یوکرین کے معاملے پر اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس طلب

یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ یورپی یونین ایسا اقدام کر رہا ہے۔ دوسری جانب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے روسی افوج کو سٹریٹجک جوہری فورسز کو خصوصی الرٹ پر رکھنے کا حکم دیا ہے، جس پر امریکہ نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. روس یوکرین تنازعے کا عالمی جنگ میں تبدیل ہونے کا کتنا امکان ہے؟

    russia

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کیا ہم تیسری عالمی جنگ کی ابتدا دیکھ رہے ہیں۔

    کیونکہ اکثر لوگ یہی سوال کر رہے ہیں۔ روس کی یوکرین میں حالیہ کارروائیاں، روسی رہنماؤں کے بیانات اور مغربی رہنماؤں کے جوابی بیانات اور روس پر پابندیوں کے اعلانات سے تو یہی تاثر ملتا ہے۔

    لیکن اس کا جواب نفی میں ہے۔ یوکرین اور روس کے درمیان حالات خواہ کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں لیکن یہ براہ راست نیٹو اور روس کا جھگڑا نہیں ہے۔

    درحقیقت جب امریکہ اور برطانیہ نے روس کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں کو یوکرین کی سرحد پر لانے کا عمل دیکھا تو اس پر مایوسی ظاہر کی اور دونوں ملکوں نے یوکرین میں موجود اپنے فوجی تربیت کاروں اور مشیروں کو فوراً وہاں سے نکال لیا۔

  2. بریکنگ, روس کا یوکرین کا فضائی دفاع ناکارہ بنانے کا دعویٰ

    روس کی انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے روس کی وزارتِ دفاع کے حوالے سے کہا ہے کہ ’یوکرین کے فٰضائی دفاع کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔‘

    وزارتِ دفاع کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ روسی فوجیوں کے آگے یوکرین کی سرحدی افواج نے کسی قسم کی کوئی مزاحمت نہیں کی۔

    ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

  3. بریکنگ, ’روسی فوج شمالی اور مشرقی یوکرین میں داخل ہو گئی‘

    یوکرین کی بارڈر گارڈ سروس ( ڈی پی ایس یو) کا کہنا ہے کہ روسی فوجیوں کے قافلے شمالی چرنیہیو اور سومی کے علاقوں اور مشرقی لوہانسک اور خارخیو کے علاقوں سے یوکرین میں داخل ہو گئے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ روسی حملے سے پہلے توپ خانوں سے گولہ باری کی گئی جس کے نتیجے میں یوکرین کے سرحدی محافظ زخمی ہوئے ہیں۔

    ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یوکرین کے سرحدی محافظ اور مسلح افواج ’دشمن کو روکنے کے لیے ہر قسم کے اقدامات کر رہے ہیں۔‘

  4. کیئو میں اس وقت کیا مناظر ہیں

    محض دو گھنٹے قبل روسی صدر نے یوکرین کے ڈونباس خطے میں 'فوجی آپریشن' کا اعلان کیا تھا۔

    کئیو میں بہت سے شہری پناہ حاصل کرنے کے لیے زیِر زمین میٹرو سٹیشنوں کی جانب جاتے نظر آتے ہیں۔

    جبکہ کئی افراد شہر چھوڑنے والی بسوں پر سوار ہیں اور شہر کے خارجی راستوں پر گاڑیوں کی قطاریں در قطاریں ہیں۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  5. بریکنگ, یوکرین کا روسی طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ، روس کی تردید

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرینی فوج نے روس کے پانچ طیارے اور ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    یوکرین کی افواج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ ’پرسکون رہیں اور یوکرین کی افواج پر یقین رکھیں۔‘

    روس کی وزارتِ دفاع نے کسی طیارے یا ہیلی کاپٹر کے مار گرائے جانے کی تردید کی ہے۔

  6. یوکرینی فوج: ایئر فورس روسی فضائی حملے کو پسپا کرنے کی کوشش کر رہی ہے

    یوکرین کی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی فوج نے ملک کے مشرقی حصے میں ’شدید شیلنگ‘ شروع کر دی ہے اور کیئو کے نزدیک بوریسپل ایئرپورٹ کے علاوہ دیگر ایئرپورٹس پر بھی میزائل حملے کیے گئے ہیں۔

    بیان کے مطابق یوکرین کی ایئرفورس، روس کی جانب سے کیے گئے حملے کا بھرپور جواب دے رہی ہے۔

    اس بیان میں روسی چھاتہ برداروں کے جنوبی ساحلی شہر اوڈیسا میں اترنے کی تردید بھی کی گئی ہے۔

  7. روس کا یوکرینی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں ایئرپورٹ بند کرنے کا اعلان

    russia

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس کی ہوابازی کی اتھارٹی روزاویاٹسیا نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی روس کے یوکرین کی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں 12 ایئرپورٹس کو عارضی طور پر دو مارچ تک بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    یہ اعلان ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب روس نے یوکرین پر ’خصوصی فوجی آپریشن‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    متاثرہ ایئرپورٹس میں پلاٹوو، پاشکووسکی، وٹیازیوو، گلینڈزک، ایلیسٹا، سٹاوروپول، بیلگوروڈ، بریانسک، اوریول، کرسک، وورونیز اور سمفیروپول شامل ہیں۔

  8. روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے کیا ممکنہ نتائج ہوں گے؟

    REUTERS

    ،تصویر کا ذریعہREUTERS

    ایک سینیئر مغربی انٹیلیجنس اہلکار کے مطابق یوکرین پر روس کے حملے کے نیتجے میں بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہو جائیں گے۔

    'یوکرین میں بڑے پیمانے پر تباہی اور اموات کے ساتھ ساتھ تارکین وطن کی تعداد بڑھے گی۔'

    واضح رہے کہ 2014 میں مشرقی یوکرین میں جنگ کے نتیجے میں 14000 اموات ہوئی تھیں اور 14 لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے تھے۔

    اس سینیئر اہلکار کے مطابق روس نیٹو کے دیگر ممالک کے خلاف بھی اقدامات اٹھا سکتا ہے جن میں سائبر اور ہائبرڈ حملوں کے علاوہ براہ راست حملے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ مزید پڑھیے >>

  9. کیئو کی سڑکوں پر گاڑیوں کی قطاریں، شہری دارالحکومت چھوڑ کر جانے لگے

    residents

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ولادیمیر پوتن کی جانب سے یوکرین میں فوجی آپریشن کا اعلان کیا گیا تو اس سے کچھ ہی لمحوں بعد اطلاعات کے مطابق یوکرین پر میزائل حملے اور شیلنگ شروع کر دی گئی۔

    یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں ہنگامی صورتحال کی نشاندہی کرتے سائرن سنائی دینے لگے اور اس دوران ایسی تصاویر بھی سامنے آ رہی ہیں جس میں ایکسپریس وے پر گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور لوگ شہر چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے پوسٹس سے بڑھتے خوف و ہراس کا پتا چلتا ہے۔ کچھ افراد یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ انھیں محفوظ پناہ گاہوں اور تہہ خانوں میں لے جایا جا رہا ہے۔

    ٹیلی ویژن فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ سڑکوں پر دعائیں مانگ رہے ہیں اور گروہوں کی شکل میں اکھٹے ہیں۔

    اخبار گارڈیئن کے صحافی لیوک ہارڈنگ جو اس وقت کیئو میں موجود ہیں نے ٹویٹ کیا کہ سڑکوں پر کم کم لوگ موجود ہیں لیکن اے ٹی ایمز پر خاصا رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. عمران خان کا روس کا دورہ: پاکستان کو اس دورے سے کیا حاصل ہو سکتا ہے؟

    GETTY IMAGES

    ،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

    وزیرِ اعظم عمران خان کا دورہ ماسکو ایک ایسے موقع پر کیا جا رہا ہے جب مغربی ممالک اور روس کے درمیان یوکرین کے معاملے پر کشیدگی بظاہر بلند ترین سطح پر ہے اور آج صبح روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین کے ڈونباس خطے میں ’فوجی آپریشن‘ کا اعلان کر دیا ہے۔

    پاکستان سرد جنگ کے دوران اور اس کے بعد سے امریکی کیمپ میں رہا ہے اور اس لحاظ سے وزیراعظم عمران خان کے اس دورے کو اس تاریخی سمت میں تبدیلی کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

    یہ اس جانب بھی ایک اشارہ ہے کہ پاکستان اب کسی ایک ملک سے جڑنے کی بجائے کثیر ملکی پالیسی میں دلچسپی رکھتا ہے۔

    خاص طور پر اپنے خطے کی بڑی طاقتوں سے اس امید پر تعلقات کو بڑھانا چاہتا ہے تاکہ تجارت اور توانائی کی راہداری کے طور پر اپنی صلاحیت کا استعمال کرتے ہوئے اپنی معیشت میں بہتری لا سکے۔ مزید پڑھیے >>

  11. یوکرین کا روس پر سنگین پابندیوں کا مطالبہ

    DmytroKuleba

    ،تصویر کا ذریعہ@DmytroKuleba

    یوکرین کے وزیرِخارجہ دیمترو کلیبا نے روسی حملے کے جواب میں عالمی برادری سے چند فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’یورپ اور دنیا کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔‘

    کلیبا نے مالیاتی لین دین کے نظام سمیت روس پر فوری اور سنگین پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا کو چاہیے کہ روس کو مکمل طور پر تنہا کر دیں اور یوکرین کو ہتھیاروں سمیت مالی اور انسانی امداد فراہم کریں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. یوکرین کے شمال میں موجود بیلاروس کی فوجیں بھی ’روسی حملے میں شامل‘

    belarus

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    متعدد خبر رساں ایجنسیاں یوکرینی حکام کے حوالے سے یہ لکھ رہی ہیں کہ بیلاروس کی فوجیں بھی روسی حملے میں ان کا ساتھ دے رہی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یوکرین کے شمالی علاقوں پر بھی حملہ کیا جا رہا ہے۔

    بیلاروس یوکرین کی شمالی سرحد پر واقع ہے اور ایک طویل عرصے سے روس کا اتحادی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ چھوٹا سا ملک دراصل روس کی ’کلائینٹ سٹیٹ‘ ہے۔

    روس کی جانب سے یوکرین کے مشرقی علاقوں پر حملے پہلے ہی جاری ہیں اور شمال سے ہونے والے حملے کارروائی کی شدت میں اضافہ کر رہے ہیں۔

  13. امریکہ اور اتحادی روس پر سخت پابندیاں عائد کریں گے، بائیڈن

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے انھوں نے اپنے یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی سے بات کی ہے اور انھیں بین الاقوامی برادری کی جانب سے روس کی مذمت اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔

    ایک بیان میں بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ روس کے ’بلا اشتعال اور بلا جواز‘ حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔

    بائیڈن کا مزید کہنا ہے کہ ’زیلینسکی نے مجھ سے دنیا کے رہنماؤں سے روسی جارحیت کی کھل کر مذمت کرنے اور یوکرین کے عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے کہا ہے۔‘

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ جمعرات کو جی سیون ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے اور ’امریکہ اور اتحادی ممالک روس پر سخت پابندیاں عائد کریں گے۔‘

    بائیڈن کا مزید کہنا ہے کہ ہم یوکرین اور ان کے لوگوں کی حمایت اور مدد جاری رکھیں گے۔

  14. روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے کنٹرول شدہ علاقے

    نقشہ
  15. بریکنگ, یوکرین کے صدر کا ملک میں مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان

    ukraine

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے یوکرین میں مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے یہ بات ٹیلی گرام پر ایک ویڈیو خطاب میں کہی۔

    انھوں نے کہا کہ ’روس نے ہماری سرحدی چوکیوں اور فوجی تنصیبات پر حملے شروع کر دیے ہیں جبکہ یوکرین کے متعدد شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    ’ہم یوکرین میں مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کر رہے ہیں، اب سے کچھ دیر قبل میری صدر بائیڈن سے بھی بات ہوئی ہے۔ امریکہ نے بین الاقوامی حمایت مجتمع کرنا شروع کر دی ہے۔‘

  16. فالس فلیگ حملے کیا ہوتے ہیں اور ماضی میں انھیں کب استعمال کیا گیا ہے؟

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    فالس فلیگ ایک سیاسی یا فوجی اقدام ہوتا ہے جسے مخالف پر الزام عائد کرنے کی نیت سے کیا جاتا ہے۔

    اس سے قبل بھی کئی ممالک اپنے ہی ملک میں ایسی حقیقی یا نقلی کارروائیاں کر چکے ہیں جن کا الزام بعد میں دشمن پر عائد کیا گیا ہے تاکہ اسے جنگ شروع کرنے جواز کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔

    یہ اصطلاح پہلی مرتبہ 16ویں صدی میں استعمال کی گئی تھی۔ اسے بحری قزاقوں کی جانب سے بحری جہاز پر دوست ملک کا جھنڈا لہرا کر تاجروں کی کشتیوں کو دھوکا دیا جاتا تھا تاکہ وہ انھیں اپنے قریب آنے کی اجازت دے دیں۔

  17. یوکرین کا مسافر پروازوں کے لیے فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ

    flight radar

    ،تصویر کا ذریعہFlight radar

    یوکرین کی ایئر ٹریفک ایجنسی کی جانب سے مسافر پروازوں کے لیے پوکرین کی فضائی حدود کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ایجنسی کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ ’یوکرین کی فضائی حدود استعمال کرنے والوں کے لیے یہ سروسز معطل کی جا رہی ہیں۔‘

    خیال رہے کہ یوکرین میں متعدد شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور یوکرینی صدر نے روس کی جانب سے میزائل حملوں کی تصدیق کی ہے۔

  18. شہریوں پر حملوں کی تردید، فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں: روس

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس کی وزارت دفاع نے یوکرین کے شہروں پر حملے کی تردید کی ہے۔

    روس کی سرکاری ایجنسی آر آئی اے نے وزراتِ دفاع کے حوالے سے کہا ہے کہ روس یوکرین کی فوجی تنصیبات اور فضائیہ (ائیر ڈیفنس اور ائیر فورسز) کو جنگی ہتھیاروں سے نشانہ بنا رہا ہے۔

  19. بریکنگ, روس نے یوکرین پر میزائل حملے کیے: یوکرینی صدر

    russia

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق یوکرین کے صدر زیلینسکی نے ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ روس کی جانب سے یوکرین پر میزائل حملے کیے گئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’روس نے یوکرینی تنصیبات اور سرحدی محافظوں پر میزائل حملے کیے ہیں۔

    یوکرین کے وزیرِ داخلہ کے مشیر اینٹون ہیراشینکو نے اس سے قبل کئیو، خارکیو اور ڈنیپرو میں فوجی ہیڈکوارٹرز اور ایئرفیلڈز پر میزائل حملوں کی تصدیق کی تھی۔

    انھوں نے فیس بک پر کی گئی ایک پوسٹ میں کہا کہ متعدد سرحدی پوسٹس پر شیلنگ اور حملے کیے گئے ہیں۔ حملے کا آغاز ہو چکا ہے۔ فوجی کمانڈ مراکز، ایئرفیلڈز اور فوجی گوداموں پر میزائل حملے کیے گئے ہیں۔‘

  20. بریکنگ, روس یوکرین کشیدگی: تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے مشرقی یوکرین میں ’فوجی آپریشن‘ کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ قیمتوں میں اتنا اضافہ سات برس میں پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا ہے۔

    اس خبر سے ایشیا میں سٹاک مارکیٹوں میں دو سے تین فیصد مندی دیکھنے میں آئی ہے۔ مارکیٹوں میں یہ مندی گذشتہ کئی روز سے دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    کچھ روز قبل تیل کی فی بیرل قیمت 98 ڈالر تک پہنچ گئی تھی، جب صدر پوتن نے امن معاہدے کا خاتمہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور روسی نواز باغیوں کے زیرِ کنٹرول مشرقی یوکرین کے خطوں میں اپنی فوجیں داخل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    بی بی سی کی ایشیا میں بزنس نامہ نگار ماریکو اوئی کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت محفوظ اثاثوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔