انڈیا میں تین لاکھ 66 ہزار سے زیادہ نئے یومیہ متاثرین، 37 سو سے زائد اموات
انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین لاکھ 66 ہزار سے زائد نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ اسی دورانیے میں 3745 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستان میں گذشتہ روز ساڑھے تین ہزار کے لگ بھگ افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر ملک بھر میں 78 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
لائیو کوریج
کووڈ 19: انڈیا میں تین لاکھ 66 ہزار سے زیادہ نئے یومیہ متاثرین، 37 سو سے زائد اموات
انڈیا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے باعث گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 366310 افراد میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی ہے۔
انڈیا میں گذشتہ روز 3745 افراد اس وائرس کے باعث ہلاک ہوئے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان میں کووڈ 19 کے مزید 3447 متاثرین، 78 ہلاکتیں
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 3447 افراد میں کوووڈ کی وبا کی تصدیق ہوئی ہے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے مطابق ایک دن میں مزید 78 افراد کووڈ 19 وائرس کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔
ملک بھر میں 37756 کیے گئے ٹیسٹوں میں وبا کے مثبت آنے کی شرح 9.12 فیصد رہی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
خیبر پختونخوا میں کووڈ 19 سے مزید 642 افراد متاثر جبکہ 27 مریض ہلاک
محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ 19 سے مزید 642 افراد متاثر جبکہ 27 مریض ہلاک اور 963 صحت یاب ہوئے ہیں۔
صوبے میں کووڈ سے صحت یاب مریضوں کی تعداد 1 لاکھ 11 ہزار 143 ہو گئی ہے۔
صوبے میں کووڈ کیسز کی مجموعی تعداد 1 لاکھ 24 ہزار 484 اور اموات 3615 ہوگئی ہیں۔
خیبرپختونخوا میں فعال کیسز کی تعداد 9 ہزار 727 ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران پشاور میں 113، مردان میں 64، ہری پور میں 57، ملاکنڈ میں 56 اور چارسدہ میں 52 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔
انڈیا نے فوج کے سابقہ میڈیکل افسران کی مدد حاصل کر لی
،تصویر کا ذریعہTwitter/Indian Army
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انڈیا کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ صحت کے نظام پر بوجھ کے باعث فوج کے سینکڑوں سابقہ میڈیکل افسران کو بڑھتے مریضوں کی مدد کے لیے بھرتی کیا جائے گا۔
ایک بیان کے مطابق قریب 400 میڈیکل افسران کو 11 ماہ تک کے لیے کنٹریکٹ پر تعینات کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کئی فوجی ڈاکٹر آن لائن مریضوں سے رابطہ کرسکیں گے۔
ملک میں کووڈ کی دوسری لہر کے دوران وائرس کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے۔ اتوار کو انڈیا میں کورونا سے مسلسل دوسرے دن یومیہ چار ہزار اموات کی تصدیق ہوئی تھی۔
ویکسین کی 10 لاکھ خوراکیں چین سے اسلام آباد پہنچ گئیں
،تصویر کا ذریعہPIA
پی آئی اے کا ایک خصوصی طیارہ ویکسین کی مزید دس لاکھ خوراکیں لے کر پاکستان پہنچ گیا ہے۔ حکام کے مطابق ویکسین کی یہ خوراکیں چین سے اسلام آباد لائی گئی ہیں۔
سینوویک ساخت کی ویکسین حکومت پاکستان اور وزارت صحت کی ایما پر خصوصی طیارہ سے لائی گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا کی شدت میں اضافے کے باعث ویکسین درآمد میں تیز کردی گئی ہے۔
اس سے قبل پی آئی اے کی چھ خصوصی پروازیں ویکسین کی لاکھوں خوراکیں لے کر پاکستان پہنچی ہیں۔
سندھ میں ’پاکستان کا سب سے بڑا ویکسینیشن سینٹر‘ قائم
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
سندھ حکومت کے مطابق صوبے میں ’پاکستان کا سب سے بڑا کورونا ویکسینیشن سینٹر‘ کراچی میں قائم کر دیا گیا ہے جس کا افتتاح صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کیا ہے۔
ایکسپو سینٹر کراچی میں قائم ماس ویکسینیشن سینٹر کے افتتاح کے موقع پر این سی او سی حکام، پارلیمانی سیکریٹری قاسم سراج سومرو، سیکریرٹری صحت کاظم جتوئی اور دیگر بھی موجود تھے۔
حکام کے مطابق اس سینٹر میں ’یومیہ 25 سے 30 ہزار افراد کو ویکسین لگائی جا سکے گی۔‘
ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا ہے کہ 16 مئی سے تمام افراد کے لیے ویکسینیشن کا سلسلہ شروع کیا جائے گا، اب 40 سال سے کم عمر کے افراد بھی ویکسین لگوا سکیں گے۔ ’سندھ میں کوویکس، ایسٹرا زینیکا، سائنو فارم اور کین سائنو ویکسینز لگائی جائیں گی۔‘
کوئٹہ میں لاک ڈاؤن: بڑے تجارتی مراکز بند رہے
کورونا کی روک تھام کے لیے این سی او سی کی ہدایات کے مدِنظرکوئٹہ شہر میں اتوار کو دوسرے روز شہر کے مرکزی علاقوں میں تمام بڑے تجارتی مراکز بند رہے۔
اس سلسلے میں شہر میں دس مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے علاوہ پولیس اور فرنٹیئر کور کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ شہر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار گشت بھی کرتے رہے۔
شہر کے جن علاقوں میں ناکے لگائے گئے ہیں ان میں عالمو چوک، یونیورسٹی چوک ، ٹی کراس، جوائنٹ بروری روڈ کراس، چمن پھاٹک، گوالمنڈی چوک، میزان چوک، منان چوک، آرٹ سکول میکانگی روڈ اور سائنس کالج چوک شامل ہیں۔
شہر کے تمام مراکز میں مارکیٹیں مکمل طور پر بند رہیں تاہم بنیادی اشیائے صرف کی دکانوں کے علاوہ میڈیکل سٹور وغیرہ کھلے رہے۔
درایں اثنا ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اورنگزیب بادینی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی زحمت سے بچنے کے لیے شہر آنے سے گریز کریں۔
کووڈ 19: پی آئی اے کی چند پروازوں کے شیڈول میں ردوبدل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترجمان پی آئی اے کے مطابق این سی او سی کی ہدایات کی روشنی میں مقامی ائیرپورٹس پر رش کی صورتحال سے بچنے کے لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ:
پی کے 9726 ریاض تا لاہور اب ریاض سے سیالکوٹ آئے گی
پی کے 9247 لاہور تا دمام اب سیالکوٹ سے دمام روانہ ہو گی
پی کے 262 ابوظہبی اسلام آباد اب ابو ظہبی سے پشاور آئے گی
اس ہی طرح اسلام آباد تا القسیم کی پرواز پشاور سے القسیم روانہ ہوگی
برطانیہ میں 17 مئی سے گلے ملنے کی اجازت ملنے کا امکان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی وزیر مائیکل گو نے گلے ملنے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے گھروں میں جانے پر پابندی ختم ہو جانے کے حوالے سے کہا ہے کہ ’سب ٹھیک ہے‘ اور وزیر اعظم بورس جانسن کل اس بات کی تصدیق کریں گے کہ 17 مئی کو پابندیوں میں نرمی کی جا سکتی ہے۔
فی الحال لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ان لوگوں سے قریبی رابطے سے گریز کریں جن کے ساتھ وہ نہیں رہتے ہیں۔
اینڈریو مار شو میں گفتگو کرتے ہوئے گو نے کہا: 'معاشرتی دوری کے وسیع جائزے کے تعصب کے بغیر، دوست احباب اور کنبہ کے مابین دوستانہ رابطے، دوسرے قریبی رابطے۔۔۔ کچھ ایسی چیزیں ہیں جنھیں ہم بحال دیکھنا چاہتے ہیں۔‘
جموں و کشمیر میں کورونا کرفیو میں توسیع، 17 مئی تک سخت پابندیوں کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے زیرِ انتظام جموں وکشمیر کے تمام 20 اضلاع میں، کورونا کرفیو میں 17 مئی کی شام 7 بجے تک توسیع کردی گئی ہے۔
تازہ ترین آرڈر کے مطابق اس بار کورونا کرفیو پہلے کے مقابلے میں سخت ہوگا اور اس دوران صرف میڈیکل اور کھانے پینے جیسی ضروری خدمات ہی کھولنے کی اجازت ہوگی۔
اس دوران 25 سے زائد افراد کو شادی کی تقاریب میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔
اس سے قبل کورونا کرفیو کی مدت 10 تاریخ کو صبح سات بجے تک ختم ہونے والی تھی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سینٹ البانس کیتھیڈرل میں اب ’ماسک پہنے مجسمہ‘ بھی موجود ہے
،تصویر کا ذریعہST ALBANS CATHEDRAL
قرون وسطیٰ کی ایک غیر معمولی عمارت کی بحالی کا مطلب ہے کہ چرچ میں اب ایک مجسمہ ماسک پہنے ہوئے موجود ہے۔
ہارٹ فورڈ شائر کے سینٹ البانس کیتھیڈرل میں سینٹ امفیبلس کے مزار کو نمائش کے لیے اس وقت پیش کیا جائے گا جب اس عمارت کو 17 مئی کو زائرین کے لیے دوبارہ کھولا جائے گا۔
چرچ کے ترجمان نے کہا ’یہ مجسمہ ہمیں سینٹ البانس کی تاریخ کو آگے کی طرف لیجانے اور پیچھے مڑ کر دیکھنے کی یاد دلاتا ہے۔‘
اس کام کو مکمل ہونے میں ایک سال سے زیادہ کا عرصہ لگا۔ اس کے لیے ایک گرانٹ اور ایک ہزار سے زیادہ دیگر ڈونرز نے مالی اعانت فراہم کی۔
پچھلے سال جون میں اس ے کھولا جانا تھا، لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے کام میں تاخیر ہوئی۔
،تصویر کا ذریعہST ALBANS CATHEDRAL
،تصویر کا کیپشننیا بحالی شدہ مزار اب آوور لیڈی آف دی فور ٹیپرز کے چیپل میں واقع ہے
،تصویر کا ذریعہST ALBANS CATHEDRAL
،تصویر کا کیپشنہاتھ کی نقش بنانے کے روایتی طریقے استعمال کیے گئے تھے اور یارکشائر کے دو ماسٹر کاریگروں نے نئے ٹکڑوں پر کام کیا
،تصویر کا ذریعہST ALBANS CATHEDRAL
،تصویر کا کیپشنیہ چرچ سینٹ البانیہ کی پھانسی اور تدفین کے مقام پر بنا ہے
،تصویر کا ذریعہST ALBANS CATHEDRAL
،تصویر کا کیپشن1870 کی دہائی میں مزار کے ٹکڑے دریافت ہوئے تھے
اتر پردیش میں کورونا کرفیو میں 17 مئی تک توسیع
،تصویر کا ذریعہgettyimages
انڈیا کی ریاست اترپردیش کی حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 17 مئی تک نافذ کرفیو میں توسیع کردی ہے۔
اس سے قبل کرفیو صبح سات بجے ختم ہونا تھا۔
ایڈیشنل چیف سکریٹری (انفارمیشن) نونیت سہگل نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں عائد کورونا کرفیو میں 17 مئی تک توسیع کردی گئی ہے۔
اتر پردیش میں سنیچر کے روز کورونا کے 26،847 نئے کیس رپورٹ ہوئے اور 298 افراد کی موت ہوگئی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بنگلہ دیش پر انڈیا میں کورونا کی تباہی کا اثر بہت زیادہ ہو سکتا ہے
،تصویر کا ذریعہgettyimages
انڈیا میں بڑھتے ہوئے انفیکشن اور ویکسین کا اثر پڑوسی ملک بنگلہ دیش پر بھی پڑ رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں ویکسین کی کمی ہوسکتی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ملک میں ویکسین کی مہم کو تیز کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وائرس کی نئی اور خطرناک شکلیں پائی جارہی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ملک کی وزارت صحت نے سنیچر کے روز کہا تھا کہ کورونا وائرس کی ’انڈین قسم‘ کی پہلی بار بنگلہ دیش میں تشخیص ہوئی ہے۔
کئی ہفتوں سے زیادہ تر کیسز میں جنوبی افریقن قسم پائی گئی۔ بنگلہ دیش میں حکام کو تشوی ہے کہ نئی قسم پہلے کی مختلف حالتوں کے مقابلے میں تیزی سے پھیلتی ہے اور یہ ممکن ہے کہ ویکسین کا ان پر کوئی اثر نہ پڑے۔
ماہرین کے مطابق گذشتہ دو ہفتوں میں بنگلہ دیش میں انفیکشن میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم اس کی اصل وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔
ماہرین اس کو ویکسینیشن مہم کو تیز کرنے کے لیے صحیح وقت کے طور پر لے رہے ہیں۔
بنگلہ دیش کے چائلڈ ہیلتھ ریسرچ فاؤنڈیشن سے وابستہ سائنس دان سنجوٹی ساہا نے اے پی کو بتایا ’یہ وقت ہے کہ ویکسین لگائی جائے، انفیکشن کی شرح کو کم رکھیں اور نئی قسموں کو آنے سے روکیں۔‘
لیکن انڈیا نے اپنے ملک میں بڑھتیے متاثرین کے پیش نظر ویکسین کی برآمد پر پابندی عائد کردی ہے۔
سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کو جون تک بنگلہ دیش میں تیس ملین خوراک مہیا کرنا تھیں، ہر ماہ 50 لاکھ۔ لیکن اب تک یہ کمپنی صرف 70 لاکھ خوراکیں فراہم کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
،تصویر کا ذریعہgettyimages
کورونا کی روک تھام کے لیے ایران بھر میں پانچ روزہ ٹریفک پابندیاں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران میں کورونا کی چوتھی لہر کو روکنے کے لیے، پورے ملک میں پانچ دن تک ٹریفک پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ تیزی سے ویکسین لگوانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ پہلے دستیاب کوئی بھی ویکسین ’بہترین ویکسین‘ ہے۔
ایران میں نیشنل کورونا ہیڈ کوارٹر کے ترجمان، علیرضی رائے نے اعلان کیا ہے کہ منگل 11 مئی بروز پیر سے ہفتہ 15 مئی دوپہر 12 بجے تک ایران کے تمام شہروں میں ٹریفک کی پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
ایران میں عید الفطر کی چھٹی کے ساتھ ہی مختلف صوبوں کے درمیان سفر پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
ایران کی وزارت صحت کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 283 افراد کی ہلاکت کے ساتھ کووڈ 19 کے متاثرین کی تعداد 74،000 سے زیادہ ہوگئی ہے۔
پچھلے تخمینے سے ظاہر ہوا ہے کہ اصل اعدادوشمار سرکاری اعدادوشمار سے دوگنا زیادہ ہیں۔
ایرانی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس وقت 5،500 شدید مریضوں کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں داخل کیا جارہا ہے۔
وزارت صحت نے اعلان کیا کہ سنیچر تک 1286000 افراد نے ویکسین کی پہلی خوراک حاصل کی تھی اور 262000 افراد نے دونوں خوراکیں وصول کی تھیں۔
کورونا کے ترجمان نے کہا کہ 80 سال سے زیادہ عمر کے افراد جن کو ابھی تک قطرے نہیں پلائے گئے تھے وہ سنیچرسے آن لائن رجسٹریشن کرواسکتے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہEPA
دہلی میں مزید ایک ہفتے کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے دہلی میں لاک ڈاؤن میں مزید ایک ہفتے کی توسیع کردی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس مرتبہ لاک ڈاؤن میں مزید سختی کی جائے گی۔
کیجریوال نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے پہلے کورونا میں انفیکشن کی شرح 35 فیصد تھی جو اب 23 فیصد ہوگئی ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں توسیع کی جا رہی ہے۔ اس بار لاک ڈاؤن سخت ہوگا۔ میٹرو بھی کل یعنی پیر سے نہیں چلے گی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
Mucormycosis: ’کالی فنگس‘ انڈیا میں کووڈ مریضوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے؟, سوتِک بسواس، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
انڈیا میں کورونا کی دوسری لہر کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور اب ڈاکٹر کووڈ 19 سے صحتیاب ہونے والے مریضوں میں ایک غیر معمولی انفیکشن کی اطلاع دے رہے ہیں۔
Mucormycosis ایک بہت ہی نایاب انفیکشن ہے۔ یہ عام طور پر مٹی، پودوں، کھاد اور بوسیدہ پھلوں اور سبزیوں میں پایا جاتا ہے۔
ممبئی سے تعلق رکھنے والے آنکھوں کے سرجن ڈاکٹر اکشے نائر کہتے ہیں ’یہ مادہ اور ہوا اور یہاں تک کہ صحت مند لوگوں کی ناک اور بلغم میں پایا جاتا ہے۔‘
یہ ہڈیوں، دماغ اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے اور ذیابیطس یا شدید مدافعتی افراد جیسے کینسر کے مریضوں یا ایچ آئی وی / ایڈز کے شکار افراد میں جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔
ڈاکٹر کا خیال ہے کہ میوکورمائکوسیس mucormycosis، جس میں اموات کی مجموعی شرح 50 فیصد ہے، ہوسکتا ہے کہ شدید بیمار کووڈ 19 مریضوں کی زندگی بچانے کے لیے استعمال ہونے والے سٹیرائڈز اس کی وجہ بنے ہوں۔
سٹیرائڈز، کووڈ 19 مریضوں کے پھیپھڑوں میں سوجن کو کم کرتے ہیں اور جب جسم کا مدافعتی نظام کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے اوور ڈرائیو میں جاتا ہے، اس وقت کچھ نقصان کو کم کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔
لیکن وہ ذیابیطس اور غیر ذیابیطس کووڈ 19 مریضوں دونوں میں قوتِ مدافعت کو کم کرتے ہیں اور بلڈ شوگر کی سطح کو بڑھاتے ہیں۔
ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ قوتِ مدافعت میں کمی mucormycosis کا باعث بن سکتی ہے۔
کوڈ بحران: مشہور میڈیکل جریدے ’دی لانسیٹ‘ میں وزیر اعظم مودی پر شدید تنقید, ’مودی کی توجہ ٹویٹر پر خود پر تنقید کو دبانے پر زیادہ اور کووڈ 19 وبا کو کنٹرول کرنے پر کم‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا کے مشہور میڈیکل جریدے دی لانسیٹ نے ایک اداریہ شائع کیا جس میں انڈین وزیر اعظم مودی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ان کی توجہ ٹویٹر پر اپنی تنقید کو دبانے پر زیادہ اور کووڈ 19 وبا کو کنٹرول کرنے پر کم ہے۔
جرنل نے لکھا ’ایسے مشکل وقت میں مودی کی خود پر تنقید اور بحث دبانے کی کوشش معافی کے لائق نہیں ہے۔‘
اس رپورٹ کے مطابق انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلیواشن کے اندازوں کے مطابق انڈیا میں کورونا وبا کی وجہ سے اموات کی تعداد یکم اگست تک دس لاکھ تک جا سکتی ہے۔
لانسیٹ کے مطابق کورونا کے خلاف ابتدائی کامیابی کے بعد سے حکومت کی ٹاسک فورس اپریل تک ایک بار بھی نہیں ملی۔
جریدے کے مطابق اس فیصلے کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ اب وبا بڑھتی جارہی ہے اور انڈیا کو نئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت اپنی غلطیوں کو قبول کرکے شفافیت کے ساتھ ملک کو چلاتی ہے یا نہیں۔
پاکستان میں گذشتہ روز 3785 نئے مریض، 118 اموات
پاکستان میں گذشتہ روز کووڈ 19 سے 118 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 3785 افراد میں اس وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 40,736 ٹیسٹ کیے گئے جبکہ مثبت کیسز کی شرح 9.29 رہی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
انڈیا میں 4092 سے زیادہ اموات، مسلسل چوتھے روز چار لاکھ سے زیادہ نئے مریض
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے باعث مسلسل چوتھے روز چار لاکھ سے زیادہ افراد (403738) میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی۔
انڈیا میں گذشتہ روز 4092 افراد اس وائرس کے باعث ہلاک بھی ہوئے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
سری لنکا: ایک شخص میں کووڈ کی ’انڈین قسم‘ کی تشخیص
سری لنکا میں محکمہ صحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر چندیما جیوردنا نے کہا ہے کہ کولمبو میں ایک شخص میں کووڈ 19 کی انڈین قسم کی تشخیص ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ شخص میں علامات ظاہر ہونے کے بعد اس کا کووڈ ٹیسٹ کیا گیا تھا اور کولمبو کے ایک نجی ہسپتال میں نمونے بھیجے گئے تھے جس کے بعد کورونا کی انڈین قسم کی تصدیق ہوئی۔