آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

یوکرین کے معاملے پر اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس طلب

یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ یورپی یونین ایسا اقدام کر رہا ہے۔ دوسری جانب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے روسی افوج کو سٹریٹجک جوہری فورسز کو خصوصی الرٹ پر رکھنے کا حکم دیا ہے، جس پر امریکہ نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. روس نے یوکرین میں شہریوں کی ہلاکت کی فوٹیج کے ’جعلی‘ قرار دے دیا

    روس کے وزیر دفاع کے ترجمان اگور کوناشینکوو نے یوکرین پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے روس کو بدنام کرنے کے لیے عام شہریوں کی ہلاکت کی جعلی فوٹیج جاری کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یوکرین کی سکیورٹی سروس نے شامی وائٹ ہیلمیٹس کی طرز پر ایسی فوٹیج تیار کی ہے۔‘ خیال رہے وائٹ ہیلمٹس نام شامی رضاکار تنظیم کی جانب سے روسی فوجوں پر ماضی میں جنگی جرائم کرنے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔

  2. روس کا یوکرین پر حملہ ہمارے براعظم کے لیے ایک المیہ ہے: بورس جانسن

    برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے یوکرین پر حملہ ’ہمارے براعظم کے لیے ایک المیہ‘ ہے۔

    انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ آج صبح قوم کے نام ایک بیان جاری کریں گے، اور ساتھی جی سیون رہنماؤں سے بھی بات چیت کریں گے۔

  3. روس کا یوکرین میں فوجی آپریشن: اب تک کیا ہوا ہے؟

    روس نے صدر ولادیمیر پوتن کے حکم پر اپنے ہمسائیہ ملک یوکرین پر بڑے پیمانے پر حملے کا آغاز کر دیا ہے۔

    یوکرین میں فوجی تنصیبات پر حملوں اور ہر جانب سے روسی قافلوں کے ملک میں داخل ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    آئیے جانتے ہیں اب تک کیا ہوا ہے:

    پوتن کا حملے کا حکم

    ماسکو کے مقامی وقت کے مطابق 5:55 (2:55 جی ایم ٹی) پر روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ٹی وی پر قوم سے خطاب کے دوران یوکرین کے ڈونباس خطے میں 'فوجی آپریشن' کا اعلان کیا۔

    جمعرات کی صبح ٹیلی ویژن پر کی گئی تقریر میں پوتن کا کہنا تھا کہ اس فوجی آپریشن کا مقصد ’یوکرین کوہتھیاروں سے پاک کرنا‘ اور ’نازیوں کے اثر سے چھٹکارا‘ دلانا ہے۔

    پوتن نے مشرقی یوکرین میں فوجیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال کر اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔

    پوتن کا مزید کہنا تھا کہ 'انصاف اور سچ' روس کی طرف ہیں اور خبردار کیا کہ اگر کسی نے روس کے خلاف جارحیت کی کوشش کی تو ماسکو کا ردِ عمل 'فوری' ہو گا۔

    مک کے کئی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں

    کئیو میں بی بی سی کے نامہ نگاروں نے زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔ اس کے علاوہ کراماتورسک اور دونتسک میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا دعویٰ ہے کہ روس نے یوکرین میں تنصیبات اور سرحدی فوجیوں پر میزائل حملے کیے ہیں۔

    روس کی وزراتِ دفاع نے یوکرین کہ شہروں پر حملوں کی تردید کی ہے۔ روس کی سرکاری ایجنسی آر آئی اے نے وزراتِ دفاع کے حوالے سے کہا ہے کہ روس یوکرین کی فوجی تنصیبات اور فضائیہ (ائیر ڈیفنس اور ائیر فورسز) کو جنگی ہتھیاروں سے نشانہ بنا رہا ہے۔

    روسی فوجی اور ٹینک یوکرین میں داخل

    یوکرین کا کہنا ہے کہ روسی فوجی اور ٹینک اس کی مشرقی، جنوبی اور شمالی سرحدوں سے ملک میں داخل ہو گئے ہیں۔

    یوکرین کی بارڈر گارڈ سروس (ڈی پی ایس یو) کے مطابق روس کے فوجی قافلے بیلاروس سے یوکرین کے شمالی علاقے چرنیہیو اور روس سے سومی کے علاقے میں داخل ہوئے ہیں جو شمال میں ہے۔

    بیلاروس روس کا دیرینہ اتحادی ہے۔ تجزیہ کار اس چھوٹے سے ملک کو روس کی ’کلائنٹ سٹیٹ‘ بھی کہتے ہیں۔

    روسی فوجیوں کے قافلے مشرقی لوہانسک، خرخیو اور کریمیا سے خيرسون کے علاقے میں بھی داخل ہوئے ہیں۔

    ڈی پی ایس یو کا کہنا ہے کہ روسی حملے سے پہلے توپ خانوں سے گولہ باری کی گئی جس کے نتیجے میں یوکرین کے سرحدی محافظ زخمی ہوئے ہیں۔

    ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جنوبی بندرگاہی شہر اوڈیسا کے قریب بھی فوجیوں کی نقل و حرکت کی اطلاعات ہیں۔

    یوکرین میں ہلاکتوں کی اطلاعات

    یوکرین کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی فوجوں کی بمباری کے باعث کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اوڈیسا کے باہر پولڈیسک میں فوجی یونٹ پر ہونے والے حملے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔

    پولیس کے مطابق 19 افراد تاحال لاپتہ ہیں جبکہ میریپول شہر میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

    یوکرین: روسی حملوں کا بھرپور جواب دے رہے ہیں

    یوکرین کی مسلح افواج کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے روسی فوج کے پانچ طیاروں اور ایک ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے۔

    یوکرین کی افواج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ "پرسکون رہیں اور یوکرین کے محافظوں پر یقین رکھیں"۔ تاہم روس کی وزارت دفاع نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس کے طیارے کو مار گرایا گیا

    یوکرین کی افواج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ ’پرسکون رہیں اور یوکرین کی افواج پر یقین رکھیں۔‘

    روس کی وزارتِ دفاع نے کسی طیارے یا ہیلی کاپٹر کے مار گرائے جانے کی تردید کی ہے۔

    یوکرین کے صدر کا ملک میں مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان

    یوکرین نے ملک میں مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ عارضی طور پر ملک کا کنٹرول فوج کے پاس ہے۔

    یوکرین کے وزیرِ خارجہ دیمترو کلیبا نے روس کے خلاف سنگین پابندیوں اور عالمی منڈیوں تک روس کی رسائی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    شہری پناہ کی تلاش میں ہیں

    یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں ہنگامی صورتحال کی نشاندہی کرتے سائرن سنائی دینے لگے اور اس دوران ایسی تصاویر بھی سامنے آ رہی ہیں جس میں ایکسپریس وے پر گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور لوگ شہر چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے پوسٹس سے بڑھتے خوف و ہراس کا پتا چلتا ہے۔ کچھ افراد یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ انھیں محفوظ پناہ گاہوں اور تہہ خانوں میں لے جایا جا رہا ہے۔

    ٹیلی ویژن فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ سڑکوں پر دعائیں مانگ رہے ہیں اور گروہوں کی شکل میں اکھٹے ہیں۔

    اخبار گارڈیئن کے صحافی لیوک ہارڈنگ جو اس وقت کیئو میں موجود ہیں نے ٹویٹ کیا کہ سڑکوں پر کم لوگ موجود ہیں لیکن اے ٹی ایمز اور پٹرول پمپوں پر خاصا رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    سات سال بعد تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں

    روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے مشرقی یوکرین میں ’فوجی آپریشن‘ کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ قیمتوں میں اتنا اضافہ سات برس میں پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا ہے۔

    اس کے علاوہ روس کی کرنسی روبل، ڈالر اور یورو کے مقابلے میں اب تک کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

    اس حملے کی خبر سے ایشیا میں سٹاک مارکیٹوں میں دو سے تین فیصد مندی دیکھنے میں آئی ہے۔ مارکیٹوں میں یہ مندی گذشتہ کئی روز سے دیکھنے میں آ رہی ہے۔

  4. شہریوں کے کیئو چھوڑنے کے مناظر

    یوکرین پر روسی حملے کے بعد بے شمار افراد شہر سے نکلنے کے لیے اپنی اپنی گاڑیوں اور شہر چھوڑنے والی بسوں پر سوار ہیں اور شہر کے خارجی راستوں پر گاڑیوں کی قطاریں در قطاریں ہیں۔

    کئیو کے اندر بھی ٹریفک جام کی صورتحال ہے۔

    بہت سے شہری پناہ حاصل کرنے کے لیے زیِر زمین میٹرو سٹیشنوں کی جانب جاتے بھی نظر آتے ہیں۔

  5. یوکرین میں کن کن مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے؟

  6. بریکنگ, یوکرین کا حملے کے بعد روس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان

    یوکرین نے حملے کے بعد روس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پریس بریفنگ کے دوران روس کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کی اطلاع دی۔

    یوکرین کے سرکاری میڈیا کے مطابق صدر ولادیمیر زیلینسکی کا کہنا ہے کہ وہ ہر اس شخص کو اسلحہ دیں گے جسے اس کی ضرورت ہے۔

    اس سے قبل آپ کو یاد ہو گا کہ یوکرینی شہریوں کی ایسی تصاویر شائع ہوئی تھیں جن میں وہ بنیادی فوجی تربیت حاصل کر رہے تھے۔

  7. ’کیئو میں لوگوں کو نہیں معلوم ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے‘, پال ایڈمز، نامہ نگار بی بی سی

    کیئو میں ایک ہمدرد خاتون نے مجھے میرا ناشتہ لا کر دیا۔ اس خاتون نے مجھ سے کہا کہ مجھے لگتا تھا کہ سب ٹھیک ہو گا۔ لیکن اب تک سب کچھ ویسا ہی ہو رہا ہے جیسے مغربی حکام نے خبردار کیا تھا۔

    انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ روسی فوجیں حملے کے چند دنوں کے اندر ہی کیئو میں داخل ہو جائیں گی۔

    اس وقت بھی ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اکثر افراد کو یہ معلوم نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ لیکن سڑکوں پر گاڑیوں کی قطاریں، جو شہر سے باہر جا رہی ہیں، انھیں ضرور معلوم ہے کہ صورتحال کیا ہے۔

    یہ اس ملک کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ وہ کسی کے لیے بھی خطرہ ثابت نہیں ہو سکتی۔ بدقسمتی سے کریملن میں موجود ایک شخص کے لیے اس کی موجودگی بھی ایک خطرہ ہے۔

    لبرل اور آزاد خیال یوکرینیوں کے لیے جنھوں نے پچھلی ایک دہائی میں بہت کچھ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے۔

  8. روسی فوجی اور ٹینک مشرقی، جنوبی اور شمالی سرحدوں سے یوکرین میں داخل

    یوکرین کا کہنا ہے کہ روسی فوجی اور ٹینک اس کی مشرقی، جنوبی اور شمالی سرحدوں سے ملک میں داخل ہو گئے ہیں۔

    یوکرین کی بارڈر گارڈ سروس (ڈی پی ایس یو) کے مطابق روس کے فوجی قافلے بیلاروس سے یوکرین کے شمالی علاقے چرنیہیو اور روس سے سومی کے علاقے میں داخل ہوئے ہیں جو شمال میں ہے۔

    بیلاروس روس کا دیرینہ اتحادی ہے۔ تجزیہ کار اس چھوٹے سے ملک کو روس کی ’کلائنٹ سٹیٹ‘ بھی کہتے ہیں۔

    روسی فوجیوں کے قافلے مشرقی لوہانسک، خرخیو اور کریمیا سے خيرسون کے علاقے میں بھی داخل ہوئے ہیں۔

    ڈی پی ایس یو کا کہنا ہے کہ روسی حملے سے پہلے توپ خانوں سے گولہ باری کی گئی جس کے نتیجے میں یوکرین کے سرحدی محافظ زخمی ہوئے ہیں۔

    ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جنوبی بندرگاہی شہر اوڈیسا کے قریب بھی فوجیوں کی نقل و حرکت کی اطلاعات ہیں۔

  9. یوکرین میں ریٹائرڈ فوجیوں میں اسلحہ تقسیم کرنے کی اطلاعات

    خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ یوکرین میں ریٹائرڈ فوجیوں میں اسلحہ تقسیم کیا جائے گا تاکہ روسی حملے کا جواب دیا جا سکے۔

    یہ اطلاع ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب یوکرین کے شہریوں کو ملک کی دفاعی یونٹس میں بھرتی ہونے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

  10. انڈیا کی یوکرین میں اپنے شہریوں کے لیے نئی ہدایات

    روس کی جانب سے یوکرین میں فوجی آپریشن کے اعلان کے بعد، انڈیا نے یوکرین میں موجود اپنے شہریوں کے لیے نئی ایڈوائزری (ہدایت) جاری کی ہیں۔

    انڈیا کے نجی چینل این ڈی ٹی وی نے یوکرین میں انڈین سفارت خانے کے حوالے سے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ’کئیو اور کئیو کے مغربی علاقوں کا سفر کرنے والے تمام انڈین شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ عارضی طور پر اپنے اپنے شہروں کو لوٹ جائی۔‘

    سفارت خانے کی جانب سے انڈین شہریوں کو مغربی ممالک کے ساتھ محفوظ سرحدی علاقوں کی جانب لوٹنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    سفارتخانے نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ یوکرین کی موجودہ صورتحال انتہائی غیر یقینی ہے۔ آپ اپنے گھروں، ہاسٹلز یا دورانِ سفر جہاں بھی ہوں، اپنی حفاظت کریں۔

  11. روس نواز باغیوں کا مقصد ڈونیسک خطے کی سرحد تک پہنچنا ہے: کمانڈر کا روسی ٹی وی کو بیان

    ڈونباس میں روس نواز باغیوں کے ایک سینیئر کمانڈر نے روسی سرکاری ٹی وی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ فوجی آپریشن کا ’پہلا ہدف‘ یوکرین کے خطوں ڈونیسک اور لوہانسک کی سرحدوں تک پہنچنے کا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس وقت جس جگہ جھڑپیں جاری ہے وہاں انھوں نے روسی فوجیں نہیں دیکھیں ہیں۔

    ’یہی وجہ ہے کہ پہلا مقصد ان سرحدوں تک پہنچنا ہے تاکہ وہاں جا کر ان افراد کو آزاد کروایا جا سکے جو کیئو کے سیاستدانوں کے زیرِ اعتاب ہیں۔‘

  12. روس، یوکرین تنازع سے جڑے آٹھ اہم سوالوں کے جواب

    وسی صدر ولادیمیر پوتن مہینوں تک یوکرین پر حملے کی منصوبہ بندی سے انکار کرتے رہے ہیں لیکن جمعرات کو انھوں نے یوکرین کے ڈونباس خطے میں ’خصوصی فوجی کارروائی‘ کے آغاز کا اعلان کر دیا۔ روسی ٹی وی پر کارروائی کے اس اعلان کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کیئو اور دیگر علاقوں سے دھماکوں اور ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

    روس کی جانب سے یوکرین میں فوجی کارروائی کا قدم صدر پوتن کی جانب سے ’امن بحال رکھنے کی خاطر‘ یوکرین میں باغیوں کے زیرِ اثر دو مشرقی علاقوں میں فوج بھیجنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    روس نے گذشتہ چند ماہ کے دوران یوکرین کی سرحدوں پر کم از کم دو لاکھ فوجی تعینات کیے تھے اور اب یوکرین پر روس کے تازہ حملے کے بعد یہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ یہ قدم یورپ کے سکیورٹی ڈھانچے کو تار تار کر سکتا ہے۔

  13. بریکنگ, یوکرین کا مشرق میں 50 روسی فوجی مارنے کا دعویٰ

    یوکرینی فوج نے شیہستیا کے علاقے میں روسی حملے کو پسپا کرنے اور 50 روسی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    یوکرین کی زمینی افواج نے فیس بک پر دعویٰ کیا ہے کہ ’شیہستیا کا علاقہ ان کے قبضے میں ہے۔ 50 سے زائد روسی حملہ آور فوجی مارے گئے ہیں۔‘

    انھوں نے روسی فوج کے دو ٹینک اور کئی ٹرکوں کو تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

  14. یوکرینیوں کے کیئو سے نکلنے کے مناظر

  15. روسی فوجوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کا حکم دیا ہے: یوکرینی سپریم کمانڈر ان چیف

    یوکرین کی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ان چیف نے روسی فوجوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کا حکم دیا ہے۔

    کمانڈر ان چیف جنرل ویلیری زالوزہنی نے یہ بات ایک فیس بک پوسٹ میں کہی۔

    انھوں نے کہا کہ ’آج، 24 فروری، مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے روسی فیڈریشن کی فوجوں کی جانب سے مشرق میں ہماری یونٹس پر شدید شیلنگ کی گئی اور میزائل حملوں اور بمباری کے ذریعے مختلف علاقوں میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ روسی فوجوں کی جانب سے اسی دوران توپ خانے سے شیلنگ بھی کی گئی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت صورتحال کنٹرول میں ہے۔‘

  16. بریکنگ, روس پر اب تک کی سب سے بڑی اور سنگین پابندیاں لگائیں گے: برطانوی وزیر

    برطانیہ کے جونئیر وزیِر خارجہ جیمز کلیورلی نے بی بی سی اور دیگر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ، روس کے خلاف سخت ترین پابندیاں لا رہا ہے۔

    یہ پابندیاں آج سے شروع کی جا رہی ہیں اور ان کا اعلان آنے والے چند روز میں متوقع ہے۔

    سکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ روس کے خلاف یہ اب تک کی سب سے بڑی اور سنگین پابندیاں ہوں گی۔

    کلیورلی نے بی بی سی بریک فاسٹ کو بتایا کہ یوکرینی عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ برطانیہ ان کے ساتھ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کو اپنے ملک کا دفاع کرنے کے لیے برطانیہ ان کی براہِ راست مدد کرے گا۔

    یورپی یونین ’پابندیوں کے بڑے پیکج‘ کی تیاری کر رہی ہے

    دوسری جانب یورپی یونین بھی روس پر ’پابندیوں کے بڑے پیکج‘ کی تیاری کر رہی ہے اور یورپین کمیشن چیف ارسلا ون در لئین کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر پابندیوں کا پیکج یورپی رہنماؤں کو منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’پابندیوں کے اس پیکج کے ذریعے ہم روسی معیشیت کے اہم شعبوں کو نشانہ بنائیں گے اور ٹیکنالوجیز اور منڈیوں تک ان کی رسائی کو روکیں گے۔‘

    ’ہم روس کی معیشت اور جدت پیدا کرنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیں گے۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ہم یورپی یونین کے ممالک میں روس کے اثاثے منجمد کر دیں گے اور یورپی منڈیوں تک روسی بینکوں کی رسائی روک دیں گے۔‘

    ’پابندیوں کے پہلے پیکج کی طرح، ہم شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ قریبی طور پر منسلک ہیں۔ کریملن کے مفادات اور جنگ کی مالی اعانت کرنے کی ان کی صلاحیت پر ٹول۔‘

    انھوں نے مزید بتایا کہ پابندیوں کے پہلے پیکج کی طرح، اس بار بھی ہم اتحادی ممالک کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور ان پابندیوں کے ذریعے کریملین کے مفادات اور ان کی جنگی اخراجات پورے کرنے کی پر ضرب لگائیں گے۔

  17. روسی فوجوں کے یوکرین میں داخلے کے مناظر

  18. بریکنگ, پوتن یورپ میں جنگ کی دوبارہ واپسی کے ذمہ دار ہیں: یورپی کمیشن کی سربراہ

    یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان در لیئن نے برسلز میں روس کے یوکرین پر حملے پر بات کرتے ہوئے ولادیمیر پوتن کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’یورپ میں جنگ واپس لانے کے ذمہ دار ہیں۔‘

    انھوں نے اعلان کیا کہ روس پر ’بڑے پیمانے پر‘ معاشی پابندیاں تجویز کی جائیں گی تاکہ روس کی معیشت کی ’جدت کی صلاحیت‘ کو کمزور کیا جا سکے۔

  19. روس کا یوکرین میں فوجی آپریشن کا اعلان: اب تک کیا ہوا ہے؟

    روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین پر روسی حملوں کے متعلق کئی ہفتوں سے جاری قیاس آرائیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے آج صبح یوکرین کے ڈونباس خطے میں 'فوجی آپریشن' کا اعلان کر دیا ہے۔

    آئیے جانتے ہیں اب تک کی صورتحال:

    • جمعرات کی صبح ٹیلی ویژن پر کی گئی تقریر میں پوتن کا کہنا تھا کہ اس فوجی آپریشن کا مقصد ’یوکرین کوہتھیاروں سے پاک کرنا‘ اور ’نازیوں کے اثر سے چھٹکارا‘ دلانا ہے۔
    • کئیو اور خرخیو کے علاوہ یوکرین کے کئی دیگر علاقوں میں دھماکوں اور میزائل حملوں کی بھی اطلاعات ہیں۔
    • یوکرین کے وزیِر خارجہ نے روس پر باقاعدہ جنگ کا الزام لگاتے ہوئے اقوامِ متحدہ سے اسے روکنے کے لیے ’ہر ممکن کوشش‘ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
    • امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے روسی حملے کی مذمت کرتے ہوئے، روس کو جوابدہ ٹھہرانے کے عزم کو دہرایا ہے۔
    • برطانیہ، یورپی یونین، اقوامِ متحدہ اور نیٹو نے روسی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
  20. بریکنگ, روسی بمباری سے کم سے کم سات افراد ہلاک: یوکرینی پولیس

    یوکرین کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی فوجوں کی بمباری کے باعث کم از کم سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اوڈیسا کے باہر پولڈیسک میں فوجی یونٹ پر ہونے والے حملے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔

    پولیس کے مطابق 19 افراد تاحال لاپتہ ہیں جبکہ میریپول شہر میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔