انڈیا میں مزید 3900 سے زیادہ ہلاکتیں، امریکہ کی کورونا ویکسین کے ’پیٹنٹ ختم کرنے‘ کی حمایت

انڈیا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے باعث گذشتہ روز چار لاکھ 12 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوئے جبکہ 3900 سے زیادہ افراد ہلاک بھی ہوئے۔ ادھر امریکہ نے کورونا ویکسین کے پیٹنٹ ختم کرنے کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’غیرمعمولی حالات کے لیے غیرمعمولی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں۔‘

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    بی بی سی اردو کا کورونا وائرس کے لیے بنایا گیا یہ لائیو پیج اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ نئے صفحے کو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. بریکنگ, پاکستان: گذشتہ روز مزید 108 ہلاکتیں، 4198 افراد میں وائرس کی تشخیص

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 4198 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ 108 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    گذشتہ روز ملک میں 46 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے جن میں مثبت کیسز کی شرح نو فیصد رہی۔

    پاکستان میں ویکسینیشن کا عمل جاری ہے اور منگل کے روز دو لاکھ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگانے کا اہتمام کیا گیا۔

  3. بریکنگ, امریکہ کی کورونا وبا کے خاتمے کے لیے ویکسین کے پیٹنٹ ختم کرنے کی تجویز کی حمایت

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    امریکہ نے کورونا وبا کے خاتمے کے لیے ویکسین تیار کرنے کے حقوق ہٹانے کی تجویز کی حمایت کر دی ہے۔

    امریکہ کی تجارتی نمائندہ سفیر کیتھرین ٹائی کا کہنا ہے کہ ’غیر معمولی حالات کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔‘

    ان کی جانب سے ایک ٹویٹ کے ذریعے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ’بائیڈن ہیرس انتظامیہ کووڈ 19 ویکسینز کی تیاری کے حقوق ختم کرنے کی حمایت کرتی ہے۔

    ’ہم تیاری کے جملہ حقوق کی حفاظت میں یقین رکھتے ہیں لیکن اس عالمی وبا کے خاتمے کے لیے ہم کووڈ ویکسینز کی تیاری کے حقوق کے خاتمے کی حمایت کرتے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی ادارہ تجارت کے ساتھ اس حوالے سے مذاکرات میں وقت لگے گا کیونکہ بہرحال اس کے ساتھ پیچیدہ مسائل منسلک ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ کیونکہ امریکی عوام کے لیے تیار کردہ ویکسینز کی تعداد کافی ہے، اور انتظامیہ اب پرائیویٹ سیکٹر اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر ویکسین کی تیاری میں مدد دی جائے گی۔

  4. بریکنگ, انڈیا میں ریکارڈ چار لاکھ 12 ہزار سے زیادہ نئے مریض، 3900 سے زیادہ اموات

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    انڈیا میں کورونا وائرس کے باعث گذشتہ روز ریکارڈ چار لاکھ 12 ہزار سے زیادہ نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 3979 افراد اس وائرس کے باعث ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    گذشتہ روز کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ملک میں 412373 افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے جبکہ لگ بھگ 21 لاکھ 70 ہزار ٹیسٹ کیے گئے۔

    اس طرح گذشتہ روز مثبت کیسز کی شرح 19 فیصد رہی۔ اس وقت انڈیا میں ویکسینیشن کا عمل بھی جاری ہے اور گذشتہ ملک میں 18 لاکھ نوے ہزار افراد کو ویکسین لگائی گئی۔

    اس وقت گذشتہ چند ہفتوں سے جن شہروں میں لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے جیسے نئی دہلی اور ممبئی وہاں کیسز کی شرح میں خاصی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ تاہم اکثر شہروں میں اب بھی آکسیجن سلینڈر اور وینٹیلیٹرز کی قلت موجود ہے۔

  5. ہیومن رائٹس واچ: انڈین رہنماؤں کو آکسیجن نہیں بلکہ اپنی شبیہ کے بارے میں تشویش لاحق ہے

    مودی، انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہPIB

    ہیومن رائٹس واچ کی جنوبی ایشیا کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی کا کہنا ہے کہ انڈیا میں کورونا وائرس کی وبا کا سامنا کرنے والے رہنماؤں کو آکسیجن اور دیگر طبی سامان کی کمی کی بجائے اپنی شبیہ اور اپنے اوپر ہونے والی تنقید پر تشویش لاحق ہے۔

    میناکشی گنگولی نے کہا کہ حکومت نے طبی سازوسامان کی فراہمی بڑھانے کی کوشش کی ہے لیکن پھر بھی چیزیں ہسپتالوں تک نہیں پہنچ رہی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ جب ان ناکامیوں پر حکومت پر تنقید کی جاتی ہے تو حکومت اس پر سخت برہمی کا اظہار کرتی ہے اور حکام نے اس ضمن میں دیے گئے مشوروں کا بھی مذاق اڑایا ہے۔

    میناکشی نے کہا کہ آکسیجن کی کمی کے معاملے پر عدالت میں ایک سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل انڈیا تشار مہتا نے کہا کہ ’آئیے سب مل کر کوشش کرتے ہیں اور بچوں کی طرح روتے نہیں۔‘

    میناکشی گنگولی نے کہا کہ انڈیا میں روزانہ چار لاکھ افراد انفیکشن میں مبتلا ہو رہے ہیں اور تین ہزار سے زیادہ اموات ہو رہی ہیں جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی شبیہہ داغدار نہ ہو۔

    انھوں نے مزید کہا کہ بہت سے لوگوں نے یہ کہا ہے کہ مودی حکومت کورونا وبا کا سامنا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور بہت سے لوگوں نے بھی اس پر اعتراض کیا ہے کہ اس حکومت کی ترجیحات کیا ہیں۔

  6. آٹھ سے 16 مئی تک گلگت بلتستان میں سیاحت پر مکمل پابندی

    گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان امتیاز علی تاج کے مطابق گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی شرح میں تیزی سے اونچ نیچ ہو رہی ہے۔ جس وجہ سے حکومت نے وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے مزید سخت اقدامات کیے ہیں۔

    امتیاز علی تاج کا کہنا ہے کہ آٹھ سے 16 مئی تک گلگت بلتستان میں سیاحت پر مکمل پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

    اس دوران مقامی لوگوں کے علاوہ سیاحوں اور دیگر لوگوں کو گلگت بلتستان میں داخلے کی اجاز ت نہیں ہو گی۔

    انھوں نے بتایا کہ ہوٹل انڈسڑی پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ سیاحوں کی بکنگ نہ کریں۔

    اس دوران اضلاع کے درمیاں پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی پابندی ہوگی جبکہ فی الحال مارکیٹس پر جزوی پابندیاں عائد کی گئی ہیں لیکن اگر وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ ہوا تو پھر پابندیاں مزید سخت بھی کی جا سکتی ہیں۔

    محکمہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق چودہ نئے مریضوں کے ساتھ اس وقت علاقے میں فعال مریضوں کی تعداد 113 ہے۔

    روزانہ کی بنیاد پر پازیٹو مریضوں کی شرح تین فیصد سے زائد ہے جبکہ چند دن قبل یہ شرح چھ فیصد تھی جس کے بعد یہ کم ہو کر دو فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

    گلگت بلتستان میں کورونا کے کل متاثرین کی تعداد 5355 ہے، جن میں سے 5135 صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 107 ہے۔

  7. انڈین ریاست مہاراشٹر میں ریکارڈ یومیہ اموات

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈین ریاست مہاراشٹر میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریکارڈ 920 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں جو ریاست میں کورونا وائرس سے اب تک ایک دن میں ہونے والی سب سے زیادہ اموات ہیں۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریاست میں کورونا کے 57640 نئے کیس بھی سامنے آئے ہیں جبکہ اب تک 57,006 صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

    مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھوو ٹھاکرے نے کہا ہے کہ ’مرکزی حکومت کے سائنسدانوں نے کووڈ کی تیسری لہر کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ ہم گذشتہ تین ماہ سے اس کی تیاری کر رہے ہیں۔ ریاست کے بہت سے اضلاع میں کورونا انفیکشن کے کیسز میں کمی واقع ہوئی ہے تاہم کچھ اضلاع میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ ہم اس کی مستقل نگرانی کر رہے ہیں۔‘

  8. پنجاب اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے بعد خیبر پختونخوا میں بھی آٹھ مئی سے لاک ڈاؤن

    محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں صوبے میں کورونا وائرس کے مزید 629 کیس سامنے آئے ہیں جبکہ 31 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    صوبے میں کورونا کے مجموعی متاثرین کی تعداد 121728، صحت یاب افراد کی تعداد 107370 جبکہ اس وقت فعال کیسز کی تعداد 10 ہزار 861 ہے۔

    صوبائی وزیر صحت تمیور جھگڑا کے مطابق آٹھ سے 16 مئی تک صوبہ خیبر پختونخواہ میں لاک ڈاون ہو گا۔

    اس موقع پر صرف ضروری دوکانیں کھلی ہوں گیں، بین الاصوبائی، اضلاعی اور شہروں کی پبلک ٹرانسپورٹ بند رہے گی جبکہ ٹیکسی اور رکشہ سروس پچاس فیصد کی پابندی کے ساتھ کام کر سکیں گے۔

    ڈی آئی جی ہزارہ میر اویس نیاز نے بی بی سی کو بتایا کہ ہزارہ کے تمام سیاحتی مقام کاغان، ناران، بالاکوٹ، نتھیاگلی مکمل طور پر بند ہوں گے۔

    ڈی آئی جی ہزارہ کے مطابق ہوٹلوں، گیسٹ ہاوسز پر 144 نافذ کر دی گئی ہے اور بکنگ کی صورت میں کارروائی ہو گی۔

  9. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 8 سے 16 مئی تک لاک ڈاؤن کا فیصلہ

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ داخلہ نے 8 سے 16 مئی تک لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق اس دوران تمام کاروباری سرگرمیاں بند رہیں گی جبکہ اشیائے خورد و نوش، مرغی، سبزی و پھل کی دکانیں اور بیکریاں شام چھ بجے تک کھلی رہیں گی۔

    میڈیکل سٹور، ویکسینیشن سنٹر، طبعی سہولیات کے سنٹر، دھی و دودھ، تندور، پیٹرول پمپ، ٹائر شاپ، یوٹیلیٹی سروس، ہوم ڈیلیوری سمیت میڈیا کو چوبیس گھنٹے اپنے امور کی سرانجام دہی جاری رکھنے کی اجازت ہو گی۔

    محکمہ داخلہ نے سیاحتی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے سیاحتی مقامات کو بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    محکمہ داخلہ نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے دیگر صوبوں اور اضلاع کے مابین پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ مال بردار اور پرائیویٹ گاڑیوں، رکشہ و ٹیکسی کی نقل و حرکت کو50 فیصد تک جاری رکھنے کی اجازت دی گی ہے۔

    نوٹیفیکیشن

    ،تصویر کا ذریعہHome Department Kashmir

  10. انڈیا: کیرالہ میں ایک دن میں کورونا وائرس کے ریکارڈ نئے کیس

    انڈیا کی ریاست کیرالہ میں ایک دن میں کورونا وائرس کے ریکارڈ نئے کیس سامنے آئے ہیں۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کیرالہ میں 41953 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ 58 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

    اس وقت ریاست میں کورونا کے فعال کیسز کی تعداد تین لاکھ 75 ہزار 658 ہے۔

    کیرالہ کے وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ ’کورونا کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے ریاست ایک تشویشناک صورتحال سے گزر رہی ہے۔ مثبت شرح میں کمی نہیں آرہی اور ریاست میں مزید سخت قوانین نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    انڈیا، کورونا

    ،تصویر کا ذریعہANI

  11. عالمی ادارہ صحت: ’سائنوفارم کی دو خوراکیں کووڈ 19 کی روک تھام کے لیے مؤثر ہیں‘

    کورونا، ویکسین

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ڈبلیو ایچ او کے ماہرین نے چینی دوا ساز کمپنی سائنوفارم کی کووڈ 19 ویکسین کے کچھ مریضوں میں مضر اثرات کے حوالے سے اعدادوشمار پر ’بہت کم اعتماد‘ کا اظہار کیا ہے تاہم اس ویکسین کی بیماری سے بچنے کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

    روئٹرز نے ایسی دستاویز دیکھی ہے جن میں چین، بحرین، مصر، اردن اور متحدہ عرب امارات میں سائنو فارم کے کلینیکل ٹرائلز کے اعدادوشمار شامل ہیں۔

    یہ دستاویز عالمی ادارہ صحت کے سٹریٹجک ایڈوائزری گروپ آف ایکسپرٹس (ایس ای جی ای) نے سائنوفارم ویکسین کے جائزے کے لیے تیار کی ہے، جس کا استعمال 65 ملکوں میں کیا جا رہا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ترجمان نے کہا ہے کہ سائنوفارم ویکسین سے متعلق دستاویز ’بہت سے وسائل میں سے ایک‘ تھی جس کی بنا پر سفارشات دی گئی ہیں اور جن کو ممکنہ طور پر رواں ہفتے کے آخر میں جاری کر دیا جائے گا۔

    دستاویز کے مطابق کلینکل ٹرائلز میں اس ویکسین کی دو خوراکیں 78.1 فیصد مؤثر تھیں۔

    دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’ہم بہت پراعتماد ہیں کہ اس ویکسین کی دو خوراکیں بالغوں (59-18 سال) میں کووڈ 19 کی روک تھام کے لیے مؤثر ہیں۔‘

  12. بریکنگ, پنجاب حکومت کا 8 مئی سے صوبے میں مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ

    پنجاب

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں آٹھ سے 16 مئی تک مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    لاک ڈاؤن کا فیصلہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں منعقد اجلاس میں کیا گیا ہے۔

    لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کی نقل وحمل کو محدود رکھنے کیلئے ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ اور سیاحتی مقامات بند رہیں گے جبکہ شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں پر چیک پوائنٹس قائم کیے جائیں گے جہاں پولیس، رینجرز اور فوج کو تعینات کیا جائے گا۔

  13. آسٹریلیا میں مارچ کے بعد سے پہلا کورونا کیس

    آسٹریلیا میں مارچ کے بعد پہلی بار کورونا وائرس کا نیا کیس سامنے آیا ہے۔

    آسٹریلیا نے لاک ڈاؤن اور ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کے بعد ملک سے کووڈ 19 کو بڑے پیمانے پر ختم کر دیا ہے۔

    لیکن آج ملک کی مشہور ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں 31 مارچ کے بعد پہلی بار کورونا وائرس کا نیا کیس سامنے آیا ہے۔

    وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ متاثرہ شخص کو یہ وائرس کہا سے لگا۔

  14. سپریم کورٹ کا وفاقی حکومت کو آکسیجن سلنڈر کی قیمت مقرر کرنے کا حکم, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان کی عدالت عظمی نے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ آکسیجن سلنڈرز کی قیمت مقرر کرے اور اس کے علاوہ وزارت صنعت و پیداوار کو حکم دیا گیا ہے کہ آکسیجن سلنڈر کی قیمت کے تعین کا طریقہ کار بھی وضع کیا جائے۔

    چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ حکم خیبر پختونخوا حکومت کی درخواست پر دیا ہے۔

    خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ قیمت مقرر نہ ہونے پر سپلائرز من مانے ریٹ وصول کر رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے موجودہ حالات میں لوگوں کی قوت خرید شدید متاثر ہوئی ہے۔

    ملک میں کورنا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے پاکستان میں آکسیجن سلنڈرز کی قمیتوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے وفاقی حکومت ایران اور چین سے آکسیجن سلنڈرز منگوانے پر بھی سوچ بچار کر رہی ہے۔

    عدالت کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان سٹیل مل کا آکسیجن پلانٹ کم و بیش 40 سال پرانا ہے اور آکسیجن پلانٹ فعال کرنے میں ایک ارب روپے کی لاگت آئے گی۔

    عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو حکم دیا ہے کہ وہ آکسیجن سلنڈر کی قمیت مقرر ہونے کے بعد عدالت میں رپورٹ جمع کروائیں۔

    ادویات کی قمیتوں کو کنٹرول کرنے والے ادارے کے سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ وینٹی لیٹر سمیت کئی آلات ملک میں تیار ہو رہے ہیں جس پر بینچ کے سربراہ نے ڈریپ حکام سے استفسار کیا کہ اگر ایسا ہے تو پھر غیر رجسٹرڈ آلات اور ادویات کو درآمد کرنے کی اجازت کیوں دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کو کیسے معلوم ہوگا کہ کونسی چیز منگوائی جا رہی ہے۔

    چیف جسٹس کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں عدالت کو بتایا گیا کہ ملک میں کورونا سے متعلق کسی بھی دوائی کی قلت نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایکٹمرا انجیکشن کے علاوہ کئی ادویات کا کئی ماہ کا سٹاک موجود ہے، بینچ میں موجود جسٹس مظہر عالیم میاں خیم نے ریمارکس دیے کہ ایکٹمرا کے حوالے سے کافی منفی رپورٹس ہیں۔

    سپریم کورٹ نے ادویات اور دیگر طبی الات کی خریداری سے متعلق قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے یعنی این ڈی ایم اے کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے این ڈی ایم اے کے چیئرمین سے دوبارہ رپورٹ طلب کرلی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہر چیز کی خریداری میں این ڈی ایم کا ذکر ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان چیزوں کی خریداری کے لیے اربوں روپے کس کو دیے گئے اور کس نے وصول کیے کوئی علم نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ان چیزوں کی خریداری کی دستاویزات عدالت میں جمع کروانے کے لیے چار پانچ مرتبہ آرڈر دیا تو کچھ دستاویزات دی گئیں، انھوں نے کہا کہ اب ان دستاویزات کا بھی معلوم نہیں یہ کیا ہیں۔

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے کے سارے معاملات گڑ بڑ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ الحفیظ نامی کمپنی کو این 95 ماسک کی فیکٹری لگوائی گئی اور فیکٹری کے لیے ساری مشینری اور ڈیوٹیز کی ادائیگی نقد کی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ چارٹرڈ جہاز کے ذریعے مشینری منگوائی تو اس کی ادائیگی بھی نقد ہوئی۔

    بینچ کے سربراہ نے استفںسار کیا کہ چائنہ میں پاکستانی ایمبیسی کے ذریعے کیوں خریداری کی گئی اور کیا چائنہ میں پاکستانی ایمبیسی خریداری کے لیے استعمال ہوتی ہے؟

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چارٹرڈ جہاز بھی ایمبیسی کے ذریعے ہی کروایا گیا، اور اس کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا چائنہ میں پاکستانی سفیر خریداری ہی کرتے ہیں یا سفارت کاری کے امور بھی انجام دیتے ہیں ؟

    چیف جسٹس نے چیئرمین این ڈی ایم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قرنطینہ سینٹر پر کروڑوں روپے خرچ کردیے گئے، انھوں نے حاجی کمیپ میں واقع قرنطینہ سینٹر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سینٹر پر کروڑوں روپے لگا دیے گئے لیکن نہ پانی ہے وہاں نہ ہی رنگ کیا گیا۔

    بینچ کے سربراہ نے این لای ایم اے کے چیئرمین کو حکم دیا کہ وہ تمام قرنطینہ سینٹرز کا دورہ کریں اور اس ضمن میں عدالت نے رپورٹ جمع کروائیں۔

    انھوں نے کہا کہ عدالت میں اب تک جو رپورٹ جمع کروائی گئی ان رپورٹس میں سب اچھے کا زکر ہے لیکن حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔

    پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ صوبے میں ایمبولنسز خریدنے کے لیے عدالت کی اجازت کی ضرورت ہے تاہم چیف جسٹس نے یہ معاملہ پانچ رکنی لارجر بینچ کے سامنے رکھنے کا حکم دیا ہے۔

  15. انڈین ریاست بنگلورو میں مثبت کیسز کی شرح 33 فیصد

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈین ریاست بینگلور میں کورونا کا پھیلاؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ متاثرین کی تعداد اور مثبت کیسوں کی شرح میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    منگل کے روز یہاں مثبت کیسز کی شرح 55 فیصد رہی یعنی ٹیسٹ کے لیے جانے والا ہر دوسرا شخص کورونا سے متاثرہ نکل رہا ہے۔ تاہم منگل کو یہ شرح کم ہو کر 33 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ بنگلور میں کورونا متاثرین کی مجموعی تعدادا تین لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں 20 ہزار سے زائد نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ وبا کے ہاتھوں 132 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

  16. آکسیجن کی فراہمی: دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے جاری ہونے والا توہین عدالت کا نوٹس سپریم کورٹ میں چیلنج

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کی وفاقی حکومت نے دہلی کے ہسپتالوں میں آکسیجن کی سپلائی کم ہونے کے معاملے پر دہلی ہائی کورٹ سے جاری ہونے والے توہین عدالت کے نوٹس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

    حکومتی وکیل توشار مہتا نے بتایا کہ عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت تمام تر اقدامات کر رہی ہے مگر دوسری جانب دہلی ہائی کورٹ نے حکومت کو ہی توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا۔

    یاد رہے کہ منگل کو دہلی ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو نامناسب اقدامات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے یہ نوٹس جاری کیا تھا۔ ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی وفاقی حکومت کو حکم دے چکی ہے کہ وہ دہلی کے ہسپتالوں میں آکسیجن کی سپلائی کو یقینی بنائے مگر ایسا ہو نہیں پا رہا۔

  17. کورونا کی وبا کے دوران انڈیا میں ٹھگوں کا کاروبار کیسے پنپ رہا ہے؟

  18. ایک دن میں دو لاکھ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگائی گئی: اسد عمر

    وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایک دن میں دو لاکھ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگائی گئی ہے۔

    اس حوالے سے انھوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ لوگوں کے رجسٹر کرانے کی رفتار میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اب تک رجسٹر کرنے والوں کی تعداد 50 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

    اسد عمر نے شہریوں کو ہدایت کی کہ اگر ان کی عمر 40 سال یا اس سے زیادہ ہے تو جلد از جلد خود کو رجسٹر کروائیں اور ساتھ میں حفاظتی اقدامات جاری رکھیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. انڈیا کو آکسیجن کے ساتھ ساتھ ویکسین کی قلت کا بھی سامنا ہو سکتا ہے؟, شکیل اختر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

    ویکسین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں کورونا کے متاثرین کی تعداد اب دو کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور گذشتہ چند روز سے اس میں یومیہ ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ نئے متاثرین کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس مہلک وبا پر قابو پانے کا سب سے موثر طریقہ ویکسین لگوانا ہے۔

    انڈیا میں حکومت نے ویکسینیشن کے لیے دو ویکسینز کی منظوری دی ہے۔ ایک ’کوی شیلڈ‘ ہے جسے سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا بنا رہا ہے جبکہ دوسری کو ویکسین بھارت بائیو ٹیک فارما کمپنی بنا رہی ہے۔

    انڈیا میں ویکسین کی مہم کے بعد اب تک مجموعی طور پر 16 کروڑ لوگوں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے جن میں سے بعض کو دونوں ڈوز لگ گئی ہیں۔ حکومت نے یکم مئی سے 18 برس اور اس سے زیادہ عمر کے سبھی افراد کے لیے ویکسین لگوانے کی اجازت دے دی ہے۔

    وزارتِ صحت کے ایک بیان کے مطابق حکومت نے سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا کو مئی، جون اور جولائی کے لیے مزید گیارہ کروڑ کووی شیلڈ ویکسین کی خوراکوں کی پیشگی ادائیگی کر دی ہے۔ حکومت ’بھارت بائیو ٹیک‘ سے بھی ویکسین کی پانچ کروڑ خوراکیں خرید رہی ہے۔

    گذشتہ کئی دنوں سے ملک کی کئی ریاستوں میں ویکسین کی قلت کی پیش آ رہی ہے۔ حکومت نے اگرچہ نجی ہسپتالوں کو بھی منافع بخش قیت پر ویکسین لگانے کی اجازت دے دی ہے لیکن ویکسین کی قلت کے باعث مہم میں سست روی آئی ہے۔ سیرم انسٹیٹیوٹ کے سربراہ آدار پونا والا نے کہا ہے کہ وہ ہر زندگی کو بچانے کے لیے ویکسین کی تیاری بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ویکسین تیار کرنا ایک مخصوص عمل ہے، اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ راتوں رات اس کی پیداوار دگنی کر دی جائے۔‘

    انڈیا میں آکسیجن ہو یا ویکسین یہ پورا عمل اور اس حوالے سے فیصلے مکمل طور پر مرکزی حکومت کے ہاتھ میں ہیں۔ ملک میں 18 برس اور اسے سے زیادہ عمر کے لوگوں کی آبادی تقریباً ایک ارب ہے اور ان کی مکمل ویکسینیشن کے لیے دو ارب سے زیادہ خوراکوں کی ضرورت ہو گی۔

    آکسیجن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ بات واضح تھی کہ ملک کی صرف دو کمپنیاں محض دو ویکسینز بنا کر ایک مخصوص مدت میں پورے ملک کو ویکسین دینے کی اہل نہیں ہو سکتیں لیکن آخر حکومت نے دوسری کمپنیوں کو کیوں اجازت نہیں دی؟ غیر ممالک میں کامیاب دوسری ویکسینز کو یہاں لانے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟ ان سوالات کا جواب صرف حکومت کے پاس ہیں لیکن اس وقت حقیقت یہی ہے کہ ملک میں ویکسین کی بھی شدید قلت ہے۔

    لیکن ملک کی پیچیدہ صورتحال کے پیش نظر حکومت اب موڈرنا اور فائزر جیسی کمپنیوں کی ویکسین کو بھی ملک میں آنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ امریکہ کی دواساز کمپنی فائزر دنیا کی سب سے پہلی کمپنی تھی جس نے انڈیا میں گذشتہ دسمبر میں ویکسین کے استعمال کی اجازت مانگی تھی۔

    تاہم ملک کے ڈرگ ریگیولیٹرز نے فائزر سے کہا کہ جس طرح اس نے دوسرے ملکوں میں تیسرے دور کا تجربہ کیا ہے اسی طرح وہ یہاں پر بھی تجربہ کریں۔ تاہم فائزر کا کہنا تھا کہ وہ اپنا تجربہ مکمل کر چکی ہے اور اس نے اجازت کی درخواست واپس لے لی ہے۔ اب فائزر نے کہا ہے کہ وہ انڈیا میں اپنی ویکسین کی تیزی سے منظوری کے لیے انڈین حکام سے بات چیت کر رہا ہے۔

    بعض خبروں کے مطابق ملک میں کورونا کی شدید لہر اور ویکسین کی شدید قلت کے پیش نظر حکومت امریکہ، برطانیہ اور عالمی ادارہ صحت جیسے موقر اداروں کے ذریعے منطور شدہ ویکسین کو ملک میں استعمال کی اجازت دے سکتی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو یہ اقدام بہت تیزی سے اٹھانا ہو گا ورنہ آکسیجن کی طرح ویکسین کا بھی شدید بحران پیدا ہو جائے گا۔

  20. ایورسٹ بیس کیمپ میں کورونا متاثرین میں اضافہ، وبا پھیلنے کا خدشہ, نوین سنگھ کھڑکا، ماحولیات کے نامہ نگار

    LUKAS FURTENBACK

    ،تصویر کا ذریعہLUKAS FURTENBACK

    نیپال کے ایورسٹ بیس کیمپ میں کوہ پیماؤں اور حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کووڈ 19 کی علامات والے کوہ پیماؤں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جس سے سنگین وبا پھیلنے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔

    بیس کیمپ کے عہدیداروں نے بتایا کہ انھیں دارالحکومت کھٹمنڈو کے ہسپتالوں سے 17 تصدیق شدہ متاثرین کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جہاں بیس کیمپ اور اس سے اوپر کے لیول والے کیمپوں سے متعدد کوہ پیماؤں کو بھیجا گیا تھا۔

    کھٹمنڈو کے ایک نجی ہسپتال کے عملے نے بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی کہ ایورسٹ بیس کیمپ سے پہنچنے والے مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    نیپالی حکومت نے اب تک ایورسٹ بیس کیمپ میں مثبت مریضوں کے بارے میں کوئی معلومات ہونے سے انکار کیا ہے، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ حکام کو خوف ہے کہ اس سے ملک میں آنے والی کوہ پیمائی کی مہمات بند کرنے کے لیے مزید دباؤ آئے گا۔

    غیر ملکی کوہ پیما نیپالی حکومت کی آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہیں، حکومت نے گذشتہ سال ایورسٹ کو بند کردیا تھا۔

    حکام کی جانب سے بیس کیمپ میں جانے سے پہلے کوہ پیماؤں کو قرنطینہ کتنا لازم ہے لیکن کوہ پیمائی سے وابستہ افراد کے درمیان یہ خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ پہاڑ پر ایک سنگین وبا تباہ کن ہو سکتی ہے۔