انڈیا میں تین لاکھ 66 ہزار سے زیادہ نئے یومیہ متاثرین، 37 سو سے زائد اموات

انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین لاکھ 66 ہزار سے زائد نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ اسی دورانیے میں 3745 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستان میں گذشتہ روز ساڑھے تین ہزار کے لگ بھگ افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر ملک بھر میں 78 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, دلی میں مزید 335 مریض جان کی بازی ہار گئے

    انڈیا کے دارالحکومت دلی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 335 مریض زندگی کی بازی ہار گئے۔

    اطلاعات کے مطابق دارالحکومت میں مزید 19133 کیسز سامنے آئے ہیں۔ کورونا سے صحت یاب ہونے والی کی تعداد 20028 بتائی گئی ہے۔ اس وقت وہاں کل ایکٹو کیسز کی تعداد 90629 ہے۔

    حکام کی جانب سے کورونا کیسز کی مثبت شرح چوبیس اعشاریہ دو نو فیصد بتائی گئی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 31 مریض کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

    صوبے بھر میں ایس و پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے جائزہ ٹیمیں مختلف علاقوں کا دورہ کرتی ہیں۔

    ہنگو بازار میں ڈی پی او کی قیادت میں ایس او پیز کا جائزہ لیا گیا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. راولپنڈی سمیت پنجاب بھر کے پارک، ہوٹل و سیاحتی مقامات بند کرنے کے اقدامات

    ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ شہر کے اندر اور مضافات میں تمام ہوٹل، تفریحی و سیاحتی مقامات اور پبلک پارکس آٹھ سے سولہ مئی تک بند رہیں گے۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھر ہر رہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. عدالتی کارروائی سے متعلق رپورٹنگ کو کوئی نہیں روک سکتا

    INDIA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈین سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ میڈیا کو عدالتی سماعت کی رپورٹنگ سے کوئی نہیں روک سکتا۔

    جمعرات کو الیکشن کمیشن کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے عدالتِ عظمیٰ نے یہ ریمارکس دیے ہیں۔

    جسٹس چندرا چڈ نے کہا ہے کہ ہمیں الیکشن کمیشن کی پٹیشن میں کوئی ٹھوس چیز نہیں ملی جس کی بنا پر ہم میڈیا کو عدالتی سماعت کو رپورٹ کرنے سے روکیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ کرنا بھی اظہارِ رائے کی آزادی کے اندر آتا ہے۔

    دراصل انڈین الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں یہ درخواست دائر کی تھی کہ مدراس کی ہائی کورٹ نے اسے بنا کسی ثبوت کے تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ الیکشن کے افسران ملک میں کورونا کی دوسری وبا کے ذمہ دار ہیں اور میڈیا کو ان زبانی کلامی باتوں کو رپورٹ کرنے سے روکا جائے۔

    گذشتہ ہفتے انڈیا کے الیکشن کمیشن نے سپریم کروٹ میں جا کر مدراس کی ہائی کورٹ کے 26 اپریل کو دیے جانے والے ریمارکس کے خلاف پٹیشن دائر کی تھی۔

    عدالت نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کے افسران کے خلاف قتل کے مقدمے کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔

    • کیرالہ میں آٹھ سے سولہ مئی تک لاک ڈاؤن

      india

      ،تصویر کا ذریعہGetty Images

      انڈین ریاست کیرالہ میں کورونا وائرس کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے 08 سے 16 مئی تک کے لیے لاک ڈاون نافذ کر دیا گیا ہے۔

      چیف منسٹر پینارائے ویجایان کے دفتر سے جاری اعلان میں بتایا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن آٹھ مئی کی صبح 6 بجے نافذ کیا جائے گا۔

      کیرالہ کے علاوہ انڈیا کی دیگر بہت سی ریاستیں بھی لاک ڈاؤن کی جانب بڑھ رہی ہیں۔

      ہماچل پردیش کی جانب سے بھی اعلان کیا گیا ہے کہ وہاں07 سے 16 مئی تک کرفیو نافذ رہے گا اور 13 مئی تک تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔ اور ریاست میں نہم جماعت کے طلبا و طالبات کو امتحانات کے بغیر اگلی جماعت میں پرموٹ کر دیا جائے گا۔

      وہاں کے وزیراعلی جے رام ٹھاکر کی صدارت میں کابینہ اجلاس میں یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔

      دلی اور مہاراشٹرا میں پہلے ہی لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ اسی طرح یوپی اور اڑیسہ سمیت کچھ اور ریاستوں میں رات کے وقت کرفیو بھی نافذ ہے۔

    • پنجاب میں نو دن کے لیے سخت پابندیاں اور لاک ڈاؤن

      X پوسٹ نظرانداز کریں
      X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

      اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

      تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

      X پوسٹ کا اختتام

    • چین سے غیر تصدیق شدہ ویکسین لینے پر فلپائن کے صدر کی معافی

      philpine

      ،تصویر کا ذریعہEPA

      فلپائن کے صدرروڈریگو دوتیرتے نے چینی سفارتخانے سے کہا ہے کہ وہ ان کے ملک کو عطیہ کی گئی 1000 سائنوفارم ویکسین کی خوراکیں واپس لے لیں۔

      انھوں نے چینی سفارتخانے سے یہ مطالبہ اپنے ملک میں خود پر ہونے والی تنقید کے بعد کیا ہے کیونکہ یہ ویکسین تصدیق شدہ نہیں ہے۔

      فلپائن کے صدر نے کہا ہے کہ چین کو مستقبل میں فقط سائنو ویک ویکسین بھجوانی چاہیے جو فلپائن میں استعمال ہو رہی ہے۔

      سائنو فارم ویکسین کو فلپائن میں استعمال کے لیے ابھی اجازت نہیں ملی ہے۔

      توقع کی جا رہی ہے کہ سائنو فارم اور سائنو ویک رواں ہفتے ہی عالمی ادارہ صحت کی جانب سے تصدیق حاصل کر لیں گی۔

      صدرروڈریگو دوتیرتے نے سائنو فارم کی ڈوز اس وقت لی جب ڈاکٹرز نے انھیں ویکسین لگوانے کا مشورہ دیا تھا تاہم انھوں نے اپنی عوام سے کہا ہے کہ وہ ان کی پیروی نہ کریں۔

      ان کا کہنا تھا کہ مقامی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ `یہ خطرناک ہے کیونکہ ابھی اس پر کوئی تحقیق نہیں ہوئی۔

      ’یہ شاید جسم کے لیے اچھی نہ ہو۔ مجھے اسے لگوانے والا واحد انسان ہی رہنے دیجیے۔‘

    • انڈونیشیا کی کمپنی پر ٹیسٹ کٹ کو دھو کر دوبارہ فروخت کرنے کا الزام

      Indonesia

      ،تصویر کا ذریعہEPA

      انڈونیشیا میں ایک فارماسوٹیکل کمپنی سے تعلق رکھنے والے بیشتر افراد کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا ہے کہ انھوں نے کورونا وائرس کے ٹیسٹ میں استعمال ہونے والی سٹک کو دھو کر دوبارہ فروخت کیا ہے۔

      پولیس کا کہنا ہے کہ ناک سے ٹیسٹ کے لیے نمونے لینے والی سٹک یا کِٹ کو ملک کے

      ائیر پورٹ پر 9000 مسافروں کے لیے استعمال کیا گیا جو پہلے سے استعمال شدہ تھیں۔

      جس کمپنی کی کِٹس استعمال ہوئیں اس کا نام کیمیا فارما ہے اور وہ سرکاری فارماسوٹیکل کمپنی ہے اور اب اسے فراڈ کے الزامات کے تحت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

      خیال رہے کہ کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے ناک سے بھی نمونے لیے جاتے ہیں۔

      پولیس نے کہا ہے کہ میڈن میں کوالالمپور ائیر پورٹ پر یہ فراڈ گذشتہ دسمبر سے جاری ہے۔

      اگر آپ کو ہوائی سفر کرنا ہے تو آپ کا کورونا منفی ٹیسٹ رزلٹ ہونا چاہیے۔ اس لیے مسافروں کے فوری ٹیسٹ کے لیے ائیر پورٹ کے اندر ہی انتظامات کر دیے دیے گئے ہیں۔

      ائیر پورٹ حکام ریپڈب انٹیجن کٹ استعمال کر رہے تھے جو کیما فارما کی بنائی گئی کٹ ہے۔

      مسافروں نے شکایت کی تھی کہ انھیں مثبت کورونا رزلٹ رپورٹس دی جا رہی ہیں۔ پھر ایک پولیس اہلکار بھیس بدل کر مسافر کی حیثیت سے ٹیسٹ کروانے گئے۔ جب ان کی رپورٹ مثبت آئی تو ایک اور پولیس اہلکار نے لیبارٹری جا کر ایسی ٹیسٹ کٹ برآمد کی جسے ایک سے زیادہ بار استعمال کیا جا رہا تھا۔

    • بریکنگ, پنجاب میں مزید 68 ہلاکتیں

      پنجاب میں کورونا وائرس کے 1906 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد 312,522 ہو گئی ہے۔

      ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق صوبے کے دارالحکومت لاہورمیں 734 سامنے آئے ہیں۔

      ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق لاہور میں مزید 35 ہلاکتیں ہوئی ہیں اور اس کے بعد شہر میں اموات کی کل تعداد 3577 ہو چکی ہے۔

      صوبہ بھر میں کورونا وائرس سے مزید 68 ہلاکتیں ہوئی ہیں اور اموات کی کل تعداد 8809 ہو چکی ہے۔

      حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 4,656,815 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ کورونا وائرس کو شکست دینے والوں کی تعداد 262,555 ہو چکی ہے۔

      پنجاب کے مختلف علاقوں میں کورونا وائرس کے نئے کیسز کی تعداد

      شہروں کے اعدادو شمار میں ننکانہ 36، قصور 5، شیخوپورہ 36، راولپنڈی 147، جہلم 4، چکوال 10، مظفرگڑھ 12 اور گوجرانوالہ 27 میں کیسز رپورٹ ہوئے۔

      سیالکوٹ 17، نارووال 1، گجرات 3، منڈی بہاؤالدین 16، ملتان 188، خانیوال 19، راجن پور 8، لیہ 16، ڈیرہ غازی خان 29 اور وہاڑی میں 18 کیس سامنے آئے۔

      فیصل آباد 142، چنیوٹ 12، ٹوبہ ٹیک سنگھ 20، جھنگ 49 اور رحیم یار خان میں 103 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ترجمان سرگودھا 92، میانوالی 1، خوشاب 2، بہاولنگر 14، بہاولپور 51، لودھراں 6، بھکر 9، ساہیوال 39، پاکپتن 5 اوراوکاڑہ میں 35 کیس سامنے آئے۔

    • انڈیا میں ڈبل میوٹنٹ کا کیسز کی بڑی تعداد میں موجودگی سے تعلق

      انڈیا

      ،تصویر کا ذریعہReuters

      انڈیا نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی جنیاتی طور پر دوہری تبدیل شدہ قسم جو راوں برس مارچ میں سامنے آئی ہے ممکن ہے کہ اس کا تعلق وائرس کی دوسری تباہ کن لہر سے تھا۔

      یہ میوٹنٹ یا کورونا کی یہ قسم B.1.617 انڈیا کی متعدد ریاستوں میں ٹیسٹوں کے نمونوں میں پائی گئی ہے۔

      دوہرا میوٹنٹ وہ ہوتا ہے جب ایک ہی وائرس میں دو جنیاتی تبدیلیاں اکھٹی ہو جائیں۔

      تقریباً 13000 نمونے آٹھ ریاستوں سے اکھٹے کیے گئے جن میں 3500 سے زیادہ میں تبدیل شدہ اقسام پائی گئی ہیں۔

      ایک ماہ سے زیادہ کے عرصے تک دلی میں اس بات پر اصرار کیا جاتا رہا کہ B.1.617 کی قسم کا حالیہ کیسز کی بڑھتی ہوئی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

      حکام نے اس سے بھی انکار کیا تھا کہ کیسز کے بڑھنے کا برطانیہ، جنوبی افریقہ اور برازیل کے میوٹیشنز سے کوئی تعلق ہے۔

    • امریکہ کی کورونا وبا کے خاتمے کے لیے ویکسین کے پیٹنٹ ختم کرنے کی تجویز کی حمایت

      US

      ،تصویر کا ذریعہEPA

      امریکہ نے کورونا وبا کے خاتمے کے لیے ویکسین تیار کرنے کے حقوق ہٹانے کی تجویز کی حمایت کر دی ہے۔

      امریکہ کی تجارتی نمائندہ سفیر کیتھرین ٹائی کا کہنا ہے کہ ’غیر معمولی حالات کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔‘

      ان کی جانب سے ایک ٹویٹ کے ذریعے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ’بائیڈن ہیرس انتظامیہ کووڈ 19 ویکسینز کی تیاری کے حقوق ختم کرنے کی حمایت کرتی ہے۔

      ’ہم تیاری کے جملہ حقوق کی حفاظت میں یقین رکھتے ہیں لیکن اس عالمی وبا کے خاتمے کے لیے ہم کووڈ ویکسینز کی تیاری کے حقوق کے خاتمے کی حمایت کرتے ہیں۔‘

      ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی ادارہ تجارت کے ساتھ اس حوالے سے مذاکرات میں وقت لگے گا کیونکہ بہرحال اس کے ساتھ پیچیدہ مسائل منسلک ہیں۔

      انھوں نے کہا کہ کیونکہ امریکی عوام کے لیے تیار کردہ ویکسینز کی تعداد کافی ہے، اور انتظامیہ اب پرائیویٹ سیکٹر اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر ویکسین کی تیاری میں مدد دی جائے گی۔

      X پوسٹ نظرانداز کریں
      X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

      اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

      تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

      X پوسٹ کا اختتام

    • بریکنگ, انڈیا میں ریکارڈ چار لاکھ 12 ہزار سے زیادہ نئے مریض، 3900 سے زیادہ اموات

      india

      ،تصویر کا ذریعہEPA

      انڈیا میں کورونا وائرس کے باعث گذشتہ روز ریکارڈ چار لاکھ 12 ہزار سے زیادہ نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 3979 افراد اس وائرس کے باعث ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

      گذشتہ روز کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ملک میں 412373 افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے جبکہ لگ بھگ 21 لاکھ 70 ہزار ٹیسٹ کیے گئے۔

      اس طرح گذشتہ روز مثبت کیسز کی شرح 19 فیصد رہی۔ اس وقت انڈیا میں ویکسینیشن کا عمل بھی جاری ہے اور گذشتہ ملک میں 18 لاکھ نوے ہزار افراد کو ویکسین لگائی گئی۔

      اس وقت گذشتہ چند ہفتوں سے جن شہروں میں لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے جیسے نئی دہلی اور ممبئی وہاں کیسز کی شرح میں خاصی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ تاہم اکثر شہروں میں اب بھی آکسیجن سلینڈر اور وینٹیلیٹرز کی قلت موجود ہے۔

      X پوسٹ نظرانداز کریں
      X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

      اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

      تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

      X پوسٹ کا اختتام

    • بریکنگ, پاکستان: گذشتہ روز مزید 108 ہلاکتیں، 4198 افراد میں وائرس کی تشخیص

      X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
      X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

      اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

      تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

      X پوسٹ کا اختتام, 1

      پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 4198 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ 108 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

      گذشتہ روز ملک میں 46 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے جن میں مثبت کیسز کی شرح نو فیصد رہی۔

      پاکستان میں ویکسینیشن کا عمل جاری ہے اور منگل کے روز دو لاکھ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگانے کا اہتمام کیا گیا۔

      X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
      X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

      اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

      تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

      X پوسٹ کا اختتام, 2

    • ’دنیا کی فارمیسی‘ کہلانے والا انڈیا کورونا وائرس کی افراتفری میں کیسے ڈوبا؟

      india

      ،تصویر کا ذریعہGetty Images

      ’دنیا کی فارمیسی‘ کہلانے والا ملک انڈیا اس وقت کورونا وائرس کی دوسری لہر کی لپیٹ میں ہے اور جہاں مئی کی پانچ تاریخ کو ایک بار یومیہ ہلاکتوں اور یومیہ متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

      لیکن اب سے صرف چند ہفتے قبل انڈیا میں حکومت نے دعوی کیا تھا کہ وہ کورونا وائرس کو شکست دینے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور ملک میں تمام تر سرگرمیاں بحال ہو گئی ہیں۔

      تو اس اثنا میں ایسا کیا ہوا کہ انڈیا پوری دنیا میں کورونا وائرس کا ہاٹ سپاٹ بن گیا۔ یہ جاننے کے لیے پڑھیے وکاس پانڈےکا یہ مضمون۔

    • بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید!

      india

      ،تصویر کا ذریعہEPA

      کورونا وائرس کی کوریج کے لیے بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ آـ ایک بار پھر انڈیا میں یومیہ ہلاکتوں اور نئے متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ ادھر امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی ویکسین کے حقوق ہٹانے کی تجویز کے حق میں ہے۔

      پاکستان اور دنیا بھر سے کورونا وائرس کی تازہ ترین خبروں کے لیے اس پیج کو بک مارک کر لیں جہاں ہم اپنے قارئین کے لیے مزید خبریں پیش کرتے رہیں گے۔

      گذشتہ چند روز کی خبروں کے بارے میں جاننے کے لیے آپ ہمارے پچھلے لائیو پیج کو یہاں پڑھ سکتے ہیں۔