انڈیا میں تین لاکھ 66 ہزار سے زیادہ نئے یومیہ متاثرین، 37 سو سے زائد اموات

انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین لاکھ 66 ہزار سے زائد نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ اسی دورانیے میں 3745 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستان میں گذشتہ روز ساڑھے تین ہزار کے لگ بھگ افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر ملک بھر میں 78 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. کیا انڈیا میں وائرس کی دوسری لہر کی شدت میں کمی واقع ہو رہی ہے؟

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا اس وقت کورونا وائرس کی دوسری لہر کی لپیٹ میں ہے۔

    تاہم حکومتی دعؤوں کے مطابق اب کئی علاقوں میں اس وبا کے اثرات میں کمی واقع ہو رہی ہے یعنی کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں کچھ ٹھہراو دیکھنے میں آیا ہے۔

    انڈیا میں مارچ کے وسط سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور اس کے بعد اس میں مزید شدت آ گئی۔ 30 اپریل تک تو اس میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا جب پہلی بار ایک ہی دن میں انڈیا میں چار لاکھ سے زائد کیسز سامنے آئے۔

    کورونا وائرس انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنانڈیا میں گذشتہ چند دنوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں اتار اور چڑھاؤ کا رحجان

    اس کے چند بعد ان کیسز میں کمی واقع ہوئی اور یہ تین مئی کو تین لاکھ اور ساٹھ ہزار تک رہ گئے، جس سے یہ اندازہ لگایا جا رہا کہ اب انڈیا میں کورونا وائرس کی انتہا ختم ہو چکی ہے۔

    مگر گذشتہ چند دنوں میں اس وائرس کے پھیلاؤ میں پھر زیادہ اضافہ دیکھنے کو آیا۔

    پانچ مئی کو یومیہ کیسز کی تعداد چار لاکھ اور 12 ہزار تک جا پہنچی۔ گذشتہ سات دن کا ڈیٹا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

    انڈیا میں یومیہ ٹیسٹ کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ پہلے یومیہ 20 لاکھ ٹیسٹ ہوتے تھے جو اب کم ہو کر 15 لاکھ رہ گئے۔

    تاہم اگر گذشتہ 24 گھنٹوں کے اعدادوشمار پر نظر دوڑائی جائے تو اس سے پتا چلتا ہے کہ کورونا وائرس اب بھی انڈیا میں تباہی پھیلا رہا ہے، جہاں ایک دن میں چار لاکھ اور چودہ ہزار نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

  2. حکومت کا عید پر مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ، عوام سے گھروں میں رہنے کی اپیل

    وزیر اعظم عمران خان کے دفتر کی طرف سے ایک ٹویٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیشِ نظر حکومتِ پاکستان نے اس عید پر مکمل لاک ڈاؤن کا مشکل فیصلہ کیا ہے۔

    اس ٹویٹ میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے وضع کردہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. برطانیہ میں وائرس کی وہ خطرناک قسم دریافت جو انڈیا میں دوسری لہر کی وجہ بنی

    Corona

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں انڈیا میں سامنے آنے والی وائرس کی اس خطرناک قسم کا پتا چلایا گیا ہے جو کسی بھی دوسرے وائرس کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے۔

    پبلک ہیلتھ انگلینڈ (پی ایچ ای) نے انڈین وائرس کی اس قسم کا پتا چلایا ہے جو بظاہر وائرس کی دوسری اقسام کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ اس وائرس کو B.1.617.2 کے کوڈ نام سے جانا جاتا ہے۔

    سائنسدانوں کے خیال میں یہ قسم چین کے شہر ووہان سے پھوٹنے والے وائرس سے زیادہ جلدی منتقل ہونے والی ہے۔

    پی ایچ ای کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ لیک ڈیٹا سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

    وائرس ہر وقت اپنی ہیئت بدلتے رہتے ہیں، جو اپنی ہی مختلف اقسام پیدا کرتے ہیں۔ تاہم ان کی متعدد اقسام قابل زکر نہیں ہوتی ہیں اور کچھ اقسام تو خود وائرس کو ہی غیر مؤثر کر دیتی ہیں۔ مگر ایسی بھی کچھ اقسام ہیں جو وائرس کو مزید سخت اور ضدی بنا دیتی ہیں جس پر ویکسین کا بھی

    برطانیہ کے لیے جنوبی افریقہ اور برازیل کی وائرس کی قسم دی کینٹ بھی تفتیش کا باعت بن گئی۔

    برطانیہ میں انڈین وائرس کی قسم کی موجودگی کے بارے میں حکام کو پہلے اکتوبر میں پتا چلا تھا۔

    اب اس قسم کے بارے میں نئی وضاحت سامنے آئی ہے جس کے مطابق اس قسم کی مزید تین ذیلی اقسام پائی جاتی ہیں جن کی جنیاتی ہئیت ایک دوسرے سے کسی حد مختلف ہوتی ہے۔

  4. کیا انڈیا میں وائرس کی مقامی قسم خوفناک دوسری لہر کی وجہ بنی؟

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے خیال میں یہ ممکن ہے کہ مارچ میں کورونا وائرس کی نئی دریافت ہونے والی نئی قسم ہی ملک میں خوفناک دوسری لہر کا موجب بنی ہو۔

    یہ ڈبل میوٹنٹ یعنی وائرس کی ایسی قسم جو دو مرتبہ شکل یا ساخت تبدیل کرتی ہے یہ B.1.617 کہلاتی ہے۔ اس نئی قسم کے وائرس کے نمونے انڈیا کی متعدد ریاستوں سے ملے ہیں جہاں کورونا کیسز میں زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    یہ بات نیشنل سینٹر فار ڈزیز کنٹرول کے ایک افسر نے بتائی ہے۔ تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ وائرس کی اس نئی قسم کا اور وائرس کے تیزی سے اضافے کے درمیان تعلق مکمل طور پر ثابت نہیں ہوا ہے۔

    india

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈبل میوٹنٹ اس وقت بنتا ہے جب ایک ہی وائرس میں دو میوٹنٹ شامل کر دیے جائیں۔

    حکومت کے ایک سینیئر سائنسدان نے خبردار کیا ہے کہ اس وائرس کی تیسری لہر بھی ملک میں آ سکتی ہے۔

    انڈیا کی وزارت صحت کے حکام نے بھی پریس کانفرنس میں تسلیم کیا ہے کہ تیسری لہر کے امکانات موجود ہیں اور اس کے لیے ملک کو تیار رہنا ہو گا۔ حکام کے مطابق اس بات کا صیحح طور پر پتا نہیں چلایا جا سکتا ہے کہ یہ لہر کب آ سکتی ہے۔

  5. آسٹریلیا کا انڈیا میں پھنسے شہریوں کو نکالنے کا فیصلہ

    آسٹریلیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریلیا نےاعلان کیا ہے کہ وہ انڈیا میں پھنسے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے 15مئی سے پروازوں کا آغاز کرے گا۔

    آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ مورسن نے ان شہریوں کی وطن واپسی پر پابندی عائد کر دی تھی جو اس وبا کے دوران انڈیا میں پھنس کر رہ گئے تاہم ان کےاس فیصلے پر ملک میں بہت تنقید ہوئی جس کے بعد انھوں نے اپنا ذہن تبدیل کیا۔

    آسٹریلیا کی حکومت نے اس پابندی کا اطلاق کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر کوئی اس دوران ملک واپس آ گیا تو اسے سزا کے طور پر جیل بھی بھیجا جا سکتا ہے۔

    جب ملک کے اندر اس بیان پر بہت تنقید ہوئی تو پھر آسٹریلین وزیر اعظم نے وضاحت دی کہ جیل جیسی سزا سنانے کے امکانت بہت ہی کم ہیں۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان شہریوں کی جلد واپسی پر پابندی عائد کرنے سے وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے میں مدد ملی ہے۔

    جمعے کو آسٹریلیا کی حکومت نے اس ماہ کے وسط میں تین پروازیں انڈیا سے 900 آسٹریلین شہریوں کو وطن واپس لے کر آئیں گی۔

    انڈیا سے واپس آنے والوں کو قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔

  6. روسی صدر پیوتن: سپوتنک ویکسین اتنی ہی قابل بھروسہ ہے جتنی کہ کلاشنکوف

    کورونا وائرس ویکسین

    ،تصویر کا ذریعہRDIF HANDOUT VIA REUTERS

    روس کے صدر ولادی میر پیوتن نے روس کی تیار کردہ ویکسین سپوتنک کو کلاشنکوف جیسی قابل بھروسہ قرار دیا ہے۔ خیال رہے کہ کلاشنکوف سویت یونین کے دور میں ایجاد کردہ ایک ایسا ہتھیار تھا جسے آج تک بڑی مقبولیت حاصل ہے۔ پاکستان میں اس ہتھیار کو افغان جنگ کے کلچر کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

    صدر پیوتن نے یہ تبصرہ ملک کے ڈپٹی وزیر اعظم تتیانہ گولیکوا کے ساتھ جمعرات کو ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران کیا۔

    اس دلچسپ تبصرے کا تناظر یہ بھی ہے کہ جمعرات کو روس کی وزارت صحت کے حکام نے سپوتنکV کا سنگل ڈوز ورژن کے طور پر اندراج کیا یعنی یہ ویکسین ایک خوراک پر مشتمل ہے، جسے سپوتنک لائٹ کا نام دیا گیا ہے۔

    پاکستان میں روس کی سپوتنک ویکسین دو خوراکوں پر مشتمل ہے یعنی دو بار اس ویکسین کا نسخہ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    روسی صدر پیوتن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    صدر پیوتن ایک آسٹرین ڈآکٹر کے اس تبصرے پر بات کر رہے تھے جو انھوں گذشتہ سال اس ویکسین کے انتہائی مؤثر ہونے سے متعلق دیا تھا۔

    سپوتنک فائیو بھی اتنی ہی مؤثر ہے جتنی آکسفورڈ کی آسترا زینیکا اور جینسن کی جانسن اینڈ جانسن ہے۔ اس ویکسین میں کولڈ ٹائپ وائرس کو استعمال کیا گیا ہے جسے بے ضرر بنایا گیا اور یہ کورونا وائرس کے ایک حصے کو جسم کے اندر لے جاتی ہے۔

    گذشتہ برس جب ماسکو میں اس ویکسین کی جلد سے جلد منظوری دی گئی تھی تو پیوتن انتظامیہ کے ناقدین نے اس حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے تھے۔ مگر بعد کے تجربات سے ثابت ہوا کہ یہ کورونا وائرس کے خلاف بڑی حد تک حفاظت کرتی ہے۔

    ویکسین

    اس ویکسین کی دو خوراکوں کی منظوری متعدد ممالک نے دے رکھی ہے۔ جبکہ ایک خوراک کے طور پر سپوتنک فائیو کی منظور روس میں جمعرات کو دی گئی ہے۔

    ایک پریس ریلیز میں حکام نے بتایا ہے کہ اس ویکیسن کے تجربات کے دوران 79.4 فیصد مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

    اس بیان کے مطابق یہ ویکسین انتہائی سخت مرحلے میں کم وقت میں بڑی تعداد میں لوگوں میں قوت مدافعت پیدا کرتی ہے اور یوں یہ اس وبا کے مقابلے کے لیے مؤثر ثابت ہوتی ہے۔

  7. بریکنگ, پاکستان میں گذشتہ روز مزید 140 اموات، کورونا ٹیسٹوں کی تعداد میں کمی کا رجحان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان میں گذشتہ روز مزید 4298 افراد کووڈ 19 سے متاثر ہوئے جبکہ 140 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی۔

    گذشتہ روز ملک میں 44 ہزار ٹیسٹ کیے گئے جو گذشتہ کئی ہفتوں سے ٹیسٹنگ میں کمی کے رجحان کی جانب سے اشارہ ہے۔ ان ٹیسٹوں کے نتیجے میں مثبت کیسز کی شرح نو اعشاریہ پانچ فیصد رہی۔

    خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے پیشِ نظر مختلف علاقوں میں سنیچر سے مکمل لاک ڈاؤن کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

  8. بریکنگ, انڈیا میں ریکارڈ چار لاکھ 14 ہزار سے زیادہ نئے مریض، لگاتار دوسرے روز 3900 سے زیادہ ہلاکتیں

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا اس وقت کورونا وائرس کی دوسری لہر کے باعث سب سے زیادہ متاثرہ ملک اور وبا کا گڑھ بن چکا ہے اور گذشتہ روز یہاں ایک مرتبہ پھر ریکارڈ چار لاکھ 14 ہزار سے زیادہ افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ 3920 ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    ملک میں یہ لگاتار دوسرا روز ہے جب اموات 3900 سے زیادہ ہیں اور ماہرین کا ماننا ہے کہ سرکاری اعداد شمار انڈیا میں کورونا وائرس کے باعث ہونے والے جانی نقصان کی اصل کہانی نہیں بتا رہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    گذشتہ روز ملک میں 22 لاکھ سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے اور مثبت کیسز کی شرح 18 اعشاریہ چھ فیصد رہی۔ گذشتہ روز ملک میں 23 لاکھ افراد کو ویکسین بھی لگائی گئی۔

  9. جرمنی نے کورونا ویکسین کے جملہ حقوق ہٹانے کی تجویز مسترد کر دی

    Corona

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جرمنی نے کورونا وبا کے خاتمے کے لیے ویکسینز کی تیاری کے حوالے سے جملہ حقوق کو عارضی طور پر معطل کرنے کی تجویز کی مخالفت کر دی ہے۔

    جرمنی کا کہنا ہے کہ جملہ حقوق کا تحفظ جدت کی بنیاد ہے اور ایسا ہی رہنا چاہیے۔

    یاد رہے کہ عالمی تجارتی ادارے (ڈبلیو ٹی او) میں کچھ ممالک ان جملہ حقوق کو عارضی طور پر معطل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ویکسین کی رسد کو بڑھایا جا سکے۔

    جرمنی کے حالیہ بیان سے قبل یورپی یونین یہ کہہ چکا ہے کہ وہ اس تجویز پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ امریکہ، انڈیا اور جنوبی افریقہ نے اس تجویز کی حمایت کر رکھی ہے۔

    امریکہ کی تجارتی نمائندہ سفیر کیتھرین ٹائی کا کہنا ہے کہ ’غیر معمولی حالات کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔‘

    ان کی جانب سے ایک ٹویٹ کے ذریعے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ’بائیڈن ہیرس انتظامیہ کووڈ 19 ویکسینز کی تیاری کے حقوق ختم کرنے کی حمایت کرتی ہے۔

    ’ہم تیاری کے جملہ حقوق کی حفاظت میں یقین رکھتے ہیں لیکن اس عالمی وبا کے خاتمے کے لیے ہم کووڈ ویکسینز کی تیاری کے حقوق کے خاتمے کی حمایت کرتے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی ادارہ تجارت کے ساتھ اس حوالے سے مذاکرات میں وقت لگے گا کیونکہ بہرحال اس کے ساتھ پیچیدہ مسائل منسلک ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ کیونکہ امریکی عوام کے لیے تیار کردہ ویکسینز کی تعداد کافی ہے، اور انتظامیہ اب پرائیویٹ سیکٹر اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر ویکسین کی تیاری میں مدد دی جائے گی۔

  10. اسلام آباد میں جمعے کے روز سے جزوی لاک ڈاؤن کا آغاز ہوگا: حمزہ شفقات

    Islamabad

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کا کہنا ہے کہ ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں جمعے کی شام سے لاک ڈاؤن پر عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا تاہم شہر میں مکمل لاک ڈاؤن سنیچر کے روز سے لاگو ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران تمام سیاحتی راستوں کو بند کیا جائے گا اور شہر کے بڑے بڑے شاپنگ مالز بھی مکمل طور پر بند رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ شہر میں تمام قسم کے طبعی مراکز، اشیائے خوردونوش کی چھوٹی دکانیں، یا ضروریاتِ زندگی کے شعبے جیسے کہ ٹیلی کام وغیرہ کو کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

  11. بریکنگ, سکاٹ لینڈ میں سات روز میں کورونا ٹیسٹ کے مثبت آنے کے بعد کوئی موت واقع نہیں ہوئی

    سکاٹ لینڈ میں گذشتہ سات روز کے دوران کسی بھی مریض کی کورونا ٹیسٹ کے مثبت آنے کے بعد ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔ گذشتہ آٹھ ماہ میں کسی بھی ہفتے میں اموات نہ ہونے کا یہ پہلا موقع ہے۔

    پبلک ہیلتھ سکاٹ لینڈ ایسی اموات کو کورونا کے اعداد شمار میں شامل کرتا ہے جو کہ کورونا ٹیسٹ کے مثبت آنے کے 28 دن میں واقعہ ہو۔

    پبلک ہیلتھ سکاٹ لینڈ کے اعداد و شمار کے مطابق 29 اپریل اور 5 مئی کے دوران ایسی کوئی اموات نہیں ہوئیں۔

    تاہم ملک میں جمعرات کے روز 283 نئے کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں مگر ان میں کچھ ایسے ٹیسٹ نتائج بھی شامل ہیں جو کہ گذشتہ ہفتے تاخیر کا شکار تھے۔

    Covid in Scotland

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  12. ’ملک کو مکمل لاک ڈاؤن کی جانب دھکیلا جا رہا ہے‘: راہل گاندھی

    Rahul Gandhi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کی سیاسی جماعت کانگرس کے رہنما راہل نے کہا ہے کہ ملک کو ایک مرتبہ پھر مکمل لاک ڈاؤن کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کورونا وبا کی موجودہ صورتحال میں مالی طور پر کمزور طبقے کو مالی امداد فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

    مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ برسکا غیر منصوبہ بندی سے کیا گیا لاک ڈاؤن عوام کے لیے مہلک تھا، لہذا میں مکمل لاک ڈاؤن کے خلاف ہوں۔ لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی ناکامی اور مرکزی حکومت کی زیرو پلاننگ ملک کو ایک مرتبہ پھر مکمل لاک ڈاؤن کی جانب دھکیل رہی ہے۔ ملک کی غریب آبادی کو مالی امداد کے ساتھ ساتھ ہر قسم کی معاونت فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. امتحانات پندرہ جون کے بعد منعقد کیے جائیں گے: وزیرِ تعلیم شفقت محمود

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان میں وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں اعلان کیا ہے کہ ملک کے مختلف تعلیمی بورڈز اپنی اپنی تاریخوں کے اعلانات خود کریں تاہم اس حوالے سے اصولی فیصلہ یہ ہے کہ امتحانات پندرہ جون کے بعد منعقد کیے جائیں گے جن میں 12ویں اور 10ویں جماعتوں کو ترجیح دی جائے گی اور اس کے بعد نویں اور 11ویں جماعت کے امتحان ہوں گے۔

  14. لاہور میں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے پر سیل کی گئی تمام دکانیں کھول دی گئیں

    لاہور کے کمیشنر کی جانب سے شہر میں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے پر سیل کی گئی تمام دکانیں، بیکریاں، اور ریسٹورانٹ وغیرہ کو کھولنے کی کا حکم دے دیا گیا ہے۔

    corona

    ،تصویر کا ذریعہGovernment of Punjab

  15. حکومت کورونا کی تیسری لہر کی تیاری کرے: انڈیا کی عدالتِ عظمیٰ

    انڈیا میں سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ حکومت کو ملک میں کورونا کی تیسرے لہر کی تیاری ابھی سے کرنی چاہیے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ”سائنسدانوں کے مطابق تیسری لہر میں بچے بھی متاثر ہوں گے اور جب بچے ہسپتال جاتے ہیں تو ان کے والدین کو بھی ساتھ جانا پڑے گا، اس لیے ہمیں اس گروپ کو بھی ویکسین لگانی پڑے گی۔ ہمیں اس کے لیے سائنسی بنیادوں پر تیاری کرنی چاہیے۔‘

    corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  16. ”انڈیا میں مئی کے دوسرے ہفتے میں یومیہ آٹھ سے نو لاکھ نئے مریض سامنے آ سکتے ہیں‘‘

    corona in india

    ،تصویر کا ذریعہHindustan Times

    امریکہ میں یونیورسٹی آف میشیگن کی ماہرِ وبائی امراض ڈاکٹربھرامار مکھرجی کا کہنا ہے کہ انڈیا میں اگر درست اور کافی اقدامات نہ کیے گیے تو ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال بہت زیادہ بگڑ سکتی ہے اور مئی کے دوسرے ہفتے میں یومیہ آٹھ سے نو لاکھ نئے مریض سامنے آ سکتے ہیں۔

    ڈاکٹر مکھرجی کے بنائے گئے ماڈل کے تحت اس ہفتے میں انڈیا میں یومیہ اموات کی تعداد ساڑھے چار ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ انڈیا میں اب تک انڈیا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر ہنگامی صورتحال اختیار کر چکی ہے اور دو کروڑ سے زیادہ متاثرین کے ساتھ یہ دنیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا نیا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

  17. پاکستان میں عوام کے لیے عید کے حوالے سے ہدایت نامہ

    پاکستان میں نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر نے اپنے میڈیا پیغام میں بتایا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، گلگت بلتستان اورپختونخواہ کی حکومتوں نے اپنے تمام ذیلی اداروں کو عید الفطر کے موقع پر کورونا وبا کے پھلاو کو روکنے لیے ضروری ہدایت جاری کر دی ہیں۔

    اس ضمن میں شمالی علاقہ جات میں تمام داخلی راستوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعداد اور استعداد کار بڑھا دی جائے گی۔

    این۔ ایچ ۔ اے اور ایف۔ڈبلیو۔او کو خصوصی ہدایت دی گئی ہیں کہ متعلقہ ٹول پلازوں پہ عوام کی آگاہی کے لیے خصوصی بینر آویزاں کریں۔

    این۔ سی او۔ سی کے تھیم ، گھر رہیے محفوظ رہِیے کے تناظر میں صوبائی حکومتوں نے عید کی چھٹیوں کے دوران عوام کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے سیاحتی مقامات اور ہوٹلوں کی بندش کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

    داخلی مقامات پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ سیاحتی مقامات پر عوام کے اکٹھا نہ ہونے دیے جائیں۔

  18. انڈیا میں آئی پی ایل کی وجہ سے پھنسے ہوئے کرکٹر مالدیپ بھجوا دیے گئے

    کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ انڈیا میں موجود ان کے کھلاڑیوں، کوچز، میچ آفیشلز اور کمنٹیٹرز کو مالدیپ بھجوایا گیا ہے۔

    انڈیا میں کورونا کی خراب صورتحال کے باعث آسٹریلیا نے 15 مئی تک وہاں سے پروازوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

    اطلاعات ہیں کہ اس عرصے میں آسٹریلوی کرکٹرز مالدیپ میں ہی قیام کریں گے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. بریکنگ, ضلع راولپنڈی میں مزید 126 کورونا کیسز

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع راولپنڈی میں حکام کے مطابق کورونا وائرس کے مزید 126 کیسز سامنے آئے ہیں۔

    تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج کورونا متاثرین کی تعداد 114 ہے۔ سب سے زیادہ کیسز پوٹھوہار ٹاؤن میں سامنے آئے جن کی تعداد 46 بتائی گئی ہے۔

  20. سیاح آٹھ مئی سے گوادر کا رخ نہ کریں

    گوادر کے ڈپٹی کمشنر نے عوام کے نام پیغام میں کہا ہے کہ وہ آٹھ مئی سے گوادر کے ساحلوں کا رخ کرنے سے گریز کریں۔

    ٹوئٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ اس دوران تمام سیاحتی مقامات اور ہوٹل بند ہوں گے۔

    خیال رہے کہ خوبصورت ساحلوں کی وجہ سے ملک بھر اور خصوصاً کراچی اور بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لوگ ویک اینڈ اور عید کے دنوں میں گوادر جاتے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام