یوکرین کے معاملے پر اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس طلب

یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ یورپی یونین ایسا اقدام کر رہا ہے۔ دوسری جانب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے روسی افوج کو سٹریٹجک جوہری فورسز کو خصوصی الرٹ پر رکھنے کا حکم دیا ہے، جس پر امریکہ نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. روس دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے: یوکرینی وزیر خارجہ

    یوکرین کے وزیر خارجہ ڈمیٹرو کولیبا نے کہا ہے کہ اگر روس یوکرین کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرتا ہے تو یہ ’دنیا کے لیے تباہی ہو گی‘ تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ یہ دھمکی ’انھیں ڈرا نہیں سکتی۔‘

    پوتن کے روسی جوہری فورسز کو ’خصوصی الرٹ‘ رکھنے کے بیان کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں یوکرینی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’صدر پوتن کا یہ حکم اس اعلان کے بعد آیا کہ دو وفد ملنے اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔‘

    ’ہم اس اعلان یا حکم کو یوکرین کے وفد پر اضافی دباؤ کے طور پر دیکھتے ہیں لیکن ہم اس دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ ہم ان مذاکرات میں ایک بہت سادہ حکمت عملی سے جائیں گے۔ ہم وہاں یہ سننے جائیں گے کہ روس کیا کہنا چاہتا ہے اور ہم انھیں بتائیں گے کہ اس سب کے بارے میں ہم کیا سوچتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یوکرین پر قبضہ ناکام ہو رہا ہے۔ ہمارا خون بہہ رہا ہے لیکن ہم کامیابی کے ساتھ اپنا دفاع جاری رکھیں گے۔‘

  2. خارخیو میں لڑائی کے بعد کے مناظر

    یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارخیو کے گورنر کے مطابق یوکرینی افواج نے شہر کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔

    ان تصاویر میں خارخیو کی گلیوں میں روس اور یوکرین کے فوجیوں کے درمیان لڑائی کے بعد کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

    خارخیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنخارخیو کی سڑک پر آگ میں لپٹا روس کا ایک مسلح کیرئیر
    خارخیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنیوکرین کے فوجی روس کی تباہ شدہ ایک گاڑی سے آٹومیٹک گرنیڈ لانچر اٹھاتے ہوئے
    خارخیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنیوکرین کے فوجی آٹومیٹک گرنیڈ لانچر کو چیک کر رہے ہیں
    خارخیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنیوکرین کے فوجی خارخیو کی سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں
    خارخیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنرضا کاروں نے امدادی سامان جمع کر رکھا ہے
  3. جوہری وارننگ: ’نیٹو کو اسی کا ڈر تھا‘, فرینک گارڈنر، بی بی سی سکیورٹی نامہ نگار

    putin

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس کی جانب سے یہ اعلان کہ اس کی جوہری فورسز کو ’خصوصی الرٹ‘ پر رکھا جا رہا ہے، اس بات کا اشارہ ہے کہ صدر پوتن روس کے خلاف مغرب کی پابندیوں پر غصہ ہیں جبکہ اس کے علاوہ یہ پوتن کے اس خوف کی بھی نشاندہی ہے کہ ان کے ملک کو نیٹو سے خطرہ ہے۔

    پوتن کے اس اقدام نے یقینی طور پر مغرب کی توجہ حاصل کی ہے۔ یہ وہی اقدام ہے جس سے نیٹو فوج کے منصوبہ ساز خوف محسوس کرتے ہیں اور اسی لیے یہ فوجی اتحاد بار بار یہ اعلان کر چکا ہے کہ وہ یوکرین کی مدد کے لیے اپنی فوجیں نہیں بھیجے گا۔

    لیکن روس کی جارحانہ کارروائی پلان کے مطابق چل بھی نہیں رہی۔ حملے کے چار دن بعد بھی یوکرین کا کوئی ایک شہر بھی روس کے ہاتھ نہیں آ سکا جبکہ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ روس کو کافی جانی نقصان بھی ہو رہا ہے۔

    اس سے ماسکو میں پریسانی اور بے صبری بڑھ سکتی ہے اور ایسا مشکل ہی نظر آ رہا ہے کہ بیلا روس پر ہونے والے ممکنہ امن مذاکرات میں کوئی ایسی ڈیل ہو جائے گی جو کیئو اور ماسکو دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔

    پوتن چاہتے ہیں کہ یوکرین مکمل طور ہر اس کا حصہ بن جائے لیکن زیلنسکی حکومت چاہتی ہے کہ وہ خودمختار رہے اور ایسی صورتحال میں سمجھوتے کی کوئی زیادہ گنجائش نہیں۔

    اس لیے مغرب کو پیچھے ہٹانے کے لیے آج کی جوہری وارننگ کے بعد ہم آنے والے دنوں میں یوکرین میں روس کی جارحیت میں شدت دیکھ سکتے ہیں۔

  4. روسی وفد سے بیلاروس کی سرحد پر ملاقات کریں گے، ولادیمیر زیلنسکی

    vlad

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے آج بیلا روس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے ساتھ ہوئی اپنی بات چیت سے متعلق ایک بیان جاری کیا ہے۔

    اپنے بیان میں ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ ’ہم نے اس پر رضا مندی ظاہر کی کہ یوکرین کے وفد کو روس کے وفد کے ساتھ یوکرین اور بیلا روس کی سرحد پر ملاقات کرنی چاہیے۔‘

    ’الیگزینڈر لوکاشینکو نے ذمہ داری لی ہے کہ یوکرینی وفد کے سفر کے دوران بیلا روس میں موجود تمام جہاز، ہیلی کاپٹرز اور میزائل زمین پر ہی رہیں گے۔‘

    واضح رہے کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اس سے پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ روسی وفد سے بیلاروس میں ملاقات نہیں کریں گے کیونکہ روسی حملہ بیلا روس سے لانچ ہوا۔

    روس اور بیلاروس کی جانب سے ابھی تک ان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

  5. امریکہ: جوہری فورسز کو ’خصوصی‘ الرٹ پر رکھنے کا اقدام ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ ہے

    linda thomas

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ نے روس کے صدر پوتن کی جانب سے جوہری فورسز کو ’خصوصی‘ الرٹ پر رکھنے کے بیان پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے اسے ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ قرار دیا ہے۔

    اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے امریکی چینل سی بی ایس کو انٹرویو میں کہا کہ ’اس کا مطلب ہے کہ صدر پوتن اس جنگ کو اس انداز میں بڑھانے جا رہے ہیں جو مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور ہمیں ان کے اقدامات کو ہر ممکنہ طریقے سے دبانے کا سلسلہ جاری رکھنا ہو گا۔‘

  6. پوتن کے جوہری فورسز کو ’خصوصی الرٹ‘ پر رکھنے کے بیان کا مطلب کیا؟, تجزیہ: گورڈن کوریرا، بی بی سی سکیورٹی نامہ نگار

    Putin

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے روسی افوج کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی جوہری فورسز کو ’خصوصی‘ الرٹ پر رکھیں۔

    روس کے سربراہ پہلے ہی دبے الفاظ میں خبردار کر چکے ہیں کہ وہ یوکرین پر حملے کے آغاز میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر رضامند تھے۔

    گذشتہ ہفتے وہ خبردار کر چکے ہیں کہ ’جس نے بھی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی‘ اسے ان نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا جو آپ نے ماضی میں نہیں دیکھے ہوں گے۔

    پوتن کے ان الفاظ کو بڑے پیمانے پر جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔

    ’خصوصی‘ الرٹ پر رہنے کا حکم ماسکو کی جانب سے وارننگ جاری کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

    ’خصوصی‘ الرٹ رہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہتھیاروں کو لانچ کرنا آسان ہو گا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ صورتحال میں ان ہتھیاروں کے استعمال کا ارداہ ہے۔

    روس کے پاس دنیا بھر میں سب سے زیادہ جوہری ہتھیار موجود ہیں لیکن اسے اس بات کا بھی علم ہے کہ اگر اس نے ان کو استمعال کیا تو نیٹو کے پاس روس کو تباہ کرنے کے لیے بھی کافی ہتھیار موجود ہیں۔

    لیکن پوتن کا مقصد خوف پیدا کر کے یوکرین کے لیے نیٹو کی حمایت کو ختم کرنا ہے اور وہ اس حوالے سے ابہام پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ یوکرین کو ملنے والی کتنی حمایت ان کے لیے ایک حد سے زیادہ ہو گی۔

  7. ولادیمیر پوتن: یوکرین پر حملے کی اجازت دینے والے روس کے صدر کون ہیں؟

    putin

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے یوکرین پر حملے نے شاید بہت سے لوگوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ سنہ 2014 میں کریمیا کے روس سے الحاق کے بعد اُن کی خطے میں دوسری بڑی مہم جوئی ہے۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ روس کے اثرورسوخ کو سامنے لانے کے اپنے عزم میں پوتن نے کبھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔

    ولادیمیر پوتن سنہ 2000 سے برسر اقتدار ہیں۔ اس عرصے کے دوران وہ روس کے صدر اور وزیراعظم کے عہدوں پر فائز رہے۔ یوں سنہ 1953 میں سویت یونین کے آمر حکمران جوزف سٹالن کی موت کے بعد سے وہ روس کے دوسرے ایسے رہنما ہیں جنھیں سب سے طویل عرصے تک ملک پر حکمرانی کا اعزاز حاصل ہو چکا ہے۔

    یوں تو ولادیمیر پوتن کی صدارت کی مدت سنہ 2024 تک ہے مگر سنہ 2020 میں متنازع آئینی اصلاحات پر رائے شماری کے بعد اب وہ اپنی چوتھی مدت پوری کرنے کے بعد بھی حکمران رہ سکتے ہیں۔ ان آئینی اصلاحات کے بعد وہ سنہ 2036 تحت صدر کے منصب پر فائز رہ سکتے ہیں۔

    تاہم یہ بات اہم ہے کہ وہ اس عہدے تک کیسے پہنچے ہیں۔ یوکرین پر حملے کے بعد اس وقت وہ دنیا بھر کی خبروں میں نمایاں ہیں۔ یہاں ہم ولادیمیر پوتن کی سیاسی اور ذاتی زندگی پر ایک نظر دوڑاتے ہیں۔

  8. بریکنگ, پوتن کا روس کی سٹریٹجک جوہری فورسز کو خصوصی الرٹ پر رہنے کا حکم

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے روسی افوج کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی سٹریٹجک جوہری فورسز کو خصوصی الرٹ پر رکھیں۔

    پوتن نے کہا ہے کہ ’پیارے ساتھیوں، آپ نے دیکھا کہ مغربی ممالک نہ صرف ہمارے ملک کے خلاف غیر دوستانہ اقدامات کرتے ہیں بلکہ ان غیر قانونی پابندیوں کا اطلاق بھی کرتے ہیں جن کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’نیٹو کی سربراہی کرنے والے ممالک ہمارے ملک کے خلاف جارحیت سے بھرپور بیانات کی بھی اجازت دیتے ہیں اور اسی لیے میں وزیر دفاع اور جنرل سٹاف کے سربراہ کو حکم دیتا ہوں کہ وہ جوہری فورسز کو خصوصی الرٹ پر رکھیں۔

  9. ڈپٹی کمانڈر یوکرین: ’ہماری سرزمین تباہ کرنے کی بجائے اپنی سرزمین کی حفاظت کریں‘

    یوکرین کے مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر انچیف نے کہا ہے کہ روس کی فوجیں ہتھیار ڈال دیں۔

    ڈپٹی کمانڈر انچیف لیفٹیننٹ جنرل ییوہین موئیسیکو نے کہا ہے کہ ’یوکرین کی مسلح افواج کی جانب سے، میں روس کی فوجوں سے درخواست کرتا ہوں جو ہماری زمین پر اس بے حس اور ظالم جنگ کو لے کر آئیں ہیں۔ اس بارے میں سوچیں کہ آپ یہاں کیوں ہیں، آپ کس لیے لڑ رہے ہیں اور آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘

    ’مجھے امید ہے کہ آپ کو اندازہ ہو چکا ہو گا کہ یہاں کوئی بھی آپ کا انتظار نہیں کر رہا تھا اور آپ کا ہماری زمین سے کوئی لینا دینا نہیں۔‘

    فیس بک پر اپنے خطاب میں ڈپٹی کمانڈر انچیف نے یہ بھی کہا کہ ’ہم آپ کو یہ موقع دے رہے ہیں کہ آپ اپنی زندگیاں اور وقار کھوئے بغیر اپنے پیاروں کی جانب لوٹ جائیں۔‘

    ’اپنے ہتھیار پھینک دیں، اپنے بازو اوپر کر لیں تاکہ ہمارے فوجی اور شہری یہ سمجھ جائیں کہ آپ نے ہمیں سن لیا ہے۔ یہ آپ کا گھر جانے کا ٹکٹ ہے۔ جائیں اور ہماری سرزمین کو تباہ کرنے کی بجائے اپنی سرزمین کی حفاظت کریں۔‘

  10. جرمنی: یوکرین کی حمایت میں احتجاج، ملک کے دفاعی بجٹ میں اضافے کا اعلان

    جرمنی، احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرین پر روس کے حملے کے خلاف اور یوکرین کی حمایت میں جرمنی کے دارالحکومت برلن میں احتجاج کیا جا رہا ہے اور پولیس کے مطابق اس میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد شریک ہیں۔

    دوسری جانب جرمنی کے چانسلر اولاف شولز نے ملک کے دفاعی بجٹ میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔

    جرمنی کے پارلیمان سے خطاب میں چانسلر اولاف شولز نے کہا کہ اس برس ملک کے دفاعی بجٹ میں 100 ارب یورو (113 ارب ڈالر) کا اضافہ کیا جائے گا۔

    جرمنی کے چانسلر نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ دنیا ’ایک نئے دور‘ میں داخل ہو چکی ہے اور ’پیوتن کی جارحیت کا اس کے علاوہ کوئی جواب نہیں ہو سکتا۔‘

    واضح رہے کہ اس ہفتے کے آغاز میں جرمنی نے اس بات کی تصدیق بھی کی تھی کہ وہ ایک ہزار توپ شکن ٹینک اور 500 سٹنگر میزائل یوکرین بھیجے گا۔

    جرمنی، احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  11. یوکرین کے شہر خارخیو کی گلیوں میں لڑائی کے مناظر

    ،ویڈیو کیپشنیوکرین کے شہر خارخیو کی گلیوں میں لڑائی کے مناظر
  12. دارالحکومت کیئو میں روسی فوجی موجود نہیں، میئر کا دعویٰ

    ویتالی کلیٹسچکو

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    یوکرین کے دارالحکومت کیئو کے میئر کا دعویٰ ہے کہ شہر میں روسی فوجی موجود نہیں۔

    ویتالی کلیٹسچکو نے کہا ہے کہ ’فوج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور علاقائی دفاع‘ کے حکام تخریب کارانہ کارروائیاں کرنے والوں کی مسلسل نشاندہی کر رہے تھے۔

    واضح رہے کہ یوکرین کے دارالحکومت کیئو کے شہریوں کو پیر کے روز تک اپنے گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ باہر گھومنے والے کسی بھی شخص کو’دشمن کے تخریب کارانہ گروہ کا حصہ سمجھا جائے گا۔‘

    بی بی سی کی پرڈیوسر کیتھی لونگ کے مطابق کیئو میں اتوار کا دن کافی خاموش رہا اور سڑکوں پر صرف پولیس، فوجی اور مسلح رضاکار ہی نظر آئے۔

    ٹیلی گرام پر اپنے پیغام میں کیئو کے میئر ویتالی کلیٹسچکو نے کہا کہ روس کے حملے کے بعد سے اب تک شہر میں نو شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔

  13. پوپ فرانسس: ’اپنے ہتھیاروں کو خاموش کر دیں‘

    مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے یوکرین میں تنازعہ ختم کرنے پر زور دیا ہے۔

    پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ ’اپنے ہتھیاروں کو خاموش کر دیں۔ خدا ان کے ساتھ ہے جو امن تلاش کرتے ہیں نہ کہ ان کے ساتھ جو تشدد کا سہارا لیتے ہیں۔‘

    پوپ فرانسس نے یوکرین سے پناہ کی تلاش میں جانے والے مہاجرین کی مدد پر بھی زور دیا ہے۔

    پوپ فرانسس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  14. اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کا یوکرین میں اپنے آپریشن معطل کرنے کا اعلان

    یوکرین میں بگڑتی صورتحال کے پیش نظر اقوام متحدہ کی ایجنسیاں ملک میں اپنے آپریشن معطل کر رہی ہیں۔

    اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ و انسانی امور نے کہا ہے کہ ’اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار ملک میں موجود رہیں گے اور حالات کے اجازت دینے پر دوبارہ اپنا کام شروع کریں گے۔‘

    یوکرین

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  15. بریکنگ, یوکرینی افواج نے خارخیو کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے، گورنر

    یوکرین کے شہر خارخیو کے گورنر کے مطابق یوکرینی افواج نے شہر کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔

    ٹیلی گرام پر اپنی ایک پوسٹ میں اولیہ سنیہوبو نے کہا کہ ’خارخیو پر ہمارا مکمل طور پر کنٹرول ہے۔‘

    ’مسلح افواج، پولیس، دفاعی افواج کام کر رہی ہیں اور شہر مکمل طور پر دشمن سے پاک ہے۔‘

    واضح رہے کہ خارخیو روس کا دوسرا بڑا شہر ہے اور روسی افواج ایک رات کے اندر ہی اس شہر میں داخل ہو گئی تھیں۔

    سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں شہر کی گلیوں میں روس اور یوکرین کی افواج کو لڑتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    زمینی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور شہر پر کنٹرول کے دعووں کی تصدیق کرنا خاصل مشکل ہے لیکن اس علاقے میں موجود بہت سے شہریوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ خارخیو دوبارہ سے یوکرین کے زیر کنٹرول آ چکا ہے جبکہ گلیوں میں لڑائی بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔

  16. یوکرین کی عالمی عدالت انصاف سے فوری مداخلت کی درخواست

    یوکرین نے عالمی عدالت انصاف سے فوری طور پر مداخلت کی درخواست کی ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے ٹوئٹر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’یوکرین نےعالمی عدالت انصاف میں روس کے خلاف شکایت درج کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ وہ ماسکو کے حملے کو روکنے کا حکم جاری کریں۔‘

    یاد رہے کہ عالمی عدالت انصاف اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت ہے جو یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کسی ملک نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی یا نہیں تاہم یہ عدالت سربراہان مملکت کے خلاف مجرمانہ الزامات عائد نہیں کر سکتی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ یوکرینی اپنا ملک چھوڑ چکے ہیں: اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق اب تک تین لاکھ 68 ہزار یوکرینی اپنا ملک چھوڑ چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ یوکرین پر روس کے حملے کے نتیجے میں اب تک ڈیڑھ لاکھ شہری پولینڈ میں داخل چکے ہیں جبکہ گذشتہ تین روز کے دوران 43 ہزار شہری رومانیہ جا چکے ہیں۔

  18. روسی حملے میں اب تک 210 سے زیادہ شہری مارے جا چکے ہیں: یوکرینی حکومت

    یوکرین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرینی حکومت کی محتسب لیوڈملیا ڈینیسووا کا کہنا ہے کہ روسی حملے کے نتیجے میں اب تک 210 سے زیادہ شہری مارے جا چکے ہیں جبکہ 1100 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔

    سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’دشمن رہائشی عمارتوں، ہسپتالوں اور سکولوں کو تباہ کر رہا ہے اور یوکرینی سرزمین کے بیٹوں اور بیٹیوں، جن میں بچے بھی شامل ہیں، سے جینے کا حق چھین رہا ہے۔‘

    لیوڈملیا ڈینیسووا نے عام شہریوں کی اموات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کیئو کے ایک ہسپتال میں بمباری سے ایک بچہ ہلاک جبکہ خارکیو کی ایک رہائئشی عمارت پر میزائل حملے میں ایک خاتون ماری گئیں۔

    انھوں نے زور دیا کہ روس کو ’ان جرائم کی سخت سزا ملنی چاہیے۔‘

  19. یوکرین میں پاکستانی طلبا: ’دو راتوں سے شدید سردی میں کھلے آسمان تلے کھڑے ہیں‘

    یوکرین میں پاکستانی طلبا

    ،تصویر کا ذریعہTauqeer Nasir

    یوکرین میں پاکستانی سفارتخانے کے مطابق ملک میں پاکستانی طلبا کی تعداد تقریباً تین ہزار ہے جبکہ اکثریت نے ہدایت پر عمل کرتے ہوئے یوکرین چھوڑ دیا تھا۔

    سفارتخانے کے مطابق ابھی چھ سے سات سو طلبا کو وہاں سے نکالا جا رہا ہے۔ ان میں سے 125 کو بحفاظت یوکرین سے نکالا جا چکا ہے۔ 396 اس وقت سرحد کے قریب ہیں جبکہ اٹھارہ اس وقت لییو کے استقبالیہ میں موجود ہیں۔ 88 فیصد طلبا محفوظ مقامات پر ہیں جبکہ باقی بھی جلد محفوظ مقام پر ہوں گے۔

    پولینڈ کی سرحد پر موجود ایک پاکستانی طالبلم عدیل احمد کے مطابق وہ گزشتہ 24 گھنٹے سے اپنے پانچ ساتھیوں کے ہمراہ لائن میں کھڑے اپنے نمبر کا انتطار کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ یوکرین کی سرحد پر ہزاروں کی تعداد میں مختلف قوموں اور علاقوں سے لوگ موجود ہیں جو پولینڈ میں داخلے کے منتظر ہیں۔

    عدیل احمد کا کہنا تھا کہ ہمیں دن رات سخت سردی میں لائن میں کھڑا رہنا پڑ رہا ہے۔

    ’لائن نہیں چھوڑ سکتے کہ اس طرح ہمیں پھر پچھے چلا جانا پڑے گا۔ اپنے ساتھ ہاتھ میں جو کھانے پینے کا سامان رکھا تھا، وہ بھی ختم ہو گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ہمیں لگ رہا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں سرحد پر مزید لوگ جمع ہو جائیں گے۔

    صوبہ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے طالبعلم توقیر ناصر جو یوکرین اور پولینڈ کی سرحد پر موجود ہیں، کا کہنا تھا کہ ہماری ساتھی طالبات کی اکثریت پولینڈ میں داخل ہوچکی ہے جبکہ ہم لوگ انتظار میں ہیں کہ ہمیں بھی داخلے کی اجازت مل جائے۔

    ’دو راتوں سے شدید سردی میں کھلے آسمان تلے کھڑے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر یہ رات بھی ہمیں کھلے آسمان تلے کھڑا ہونا پڑا تو پتا نہیں ہمارا کیا بنے گا۔‘

  20. یوکرین میں تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟ اب تک کی خبروں کا خلاصہ

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    آج صبح سے اب تک یوکرین اور یورپ کے دیگر علاقوں سے آنے والی تازہ ترین خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے:

    • روسی فوجی یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارخیو میں داخل ہو گئے ہیں اور شہر کی سڑکوں پر یوکرینی اور روسی فوجیوں میں لڑائی جاری ہیں۔ اس شمال مشرقی شہر کے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ روسی گاڑیاں رکاوٹیں توڑتی ہوئی مرکز تک گھس آئی ہیں ۔ حکام نے شہریوں سے پناہ گاہوں میں رہنے کی اپیل کی ہے۔
    • یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے روس کی ساتھ مذاکرات کی تازہ ترین پیشکش کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دیا ہے کہ اگر روس بیلاروس کی سرزمین سے یوکرین پر حملہ نہ کرتا تو منسک میں بات چیت ہو سکتی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ روس کے ساتھ کہیں اور بات چیت کے لیے تیار ہیں، مگر بیلاروس میں نہیں کیونکہ روس یوکرین پر حملے کے لیے اس ملک کو استعمال کر رہا ہے۔
    • آج صبح زیلنسکی نے اعلان کیا کہ یوکرین فوج میں شامل ہونے کے خواہشمند غیر ملکی رضاکاروں کا ایک ’بین الاقوامی‘ لشکر تشکیل دے رہا ہے جو روسی افواج کے خلاف لڑیں گے۔
    • برطانیہ کی وزارت دفاع کی تازہ ترین انٹیلی جنس میں بتایا گیا ہے کہ روس کئی جانب سے یوکرین کی جانب پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے مگر اسے یوکرینی فوج کی طرف سے ’سخت مزاحمت‘ کا سامنا ہے۔
    • سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مقامی افراد روسی ٹینکوں کے ایک قافلے پر چڑھ کر اسے روک رہے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیو چرنوبل میں بنائی گئی ہے۔
    • فن لینڈ اور آئرلینڈ روس سے آنے والی تمام پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر رہے ہیں۔ برطانیہ اور یورپی یونین کے اکثریتی ممالک نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔