کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ميكولائف میں روسیوں کو آگے بڑھنے سے روک لیا ہے۔

  15. ولادیمیر زیلنسکی کا اداکاری سے یوکرین کی صدارت تک کا سفر

  16. روس نے اقوام متحدہ کی قرارداد ویٹو کر دی

    روس نے اقوام متحدہ کی قرارداد ویٹو کر دی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سلامتی کونسل میں بحث کے بعد روس نے اقوام متحدہ کی اس قرارداد کو ویٹو کر دیا ہے جس میں یوکرین میں روسی حملے کی مذمت کی گئی تھی۔

    امریکہ سمیت 11 ممبران نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ انڈیا، چین اور متحدہ عرب امارات نے ووٹ نہیں دیا۔

    اس قرارداد کا ناکام ہونا طے تھا کیونکہ روس اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا مستقل رکن ہے۔

    اس بحث کے دوران امریکی سفیر نے کہا کہ اقوام متحدہ کو اسی لیے بنایا گیا تھا کہ ایسی جارحیت کو روکا جاسکے جس کا سامنا یوکرین کو ہے۔

  17. ’روسی افواج دارالحکومت کیئو پر حملہ آور ہونے کے لیے تیار‘, یوکرینی صدر کی تنبیہ

    یوکرین، کیئو

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    رات گئے ایک ڈرامائی خطاب میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے متنبہ کیا ہے کہ روس آئندہ گھنٹوں میں دارالحکومت کیئو پر حملہ آور ہوگا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’یہ رات ہمارے لیے مشکل، بہت مشکل ہوگی۔ لیکن پھر صبح آئے گی۔‘

    ’اس رات دشمن اپنے تمام وسائل کا استعمال کر کے ہماری مزاحمت توڑنے کی کوشش کرے گا۔ اس رات وہ ہم پر حملہ آور ہوں گے۔‘

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اس رات ہمیں ثابت قدم رہنا ہوگا۔ یوکرین کے مستقبل کا فیصلہ ابھی اسی وقت ہونے جا رہا ہے۔‘

  18. روس کا ملیتوپول شہر پر قبضے کا دعویٰ

    روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس کی افواج بغیر کسی مزاحمت کا سامنا کیے یوکرین کے شہر ملیتوپول میں داخل ہوگئی ہے۔

    بی بی سی اس دعویٰ کی تصدیق نہیں کرسکا تاہم یوکرین کے صدر نے اس شہر میں شدید لڑائی کا ذکر کیا تھا۔

    ملیتوپول قریب 150000 لوگوں کی آبادی کا شہر ہے جو یوکرین کے جنوب مشرق میں کریمیا اور بحیرۂ ازوف کے قریب واقع ہے۔

  19. بریکنگ, یوکرین ’سیز فائر پر بات چیت کے لیے تیار‘

    یوکرین کے صدر زیلنسکی کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک روس کے ساتھ فوری طور پر سیز فائر اور امن مذاکرات پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ روسی اور یوکرینی حکام ان مذاکرات کے لیے وقت اور جگہ پر مشاورت کر رہے ہیں۔

    روس کا کہنا ہے کہ وہ صرف اسی صورت میں بات چیت کرے گا جب یوکرینی فوج ہتھیار ڈال دے گی۔

  20. جنوبی یوکرین میں دھماکے کی ویڈیو

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    جنوبی یوکرین کے شہر ملیتوپول کی ایک تصدیق شدہ ویڈیو میں روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان جھڑپیں دیکھی جاسکتی ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک ہسپتال میں کینسر کے علاج کے ڈپارٹمنٹ کو دھماکے سے اڑایا گیا ہے۔

    تاہم گولیاں کس کی جانب سے چلائی گئیں، اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ اس ٹویٹ میں روسی افواج کو اس کا قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔