انڈیا میں تین لاکھ 66 ہزار سے زیادہ نئے یومیہ متاثرین، 37 سو سے زائد اموات

انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین لاکھ 66 ہزار سے زائد نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ اسی دورانیے میں 3745 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستان میں گذشتہ روز ساڑھے تین ہزار کے لگ بھگ افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر ملک بھر میں 78 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. پنجاب میں 16 مئی تک جزوی لاک ڈاؤن کا نفاذ, ٹرانسپورٹ پر 10 مئی کی شام سے پابندی ہوگی

    پنجاب میں 16 مئی تک جزوی لاک ڈاؤن کا نفاذ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان میں صوبہ پنجاب کے حکام کے مطابق صوبے میں وہ اضلاع جن میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح آٹھ فیصد سے زیادہ ہے وہاں 16 مئی تک تمام انڈور اور آوٹ ڈور شادی کی تقریبات، کمیونٹی ہالز، مارکیز اور مزارات کھولنے پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔

    سیکرٹری پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق ان اضلاع میں اٹک، بہاولپور، بھکر، چکوال، ڈیرہ غازی خان، فیصل آباد، گوجرانوالہ، گجرات، جھنگ، قصور، خانیوال، خوشاب، لاہور، لیہ، منڈی بہاؤالدین، ملتان، میانوالی، راجن پور، راولپنڈی، رحیم یار خان، ساہیوال، سرگودھا، شیخوپورہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقے شامل ہیں۔

    صوبے بھر میں تمام پارک اور سیر و تفریح کے مقامات اور سرگرمیوں پر پابندی ہوگی، تمام تفریخی مقامات، پارکس، شاپنگ مالز، ریستوران اور پِکنک کے مقامات بند رہیں گے۔

    سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق ’ہر قسم کے کھیلوں، ثقافتی تہوار اور اجتماعات پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ ’ٹرین سروس کل گنجائش کے 70 فیصد مسافروں کے ساتھ جاری رہے گی۔‘

    حکام کے مطابق پنجاب کے ان شہروں میں 10 مئی شام چھ بجے سے 15 مئی شام چھ بجے تک بین الصوبائی اور شہروں کی مقامی ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند ہو گی۔ تاہم رکشہ، ٹیکسیز اور نجی گاڑیوں کو50 فیصد گنجائش کے ساتھ سفر کرنے کی اجازت ہو گی۔

    اس دوران صرف فارما سوٹیکل صنعت اور سے ملحقہ پیکنگ اور پرنٹنگ، میڈیکل حفاظتی سامان بنانے والے، آکسیجن کی صنعت سے متعلقہ سپلائیز اور سٹوریج، کھانے پینے اور دودھ کی صنعت اور ڈسڑیبیوشن، فلور ملز، شوگر ملز، زرعی صنعت، کھاد اور سپرے کی دکانیں، ایکسپورٹ سے متعلقہ صنعت اور پولٹری کی خوراک بنانے والی صنعت کو کام کرنے کی اجازت ہوگی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران تمام بازار، کاروبار، دفاتر اور دوکانیں بند رہیں گی۔ تمام میڈیکل سٹور، فارمیسیز، میڈیکل فیسیلیٹیز اور ویکسینیشن سنٹر، پیٹرول پمپ، تندور، دودھ دہی کی دکانیں، فوڈ ٹیک اویز، بجلی، گیس، ای کامرس (ہوم ڈیلیوری) 24 گھنٹے کھلے رکھنے کی اجازت ہو گی۔

    صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ ’اگر لوگوں نے لاک ڈاؤن کے دوران احتیاطی تدابیر پر عمل کیا تو وبا میں واضح کمی آئے گی۔‘

  2. اسد عمر: انتہائی خطرناک صورتحال کی وجہ سے نقل و حرکت پر پابندی لگائی گئی

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے وفاقی وزیر اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ آج سے لے کر 16 تاریخ تک نقل و حرکت کی پابندیاں تکلیف کا باعث بن رہی ہیں۔‘

    ’ان اقدامات کی وجہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے جو خطے میں وائرس کی قسموں کے پھیلاؤ سے پیدا ہوئی ہے۔‘

  3. بنگلہ دیش میں کووڈ 19 کی ’انڈین قسم‘ کی تشخیص

    انڈین قسم

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    کورونا وائرس کی ’انڈین قسم‘ کی پہلی بار بنگلہ دیش میں تشخیص ہوئی ہے۔

    بنگلہ دیش میں محکمۂ صحت کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ انڈیا سے آنے والے آٹھ افراد کے کووڈ ٹیسٹ کیے گئے تھے جن میں سے چھ میں کورونا کی تشخیص ہوئی۔

    ایک بیان کے مطابق ان میں سے دو افراد کے نمونوں میں کورونا کی انڈین قسم کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ افراد حال ہی میں انڈیا سے واپس آئے تھے۔

  4. تعلیمی ادارے 23 مئی تک بند رہیں گے: این سی او سی

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے قائم این سی او سی نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ تعلیمی ادارے 17 مئی کی جگہ اب 23 مئی تک بند رہیں گے اور اس فیصلے پر 18 مئی کو نظرثانی کی جائے گی۔

  5. کوئٹہ میں نئی سختیوں کے باوجود تجارتی سرگرمیاں جاری

    کوئٹہ میں نئی سختیوں کے باوجود تجارتی سرگرمیاں جاری

    کورونا کی روک تھام کے لیے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں لاک ڈاؤن کے پہلے روز کے باوجود اس کے نفاذ پر عملدرآمد نظر نہیں آیا کیونکہ شہر میں تجارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں۔

    این سی او سی کے فیصلے کے تحت بلوچستان میں بھی حکومت نے آٹھ مئی سے 16 مئی تک مکمل لاک ڈاﺅن کا اعلان کیا تھا۔

    صبح کے وقت شہر میں دکانوں کی بڑی تعداد بند تھی اور دکاندار ان کے باہر کھڑے رہے تاہم مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ کی قیادت میں تاجر رہنما شہر میں نکلے اور انھوں نے تمام دکانداروں کو دکانیں کھولنے کا کہا جس کے بعد شہر میں تمام تجارتی مراکز صبح 12 کے بعد معمول کے مطابق کھل گئے اور شہر میں ٹریفک بھی معمول کے مطابق چلتی رہی۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز کوئٹہ میں تاجروں کی دونوں تنظیموں کے عہدیداروں نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ چاند رات تک مکمل لاک ڈاﺅن کے فیصلے کو تسلیم نہیں کریں گے۔

    ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ نے کہا تھا کہ تاجروں کا پہلے ہی لاک ڈاﺅن کی وجہ سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے اس لیے وہ اب مزید کسی نقصان کا متحمل نہیں ہوسکتے۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ مکمل لاک ڈاﺅن کرنے کی بجائے سمارٹ لاک ڈاﺅن کا سلسلہ جاری رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجر ایس او پیز کے تحت چاند رات تک اپنا کاروبار جاری رکھیں گے اور وہ کسی گرفتاری کے خوف سے اپنا کاروبار بند نہیں کریں گے۔

    دوسری جانب ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اورنگزیب بادینی نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ حکومت نے بلوچستان میں بھی آٹھ سے 16 مئی تک مکمل لاک ڈاﺅن کا فیصلہ کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات کا اندازہ ہے کہ بہت سارے تاجروں کو اس سے نقصان پہنچے گا لیکن انسانی جانیں اس نقصان کے مقابلے میں قیمتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس مشکل دور میں ایک تاجر کی وجہ سے بیماری کی وجہ سے کسی انسان کی جان جاتی تو یہ پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہوگا اور اگر کسی تاجر کی جان جاتی ہے تو یہ خود کشی کے مترادف ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت نہ صرف ملک بلکہ اس وبا سے بچنے کے لیے پوری دنیا کے لوگ قربانی دے رہے ہیں اس لیے کوئٹہ کے تاجروں کو بھی اس قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ قوموں کی زندگی میں مشکلیں آتی ہیں لیکن یہ مشکل وقت گزر جائے گا اور اس کے بعد اچھا وقت آئے گا۔

  6. سری لنکا میں انفیکشن کی شرح انڈیا سے کئی گنا زیادہ

    bbc

    سری لنکا میں کورونا وائرس کے انفیکشن کی شرح انڈیا سے کہیں گنا زیادہ ہے۔

    سری لنکا کے پبلک ہیلتھ انسپکٹرز (پی ایچ آئی) کے سکریٹری ایم بالاصوریہ نے کولمبو گزٹ کو بتایا کہ آبادی کے تناسب سے سری لنکا میں موجودہ انفیکشن کی شرح انڈیا سے کئی گنا زیادہ ہے۔

    سنہالہ اور تمل نئے سال کے بعد سری لنکا میں روزانہ اوسطاً 1900 کووڈ متاثرین رپورٹ ہوئے ہیں۔

    bbc
  7. آکسفورڈ کی تیار کردہ آسٹرا زینیکا ویکسین کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

    Ministry of Health

    ،تصویر کا ذریعہUnicef

    کورونا وائرس کے خلاف آکسفورڈ کی تیار کردہ آسٹرا زینیکا ویکسین کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچ گئی ہے۔

    وزیرِ اعظم کے صحت کے معاونِ خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ آسٹرا زینیکا ویکسین کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچ گئی ہے جس میں 12 لاکھ 38 ہزار 400 خوراکیں شامل ہیں۔

    چند دنوں بعد مزید 12 لاکھ 36 ہزار خوراکیں پہنچنے کی توقع ہے۔

    اوکسفرڈ آسٹرازینکا کی کووِڈ 19 ویکسین اوکسفرڈ یونیورسٹی کے تعاون سے تیار کی گئی تھی اور اسے آسٹرازینکا اور کووی شیلڈ نے تیار کیا ہے، جسے آسٹرازینکا-ایس کے بائیو سائنس(اے زیڈ-ایس کے بائیو) آئیاین جنوبی کوریا نے لائسنس جاری کرنے کے ساتھ ساتھ تیار بھی کیا ہے۔

    اس ویکسین کے محفوظ ہونے اور اس کی افادیت کو یقینی بنانے کے لیے اسے سخت تحقیقی عمل سے گزرا گیا ہے اور عالمی ادارہ صحت کی طرف سےاسے عالمی سطح پر لگانے کی باقاعدہ اجازت دی گئی ہے۔

    Ministry of Health

    ،تصویر کا ذریعہUnicef

    German Embassy Islamabad

    ،تصویر کا ذریعہGerman Embassy Islamabad

    German Embassy Islamabad

    ،تصویر کا ذریعہGerman Embassy Islamabad

  8. بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت بھی کورونا وائرس کا شکار

    Instagram پوسٹ نظرانداز کریں
    Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    Instagram پوسٹ کا اختتام

    بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئیں ہیں۔

    یاد رہے چند دن قبل کنگنا کا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا تھا جس کے بعد وہ دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کافی سرگرم ہیں جن میں انسٹاگرام سرفہرست ہے۔

    اداکارہ نے انسٹاگرام پر یوگا کرتے ہوئے اپنی تصویر شیئر کی اور بتایا کہ ان کا کووڈ ٹیسٹ مثبت آچکا ہے۔

    کنگنا کا کہنا تھا کہ میں پچھلے کچھ دنوں سے آنکھوں میں ہلکی سی جلن کے ساتھ تھکاوٹ اور کمزوری محسوس کررہی تھی اور ہماچل جانے کا ارادہ رکھتی تھی لیکن کل ہی میرا ٹیسٹ کرایا گیا اور آج اس کا نتیجہ مثبت آیا ہے۔

    اداکارہ نے مزید لکھا کہ انھوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔

  9. نیپال میں کووڈ متاثرین میں تیزی سے اضافہ، انڈیا جیسے کورونا بحران کا خدشہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیپال میں گذشتہ تین ہفتوں میں کورونا انفیکشن میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں کووڈ ٹیسٹ کروانے والے ہر پانچ میں سے دو افراد انفیکشن کا شکار ہیں۔

    جمعرات کو نیپال میں کورونا کے 9،023 نئے کیس رپورٹ ہوئے۔ یہ ایک دن میں اب تک متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

    کووڈ کی وبا نیپال میں آنے کے بعد سے 3500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ پچھلے دو ہفتوں میں 400 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    یاد رہے نیپال اور انڈیا کے درمیان ’اوپن بارڈر‘ یعنی دونوں ممالک کے شہریوں کو ایک دوسرے کے ملک میں آمدورفت کے لیے ویزہ کی ضرورت نہیں پڑتی۔

    شاید یہی وجہ ہے کہ انڈیا کے ساتھ ملحقہ سرحدی علاقوں میں کورونا متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

    نیپال میں کورونا بحران کے بارے میں چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ نیپال ہمارا ہمسایہ دوست ہے اور سٹریٹجک پارٹنر بھی ہے۔ کورونا کی وبا شروع ہونے کے بعد سے دونوں ممالک مل کر کام کر رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نیپال میں کورونا متاثرین کی بڑھتی تعداد پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور بہترطریقے مدد کے لیے تیار ہیں۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’حال ہی میں ہم نے نیپال، بنگلہ دیش، پاکستان، افغانستان اور سری لنکا کے وزرائے خارجہ سے ورچوئل ملاقات کی ہے اور جنوبی ایشیا میں کورونا کے خلاف جنگ میں درکار دواؤں اور ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے متعدد منصوبوں کے بارے میں بات کی اور ان پر کام جاری ہے۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  10. بریکنگ, پاکستان میں گذشتہ روز چار ہزار سے زیادہ نئے مریض، 120 اموات

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان میں گذشتہ روز کووڈ 19 سے 120 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 4109 میں اس وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 48 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے جبکہ مثبت کیسز کی شرح گذشتہ روز سے کم ہو کر آٹھ اعشاریہ پانچ ہو گئی۔

  11. اسلام آباد-پشاور اور اسلام آباد-لاہور موٹروے پر پبلک ٹرانسپورٹ کا داخلہ بند

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی جانب سے مطلع کیا گیا ہے کہ ایم ون یعنی پشاور اسلام آباد موٹروے اور ایم ٹویعنی اسلام آباد لاہور موٹروے پر پبلک ٹرانسپورٹ کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے۔

    آج آٹھ مئی ہے اور آج سے صوبہ پنچاب اور اسلام آباد میں مکمل لاک ڈاؤن لگانے کا اعلان کیا گیا تھا جس کے مطابق بین الاصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی 16 مئی تک بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

  12. بریکنگ, انڈیا میں ریکارڈ 4100 سے زیادہ اموات، مسلسل تیسرے روز چار لاکھ سے زیادہ نئے مریض

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    انڈیا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے باعث گذشتہ روز چار لاکھ سے زیادہ افراد میں کووڈ کی تشخیص ہوئی جبکہ ریکارڈ 4191 افراد اس وائرس کے باعث ہلاک بھی ہوئے۔

    گذشتہ روز ملک میں 21 لاکھ سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے جبکہ مثبت کیسز کی شرح 18 اعشاریہ چار فیصد رہی۔

    گذشتہ روز ملک میں 21 لاکھ سے زیادہ افراد کو ویکسین بھی لگائی گئی۔

  13. بریکنگ, پاکستان میں کینسائنو ویکسین کی تیاری جاری، مئی کے اختتام تک استعمال کا آغاز ہو گا: اسد عمر

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ کینسائنو ویکسین کی پہلی کھیپ کی پاکستان میں تیاری کا آغاز ہو چکا ہے اور یہ مئی کے اختتام تک استعمال کے قابل ہو گی۔

    انھوں نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کی جانب سے اس حوالے سے گذشتہ ماہ ایک پلانٹ لگایا گیا تھا جہاں ایک تربیت یافتہ ٹیم ویکسین کی تیاری میں مصروف ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ کوالٹی کے معیار کو جانچنے کے لیے تمام مراحل پورے کیے جائیں گے۔

    خیال رہے کہ اب تک پاکستان میں 33 لاکھ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے اور گذشتہ روز این سی او سی کے مطابق یہ تعداد ایک لاکھ 70 ہزار سے زیادہ رہی۔

  14. بریکنگ, عالمی ادارہ صحت: چینی ویکسین سائنو فارم ایمرجنسی استعمال کے لیے منظور

    عالمی ادارہ صحت: چینی ویکسین سائنو فارم ایمرجنسی استعمال کے لیے منظور

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے چین کی تیار کردہ کورونا ویکسین سائنو فارم کو ایمرجنسی استعمال کے لیے منظور کر لیا ہے۔

    یہ ویکسین چین میں ادویات کے سرکاری ادارے نے تیار کی ہے اور اس کی خوراکیں چین اور پاکستان سمیت کئی ملکوں میں لاکھوں افراد کو دی جا چکی ہیں۔

    کورونا سے بچاؤ کے لیے یہ پہلی منظور شدہ ویکسین بن گئی ہے جسے کسی مغربی ملک نے تیار نہیں کیا۔

    یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے ایمرجنسی بنیادوں پر وبائی مرض کی روک تھام کے لیے کسی چینی ویکسین کو منظوری دی ہے۔

    سائنو فارم ویکسین کو کورونا سے بچاؤ کے لیے ایمرجنسی فہرست میں شامل کیا گیا ہے اور اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ ویکسین محفوظ اور کارآمد ہے۔ اسے کوویکس پروگرام میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے جس میں ترقی پذیر ممالک کو ویکسین کی خوراکیں عطیہ کی جائے گی۔

    ڈبلیو ایچ او کے ایک بیان کے مطابق ’تمام موجودہ شواہد کے مطابق عالمی ادارہ صحت 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے تین سے چار ہفتوں کے وقفے سے اس ویکسین کی دو خوراکیں تجویز کر رہا ہے۔‘ اس کا کہنا ہے کہ اندازے کے مطابق اس کی افادیت 79 فیصد ہے۔

    اس سے قبل عالمی ادارہ صحت نے کووڈ 19 سے بچاؤ کے لیے فائزر بائیو این ٹیک، آکسفورڈ ایسٹرا زینیکا، جانسنز اینڈ جانسنز اور ماڈرنا کی ویکسینز کو ایمرجنسی منظوری دی تھی۔

  15. کووڈ: خیبرپختونخوا میں مزید 630 نئے مریض، 25 اموات

    کورونا وائرس، کووڈ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    محکمہ صحت خیبرپختونخوا کے مطابق 630 نئے مریضوں کے ساتھ کورونا کیسز کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 23 ہزار 150 ہو گئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں صوبے میں کورونا وائرس سے مزید 25 افراد ہلاک ہوئی ہیں جس کے بعد ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 3562 بنتی ہے۔

    اسی دوران مزید 1147 افراد کورونا سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں جبکہ صحتیاب ہونے والوں کی کل تعداد ایک لاکھ 9 ہزار 609 ہے۔

    اس وقت خیبرپختونخوا میں فعال کیسز کی تعداد نو ہزار 979 ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران پشاور میں 150، اپر دیر میں 98، مردان میں 68، مانسہرہ میں 54 اور سوات میں 48 نئے مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔

  16. انڈیا: کوہلی اور انوشکا کی جانب سے دو کروڑ روپے کا عطیہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    بالی وڈ اداکارہ انوشکا شرما اور ان کے خاوند، انڈین کرکٹر ورات کوہلی نے انڈیا میں کورونا وبا کی روک تھام کے لیے دو کروڑ روپے عطیہ کیے ہیں۔

    دونوں کے ایک مشترکہ ویڈیو پیغام میں کہا گیا ہے کہ وہ ’کووڈ 19 سے ریلیف کے لیے عطیات جمع کر رہے ہیں اور سب کے تعاون کے شکر گزار ہیں۔‘

  17. ’سب سے بڑے کارگو جہاز‘ پر انڈیا کے لیے امدادی سامان

    برطانیہ، پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہUK's Foreign, Commonwealth & Development Office

    برطانوی دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق ’دنیا کا سب سے بڑا کارگو جہاز‘ برطانیہ میں بیلفاسٹ روانہ ہو رہا ہے جس پر انڈیا میں کورونا بحران نے نمٹنے کے لیے امدادی سامان موجود ہے۔

    اطلاعات کے مطابق اس پر تین 18 ٹن آکسیجن جنریٹرز اور ایک ہزار وینٹیلیٹرز موجود ہیں۔

    ہر آکسیجن جنریٹر 500 لیٹر آکسیجن فی منٹ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور 40 فٹ شپنگ کنٹینر جتنا بڑا ہے۔

    یہ امداد برطانوی حکومت کی طرف سے کی گئی ہے تاکہ انڈیا میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی سنگین صورتحال کا مقابلہ کیا جاسکے۔

  18. چین کی فوج کا پاکستانی فوج کے لیے کورونا وائرس ویکسین کا عطیہ

    Corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کی فوج، پیپلز لبریشن آرمی، کی طرف سے پاکستانی فوج کو کورونا وائرس ویکسین مہیا کر دی گئی ہے۔ یہ ویکسین چین کی فوج کے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔

    یہ ویکسین سینٹرل ملٹری کمیشن کی منظوری کے بعد پاکستانی فوج کو دی گئی۔ چائنہ ملٹری آن لائن کے مطابق یہ ویکسین پاکستانی فوج کی درخواست اور صدر شی جن پنگ کے اس اعلان کے روشنی میں دی جا رہی جس میں انھوں کہا تھا کہ چین کی ویکسین کی عالمی سطح پر عوام کی فلاح کے لیے رسد کو یقینی بنایا جائے گا۔

    پاکستان کی فوج نے چین کی فوج کی طرف سے اس ویکسین کا پہلی کھیپ 8 فروری کو وصول کی تھی۔ یوں پاکستانی فوج کسی بھی ملک کی پہلی فوج بن گئی جسے چین کی فوج نے ویکسین عطیہ کی۔

    دریں اثنا، چین کی کین سائنو ویکسین کی پہلی کھیب بھی پاکستان کو بھیج دی گئی ہے۔ یہ ویکسین پاکستان نے خریدی ہے۔ اس خبر کی تصدیق کین سائینو بائیولوجکس انک نے چینی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کی۔

    اس چینی کمپنی کے مطابق اس ویکسین کا مقصد پاکستان میں بڑی تعداد میں ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ ویکسین تجارتی بنیادوں پر دستیاب ہو گی۔ مارچ میں کین سائنو ویکسین کی پہلی کھیب پاکستان پہنچی تھی اور یہ ویکسین خود پاکستان کی حکومت نے خریدی تھی۔

  19. حزب اختلاف کا وزیر اعظم مودی سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ

    India

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں حزب اختلاف نے ملک کے وزیر اعظم نریندرا مودی سے کورونا وائرس کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

    وزیر اعظم کے نام لکھے گئے خط میں کانگرس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا ہے کہ حکومت وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکام رہی ہے اور جس موقع پر اس وائرس پر قابو پانے کا جشن منایا جا رہا تھا اس وقت وائرس پھیل رہا تھا مگر بروقت نہ کوئی پالیسی بنائی گئی اور نہ ہی ایسے اقدمات اٹھائے گئے جس سے اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا۔

    راہول گاندھی نے اپنے خط میں لکھا کہ حکومت کی ویکسینیشن کی کوئی پالیسی ہی نظر نہیں آتی۔ انھوں نے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین لگانے کا مطالبہ بھی کیا۔

    خیال رہے کہ اس وقت انڈیا وائرس کی دوسری لہر کی لپیٹ میں ہے جہاں صرف گذشتہ ایک دن میں چار لاکھ اور چودہ ہزار افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

  20. برطانیہ میں 40 سے کم عمر افراد کو آسترا زینیکا کے متبادل ویکسین کی پیشکش کے امکانات

    خبررساں ادارے پی اے کے مطابق برطانیہ میں 40 سال سے کم عمر کے تمام افراد کو آسترا زینیکا کے متبادل ویکسین کی پیشکش کے امکانات ہیں۔ اس بات کا بھی قوی امکان موجود ہے کہ متعلقہ اتھارٹیز یہ کہہ دیں کہ اب ویکسین کے لیے کوئی حفاظتی اقدامات کی ضرورت نہیں ہے۔

    اس سے پہلے آسترا زینیکا کو نایاب خون جمنے جیسے خطرے سے جوڑا جاتا تھا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل 30 سال سے کم عمر افراد کے لیے پہلے ہی آسترا زینیکا کی متبادل ویکسین کی تجویز دی گئی تھی۔