روس نے صدر ولادیمیر پوتن کے حکم پر اپنے ہمسائیہ ملک یوکرین پر بڑے پیمانے پر حملے کا آغاز کر دیا ہے۔
یوکرین میں فوجی تنصیبات پر حملوں اور ہر جانب سے روسی قافلوں کے ملک میں داخل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
آئیے جانتے ہیں اب تک کیا ہوا ہے:
ماسکو کے مقامی وقت کے مطابق 5:55 (2:55 جی ایم ٹی) پر روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ٹی وی پر قوم سے خطاب کے دوران یوکرین کے ڈونباس خطے میں 'فوجی آپریشن' کا اعلان کیا۔
جمعرات کی صبح ٹیلی ویژن پر کی گئی تقریر میں پوتن کا کہنا تھا کہ اس فوجی آپریشن کا مقصد ’یوکرین کوہتھیاروں سے پاک کرنا‘ اور ’نازیوں کے اثر سے چھٹکارا‘ دلانا ہے۔
پوتن نے مشرقی یوکرین میں فوجیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال کر اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔
پوتن کا مزید کہنا تھا کہ 'انصاف اور سچ' روس کی طرف ہیں اور خبردار کیا کہ اگر کسی نے روس کے خلاف جارحیت کی کوشش کی تو ماسکو کا ردِ عمل 'فوری' ہو گا۔
مک کے کئی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں
کئیو میں بی بی سی کے نامہ نگاروں نے زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔ اس کے علاوہ کراماتورسک اور دونتسک میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا دعویٰ ہے کہ روس نے یوکرین میں تنصیبات اور سرحدی فوجیوں پر میزائل حملے کیے ہیں۔
روس کی وزراتِ دفاع نے یوکرین کہ شہروں پر حملوں کی تردید کی ہے۔ روس کی سرکاری ایجنسی آر آئی اے نے وزراتِ دفاع کے حوالے سے کہا ہے کہ روس یوکرین کی فوجی تنصیبات اور فضائیہ (ائیر ڈیفنس اور ائیر فورسز) کو جنگی ہتھیاروں سے نشانہ بنا رہا ہے۔
روسی فوجی اور ٹینک یوکرین میں داخل
یوکرین کا کہنا ہے کہ روسی فوجی اور ٹینک اس کی مشرقی، جنوبی اور شمالی سرحدوں سے ملک میں داخل ہو گئے ہیں۔
یوکرین کی بارڈر گارڈ سروس (ڈی پی ایس یو) کے مطابق روس کے فوجی قافلے بیلاروس سے یوکرین کے شمالی علاقے چرنیہیو اور روس سے سومی کے علاقے میں داخل ہوئے ہیں جو شمال میں ہے۔
بیلاروس روس کا دیرینہ اتحادی ہے۔ تجزیہ کار اس چھوٹے سے ملک کو روس کی ’کلائنٹ سٹیٹ‘ بھی کہتے ہیں۔
روسی فوجیوں کے قافلے مشرقی لوہانسک، خرخیو اور کریمیا سے خيرسون کے علاقے میں بھی داخل ہوئے ہیں۔
ڈی پی ایس یو کا کہنا ہے کہ روسی حملے سے پہلے توپ خانوں سے گولہ باری کی گئی جس کے نتیجے میں یوکرین کے سرحدی محافظ زخمی ہوئے ہیں۔
ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جنوبی بندرگاہی شہر اوڈیسا کے قریب بھی فوجیوں کی نقل و حرکت کی اطلاعات ہیں۔
یوکرین میں ہلاکتوں کی اطلاعات
یوکرین کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی فوجوں کی بمباری کے باعث کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اوڈیسا کے باہر پولڈیسک میں فوجی یونٹ پر ہونے والے حملے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔
پولیس کے مطابق 19 افراد تاحال لاپتہ ہیں جبکہ میریپول شہر میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔
یوکرین: روسی حملوں کا بھرپور جواب دے رہے ہیں
یوکرین کی مسلح افواج کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے روسی فوج کے پانچ طیاروں اور ایک ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے۔
یوکرین کی افواج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ "پرسکون رہیں اور یوکرین کے محافظوں پر یقین رکھیں"۔
تاہم روس کی وزارت دفاع نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس کے طیارے کو مار گرایا گیا
یوکرین کی افواج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ ’پرسکون رہیں اور یوکرین کی افواج پر یقین رکھیں۔‘
روس کی وزارتِ دفاع نے کسی طیارے یا ہیلی کاپٹر کے مار گرائے جانے کی تردید کی ہے۔
یوکرین کے صدر کا ملک میں مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان
یوکرین نے ملک میں مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ عارضی طور پر ملک کا کنٹرول فوج کے پاس ہے۔
یوکرین کے وزیرِ خارجہ دیمترو کلیبا نے روس کے خلاف سنگین پابندیوں اور عالمی منڈیوں تک روس کی رسائی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہری پناہ کی تلاش میں ہیں
یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں ہنگامی صورتحال کی نشاندہی کرتے سائرن سنائی دینے لگے اور اس دوران ایسی تصاویر بھی سامنے آ رہی ہیں جس میں ایکسپریس وے پر گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور لوگ شہر چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے پوسٹس سے بڑھتے خوف و ہراس کا پتا چلتا ہے۔ کچھ افراد یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ انھیں محفوظ پناہ گاہوں اور تہہ خانوں میں لے جایا جا رہا ہے۔
ٹیلی ویژن فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ سڑکوں پر دعائیں مانگ رہے ہیں اور گروہوں کی شکل میں اکھٹے ہیں۔
اخبار گارڈیئن کے صحافی لیوک ہارڈنگ جو اس وقت کیئو میں موجود ہیں نے ٹویٹ کیا کہ سڑکوں پر کم لوگ موجود ہیں لیکن اے ٹی ایمز اور پٹرول پمپوں پر خاصا رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔
سات سال بعد تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں
روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے مشرقی یوکرین میں ’فوجی آپریشن‘ کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ قیمتوں میں اتنا اضافہ سات برس میں پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا ہے۔
اس کے علاوہ روس کی کرنسی روبل، ڈالر اور یورو کے مقابلے میں اب تک کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔
اس حملے کی خبر سے ایشیا میں سٹاک مارکیٹوں میں دو سے تین فیصد مندی دیکھنے میں آئی ہے۔ مارکیٹوں میں یہ مندی گذشتہ کئی روز سے دیکھنے میں آ رہی ہے۔