پنجاب میں 16 مئی تک جزوی لاک ڈاؤن کا نفاذ, ٹرانسپورٹ پر 10 مئی کی شام سے پابندی ہوگی

،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان میں صوبہ پنجاب کے حکام کے مطابق صوبے میں وہ اضلاع جن میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح آٹھ فیصد سے زیادہ ہے وہاں 16 مئی تک تمام انڈور اور آوٹ ڈور شادی کی تقریبات، کمیونٹی ہالز، مارکیز اور مزارات کھولنے پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔
سیکرٹری پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق ان اضلاع میں اٹک، بہاولپور، بھکر، چکوال، ڈیرہ غازی خان، فیصل آباد، گوجرانوالہ، گجرات، جھنگ، قصور، خانیوال، خوشاب، لاہور، لیہ، منڈی بہاؤالدین، ملتان، میانوالی، راجن پور، راولپنڈی، رحیم یار خان، ساہیوال، سرگودھا، شیخوپورہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقے شامل ہیں۔
صوبے بھر میں تمام پارک اور سیر و تفریح کے مقامات اور سرگرمیوں پر پابندی ہوگی، تمام تفریخی مقامات، پارکس، شاپنگ مالز، ریستوران اور پِکنک کے مقامات بند رہیں گے۔
سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق ’ہر قسم کے کھیلوں، ثقافتی تہوار اور اجتماعات پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ ’ٹرین سروس کل گنجائش کے 70 فیصد مسافروں کے ساتھ جاری رہے گی۔‘
حکام کے مطابق پنجاب کے ان شہروں میں 10 مئی شام چھ بجے سے 15 مئی شام چھ بجے تک بین الصوبائی اور شہروں کی مقامی ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند ہو گی۔ تاہم رکشہ، ٹیکسیز اور نجی گاڑیوں کو50 فیصد گنجائش کے ساتھ سفر کرنے کی اجازت ہو گی۔
اس دوران صرف فارما سوٹیکل صنعت اور سے ملحقہ پیکنگ اور پرنٹنگ، میڈیکل حفاظتی سامان بنانے والے، آکسیجن کی صنعت سے متعلقہ سپلائیز اور سٹوریج، کھانے پینے اور دودھ کی صنعت اور ڈسڑیبیوشن، فلور ملز، شوگر ملز، زرعی صنعت، کھاد اور سپرے کی دکانیں، ایکسپورٹ سے متعلقہ صنعت اور پولٹری کی خوراک بنانے والی صنعت کو کام کرنے کی اجازت ہوگی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران تمام بازار، کاروبار، دفاتر اور دوکانیں بند رہیں گی۔ تمام میڈیکل سٹور، فارمیسیز، میڈیکل فیسیلیٹیز اور ویکسینیشن سنٹر، پیٹرول پمپ، تندور، دودھ دہی کی دکانیں، فوڈ ٹیک اویز، بجلی، گیس، ای کامرس (ہوم ڈیلیوری) 24 گھنٹے کھلے رکھنے کی اجازت ہو گی۔
صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ ’اگر لوگوں نے لاک ڈاؤن کے دوران احتیاطی تدابیر پر عمل کیا تو وبا میں واضح کمی آئے گی۔‘















